سیاستہندوستان

آہ! کانگریس (دوسری قسط)

ڈراونی زبان، لکڑ بگھا کی ہنسی اور ہجومی تشدد

مشرف عالم ذوقی

میں راہل گاندھی سے مایوس نہیں ہوں۔ اور یہ بھی صحیح ہے کہ اس وقت ملک کی سلامتی اور تحفظ کے لئے کسی کے پاس بھی کویی آپشن نہیں ہے۔ کویی ضروری نہیں کہ راہل کی کانگریس وہی ہو جو اندرا گاندھی یا راجیو گاندھی کی رہی ہے۔ کچھ تبدیلی سونیا گاندھی کے وقت بھی ایی مگر سونیا، کرپشن کے بھوت پر قابو نہیں رکھ سکیں۔ راہل کا زیادہ واسطہ مذھب سے نہیں ہے۔ یہ اور بات ہے کہ سیاست میں دھرم مسلط کیا جاتا ہے۔ اس طرح جب ہم راہل کو مندر میں یا پوجا کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ایک اناڑی شخص کی امیج سامنے آتی ہے۔ راہل کی تعلیم بھی ہارورڈ یونیورسٹی، فلوریڈا اور کیمبرج میں ہوئی۔ اس لئے سوچا جا سکتا ہے کہ راہل کی طبیعت میں فرقہ پرستی یا مسلمانوں کے لئے نفرت نہیں ہوگی۔ کیی موقع ایسے اہے جب راہل نے حاضر جوابی اور بہترین سیاست دان ہونے کا ثبوت بھی دیا ہے۔ عدم اعتماد کی ووٹنگ کے موقع پر راہل کی تقریر نے مودی کے چار برسوں کی سیاست پر جس موثر اور سدھے ہوئے انداز میں حملہ کیا، وہ کسی اور کے بس کی بات نہیں تھی۔ ۔

حملہ مودی کی حکومت پر تھا لیکن نشانے پر غریب ملک بھی تھا۔ ملک جو ان چار برسوں میں بھکاری ہو گیا۔ روزگار نہیں۔ نوکری نہیں۔ پیسے نہیں۔ ہزاروں ہزار کروڑ کے گھوٹالے۔ کسانوں کی خود کشی، ہجومی تشدد۔ ۔۔۔راہل اس دن جذباتی بن کر نہیں گرجے بلکہ ثبوت اور دلیلوں سے لیس ہو کر مودی حکومت کی ناکامیاں گنواتے رہے۔ ۔۔ہاؤس میں ہر کویی راہل کی بات سنجیدگی اور گہرایی سے سن رہا تھا۔ ۔یہ پپو نہیں تھا، راہل نے، ایک نیے سیاست داں کے طور پر اوتار لیا تھا۔ اور وہ لوگ یا میڈیا، جو راہل کو پپو کے نام سے یاد کرتے ہیں، اس دن یقینی طور پر انھیں خود پر شرم آیی ہوگی۔ اب ذرا پپو کی وضاحت ہو جائے۔ یہ نام راہل کو میڈیا نے دیا، آر ایس ایس کی ساٹھ ہزار سے زیادہ شاخوں نے دیا، بی جے پی نے دیا یا جس نے بھی دیا، وہ سونیا کے اعتماد اور راہل کے مضبوط وجود سے خوفزدہ ہیں۔ ۔۔زیادہ دن نہیں گزرے، دس برس شاید، انڈیا ٹوڈے نے راہل کی تصویر سرورق پر شایع کی تھی اور راہل کو ہندوستان کا مستقبل کہا تھا۔ مودی حکومت کے چار برسوں میں انڈین پریس کا ٩٩ فی صد مودی کا غلام بن گیا۔، انڈیا تودے بھی۔ انکا چینل آج تک بھی۔ میڈیا، مودی، امت شاہ بھی اس بات سے واقف ہیں کہ راہل کی معصومیت، تجربہ،انکی شخصیت کا جادو اگر عوام پر چل گیا تو پھر مودی کی نفرت اور فرقہ واریت کی آندھی بھی، راہل کی آندھی میں اڑ جاےگی۔ ۔لیکن میڈیا اور مودی یہ بھول گئے کہ راہل کے ساتھ ساتھ مودی کو بھی ایک نام دیا گیا۔ ۔پھیکو۔ ۔جملے پھیکنے والا پھیکو۔ ۔یہ نام اس طرح مقبول ہوا کہ پوری پارٹی پھیکو بن گیی۔

پپو کا مطلب غیر تعلیم یافتہ لیکن یہ پپوہارورڈ یونیورسٹی، فلوریڈا اور کیمبرج کا پڑھا ہوا ہے اور پھیکو کی ڈگری کا راز اب بھی راز میں ہے۔ ۔پھیکو عام بول چال کی زبان میں ایک مذاق بن گیا۔ ۔مودی نے اس دوران سفر ہی سفر کیے۔ ۔پوچھا گیا کہ پھیکو اپنے ملک میں کب ہوتا ہے ؟ پندرہ لاکھ کی رقم سے لے کر وکاس کا نعرہ سب کچھ پھیکو کا سبز باغ تھا، جس پر اب مودی کے بھکت بھی بھروسہ کرنے کو تیار نہیں۔ پپو پر پھیکو کو زیادہ مقبولیت ملی اور وہ دن آ گیا جب کانگریس مکت بھارت کا نعرہ تو خالی گیا لیکن ممتا بنرجی نے بی جے پی مکت بھارت کا نعرہ دے کر صاف کر دیا کہ مودی سے ملک کو خطرہ ہے۔ یہاں تک کہ ممتا نے مودی کے ہندو ہونے اور راشٹر بھکتی کو بھی نشانے پر لیا کہ ہندو ترشول لے کر ہتیا نہیں کرتے۔

٢٠١٩ میں کیا ہوگا ؟ سوچتا ہوں تو لکڑ بگھے کی ہنسی یاد آتی ہے۔ ۔وہی لکڑ بگھا جو بچوں کا دشمن ہے۔ یھاں تک کہ شیر کے بچوں کا گوشت بھی اسکو مرغوب ہے۔ ۔وہی لکڑ بگھا، رات کے سناٹے میں جسکے ہنسنے کی آواز آسیبی آواز کی طرح آپکو خوفزدہ کر سکتی ہے، وہی لکڑ بگھا جسے بہت پیارے، اردو کے مایہ ناز افسانہ نگار سید محمد اشرف نے اپنی کہانی کا موضوع بنایا تو یہ کہانی شہرہ آفاق ثابت ہوئی۔ ۔لکڑ بگھے اکثر غول میں حملہ کرتے ہیں۔ ۔ڈرپوک بھی ہوتے ہیں، ذرا سی آہٹ پا کر جنگل میں بھاگ جاتے ہیں۔ یہ لکڑ بگھے ان دنوں ہمارے درمیان ہیں اور باضابطہ انکا خیال رکھا جاتا ہے۔ یہ اخلاق کو دبوچتے ہیں، کبھی پہلو خان کو کبھی اکبر کو ہلاک کرتے ہیں۔ ۔کبھی سوامی اگنویش کو نشانہ بناتے ہیں کبھی میڈیا چینل کی ڈیبیٹ میں کسی مفتی پر ہاتھ اٹھانے کا ڈرامہ کرتے ہیں۔ ۔کبھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہیں کہ ہندوستان کے تمام ملّاؤں کو ختم کر دینگے اور سیاسی لکڑ بگھوں کا غول ان پر کویی ایکشن نہیں لیتا بلکہ انکی پیٹھ تھپتھپانے کا کام کرتا ہے۔ ۔۔۔ان لکڑ بگھوں کی پرورش ہماری سیاست کے ناسور کر رہے ہیں۔ ۔کبھی یشونت سنہا کے بیٹے کبھی بہار کا سرغنہ گری راج، حد یہ ہے کہ ایسے ہی ایک لکڑ بگھے نے کچھ مہینے پہلے ایک مسلمان کو ہلاک کیا، جلایا، ویڈیو بنایا اور وائرل کر دیا۔ ۔لکڑ بگھے کی ہنسی اس خوفناک سیاسی جنگل سے ہو کر ہم تک پنھچ رہی ہے۔ ۔اس ہنسی کو ہم نے اس دن بھی دیکھا تھا جب عدم اعتماد کو لے کر ووٹنگ ہوئی تھی۔ ۔ہم اس ہنسی کی آواز اکثر سنتے ہیں۔ ۔۔۔۔ غور کریں تو یہ ہنسی آپکو گمراہ کرتی ہے۔ ۔سوالوں سے فرار حاصل کرتی ہے۔ ۔کیونکہ سیاست کی کھلی ہوئی، دادا گیری کا کویی جواب ممکن نہیں۔ ۔۔ ملکی خزانے کی لوٹ کا کویی جواب ممکن نہیں۔ ہجومی تشدد کا کیا جواب ہو سکتا ہے ؟ دلت، مسلمان، عیسائ کی ہلاکت، بلکہ ہلاکت کے نہ ختم ہونے والے سلسلے کا کیا جواب ہو سکتا ہے۔ ۔،؟اور جب کویی جواب نہیں، تب یہ ہوگا کہ سامنے والے چیمپین کو پپو کہا جاےگا۔

 تب اس بے وجہ کی بات کو آپ پر مسلط کیا جاےگا کہ کانگریس، بی جے پی کا ہی دوسرا نام ہے۔ سارے کانگریسی، آر ایس ایس سے تعلق رکھتے ہیں۔ ۔ایک سوال کا جواب دیجئے، کیا کانگریس کے دور اقتدار میں مسلمانوں کی یہی حالت تھی۔ جو اب ہے ؟
نہیں صاحب۔ ۔فرقہ وارانہ فسادات کے باوجود کبھی مسلمانوں نے خود کو دوسرے درجے کا شہری نہیں سمجھا۔ کالر اٹھا کر مسلمان بھی چلتے رھے۔ ۔کبھی اس طرح لکڑ بگھوں کے غول ان پر حملہ نہیں کرتے تھے۔ ۔میڈیا کے لکڑ بگھے کھلے عام انکو ننگا نہیں کرتے تھے۔ ۔

لکڑ بگھوں کے ہنسنے کی آواز پر توجہ دیجئے۔ ۔ان لکڑ بگھوں کو پھیلنے سے روکیے۔ ۔یہ لکڑ بگھے خوفناک درندے ہیں۔ اپنی تھذیب، اپنی شناخت اور ملک کی سالمیت چاہتے ہیں تو پپو کے سو گناہوں کو معاف کر، آپکو راہل کے ساتھ ہونا پڑے گا۔ ۔اور یاد رکھیے۔ ۔راہل کے ساتھ ممتا بھی ہیں، تیجسوی یادو بھی، اکھلیش بھی، مایاوتی بھی، اور یہ کارواں بڑھتا جا رہا ہے۔ ۔۔اور ابھی ہمارے پاس زندہ رہنے کے لئے کویی متبادل نہیں ہے۔ (جاری)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مشرف عالم ذوقی

ڈاکٹر مشرف عالم ذوقی اردو کے معروف نقاد، ادیب اور فکشن نگار ہیں۔ موصوف کم و بیش تین درجن کتابوں کے مصنف ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close