سیاست

اگر حکومت کرنا ہے تو اس کے تقاضے پورے کرنا پڑیں گے

آج مودی جی حکومت سے باہر چلے جائیں تو وہ بھی گائے کے لئے قانون کا مطالبہ کرنے والوں کے ساتھ کھڑے ہوجائیں گے۔

حفیظ نعمانی

کل ہند ہندو مہاسبھا کے صدر سوامی چکرپانی نے شری شری روی شنکر سے گفتگو کرتے ہوئے گائے کے نام پر مسلمانوں کے قتل کے واقعات کو پاگل پن قرار دیا ہے اور اس کی ذمہ داری مرکزی حکومت پر ڈالی ہے۔ سوامی جی نے کہا ہے کہ جب مسلمان گائے کشی کے لئے قانون بنانے پر راضی ہی تو حکومت قانون کیوں نہیں بناتی؟ سوامی چکرپانی نے شری شری روی شنکر سے کہا کہ تمام مذاہب کے رہنماؤں کی ایک میٹنگ بلائی جائے جس میں اس طرح کے تمام ایشو پر تبادلہ خیال ہونا چاہئے۔ سوامی جی نے صحیح کہا ہے کہ ہمیں یہ فکر ستا رہی ہے کہ یہ ملک کہاں جارہا ہے؟ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی وزیر مملکت گوا میں خود گائے کا گوشت کھا رہے ہیں اور اسی کے نام پر ووٹ لیتے ہیں۔

ہم نے کل ہی لکھا تھا کہ ان دنوں جتنے واقعات ہوئے ہیں وہ دادری کے محمد اخلاق کا قتل ہو یا چار دن پہلے ہاپوڑ میں ہونے والا قتل کسی معاملہ میں نہ کٹی ہوئی گائے ہے نہ کاٹنے کا منظر نہ فروخت ہوتا ہوا گائے کا گوشت۔ چار سال سے جو ہورہا ہے اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ مسلمان دہل جائیں اور اتنا ڈر جائیں کہ بی جے پی کے خلاف ووٹ دینے کی ہمت نہ کریں ۔ ان بے وقوفوں کو یہ نہیں معلوم کہ گرمی کے رمضان کے روزوں کے ہوتے ہوئے مردوں کا ہی نہیں عورتوں کا جو جوش کیرانہ اور نور پور میں نظر آیا کہ ایک بار ووٹ دینے کے بعد جب اعلان ہوا کہ کل پھر دوبارہ اس لئے ووٹ ڈالے جائیں گے کیونکہ مشینیں خراب ہوگئی تھیں تو اس سے بھی زیادہ جوش تھا حالانکہ مشینوں کی خرابی اور دوبارہ پولنگ یہ صرف اس لئے تھا کہ مسلمان کم سے کم ووٹ دیں لیکن جس نے بھی ووٹ دیا اس نے اس کا انتقام لیا جسے گائے کے بہانے قتل کیا گیا تھا۔

سوامی چکرپانی جی جو اسے غنڈوں کا کھیل سمجھ رہے ہیں وہ کھیل نہیں ہے منظم سازش ہے۔ حکومت نے نہ قانون بنایا ہے اور نہ بنائے گی اگر وہ قانون بن گیا تو ان کا کیا ہوگا جو کروڑوں روپئے کا گائے کی کھالوں کا کاروبار کرتے ہیں اور ان کا کیا ہوگا جو اربوں روپئے کا گائے کا گوشت مسلم ملکوں کو برآمد کرتے ہیں اور ڈالر وصول کرتے ہیں اور وہ سب ہندو ہیں اور کروڑوں روپئے بی جے پی کو چندہ دیتے ہیں؟

اور ان صوبوں کا کیا ہوگا جہاں کے ہندو، عیسائی اور مٹھی بھر مسلمان صرف گائے کا گوشت کھاتے ہیں؟ جو بات ہم نے کل کہی تھی آج پھر دہرا رہے ہیں کہ کیا 15 اگست 1947 ء کے بعد گائے ماں اور بھگوان ہوگئی؟ گنگا بھی ماں ہے اور اس وقت سے ہے جب سے اسے ماں کہنا شروع کیا ہے۔ گنگا کے کنارے جتنے شہر ہیں ان سب کے گندے نالے گنگا میں گررہے ہیں اور پانی کو ناپاک اور زہریلا کررہے ہیں ۔ ہم نے ان نالوں کے خلاف شور تو سنا لیکن یہ آج تک نہیں سنا کہ گنگا کو میا کہنے والوں نے اس شہر کے میونسپل بورڈ یا کارپوریشن پر حملہ کیا ہو یا نالوں کو بند کرکے ان کا رُخ واپس شہر کی طرف کردیا ہو اس کے برعکس عوام کی خون پسینہ کی کمائی کا اب تک اربوں روپیہ گنگا میا کی صفائی کے نام پر ہندو وزیروں نے کھالیا اور حکومت صرف وزیر بدلتی رہی جس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ تم کھاچکے اب دوسرے کو کھانے دو۔

یہ بات یوگی حکومت کے بعد کی ہے جب اترپردیش میں ایک بھی سلاٹر ہاؤس نہیں ہے کہ ہر شہر میں گائے کا گوشت بک رہا ہے اور پورے اترپردیش میں دھوم سے گائیں کٹ رہی ہیں جس کا فائدہ صرف پولیس کو ہورہا ہے۔ آج وہ کسان سب سے زیادہ پریشان ہے جس کی گائے نہ بچہ دیتی ہے اور نہ دودھ۔ جو کسان اپنے بچوں کو کھلانے کے قابل نہیں ہے وہ گائے کو کہاں سے کھلائے؟ اسے اگر کوئی پانچ سو روپئے بھی دے تو وہ اپنی گائے کی رسّی پکڑا دیتا ہے پھر یہ گائے پانچ ہزار روپے میں فروخت ہوجاتی ہے جو اس کے گوشت کھال اور دوسری فروخت ہونے والی چیزوں سے اتنا کما لیتے ہیں کہ عیش کی زندگی گذارتے ہیں۔ اور اب تو ناکارہ گائے کو خریدنے کی بھی ضرورت نہیں رہی۔ ہر کھیت میں گائیں اور جرسی گائے کے بچھڑے یا بوڑھے بیل بھوک مٹانے کیلئے آتے ہیں کھیت کا مالک اپنے کھیت سے بھگاتا ہے تو برابر کے کھیت میں چلے جاتے ہیں اور وہاں سے کوئی پکڑکر لے جائے تو اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ ہر پولیس والا ہندو ہونے کے باوجود یہ جانتا ہے کہ گائے ہمیشہ سے کٹتی آئی ہے اور ہمیشہ کٹتی رہے گی۔ جسے اس کے ذریعہ ووٹ لینا ہے وہ اسے ماں کہے گا اور جسے اس کے ذریعہ پیسے کمانا ہیں وہ قصائی کو دے کر پیسے کمالے گا اور جو کھانے والے ہیں وہ اسے بھینس کا گوشت مان کر خرید لیں گے اور کھالیں گے۔

جب انگریزوں کی حکومت تھی تب بھی گائے کے بارے میں بات تو ہوتی تھی احتجاج نہیں ہوتا تھا۔ اس وقت ہندو مہا سبھا اور کانگریس میں پٹیل اور ٹنڈن گروپ کے لوگ گائے پر پابندی لگانے کی بات کرتے تھے پھر جب کانگریس کی حکومت نے ڈالر کی خوشبو سونگھی تو وہ گائے کے بارے میں کہتے تو رہے مگر سختی نہیں کی پھر جب جن سنگھ شور مچانے کے قابل ہوئی تو اس نے گائے کو موضوع بنایا لیکن کانگریس من مانی کرتی رہی اب بی جے پی کی حکومت ہے جو گائے کٹ رہی ہے وہ اس کی مرضی سے کٹ رہی ہے اور جو شور ہورہا ہے اور جو بھیڑ کررہی ہے اس بھیڑ کا بی جے پی سے بس اتنا تعلق ہے کہ وہ جو چاہے کرے پولیس ان پر ڈنڈے نہیں برسائے گی۔ اب سوامی چکرپانی بتائیں کہ حکومت قانون کیسے بنادے؟ اور بنا دے گی تو ان کا کیا ہوگا جو گوشت اور کھالوں سے کروڑوں روپئے امت شاہ کو دیتے ہیں؟ وہ زمانے گئے جب نیتا اندر اور باہر ایک جیسا ہوتا تھا اب ہر حاکم کا اندر کچھ اور ہوتا ہے اور باہر کچھ اور۔

آج مودی جی حکومت سے باہر چلے جائیں تو وہ بھی گائے کے لئے قانون کا مطالبہ کرنے والوں کے ساتھ کھڑے ہوجائیں گے۔ اور اگر ہندو مہاسبھا اور شری شری روی شنکر کی حکومت بن جائے تو وہ گائے کے لئے قانون نہیں بنائیں گے۔ اس کی وجہ بزدلی نہیں ہے بلکہ ضرورت ہے اور ضرورت ڈالر کی ہے اور دنیا کے ساتھ چلنے کی ہے۔ اگر دنیا سے الگ ہوگئے تو نکّو کہلائیں گے جو کسی کو پسند نہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close