سیاستہندوستان

اپنی قیادت کا انتشار غیروں کی اتباع کا جواز کیسے؟

مسلم طبقے میں  یہ شکایت عام طور پر پائی جاتی ہے کہ جب مسلم سیاسی قیادت جیسے اسد الدین اویسی، ڈاکٹر ایوب انصاری، مولانا عامر رشادي، مولانا توقیر رضا خان وغیرہ ہی باہم متحد نہیں  ہیں  تو مسلمان کیسے ان کے پیچھے چل سکتے ہیں  یا پھر مسلمان انہیں  اپنا قیمتی ووٹ دے کر کیونکر برباد کریں ؟اس میں  کوئی شبہ نہیں  کہ اس وقت مسلم قیادت چاہے وہ سیاسی ہو یا مذہبی،  انتشار اور اختلاف کا شکار ہے۔  منتشر مسلم قیادت کے حوالے سے اکثر و بیشتر مسلمان نالاں  ہی نہیں  بلکہ بدظن بھی دکھائی دیتے ہیں۔  اپنی قیادت کے حوالے سے مسلمانوں  کی بدظنی کا یہ عالم ہے کہ وہ انہیں  اپنا سیاسی قائد تسلیم کرنا تو دور کی بات ہے بلکہ غیرو ں  کی قیادت کے پیچھے چلنا اپنی قیادت کے پیچھے چلنے سے زیادہ بہتر سمجھتے ہیں ۔  بہرحال اس بات کو بلا چوں  و چرا تسلیم کیا جانا چاہیے کہ اپنی قیادت سے مسلمانوں  کی اس بدظنی کی کئی وجوہات میں  سے ایک اہم وجہ مسلم لیڈران کا انتشار ہے۔لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا اپنی قیادت کا انتشار غیروں  کی اتباع کا جواز بن سکتا ہے؟ کیا اپنی سیاسی قیادت کے انتشار کو دلیل بنا کر بغیر کسی قائد کے آگے بڑھنا یا دوسروں  کی قیادت کو اپنی قیادت بنا لینا مناسب ہے؟ مسلمانوں  کے اس موقف کو اس ایک سوال سے بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر آپ کے گھر میں  اختلا ف اور تنازع کھڑا ہو جائے،  گھر کے بڑے لوگوں  میں  نااتفاقی پیدا ہوجائے تو ایسے میں  آپ کیا کریں  گے ؟ کیا غیرو ں  کو یا کسی پڑوسی دشمن کو اپنے گھر کا سربراہ (مکھیا ) بنا لیں  گے ؟ کیا ایسا کرنا دانشمندی ہوگی ؟اور کیا ایسا کرنے سے آپ کے گھر کا یہ مسئلہ حل ہوجائے گا؟ نہیں  ! کیوں  کہ اگر یہ اس مسئلے کا حل ہوتا تو اب تک ملک کے مسلم طبقہ کو خوشحال،  مضبوط اور متحد ہوجانا چاہیے تھا لیکن نتیجہ بالکل اس کے برعکس ہے۔  اس وقت مسلمان دلتوں  سے نیچے   پہنچ چکے ہیں ،  بحیثیت مجموعی پوری قوم پسماندگی اور دہشت کا شکار ہے۔

 خاص بات تو یہ ہے کہ مسلمانوں  میں  انتشاراور عدم اتفاق صرف سیاسی قائدین میں  ہی نہیں ،  بلکہ اس سے کہیں  زیادہ انتشار اور اختلاف مذہبی قیادت  کے بیچ موجود ہے لیکن مسلمان اپنے سیاسی قائدین کی اتباع سے دستبردار ہونے کی طرح مذہبی رہنماؤں  کی پیروی سے دست بردار نہیں  ہوئے بلکہ الٹا مزید شدت سے ان کی پیروی کرتے ہیں ! یہاں  تک کہ مذہبی قیادت کی متنازع باتوں  پر بھی بڑھ چڑھ کر ان کا ساتھ دیتے ہیں  ! اگر کوئی شخص سیاسی قائدین کے انتشار کی طرح مذہبی قائدین کے اختلاف کا بہانہ بنا کر ان کی پیروی سے بھی منہ موڑ لے اور غیروں  کے سیاسی قائدین کی طرح دیگر مذاہب کے پیشواؤں  کو اپنا رہنما بنا لے توکیااس شخص کا ایسا کرنا صحیح ہوگا ؟ شاید کوئی بھی آدمی اس شخص کے اس موقف کو صحیح نہ ٹھہرائے لیکن عام مسلمان حتیٰ کہ مذہبی لیڈران تک سیاست کے معاملے میں  یہی موقف اپناتے ہیں  تو کسی کو بھی حیرت نہیں  ہوتی ہے ! یہاں  مقصود مذہبی رہنماؤں  کی پیروی پر تنقید کرنا نہیں  ہے بلکہ مذہب اور سیاست میں  مسلمانوں  کے متضاد موقف کی  وضاحت کرنا ہے۔  جب کہ اسلام ایک مکمل دین ہے جو اپنے دامن میں  سیاست،  مذہب،  معیشت سمیت دین اور دنیا کے سبھی امور سمیٹے ہوئے ہے۔  اس بات کو نظر میں  رکھتے ہوئے مذہب اور سیاست میں  مسلم کمیونٹی کا متضاد موقف ناقابل فہم ہے ! یہاں  یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ جب ملک میں  اسلامی سیاسی نظام کا نفاذ نہیں  ہے تو پھر میدانِ سیاست میں  غیروں  اور اپنوں  کی قیادت میں  امتیاز کیسا؟ ایسے میں  یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ  جہاں  اسلامی سیاسی نظام کا نفاذ نہ ہو کیا وہاں  امت کا تصور ختم ہوجاتا ہے؟ نہیں  بلکہ پوری امت کے ایک خاندان،  ایک گھر،  ایک کنبہ بلکہ ایک جسد واحد ہونے کا تصور ہرحال میں  اور ہر جگہ باقی رہتا ہے اور اس کے پیش ِنظر ملک کے موجودہ سیاسی حالات میں  بھی مسلمانوں  کو غیروں  کی قیادت یا پھر قسمت کے بھروسے چھوڑنا قطعی صحیح نہیں  ہوگا،  مسلمانوں  کو بہرحال اپنی سیاسی قیادت کو تسلیم کرنا ہوگا اور اپنے سیاسی لیڈران کے انتشار کو اپنے گھر کے بڑوں  میں  نااتفاقی کے طرز پر ہی سمجھنا ہوگا۔ چلیے! اگر اس بات کو تسلیم بھی کرلیا جائے تو اس بات سے انکار نہیں  کیا جا سکتا ہے کہ ملک میں  جمہوری نظام کی ستر سالہ عمر کے دوران مسلمانوں  نے اکثر و بیشتر غیروں  کی قیادت کا ہی ساتھ دیا ہے اور ان کی اس حکمت عملی کی ناکامی اور اس کے برے نتائج سب کے سامنے ہیں ۔ نام نہاد سیکولر طاقتیں  ہوں  یا فرقہ پرست طاقتیں ،  آج مسلمانوں  کو چھوڑ کر ہر کوئی فائدے میں   ہے یعنی غیروں  کی اس نورا کشتی میں  مسلمانوں  نے بے وجہ فریق بننے کی کوشش کی جس کا ہمہ جہت نقصان پوری کمیونٹی بھگت رہی ہے اور اگر مسلمان ابھی بھی نہیں  سنبھلے تو یہ نقصان کب تک اور کس حد تک جاری رہے گا کچھ کہا نہیں  جا سکتا۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ فرقہ پرست طاقتوں  کو روکنے کی حکمتِ عملی کی فاش ناکامی کے باجود کیا پوری مسلم کمیونٹی کو انھیں  نام نہاد سیکولر طاقتوں  کے رحم و کرم پر بے یارو مددگار چھوڑنا اور بار بار اسی ہارے ہوئے داؤ کو آزمانا صحیح ہوگا؟

یہ بات بڑی حد تک درست ہے کہ  اپنی سیاسی قیادت کے مخالفت کرنے والے مسلمانوں  کے پاس   جتنے بھی دلائل ہیں وہ سب کے سب مفروضات اور خدشات presumption)پر مبنی ہیں۔  اپنی سیاسی قیادت کے تعلق سے خدشات کے شکار مسلم بھائیوں  سے یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ اگر اسی طرح کی خام خیالیوں  کے چکر میں  کوئی اپنے گھر میں  بھی کسی کو سربراہ نہ بنائے یا کسی غیر کو اپنے گھر کا سربراہ بنا لے تو کیسا رہے گا؟ کیونکہ کسی بھی گھر کے متحد و مضبوط ہونے اور ترقی کرنے کی صورت میں  بھی معاشرے میں  ہزار دشمن پیدا ہونے کے ساتھ مختلف طرح خدشات تو بہر حال رہتے ہیں ! قابل غور بات ہے کہ جب معاشرے کی سب سے چھوٹی اکائی یعنی ایک گھر بھی بغیر سربراہ /قیادت کے نہیں  چل سکتا تو پھر کس بنیاد پر پوری ایک کمیونٹی کو قیادت اپنی قیادت سے محروم رکھنے کی وکالت کی جاتی ہے؟ جب کہ آج کا جمہوری دور ہو یا دور ِجاهليت، کسی بھی دور میں  کوئی چھوٹے سے چھوٹا قبیلہ بھی انتہائی اقلیت میں  ہونے کے باوجود اپنی قیادت سے محروم رہنا گوارا نہیں  کر سکتا۔

در اصل مسلمانوں  کا سیاست کے ساتھ ساتھ اپنے سیاسی قائدین کو شجرِ ممنوعہ بنانے کے موقف کا غیرو ں  نے خوب سے خوب تر فائدہ اٹھایا اور مسلمانوں  نے اپنا استحصال کرنے میں  ان کا پورا پورا ساتھ بھی دیا مگر مسلم طبقہ آج بھی اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں  ہے ! اس مسئلے میں  مسلمانوں  کا موقف تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ غیروں  کو اپنا قائد بنانے کے بجائے، اپنی قیادت کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے،  ان کے ساتھ رہتے اور پھر دھیرے دھیرے انھیں  اجتماعیت کی اہمیت کا احساس دلاتے ہوئے ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کرتے۔بہرحال آج نہیں  تو کل مسلمانوں  کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ منتشر قیادت میں  سے وہ جسے اپنا یا زیادہ مناسب سمجھتے ہوں،  اسی کے پیچھے چلنے اور سیاسی طور پر اسی کو مستحکم کرنے میں  ہی بھلائی پوشیدہ ہے۔  دھیرے دھیرے جب ان منتشر قائدین کو بنیاد اور استحکام حاصل ہوگا تو ان میں  سے استحکام حاصل کرنے والے کچھ لوگ مزید آگے بڑھیں  گے اور اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے خود ہی ایک دوسرے سے ہاتھ ملائیں  گے اور اقتدار میں  آنے کی کوشش کریں  گے۔  اس طرح سے فطری طور پر اتحاد کا راستہ خود بخود کھلے گا، جلد بازی سے سوائے پوری قوم کا نقصان ہونے کے اور کچھ نہیں  ہوگا۔

ویسے بھی ابھی ابتدائی دور میں  ہی مسلم سیاسی قیادت کا اتحاد مہلک ثابت ہوسکتا ہے۔  وہ اس طرح کہ فی الوقت مسلم قیادت کے پاس باہم اتحاد کے لئے کوئی بنیاد نہیں  ہے اور یہ عام فہم بات ہے کہ بغیر کسی بنیاد کے کوئی اتحاد زیادہ دن نہیں  چل سکتا ہے۔ اس کی واضح مثال چند مہینوں  قبل راشٹریہ علماء کونسل کی طرف سے کئی چھوٹی چھوٹی پارٹیوں  کو ملا کر بنایا جانے والا اتحاد ہے جو دو قدم بھی ساتھ نہیں  چل سکا اور چند دنوں  کے اندر ہی بکھر گیا۔  اس اتحاد کے ٹوٹنے کی ایک اهم وجہ یہ تھی کہ اس میں  شامل اکثر و بیشتر پارٹيوں  کے پاس اتحاد کے لیے کوئی بنیاد نہیں  تھی۔  اس اتحاد کے بکھرنے کے معاملے میں  ایک اچھی بات یہ رہی کہ اسے مسلم طبقے میں  وسیع پیمانے پر پذیرائی حاصل نہیں  ہوسکی تھی،  ورنہ ایسی صورت میں  اس اتحاد کا ٹوٹنا مسلم طبقے کے لئے کسی حد تک نقصان دہ ثابت ہوسکتا تھا۔  کیونکہ ابتدائی دور میں  ہی جب کسی کمیونٹی کا کوئی بڑا اتحاد بن کر ٹوٹتا ہے تو اس کے ساتھ ہی ساتھ اس سےوابستہ اس قوم کے حوصلے کے بھی ٹوٹ کر بکھر نے کے امکانات بھی رہتے ہیں،  ایسا ہونے پر پوری کمیونٹی کا جذبہ دھڑام سے نیچے آجاتا ہے اور پھر دوبارہ اس قوم کو ابھرنے  اور اپنی لیڈر شپ پر اعتماد بحال کرنے میں  ایک طویل عرصہ لگ سکتا ہے۔  مسلمانوں  کو چاہیے کہ وہ ’ووٹ فیصد‘ اور کچھ سیٹوں  کی حصولیابی کی شکل میں  پہلے مسلم قیادت کی بنیاد مضبوطکریں۔  اس کے لیے مسلمانوں  کو نتیجے کی پروا اور ہار جیت کی فکر کیے بغیر طویل مدت تک اپنی قیادت کا ساتھ دینا ہوگا۔  ابھی سے اپنی کمزور اور منتشر قیادت سے اتحاد یا کسی بڑی حصولیابی کی امیدیں  وابستہ کرنا کہیں  سے بھی مناسب نہیں  ہوگا۔ رہی بات ملک کی دیگر بڑی پارٹیوں  کے ساتھ اتحاد کی تو اپنی بنیاد مستحکم کیے بغیر اور کوئی قابل ِذکر حصولیابی دکھائے بغیر ان سے گٹھ بندھن (اتحاد)کا سوال ہی نہیں  اٹھتا ہے۔ہاں،  وہ پارٹیاں  مسلمانوں  کے ووٹ کے لالچ میں  کچھ لے دے کر انضمام ضرور کر سکتی ہیں  جیسے کہ حال ہی میں  مختار انصاری کی پارٹی قومی ایکتا دل کا پہلے سماج وادی پارٹی پھر بہوجن سماج پارٹی میں  انضمام ہوا ہے۔ سماج وادی پارٹی کی طرح ہی بہوجن سماج پارٹی بھی قومی ایکتا دل کے انضمام کے لیے تو فوراً تیار ہوگئی لیکن مجلس اتحاد المسلمین کو تسلیم کرنا ان دونوں  پارٹیوں  کے لیے ناقابل قبول تھا۔ مجلس اتحاد المسلمین کے لیڈر اسد الدین اویسی کی لاکھ کوششوں  کے باجود بی ایس پی ان سے اتحاد کے لیے تیار نہیں  ہوئی۔ اس کی اصل وجہ یہی ہے کہ جب تک مسلمان اپنی بنیاد مضبوط کرکے اپنی طاقت کا لوہا نہیں  منوا لیتے تب تک مسلمانوں  کے سیاسی وجود کو کوئی بھی تسلیم کرنے کے لیے جلدی تیار نہیں  ہوگا۔ ایسی صورتِ حال میں  سب سے بہتر طریقہ یہی ہوگا کہ مسلمان اپنی سیاسی قیادت کی بنیاد کو مضبوط کرنے اور انھیں  مستحکم بنانے میں  ان کا ساتھ دیں،  اس بات کو نظر میں  رکھتے ہوئے کہ مسلم قیادت کا مضبوط اور مستحکم ہونا دراصل مسلم کمیونٹی کا استحکام اور خودمختاری ہوگی۔  اپنی قیادت کو ملنے والا آپ کا اجتماعی ووٹ مسلمانوں  کا کھویا ہوا اعتماد بحال کرسکتا ہے اور ان کو خوف و استحصال سے نجات دلانے کا ایک بہتر ین ذریعہ بن سکتاہے۔ کیوں  کہ یہ ایک مسلَّمہ حقیقت ہے کہ ہمیشہ اور ہردور میں  کمزور کو ہی ستایا اور ڈرایا جاتا ہے،  اورمجبور کا ہی استحصال کیا جاتا ہے جیسے کہ ’ورنہ بی جے پی آئے گی‘ کی آڑ میں  مسلمانوں  کے ساتھ برسوں  سے کیا جا رہا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close