سیاستطنزو مزاح

اچھے دن جانے والے ہیں؟

ڈاکٹر سلیم خان

یار للن شرما مجھے تو تمہاری بی جے پی پر رحم آنے لگا ہے؟

چھوڑو کلن سنگھ تم تو ہمارے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ ے رہتے ہو۔ میں تمہاری منہ پر رام بغل میں چھری والی  منافقت سے خوب واقف ہوں۔

نہیں بھائی ایسی بات نہیں۔ لوگ کہتے ہیں آرایس ایس بڑی طاقتور تنظیم ہے۔ اس کا مرکزی دفتر ناگپورمیں ہے۔ مہاراشٹر اوردہلی میں اس کی حکومت ہے اس کے باوجود وزیراعلیٰ فردنویس کو پنڈھر پور میں جاکر پوجا کرنے سے روک دیا گیا۔ کیا یہ شرم کی بات نہیں ہے؟

للن بولا  وزیراعلیٰ نے پنڈھر پور میں نہ سہی تو اپنے گھر میں پوجا کرلی اس میں کیا پریشانی ہے؟

اچھا اگر ایسا ہے تو پچھلے تین سال سے وہاں حاضر ہوکر پوجا کرنے کی ضرورت  کیاتھی۔ میں تو کہتا ہوں کسی براہمن کے ساتھ ایسا سلوک تو اورنگ زیب کے زمانے میں بھی نہیں ہوا ہوگا؟

ارے بھائی کیا کریں ان مراٹھوں کو کون سمجھائے۔ وزیراعلیٰ بار بار کہہ رہے  ہیں کہ وہ مراٹھا ریزرویشن  کے حق میں لیکن معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اس لیے وہ کچھ نہیں  کرسکتے؟

کلن سنگھ بولا وہ ۷۲ ہزار نئی سرکاری ملازمتوں کو  عدالت کا فیصلہ آنے تک روک تو سکتے ہی  ہیں لیکن  وہ  تو اپنے لوگوں کی بھرتی   کرنے کے لیے بے چین  ہیں۔ اسی سبب سے تشدد شروع ہوگیا۔ خیر میرے خیال میں  وزیراعلیٰ کو اتنا ڈرپوک بھی نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے بڑی بزدلی کا ثبوت دیا ہے۔

اچھا تو کیا کرتے ؟ تمہیں پتہ  ہے خفیہ ایجنسیوں نے خبر دی تھی کہ کچھ لوگ  وہاں سانپ چھوڑ کر بھگدڑ مچانا چاہتے تھے۔ اس سے نہ جانے کتنے بے قصور لوگوں کی جانیں تلف ہوجاتیں ؟

یار تم لوگ کس دنیا میں رہتے ہو میری  سمجھ  میں نہیں آتا؟  جب فسادیوں کے منصوبے کا پتہ چل ہی گیا تھا  تو اس پر قابوپانا کیا مشکل تھا؟ عوام کو خبردار کردیا جاتا کہ  ناگ دیوتا سے نہ ڈریں  بلکہ انتظامیہ کو خبر دیں۔ دوچار ہزار سپیروں کی مدد سے مسئلہ حل ہوسکتا تھا اس لیے مجھے تو یہ بہانے بازی لگتی ہے۔

ارے نہیں وزیراعلیٰ نے صاف کہا کہ ۱۲ لاکھ وارے کری زائرین کو یر غمال بنا لیا گیا تھا۔ ان کی جان بچانے کے لیے یہ قربانی دی  گئی۔

یہ بھی بکواس ہے۔ مجھے نہیں لگتا ہے کسی  نے پنڈھرپور کے زائرین کو یرغمال   بنایا بلکہ ممکن ہے وزیراعلیٰ  نے خود ہی یہ کہانی گھڑ کے راہِ  فرا ر اختیار کی ہو۔ ویسے بھی امیت شاہ کے ممبئی میں ہوتے ہوئے اگر فردنویس  پنڈھر پور جانے کی جرأت کرتے تو بعید نہیں کہ  ان کی چھٹی ہوجاتی۔

کلن نے کہا یار تم کچھ بھی بولتے ہو۔ اب تو امیت شاہ سے ادھو ٹھاکرے بھی نہیں ڈرتے پھر فردنویس کیوں خوف کھائیں۔ وہ تو ان کے اپنے آدمی ہیں؟

ارے بھائی آج  کل اپنے  ہی  لوگوں پر دھونس جما ئی جاتی ہے ۔ غیروں پر تو مودی جی  کی  بھی نہیں چلتی ہے؟

جی ہاں مجھے پتہ ہے  لیکن یہ میں نے نہیں سوچا  بھی نہیں تھا  کہ مہاراشٹر کا وزیراعلیٰ جموں کے رکن اسمبلی سے بھی زیادہ کمزور ہوسکتا ہے؟

للن شرما بولا کیوں جموں کشمیر میں  تو ہم لوگ  بہت جلد پی  ڈی پی کے باغی ارکان کے ساتھ مل کر حکومت سازی کرنے والے ہیں ۔

ارے بھائی تم کس جموں کشمیر کی بات کررہے ہو؟  جموں کے بی جے پی رکن اسمبلی  چودھری لال سنگھ نے   ڈوگرا سوابھیمان سنگھٹن نامی  تنظیم بنا کر جموں کو کشمیر سے الگ کرنے مطالبہ کردیا ہے اور وہ دن دور نہیں جب بی جے پی کے زیادہ تر ارکان کمل کو چھوڑ کر لال سنگھ کے ساتھ چلے جائیں گے۔

 یار کلن پہلے ٹی ڈی پی گئی پھر شیوسینا نے ساتھ چھوڑ ا اور اب اپنا آدمی پیٹھ میں چھرا گھونپ رہا ہے۔ لگتا ہے اچھے دن جانے والے ہیں

جی ہاں مجھے بھی یہی لگتا ہے۔

کلن سنگھ نے پوچھا لیکن لال سنگھ جموں کو الگ کیوں کرنا چاہتا ہے؟

اس کا کہنا ہے کہ میدان،  معدنیات کی کانیں اور چناب ندی جموں میں ہے۔ ہم یہ سب کشمیر کو نہیں دیں گے۔ چناب کا پانی ہماری ضرورت کو پورا کرنے کے بعد ہی وادی میں جائے گا۔

اچھا لیکن ہماری ویشنو دیوی تو وادی میں ہے۔ اگر کشمیر والوں نے ہمارے زائرین کو روک دیا تو کیا ہوگا؟ تب تو پنڈھر پور سے بھی زیادہ سنگین صورتحال بن جائے گی؟

اس سے لال سنگھ کو کیا غرض۔ وہ تو اپنی سیاست چمکانا چاہتا ہے۔

اور پھر جموں کشمیر میں  ہندو وزیراعلیٰ بنانے کے خواب کا کیا ہوگا؟

جی ہاں للن مجھے تو لگتا ہے آج جو حالت فردنویس کی پنڈھر پور میں ہوئی ہے کل کو یوگی جی کی  ایودھیا میں نہ ہوجائے؟

کیوں وہاں کیا ہوگیا ؟

وہاں پر ہندو یواواہنی نے دھمکی دی ہے کہ اگر بی جے پی نےاپنے وعدے کے مطابق  رام مندر نہیں بنایا تووہ  آئندہ انتخاب میں اسے ہرا دیں گے۔ اس کا الزام ہے کہ یوگی جی بھی اس معاملے کو نظر انداز کررہے ہیں۔

یہ کیسے ممکن ہے؟ ہندو یوا واہنی  تو خود یوگی ادیتیہ ناتھ کا بنایا ہوا گروہ ہے۔ وہ ایسی بغاوت کو کیسے کرسکتا ہے؟

کیوں نہیں کرسکتا؟ رام مندر بنانے کے لیے یوگی جی نے اس گروہ کی تشکیل کی۔ پھر اس میں سے رومیو بریگیڈ بنی۔  اقتدار حاصل کرنے کے بعد یوگی جی رام مندر کو بھول گئے اور رومیو بریگیڈ سے دستبردار ہوگئے

 تب ہندو یوا واہنی سے ان  کیا تعلق بچا ؟ مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں ہندو یوا واہنی یوگی جی کو ایودھیا جانے سے اسی طرح نہ روک دے جیسے مراٹھوں نے فردنویس کو روک دیا۔

 یارپھر تو غضب ہوجائے گا۔  ہم کہیں منہ دکھانے لائق نہیں رہیں گے۔

شروع میں یہی تو میں کہہ رہاتھا لیکن تم بلاوجہ  برا مان گئے۔

مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close