سیاست

اکھلیش بابو ! آپ اپنے کو سنبھال کر رکھیے

حفیظ نعمانی

ملک میں غیربی جے پی، غیرکانگریسی محاذ نئی آواز نہیں ہے جنتا پارٹی بھی غیرکانگریسی محاذ تھا۔ اس کے بعد بھی جب جب چھوٹی اور علاقائی پارٹیوں کو احساس کمتری ہوا ہے یہ نعرہ لگایا گیاہے۔ جہاں تک ہمیں یاد ہے یہ نعرہ ہم نے نہ ملائم سنگھ کے منھ سے سنا اور نہ اکھلیش یادو کے منھ سے۔ اکھلیش نے جب اترپردیش کی حکومت سنبھالی تو کانگریس برسراقتدار تھی اور ان کی حکومت کے زمانہ میں ہی بی جے پی نے اس پر حملے شروع کردیئے تھے۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ اگر اس وقت وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے بجائے سونیا گاندھی ہوتیں تو صورت حال وہ نہ ہوتی جو 2014 ء یا ایک سال پہلے بن گئی اور حکومت کے ہی دست و بازو نے سازش کرکے حکومت کی تصویر اتنی بھیانک بنادی کہ عام آدمی جس کا کوئی تعلق بی جے پی سے نہیں تھا کانگریس سے نفرت کرنے لگا۔

اور 2014 ء میں جو کچھ ہوا وہ بی جے پی کی کارگذاری نہیں وہ نفرت تھی جو عوام کے دلوں میں بھر گئی تھی۔ اس کے بعد کانگریس اتنی کمزور ہوگئی کہ جتنی تاریخ میں کبھی نہیں ہوئی تھی۔ بی جے پی کے نام سے جو حکومت بنی وہ صرف آر ایس ایس کا خاکہ تھا اڈوانی جی جو اس وقت بی جے پی کے سب سے بڑے لیڈر تھے کسی بھی قیمت پر نریندر مودی کو وزیراعظم نہیں بنانا چاہتے تھے بلکہ بار بار ان کی طرف سے اشارے ملے کہ مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ کو وزیراعظم کا اُمیدوار بنایا جائے مگر موہن بھاگوت کسی قیمت پر راضی نہیں ہوئے اور انہوں نے مودی کو ہی بنایا جس کے بارے میں اب شہرت ہے کہ وہ بھی پچھتا رہے ہیں۔ اس وقت سے کانگریس جیسی کمزور ہوئی تھی اس کی حد یہ تھی کہ 2017 ء میں جب اترپردیش کے الیکشن ہوئے تو راہل گاندھی نے ایک الیکشن جتانے والے جادوگر کی خدمات بھی حاصل کیں لیکن وہ بھی ماحول کا رنگ دیکھ کر اس نتیجہ پر پہونچے کہ سماج وادی پارٹی سے مل کر الیکشن لڑنا چاہئے۔ اور انہوں نے ہی ملائم سنگھ سے مذاکرات شروع کئے اور اکھلیش یادو سے بھی اس انداز میں بات کی جیسے وہ بڑے ہیں اور کانگریس کے راہل چھوٹے ہیں۔

ایک بات صاف نظر آرہی تھی کہ یوپی کانگریس کے صدر راج ببر اور الیکشن انچارج غلام نبی آزاد اس کے حق میں نہیں تھے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں نے مل کر لڑا بھی اور دونوں مودی کے حملوں سے اتنے زخمی ہوئے کہ منھ دکھانے کے قابل نہیں رہے اب اسے مودی کی بدقسمتی کہیں گے کہ اترپردیش کی لوک سبھا کی انتہائی اہم تین سیٹوں کا ضمنی انتخاب ہوا اور تینوں اکھلیش یادو نے جیت لیں اور ایسا لگا کہ اب وہ کھڑے ہوسکتے ہیں۔ ان سیٹوں کے الیکشن میں کانگریس کہیں نہیں نظر آئی۔ سنا تھا کہ ایک سیٹ پر کانگریس نے بھی کسی کو کھڑا کیا تھا۔

2018 ء کے آخری مہینوں میں جو پانچ ریاستوں کے الیکشن ان ریاستوں میں ہوئے جہاں سماج وادی کا کچھ لینا دینا نہیں تھا البتہ مایاوتی اس سے پہلے بھی وہاں قسمت آزماتی رہی ہیں۔ مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں مایاوتی نے چاہا کہ کانگریس ان کے لئے سیٹیں چھوڑ دے اور کانگریس آمادہ بھی تھی لیکن ہر جگہ کی طرح مایاوتی نے اتنا حصہ مانگا جو کانگریس کیا کوئی پارٹی نہیں دے سکتی تھی۔ انہوں نے اپنے عادت کے مطابق جتنے ہوسکے اُمیدوار اُتار دیئے اور اکھلیش یادو نے بھی نہ جانے کس شوق میں وہاں اُمیدوار کھڑے کردیئے اس بات کو ہر سیاسی ذہن رکھنے والا سمجھ سکتا ہے کہ بی جے پی کے مقابلہ میں جو اُمیدوار ووٹ لے گا وہ سیکولر ووٹ ہوں گے۔ اور یہی ہوا کہ دونوں نے خوب ووٹ کاٹے لیکن مدھیہ پردیش میں مایاوتی کے دو اور اکھلیش کا ایک اُمیدوار کامیاب ہوگیا اور ان کے علاوہ چار آزاد ممبر بھی کامیاب ہوئے جنہوں نے کانگریس کو حمایت دے دی مایاوتی نے یہ سوچ کر کہ ان کا کھیل بگڑ گیا ہے انہوں نے بھی کانگریس کو حمایت دے دی۔ قاعدہ کی بات یہ تھی کہ تینوں کی قسمت کا فیصلہ عوام نے کردیا اس کے بعد تینوں کو ایک ہوجانا چاہئے تھا لیکن اکھلیش یادو جیسے سنجیدہ نوجوان کا یہ بیان کہ ہمارا ایک اُمیدوار جیتا تھا اس نے کانگریس کو حمایت دی مگر انہوں نے اسے وزیر نہیں بنایا اس لئے ہم تیسرا محاذ بنانے جارہے ہیں۔

ہندوستان میں اب تک نہ جانے کتنے ہم خیال لوگوں نے ایک دوسرے کو حمایت دی ہے اور کہیں نہیں ہوا کہ حمایت دی تو وزیر بنائو۔ اگر اکھلیش کے آدمی کو وزیر بنایا جاتا تو مایاوتی نے دو ممبروں سے حمایت دی ہے ان دونوں کو بھی وزیر بنایا جاتا۔ مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ کمل ناتھ ہیں اور کانگریس کے صدر راہل یہ اُن کی شرافت ہے کہ وہ خاموش ہیں ورنہ ان کو حمایت سے زیادہ شکایت ہونا چاہئے تھی کہ نہ جانے ان دونوں نے کانگریس کی کتنی سیٹیں کم کردیں اگر یہ الیکشن کو گندہ نہ کرتے تو مدھیہ پردیش میں کم از کم 125  اور راجستھان میں 115  اور چھتیس گڑھ میں بی جے پی کو 10  پر روک دیا ہوتا۔

چندر شیکھر رائو کا کانگریس سے پرانا اختلاف ہے وہ دل کی بھڑاس نکالنا چاہ رہے ہیں نکال لیں اویسی بھی کانگریس سے رشتہ توڑکر ان کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن تمام بزرگ سیاست داں اس حق میں ہیں کہ کانگریس کے محاذ کو طاقت دینا چاہئے اور نیشنل پارٹیاں صرف دو ہیں چھوٹاسا تلنگانہ اور ناتجربہ کار چندر شیکھر رائو کی یہ حیثیت نہیں ہے کہ وہ ایک نیشنل محاذ کھڑا کرلیں مایاوتی اور اکھلیش یادو لوک سبھا کی سیٹوں کے لئے دبائو ڈال رہے ہیں جس کا فائدہ بی جے پی کو تو ہوسکتا ہے جس نے دونوں کی کھٹیا کھڑی کردی ہے تیسرے محاذ کو نہیں۔

اکھلیش یادو نے پہلی بار مایاوتی کے انداز میں بات کی ہے جبکہ ضرورت اس کی ہے کہ وہ اپنی بوا کو بھی سمجھائیں جو مدھیہ پردیش میں ہر سیٹ پر لڑنے کا فیصلہ کررہی ہیں اس کے جواب میں اگر کانگریس نے یوپی کی ہر سیٹ پر لڑنے کا فیصلہ کیا تو نتیجہ وہی ہوگا جو امت شاہ چاہتے ہیں۔ مایاوتی کی ساری جدوجہد نیشنل لیڈ بننے کے لئے ہے لیکن وہ جتنے کھیل کھیل رہی ہیں کمزور ہوتی جارہی ہیں انہوں نے اجیت جوگی کے ساتھ جن تیوروں کے ساتھ الیکشن لڑا تھا کہ حکومت بنا رہی تھیں لیکن نتیجہ اتنا شرمناک نکلا کہ اس کے بعد انہیں گھر بیٹھنا چاہئے تھا۔ وہ دلت لیڈر ہیں یہ سب مانتے ہیں لیکن ڈاکٹر امبیڈکر ہیں یہ کوئی نہیں مانے گا اچھا یہ ہے کہ وہ علاقائی لیڈر ہی رہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close