سیاست

اک تیر میرے سینے پہ مارا کہ ہائے ہائے

حفیظ نعمانی

13 فروری کی تاریخ بھی تاریخ میں یاد رکھی جائے گی کہ اس تاریخ کو جنترمنتر دہلی میں عام آدمی پارٹی کی بلائی ہوئی ریلی میں بزرگ لیڈر شرد پوار، فاروق عبداللہ، پروفیسر رام گوپال، آنند شرما، شتروگھن سنہا، کنور دانش علی، چندر بابو نائیڈو، ممتا بنرجی، سیتا رام یچوری اور اروند کجریوال ’مودی ہٹائو دیش بچائو‘ کے نعروں کی گونج میں صرف ایک مطالبہ کررہے تھے کہ ملک کو نریندر مودی سے نجات دلانے کیلئے جس قربانی کی ضرورت ہو وہ دینا چاہئے اور ممتا بنرجی نے یہ کہہ کر کہ وہ لوک سبھا کا الیکشن کانگریس اور بایاں محاذ کے ساتھ مل کر لڑنے کا اعلان کرتی ہیں۔ اور کجریوال نے کہا کہ وہ کانگریس کے ساتھ مل کر لوک سبھا کا الیکشن لڑنے کی دعوت دیتے ہیں۔ اور لوک سبھا کے اندر مشہور سماج وادی لیڈر ملائم سنگھ کہہ رہے تھے کہ ہم مودی جی کو مبارکباد دیتے ہیں کہ انہوں نے سب کے ساتھ مل کر کام کیا اور یہ بھی سچ ہے کہ ہم نے آپ سے جس کام کیلئے بھی کہا آپ نے فوراً اسی وقت حکم جاری کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم لوگ تو اتنی اکثریت نہیں لاسکتے تو آپ ہی دوبارہ وزیراعظم بنیں۔

سب نے پڑھ لیا ہوگا کہ ملائم سنگھ سونیا گاندھی کے پاس بیٹھے تھے اور وہیں کھڑے ہوکر انہوں نے غلامی کی زنجیروں کو چوما جسے سن کر سونیا گاندھی حیران رہ گئیں۔ ہوسکتا ہے وہ سوچ رہی ہوں کہ یہ بڑھاپے کا اثر ہے یا احساس شکست ہے جس نے ان کو جکڑ لیا ہے۔ اس خبر سے سماج وادی پارٹی پر کیا گذری اور اکھلیش یادو کے جگر کا کتنا خون بہا اس کی تفصیل تو رفتہ رفتہ معلوم ہوگی لیکن ہم پھر وہیں آرہے ہیں جہاں 2017 ء میں تھے اور قدم قدم پر ملائم سنگھ اپنے قابل فخر بیٹے کو گردن سے پکڑکر کانٹوں پر گھسیٹ رہے تھے اور سب اس کوشش میں تھے کہ باپ اور بیٹے کے درمیان مصالحت ہوجائے اور ہم بار بار لکھ رہے تھے کہ یہ غصہ وقتی غصہ ہے نہ سیاسی اختلاف اس کا تعلق پارٹی حکومت یا اقتدار سے نہیں ہے بلکہ یہ وہ رشتہ ہے جو جہاں بھی ہے بد سے بدتر شکل اختیار کرلیتا ہے یعنی کم عمر کی دوسری ماں اور کہیں ایک یا دو چار نہیں ہر جگہ پہلی بیوی کے بچوں کی طرف سے باپ کو اندھا کردیتا ہے۔

ہم تو اپنے مشاہدوں اور تجربوں کی وجہ سے یہ تک کہنے پر تیار ہیں کہ اگر اکھلیش بابو پوری پارٹی ان کو دے دیں پورا خزانہ اُن کے قدموں میں ڈال دیں اور صرف یہ چاہیں کہ وہ ایم پی یا ایم ایل اے بن کر زندگی گذارنے پر تیار ہیں تو ملائم سنگھ کی بیگم اکھلیش کو کارپوریٹر بھی نہیں بننے دیں گی۔ ہم نے اس موضوع پر بہت تحقیقات کی ہے اگر ہم صرف دس نام بھی لے دیں اور تفصیل بتادیں تو طوفان آجائے گا۔

اب تک ہم نے سماج وادی پارٹی سے کوئی تعلق نہ رکھتے ہوئے بھی صرف اکھلیش کی صاف ستھری بے داغ حکومت کرنے کی خوشی میں ان کو مشورہ دیا تھا کہ وہ باپ کو جتنا برداشت کرسکتے ہیں کرلیں لیکن انہوں نے 2017 ء میں ثابت کردیا کہ اکھلیش کی عزت اور ذلت سے ان کو کوئی مطلب نہیں ہے اور چھوٹی بیگم کی بیٹی کے حلقہ میں جاکر ووٹ مانگے اور آگے کسی حلقہ میں نہ جاکر یہ ثابت کردیا کہ وہ چھوٹی بیگم کے غلام ہیں۔ اکھلیش بابو جانتے ہوں گے کہ اگر نیتاجی کی اجازت نہ ہوتی تو شیوپال ہرگز پارٹی نہ بناتے۔ اب آخری دن انہوں نے مودی جی کو دوبارہ وزیراعظم بن کر آنے کی دعا دے کر ثابت کردیا کہ ساری خدائی ایک طرف اور نئی جورو ایک طرف۔ اب اکھلیش پارٹی کی عاملہ کی میٹنگ بلاکر اس میں سب کو صورت حال بتادیں اور جلد سے جلد اعلان کردیں کہ وہ ملائم سنگھ کو ٹکٹ نہیں دیں گے اور وہ جہاں سے لڑیں گے ان کے مقابلہ پر اپنا اُمیدوار نہیں کھڑا کریں گے بس اس سے زیادہ کوئی مدد نہیں کریں گے۔ اور وہ اپنی اور بچوں کی پرسکون زندگی چاہتے ہیں تو یہ بھی ضروری ہے کہ وہ باپ کے مکان سے بہت دور اپنا گھر بنائیں۔

ملائم سنگھ کے بارے میں یقین ہے کہ وہ سونیا خاندان کے مقابلہ میں مودی اور ان کی فوج سے زیادہ قریب ہیں اور ان کی بیگم کی بیٹی نے یوگی آدتیہ ناتھ کے گئوشالہ میں بار بار جاکر جس تعلق کا اظہار کیا تھا نہ وہ کسی سے چھپا ہے اور نہ وہ چھپ کر جاتی تھیں۔ اسی طرح شیوپال کے ساتھ یوگی نے جو مہربانیاں کیں ان سے ثابت ہوگیا کہ مقصد صرف خاندان میں پھوٹ کو بڑھاوا دینا ہے اور کوشش کرنا ہے کہ سماج وادی کے جس قدر ووٹ کٹ سکیں کاٹ لئے جائیں۔

اکھلیش یادو کی خوش قسمتی ہے کہ 50  دن پہلے ان کے باپ نے اپنے کپڑے اتارکر دکھا دیا کہ وہ اندر زعفرانی لباس پہنے ہوئے ہیں۔ اکھلیش بابو کو ہوسکتا ہے کہ یہ معلوم ہوچکا ہو کہ جب سے امرسنگھ نے ان کو اپنی مٹھی میں لیا تھا اس وقت سے ان کی راتوں کا رنگ بدل دیا تھا۔ اور یہ جو اُن کی ماں بن کر آئی ہیں یہ اچانک نہیں ٹپکی ہیں بلکہ پرانا تعلق ہے جس کا آخری ٹھکانہ وہ ہے جو کبھی اکھلیش کی ماں کا تھا۔ اب اکھلیش اپنے خاندان کو جتنا ہوسکے قریب کرنے کی کوشش کریں اور یہ سمجھ لیں کہ اب آر پار کی جنگ اگر وہ لڑسکیں تو لڑلیں ورنہ ہتھیار ڈال کر گھر بیٹھ جائیں اور اس الیکشن میں نہ وہ لڑیں اور نہ ڈمپل بی بی کو لڑائیں اور جتنی محنت کرنا ہے دونوں ان سیٹوں پر جو اُن کے حصہ میں آئی ہیں کریں۔ ہمارا مشورہ تو یہ ہے کہ اگر کہیں دیکھیں کہ کانگریس کا اُمیدوار واقعی جیت رہا ہے تو کوشش کرکے اسے جیت جانے دیں اور بی جے پی کو ہرانا جو اصل مقصد ہے اسے نہ بھولیں۔ آنے والے کل میں راہل کے آدمی تو ان کے کام آسکتے ہیں مودی کے نہیں۔ اور کوشش اس کی بھی کریں کہ ملائم سنگھ، شیوپال اور امرسنگھ میں سے کوئی نہ جیت پائے۔ ان کا صرف جیتنا ہی آگے نقصان پہونچا سکتا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close