سیاست

اکیسویں صدی میں بھی اگنی پریکشا 

ممتاز میر

 یہ بڑا عجیب اتفاق ہے (اسے حسن اتفاق کہیں گے یا سوء اتفاق یہ فیصلہ ہم قارئین پر چھوڑتے ہیں) کہ جس وقت سوچھتا کے پرچارک ہمارے ’’محترم،پیارے‘‘ وزیر اعظم جس وقت بنارس میں تھے اسی دن بنارس ہندو یونیورسٹی میں ایک طالبہ سائیکل پر شام چھ بجے گھوم رہی تھی۔ تین موٹر سائیکل سوار شر پسندوں نے اس کے کپڑوں میں ہاتھ ڈال دیااو بھاگ گئے۔ لڑکی نے سڑک کے دوسری طرف کھڑے گارڈ سے جب شکایت کی تواس نے جواب دیا کے رات کے چھ بجے گھوموگی تو یہی ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بھی غنیمت ہے ورنہ یہاں تک ہوا ہے کہ جب پولس والے سے شکایت کی گئی تو اسنے بھی شکایت کنندہ پر ہاتھ صاف کیا ہے۔ خیر۔۔اب جناب روش کمار کی سادہ لوحی دیکھئے۔ وہ اپنے ٹی وی شو میں کہتے ہیں کہ یہ تفتیش ہونی چاہئے کہ کیا واقعی گارڈ نے یہ کہا ہے؟ کہا بھی ہوگا تو گارڈ مانے گا نہیں کہ ہاں میں نے یہ کہا تھا۔ تفتیش دراصل اس بات کی ہونی چا ہئے کہ کیا واقعی بنارس ہندو یونیورسٹی کا ماحول شام کے چھ بجے ہی جب کہ ابھی سردیا ں کچھ دور ہیں اس درجہ خراب ہوجاتا ہے کہ وہاں پڑھنے والی بچیوں کا باہر نکلنا ممنوع قرار دے دیا جائے۔ (نہ ہوئے ساحر لدھیانوی، ورنہ کہتے۔ کہاں ہیں ثنا خوان مشرق کہاں ہیں ) اور اگر ایسا ہے توہمارے نزدیک یونیورسٹی انتظامیہ اور اسٹوڈنٹس یونین دونوں ہی ذمے دار ہیں جہاں پر بھارتیہ سبھیتا اوراس ملک کے سب سے بڑے  اور ’’مستند‘‘ دیش بھکتوں کا غلبہ ہے۔

  چلئے یہاں تک تو ٹھیک تھا۔ مگر اس کے بعد جو ہوا اس سے بھی برا ہوا۔ گارڈس تو عموماً جاہل ہوتے ہیں، جبکہ ہوسٹل وارڈن توکسی نہ کسی پروفیسریابہرحال پڑھی لکھی ہستی کو بنایا جاتا ہے۔ جب متاثرہ طالبہ نے اپنی ہوسٹل وارڈن سے اس واقعے کی شکایت کی تواس وارڈن نے بجائے بات یونیورسٹی انتظامیہ تک لے جانے کیطالبہ کو ہی ڈانٹ دیا کہ وہ باہر سے اتنی تاخیر سے کیوں آرہی ہے؟ ہمیں نہیں معلوم کہ بنارس ہندو یونیورسٹی کے ہوسٹل کے کیا قوانین ہیں؟ اگر شام چھ بجے کے بعد ہوسٹل سے باہر رہنا ممنوع ہے تب تو ٹھیک ہے، اس کے باوجود وارڈن کو یونیورسٹی حکام کو اس سے باخبر کرنا چاہئے تھا۔ اور اگر وقت کی پاندی نہیں تھی تو پھر یہ سمجھنا چاہئے کہ ذمے داران کا اس طرح کا رویہ ہی غلط عناصر کی حوصلہ افزائی کا سبب ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر وطن عزیز میں اس سے پہلے کئی بار پولس کے خواتین کے ساتھ تشدد کے واقعات میڈیامیں رپورٹ ہوئے ہیں۔ اگر اس وقت سخت کاروائی کی گئی ہوتی تو نوبت یونیورسٹی کیمپس تک نہیں پہونچتی۔ مگر مسئلہ ہے پولس کے مورال کا ،جس سے کانگریس بھی ڈرتی تھی یا کم سے کم ڈرنے کا ناٹک کرتی تھی۔ اور مودی جی کی تو بات ہی کیا۔ان کا تو پولس  سے پرانا یاراناہے۔ محترمہ رعنا ایوب نے اپنی کتاب میں بہت سے راز کھولے ہیں۔ پولس کی چھتر چھایا میں تو حضرت کئی بار گجرات کے وزیر اعلیٰ بنے ہیں اور اب دیش کے پردھان منتری بن کربلکہ این آر آئی  پردھان منتری بن گئے ہیں۔

  ہمارے یہاں بات عموماً معمولی سی ہوتی ہے مگر انتظامیہ کی حماقتیں اور پولس کا متکبرانہ رویہ بات کو ہمالیہ پہاڑ بنا دیتاہے۔ اس سے پہلے بھی کئی ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ خواتین اپنے دکھوں کا مداوا پولس کے پاس ڈھونڈنے گئیں اور پولس نے ان زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے مزید نمک چھڑک دیا۔ا ور یہ اس وقت ہوتا ہے جب آج ہر آدمی میڈیا پرسن بن چکا ہے۔ کوئی نہ کوئی ایسے واقعات کی ویڈیو بنا لیتا ہے۔ پھر یہ ویڈیو میڈیا میں آجاتی ہے، مگر نہ پولس کے اعلیٰ حکام کے کانوں پر جوں رینگتی ہے نہ حکمرانوں کے۔ ہم اس سے پہلے بھی کئی بار لکھ چکے ہیں کہ ہمارے حکمراں پولس کو کمزور مسلمانوں پر ظلم کی اجازت دے کر نہ دیش کا بھلا کر رہے ہیں نہ سماج کا مسلمانوں پر ظلم کرنے والی پولس ایک وقت آئے گا کہ کسی کو بھی نہیں بخشے گی۔ اب وہ وقت آچکا ہے۔ ہندوستان میں کئی واقعات ایسے ہو چکے ہیں کہ پولس نے ججوں کو بھی نہیں بخشا ہے۔ ٹاپ بیوروکریٹس پر بھی پولس ہاتھ چھوڑ چکی ہے۔اب پولس خواتین تو کیا تعلیمی اداروں میں پڑھنے والی کمسن اور کمز ورطالبات کو بھی بخشنے کو تیار نہیں۔ ان کے خلاف بھی ہماری بہادر پولس لاٹھی چارج ہی نہیں آنسو گیس اوراور ربر بلٹس کا استعمال کر رہی ہےمستقبل قریب میں ہو سکتا ہے کہ ان کے خلاف بھی ATS بنانا پڑجائے۔ یہ اس بات کے اشارے ہیں کہ اب ہم مہذب نہیں رہے۔

اب یہاں جنگل کلچر پروان چڑھ رہا ہے۔ یہ ایک کھلا راز ہے کہ ہماری پولس جرم کی حوصلہ شکنی نہیں کرتی بلکہ ہمت افزائی کرتی ہے۔ لوگ یہ کہتے ہیں کہ سماج میں ہونے والے۵۰ فی صد جرائم پولس کی سرپرستی میں ہو تے ہیں۔ ہم انتہائی اختصار کے ساتھ یہاں چند مثالیں پیش کرتے ہیں۔ (1)25جولائی 2016 کو منالی میں ایک اسرائیلی لڑکی کے ساتھ گینگ ریپ کیا گیا۔اورعصمت دری کرنے والے تمام لوگ وہی تھے جنھوں نے تین سال پہلے بھی روہتک ہریانہ میں اسی لڑکی کو اپنی وحشت کا شکار بنا چکے تھے۔اور یہ اسرائیلی لڑکی (مودی جی کے اسرائیل سے جو تعلقات ہیں اس کی بنا پر اس بچی کو ان کی بھتیجی کہا جا سکتا ہے) پہلے واقعے کا FIR درج کروا چکی تھی۔خود ہی دیکھ لیجئے ہمت شکنی ہوئی یا ہمت افزائی۔(2)کیرالہ کی ایک ماں بیٹی کی شر پسند عناصر سے تعاقب اور چھیڑخانی کی شکایت پولس اس وقت تک  نظر انداز کرتی رہی جب تک بیٹی کی عصمت دری کرکے اسے مار نہ دیا گیا۔ (3) ایک باپ کا اپنی بچیوں کے اغوا کے سلسلے میں پولس کے  سامنے رونا گڑ گڑانا ،ان کی بازیابی کی بھیک مانگنااس وقت تک اثر پزیر نہ ہوا جب تک ان بچیوں (Teenagers) کی عصمت دری کرکے درخت سے لٹکا کر مار نہ دیا گیا۔

  سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رام کرشن اور گوتم بدھ کے اس دیش میں سیتا رادھا اور پاروتی کی حالت اتنی خراب کیوں ہے؟اس کی وجہ اس دیش کے عقائد میں پنہاں ہے۔رام اور سیتاکی جوڑی کو یہاں ایک رول ماڈل کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے۔ مگر رام کی کہانی سنانے والے یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ کھتری رام نے ایک دھوبی کے کہنے پر اپنی اس بیوی کو جس نے 14 سال اس کے ساتھ بن باس میں گزاراتھا، سیتا میا کو  اگنی پریکشا کا تحفہ دیا تھا۔ ظاہر ہے جو ان لوگوں کا رول ماڈل ہے یہ اسی کی اتباع کریں گے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ ان لوگوں کومسلم عورتوں  کا درد بے چین کئے رہتا ہے۔ اس سے بڑی ستم طریفی یہ ہے کہ کچھ مسلم عورتیں ایسے لوگوں سے بھی بھلائی کی توقع رکھتی ہیں۔ اور ان کا سربراہ وہ شخص ہے جس نے خود اپنی بیوی کو زندہ درگور کر رکھا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close