سیاستہندوستان

آہستہ آہستہ پورے ملک میں گائے ناپید ہو جائے گی

ذبیحہ گائے پر مکمل پابندی گائے پر خود بخود پابندی ہوگی

ذبیحہ گائے پر مکمل پابندی معاشی لحاظ سے منطقی نتیجہ نہایت اہم اور معنی خیز ہوگا۔ آہستہ آہستہ پورے ملک میں گائے کہیں دکھائی نہیں دے گی۔ ہر پانچ سال میں جو سینسس (Census)  سے اعداد و شمار (data) سامنے آتا ہے اس سے یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے۔

1997ء سے 2012ء تک گائے کی تعداد 103ملین سے 117 ملین ہوگئی، مگر اسی مدت میں بچھڑوں کی تعداد 96ملین سے 66ملین ہوگئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹریکٹر نے بیلوں کی جگہ لے لی۔ بچھڑوں کی تعداد کم و بیش گائے کی تعداد کے برابر ہونی چاہئے۔ اگر گائے کا ذبیحہ نہیں ہوتا تو اس سے یہ بات آسانی سے سمجھی جاسکتی ہے کہ بچھڑے یا تو ذبح کر دیئے جاتے ہیں یا برآمد (ایکسپورٹ) کر دیئے جاتے ہیں۔

دودھ دینے والی گائے کی تعداد اس مدت میں 33ملین سے 42ملین ہوگئی۔ د ونسلوں کی گائے کی تعداد 15 فیصد سے 25 فیصد ہوگئی۔ اس سے دودھ کی پیداوار میں گائے کی تعداد کی کمی کے باوجود زیادہ ہوگئی۔ گائے اسی وقت دودھ دیتی ہے جب وہ بچھڑا یا بچھیا جنم دیتی ہے۔ عام طور پر بچھڑے اور بچھیا کی تعداد برابر ہوتی ہے لیکن ایک سال میں بچھیا کی تعداد 50فیصد کم ہوگئی لیکن بچھڑے کی تعداد کسی وجہ سے 35فیصد ہوگئی۔ اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ بچھڑوں کو ذبح کیا گیا یا پیدا ہونے کے بعد انھیں مرنے کیلئے چھوڑ دیا گیا۔

گائے 3 سال سے 10 سال کی عمر تک دودھ دیتی ہے جبکہ اس کی عمر بیس سال سے پچیس سال تک ہوتی ہے۔ جب گائے دودھ دینا بند کر دیتی ہے تو کسان دوسروں کے ہاتھوں گائے فروخت کر دیتے ہیں۔ ان کی تعداد 1 فیصد سے 3فیصد ہوجاتی ہے۔ بچھڑوں کی تعداد 10 سال کی عمرمیں 2فیصد ہوجاتی ہے۔ ذبیحہ نہ ہونے کی صورت میں یہ تعداد بڑھ کر 50 فیصد ہوجائے گی۔

گائے پر پابندی سے ڈائری انڈسٹری پر زبردست اثر پڑے گا۔ اگر دودھ حاصل کرنے والے (Milk Producer) گائے سے دودھ حاصل نہ کرسکیں گے تو چارے کا دام بھی دوگنا ہوجائے گا۔اس سے بھی دودھ کا دام خود بخود بڑھ جائے گا ۔ اس لئے چارہ کی پیداوار میں بھی کمی آجائے گی اور دیگر زراعتی پیداوار بھی اس سے متاثر ہوں گے۔

2012ء میں تقریباً 180ملین بچھڑے اور بچھیا کی تعداد ہوئی۔ اگر پورے ملک میں مکمل طورپر ذبیحہ پر پابندی عائد ہوگئی تو یہ تعداد 360 سے 400 ملین ہوجائے گی۔ اس سے ملک کے ذرائع پر برا اثر پڑے گا پھر گائے کے دودھ اور بھینس کے دودھ میں مقابلہ آرائی کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوگا۔ پھر کوئی فرد گائے رکھنا پسند نہیں کرے گا، یہاں تک کہ بیل کو بھی کوئی رکھنا گوارا نہیں کرے گا۔ اس کی جگہ ٹریکٹر لے لیگا۔ ذبیحہ گائے پر پابندی کانتیجہ ہوگا کہ گائے ملک سے غائب ہوجائے گی۔ اگر حکومتیں گئو شالہ کا نظم کریں گی تو کیا گائے کا استعمال دودھ کیلئے ہی ہوگا۔

اگر گائے کے نام نہاد محافظ لوگوں پر تشدد اور قتل جاری رکھیں گے تو بغیرکسی تادیبی کارروائی کے جیسا کہ 5اپریل کو الور (راجستھان) میں ہوا پھر گائے کو کون پالے گا اور کسی کو کیسے فروخت کرے گا؟ اس سے پورے ملک میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی نہیں بلکہ خود بخود گائے پر مکمل پابندی عائد ہوجائے گی۔ 2013-14ء میں 138ملین ٹن دودھ جو دودھ کی پیداوار کی 51فیصد ہوتی ہے ، بھینس سے ہوا جبکہ گائے سے 20 فیصد اور دو نسلی گائے سے 25 فیصد۔

2015ء میں دادری کے محمد اخلاق کو گائے کے گوشت کے شبہ میں قتل کر دینے کی وجہ سے یہ بھی ہوا کہ بکرے اور دیگر جانوروں کے گوشت گراں ہوگئے۔ اس سے چمڑے کی انڈسٹری پر بھی برا اثر پڑا۔ دنیا جانتی ہے کہ گائے اور بھینس کے گوشت کا سب سے بڑا ایکسپورٹر ہندستان ہے۔ ہندستان باسمتی چاول کے ایکسپورٹ سے کہیں زیادہ گائے کے گوشت کے ایکسپورٹ سے آمدنی اور ریونیو حاصل کرتا تھا۔

بے قصور مسلمانوں کو گائے کے نام پر ہر جگہ ہراساں اور پریشان ہی نہیں کیا جارہا ہے بلکہ ان کا قتل جس بے دردی سے کیا جارہا ہے اور حکومت کی پشت پناہی جس طرح حاصل ہے انتہائی افسوسناک اور تشویشناک ہے۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کی طرف سے میرے خیال سے یہ مطالبہ ہونا چاہئے کہ گائے کے گوشت پر مکمل پابندی کردی جائے۔ ہو یہ رہا ہے کہ آہستہ آہستہ ڈر اور خوف سے دوسرے جانوروں کا ذبیحہ بند ہورہا ہے کیونکہ سنگھ پریوار کے خونخوار عناصر گائے کے گوشت کے نام پر ہڑبونگ اور فساد برپا کردیتے ہیں۔ مسلمانوں کو پریشان ہی نہیں قتل بھی کردیتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر مسلمان یہ فیصلہ کرلیتے ہیں کہ وہ گائے کا ذبیحہ نہیں کریں گے اور نہ گوشت کھائیں گے تو گائے پرستوں کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ ان کو ان کی ماتا سے کس قدر محبت اور پیار ہے؟ اب بھی وہ غیر نفع بخش گائیوں کو سڑک پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اگر ان کے گئو شالہ میں گائیں دم توڑ دیتی ہیں تو اسے ہاتھ لگانا بھی گوارا نہیں کرتے۔ یہ ہے گائے پرستوں کی اپنی ماؤں سے محبت اور پیار کا ناٹک۔ مسلمانوں کو گائے ذبیحہ پر مکمل پابندی کا مطالبہ جلد کرنا چاہئے۔ جب ہی گائے پرستوں کو ہوش آئے گا۔ اس وقت وہ بے ہوشی اور جنون کے عالم میں ہیں اور پاگل پن کا بے خوف مظاہرہ کر رہے ہیں اور پاگل حکومت بھی ان کی پشت پر ہے جس کی وجہ سے ان گائے پرستوں کے پاگل پن میں روز بہ روز اضافہ ہورہا ہے۔

موبائل: 9831439068azizabdul03@gmail.com

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close