اگنی پریکشا نتیش کی ہے

حفیظ نعمانی

نتیش کمار خود تو خاموش ہیں مگر ان کے دست راست ضرورت سے زیادہ بول رہے ہیں۔ بار بار کہا جارہا ہے کہ گٹھ بندھن کی اگنی پریکشا ہے جبکہ اگنی پریکشا نتیش کمار کی ہے۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ بہار میں کیا ہورہا ہے؟ اور انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ اُترپردیش میں کیا ہوا؟ نتیش کمار کے کان بھی ہیں آنکھیں بھی اور دماغ بھی۔ وہ بہار میں مودی سے دو دو ہاتھ ایک بار نہیں بار بار کرچکے ہیں۔ اور ان کو دھول چٹا چکے ہیں لیکن اپنے بل پر نہیں ان کی کمر پر لالو کا ہاتھ تھا۔ وزیر اعظم نے جیسی فرقہ پرستی اُترپردیش میں پھیلائی اور ہر ہندو کو یقین دلا دیا کہ اکھلیش یادو آدھا مسلمان ہے وہ اس لئے تھا کہ بہار میں وہ لالو نتیش اور راہل تین کو نشانہ نہ بنا سکے۔ اُترپردیش میں انہوں نے صرف اکھلیش کو نشانہ بنایا کیونکہ صرف اس کی حکومت تھی۔

لالو کے دونوں بیٹے نتیش کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ یہ بات تو سی بی آئی سے زیادہ ان کو معلوم ہوگی کہ کیا ان لڑکوں نے آتے ہی لوٹ مار شروع کردی؟ اور اگر ایسا تھا تو انہوں نے لالو سے کیوں نہیں کہا کہ ان بچوں کو سمجھائو کہ حکومت کرنا تلوار کی دھار پر چلنا ہے۔ نتیش کو یہ دیکھنا چاہئے کہ کیا صرف بہار میں لالو کے لڑکوں نے بھی بے ایمانی کی باقی سارے صوبے جہاں ان کی حکومت ہے دودھ کے دُھلے ہیں؟ بات صرف وہ ہے جو پرسوں ہم نے کہی تھی کہ اُترپردیش کو فرقہ پرستی کا ننگا ناچ ناچ کر ایسا بنا دیا کہ امریکہ کے اخبار اسے جو لکھ رہے ہیں وہ ہر اخبار میں چھپ گیا ہے۔ بہار میں فرقہ پرستی نہیں چلی تو لالو کو نشانہ بناکر اس گٹھ بندھن کو توڑنے کی سازش سی بی آئی کے ذریعہ کی جارہی ہے جس نے بہار سے ذلیل کرکے انہیں نکالا تھا اور بنگال میں رات دن یہ کوشش ہورہی ہے کہ ہر ہندو گورکھ پور والا ہندو بن جائے ایسا کمیونسٹ نہ رہے جیسا اس کی اب تک پہچان ہے اور جس کے بل پر 35  برس تک جیوتی بسو نے حکومت کی اور جن کی فراخ دلی کی وجہ سے ہر دن سیکڑوں گائیں کٹ رہی ہیں۔

بنگال میں ہندوتو کے زہریلے انجکشن لگانے کے لئے اسمرتی ایرانی تک کو میدان میں اُتار دیا ہے اور وہاں بھی صرف وہ ہتھیار استعمال ہورہے ہیں جو اُترپردیش میں ہوئے تھے لیکن بنگال میں صرف وہ دہلی کی طرح تین سیٹوں پر جیت سکے۔ مودی کو سب سے بڑی تکلیف یہ ہے کہ وہ وزیراعظم ہیں دنیا کے بڑے بڑے ان کو دوست بنا رہے ہیں اور خود ان کے ملک میں ملک والے انہیں ذلیل کررہے ہیں۔ یہی شرمندگی ہے کہ جس نے ان کے دماغ میں آگ بھردی ہے اور وہ ہر ریاست میں اپنی پارٹی کی حکومت بنانا چاہتے ہیں۔

لالو یادو کے بارے میں ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ وہ ہندوستان میں اکیلا ہندو لیڈر ہے جو سیکولر ہے سونیا گاندھی اور راہل گاندھی یا ملائم اور مایاوتی کوئی نہیں ہے جو اس کے برابر کھڑا ہوسکے۔ نریندر مودی کا مقابلہ صرف لالو کرسکتے ہیں اور اس چیز نے مودی کو اس پر آمادہ کیا کہ لالو اور ان کے لڑکوں اور لڑکی سب کے پیچھے سی بی آئی کو لگادو۔ نتیش کمار کھل کے بتائیں کہ سی بی آئی نے چھاپہ ڈالا ہے یا مودی نے ڈلوایا ہے؟ اور اگر یہی معیار ہے تو ہر صوبہ میں سی بی آئی ہر وزیر کے گھر چھاپہ کیوں نہیں مارتی؟ تیجسوی پر استعفیٰ دینے کا دبائو اس لئے ہے کہ ایف آئی آر ہوگئی۔ ہر معاملہ میں کہا جاتا ہے کہ جب تک عدالت سے سزا نہ ہو کسی چھاپے یا رپورٹ کی کوئی حیثیت نہیں۔ جس کی سب سے بڑی مثال امت شاہ ہیں۔ انہیں بھی سی بی آئی نے پکڑکر جیل میں ڈالا تھا اور مہینوں جیل کی روٹی کھلائی تھی۔ آج وہ ایک مسلم پارٹی کے مقبول لیڈر سے بات کرتے ہیں کہ دو سو کروڑ روپئے لے لو اور یوپی کی دو سو مسلم سیٹوں پر اپنے اُمیدوار کھڑ کرو اور یہ بات وہ ہر مسلم لیڈر سے کہتے ہیں اور حکم ماننے والے اور مسلم فروش مسلمان مان کر دو سو کروڑ لے لیتے ہیں اور بی جے پی کو 323  سیٹیں مل جاتی ہیں۔ یہ بات نتیش بھی جانتے ہیں کیونکہ بہار میں بھی یہ ہوچکا ہے۔ اس کے بعد بھی وہ لالو یادو کے لڑکوں کو بے سہارا چھوڑ دیتے ہیں؟

جو لوگ تیجسوی یادو سے استعفیٰ مانگ رہے ہیں یا نتیش کمار سے کہہ رہے ہیں کہ وہ استعفیٰ لے لیں یا برخاست کردیں وہ اُلو کے پٹھے ہیں انہیں معلوم نہیں کہ تیجسوی یادو کو نتیش کمار نے نائب وزیر اعلیٰ نہیں بنایا بلکہ لالو اور ان کے لڑکوں نے نتیش کمار کو وزیر اعلیٰ بنایا ہے۔ بہار میں جمہوری حکومت ہے اور جمہوریت میں لاٹھی اس کی ہوتی ہے جس کی اکثریت ہوتی ہے۔ اسمبلی میں لالو کی اکثریت ہے اور کانگریس ان کے ساتھ ہے اور اس لئے ہے کہ اسے چار سے 25  پر لانے والے لالو ہیں نتیش نہیں ہیں۔

مودی نے جب دیکھ لیا کہ وہ بہار میں کچھ نہیں کرسکتے اور سوشیل مودی صرف بیوہ عورتوں کی طرح رونا جانتے ہیں تو انہوں نے کہنا شروع کیا کہ نتیش کمار نے بہار میں بہت اچھا کام کیا ہے اور جو روپئے ہم نے دیئے وہ سلیقہ سے خرچ کئے۔ اب بہار کو اور دیا جائے گا۔ نتیش کمار گیلو گیل ہوگئے۔ یہ صرف اس لئے تھا کہ اس کے بغیر وہ گٹھ بندھن کو نہیں توڑ سکتے تھے۔ وہ جانتے ہیں کہ لالو کے ساتھ ہر یادو اور ہر مسلمان ہے۔ اور لالو چاہتے ہیں کہ پورے ملک میں یادو مسلمان اور دلت ایک ہوجائیں۔ اور مودی اس بات سے ڈر رہے ہیں۔

اب اگر نتیش کمار نے دغابازی کی تو وہ ہماری بات یاد رکھیں کہ وہ دو کوڑی کے ہوجائیں گے اور پھر مودی جی انہیں پہچاننے سے بھی انکار کردیں گے اور ان کی حیثیت پاسوان سے بھی نیچے ہوگی۔ نتیش کمار اگر اپنا وجود باقی رکھنا چاہتے ہیں تو لالو جیسے فراخ دل دوست اور بھائی کے ساتھ کھڑے رہیں اور جیسے انہوں نے مودی کے پانچ کروڑ واپس کئے تھے یا جیسے ان کی دعوت منسوخ کردی تھی اس طرح یہ منصوبہ بھی خاک میں ملادیں کہ بہار  میں وہ لالو سے الگ ہوجائیں۔ سی بی آئی جو کیس بناتی ہے وہ عدالت میں آجائے جرم ثابت ہوجائے تو ظاہر ہے کہ وہ خود استعفیٰ دے دیں گے۔ کتنی شرم کی بات ہے کہ میسا بھارتی جو چار دن پہلے راجیہ سبھا کی ممبر بنی ہے اس پر بھی کالے کو سفید کرنے کا الزام ہے جبکہ ہزاروں کروڑ خود مودی کے آدمیوں نے نوٹ بندی سے پہلے سفید کرلئے۔ اختلاف اور دشمنی میں فرق کرنا چاہئے۔



⋆ حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی
حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے