سیاست

آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں

حفیظ نعمانی

اب تک یہ ہوتا تھا کہ ووٹر، ورکر اور عام آدمی لیڈر کے نقش قدم پر چلتا تھا، ان میں کوئی واقعی کچھ بن جاتا تھا اور کوئی نـقلچی بندر بن کر رہ جاتا تھا۔ آج صورت حال بالکل بدل گئی ہے اب لیڈروں میں یہ وباء شروع ہوئی ہے کہ وہ سڑک پر شور مچانے والے اور بھیڑ کا حصہ بن رہے ہیں ۔ ایک مہینہ سے پورا ملک سڑک پر ہے کرنی سینا یا راجپوت سماج نے قیادت اپنے ہاتھ میں لے لی ہے اور ایک ہی نعرہ ہے کہ فلم پدماوتی کی نمائش نہیں ہونے دیں گے۔ یہ بات ہر ریاستی حکومت کی زبان پر ہے کہ قانون اپنا کام کرے گا اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی لیکن قانون کہاں ہے کس کے قبضہ میں ہے یا کس کے حکم سے حرکت کررہا ہے یہ نہیں معلوم؟

فلم کے ڈائرکٹر سنجے لیلا بھنسالی نے یکم دسمبر کی تاریخ جو فلم کی نمائش کے لئے رکھی تھی وہ ملتوی کرکے خود ہی کہا ہے کہ جنوری کے کسی ہفتہ یا تاریخ میں  نمائش کی کوشش کی جائے گی۔ امن و امان کی ذمہ داری ریاستی حکومت کی ہوتی ہے اور ریاستی حکومت کو بڑی فلم سے کروڑوں روپیہ ٹیکس کی صورت میں ملتا ہے اس لئے اس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ فلم آئے اور ہر شہر میں اچھا بزنس کرے اور حکومت کا خزانہ بھرے۔ لیکن جب بات عوام کی آجاتی ہے اور الیکشن سر پر ہوتا ہے تو خزانہ کی فکر سے زیادہ ووٹوں کی خاطر فیصلے کئے جاتے ہیں ۔ اُترپردیش میں بلدیاتی الیکشن ہورہے ہیں یوگی حکومت اسے اپنے پہلے امتحان کے طور پر دیکھ رہی ہے اس لئے کسی ایک شہر کے بارے میں بھی خبر نہیں آئی کہ پولیس نے سختی کی اور راستے جام کرنے اور بھنسالی کے پتلے جلانے یا کسی بھی قسم کے جلسہ و جلوس کو روکا بلکہ مرکزی حکومت کو خط لکھا کہ ہماری ریاست کے راجپوت قابو سے باہر ہورہے ہیں اس لئے فلم میں سے قابل اعتراض حصے نکال دیئے جائیں ۔

پدماوتی نام کی جو فلم بنی ہے اس کا تعلق راجستھان سے ہے پورے راجستھان میں ہر طرف شعلے اُٹھ رہے ہیں اور مردوں سے زیادہ عورتوں نے اسے راجپوت آن بان کا سوال بنا لیا ہے۔ کوئی عورت ایسی نہیں جو کیمرے کے سامنے آئی اور جس نے یہ کہا ہو کہ اس نے فلم کو دیکھا ہے اور اس میں فلاں سین اور فلاں سین برداشت کے قابل نہیں ہے بلکہ سب نے یہ کہا کہ ٹریلر میں جیسے کپڑے رانی پدماوتی کو پہنائے ہیں وہ برداشت نہیں کئے جائیں گے اور رانی کو جو ناچتا ہوا دکھایا گیا ہے وہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اور جب ان سے آخری سوال کیا گیا کہ فلم میں کانٹ چھانٹ کر اُسے قابل قبول بنا لیا جائے یا فلم کو دکھایا ہی نہ جائے تو اکثر عورتوں کی رائے ہے کہ فلم دکھائی ہی نہ جائے۔

وہ بھی زمانہ تھا جب دس کروڑ یا بیس کروڑ میں فلم بنتی تھی تو دیکھنے والے دم سادھے بیٹھے رہتے تھے کہ دیکھیں کیا دکھایا جائے گا؟ آج ہر چیز کچھ کی کچھ بن جانے کے بعد بار بار کہا جارہا ہے کہ دو سو کروڑ فلم کی تیاری پر خرچ ہوچکے ہیں ۔ اور آج کی دنیا میں سب جانتے ہیں کہ ہر بڑا کاروباری بینک سے سود پر قرض لیتا ہے اور جب دولت برستی ہے تو معہ سود کے ادا کرنے کے بعد اپنا خزانہ بھرتا ہے۔ کہنے والیوں نے تو ایسے کہہ دیا کہ فلم بند کردی جائے جیسے مولی کا ساگ ہے جب کوئی نہیں کھاتا تو اسے پھینک دیا جائے۔ مدھیہ پردیش میں بھی آئندہ سال الیکشن ہے یہاں جب پدماوتی کے خلاف احتجاج شروع ہوا تو پہلے تو حکومت تماشہ دیکھتی رہی پھر اس نے اعلان کردیا کہ رانی پدماوتی کو راشٹر ماتا قرار دیا جاتا ہے اور اس فلم کی نمائش مدھیہ پردیش میں نہیں ہوگی۔

پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیوں کسی سے پیچھے رہتے انہوں نے کہہ دیا کہ تاریخ سے چھیڑچھاڑ کسی صورت میں بھی برداشت نہیں کی جائے گی۔ نیوز نیشن چینل نے کل رات کا پورا ایک گھنٹہ اس پر خرچ کیا کہ آخر پریس کی آزادی کی کیا حیثیت رہ جائے گی؟ انہوں نے 1964 ء میں علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی پر بنی ہوئی فلم کے ٹکڑے جگہ جگہ سے دکھاکر معلوم کیا کہ یہی نام ہے یہی کردار ہیں یہی کہانی ہے تو پھر جب 1964 ء میں وہ اعتراض کے قابل نہیں تھی تو اب کیوں اعتراض کیا جارہا ہے؟ اس کا جواب آسان تھا کہ اس وقت ہم نہیں تھے۔ لیکن یہ جواب دینے کی کسی نے ضرورت نہیں سمجھی اور ایک ہی رٹ لگائے گئے کہ فلم کو نہیں چلنے دیا جائے گا۔

ہندو بھائیوں کی سمجھ میں آئے نہ آئے مسلمان اسے خوب سمجھتے ہیں یہ وہی جذبہ ہے کہ مسلمان کے ہاتھ میں گائے کی رسّی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اب سے پہلے کہیں کہیں یہ کہہ دیا جاتا تھا کہ گائے کاٹی جارہی تھی ان لوگوں کو ہم پکڑکر لے آئے ہیں ۔ ادھر نہ جانے کب سے ایسی کوئی خبر نہیں آئی لیکن صرف اس جرم میں کہ یہ گائے کو لئے جارہا تھا یہ یا تو خود کاٹتا یا قصائی کو دیتا اس لئے گئو رکشکوں نے اسے پیٹ پیٹ کر مارڈالا۔ جس 1964 ء کی بات ہورہی ہے اسی 1964 ء میں مویشی بازار میں گائے فروخت کرنے والا ہندو خریدار مسلمان سے قیمت کی بات کرتے کرتے کہہ دیتا تھا کہ یہ تو دیکھو کہ گوشت کتنا نکلے گا؟ آج ملک کی حالت یہ ہے کہ دودھ کا کاروبار کرنے والے کے کھونٹوں سے گائیں کھول کر لے گئے اور گئو شالہ میں جاکر بند کرادیں ۔ رہی بات حکومت کی تو 1964 ء میں بھی ہندوئوں کی حکومت تھی اور آج بھی ہندوئوں کی حکومت ہے۔ لیکن صرف زمین ہی نہیں سب کچھ بدل چکا ہے۔

اب تو تاریخ کے کسی واقعہ پر فلم بنانے والوں کو پہلے سڑک کے عوام سے معلوم کرنا پڑے گا کہ ہم اس میں کیا کیا دکھائیں ؟ سنجے لیلا بھنسالی کو اب اندازہ ہوگیا ہوگا کہ ملک میں مسلمان کس حال میں ہیں اب وہ علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی کے بجائے وہ فلم بنائیں جس میں دکھایا جائے کہ جس ملک میں سڑک والوں کے ہاتھ میں قانون آجاتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟ ہر قدم پر قانون کا نام لینے والے ایک بھی وزیر اعلیٰ نے اپنے عوام سے یہ نہیں کہا کہ جب ہم موجود ہیں تو تمہیں سڑک جام کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اس کے بجائے وہ وزیر اعلیٰ بھی بھیڑ کا حصہ بن گئے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close