سیاستہندوستان

اہل خرد ہیں جنوں کے نرغے میں!

راحت علی صدیقی قاسمی

گجرات انتخاب قریب ہے اور اسمبلی انتخابات کی تیاریاں بھی شروع ہوچکی ہیں ،بی جے پی نے اترپردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ کو وزیر اعلی بنا کراپنی حکمت عملی عالم آشکارا کر دی ہے ،انہوں نے واضح کردیا کہ وہ مذہب کی بنیاد پر عقیدت کی بنیاد پر اپنا سفینہ دریا کی غرقاب لہروں کے درمیان سے پار لگائیں گے اور غیر مسلم رائے دہندگان کو پوری طرح اپنی طرف متوجہ کریں گے ،اس حکمت عملی کو بروئے کار لانے میں کوئی کوتاہی نہیں برتی جائے گی ،گوشت بندی ،گئو رکشا ،تین طلاق ،منظرنامہ دیکھ کر نوشتۂ دیوار پڑھ کر ہر شخص اس حقیقت کو سمجھ سکتا ہے ،اب ظاہر بات ہے ،بی جے پی کی اس حکمت عملی کو سماجوادی سے نقصان پہنچنے والا نہیں ہے ،اس میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ بی جے پی کے ووٹ بینک میں انتشار پیدا کرسکے ،چونکہ یہ واضح ہوگیا ہے ،اورسب دیکھ چکے ہیں کہ اکھلیش کا بھولا پن مسلمانوں کے سوا کسی کو متاثر نہیں کرپایا اور بی جے پی کے افراد نے کھلی آنکھوں مشاہدہ کرلیا ہے ، انہیں یقین ہوگیا ہے ،یہ جماعت ان کی تدبیر ،ان کے منصوبہ کو ناکام نہیں کرسکتی ، انہیں اس خیمہ سے کوئی خطرہ نہیں ہے ،اسی طرح پنجاب میں اگرچہ کیپٹن امریندر سنگھ کا جلوہ رہا ہے ،لیکن لوگوں کے قلوب میں چھپے ہوئے کمل کو ان کی زبانوں پر محسوس کیا جاسکتا ہے ،حالیہ اختتام پذیر پانچ ریاستوں کے انتخابی نتائج سے بی جے پی مطمئن ہے اور مستقبل کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے ،اب اس کے مدمقابل چند طاقتیں باقی ہیں ،کانگریس کی سانسیں اکھڑ چکی ہیں ،وہ آخری لمحات میں ہے۔

 نہرو ،اندرا ،راجیو کا جانشین اس پائے کا اور اس ذہانت کا حامل میسر نہیں آیا ،جس کا خمیازہ کانگریس بھگت چکی ہے اور ایسے حالات میں ہے ،دس سال قبل جس کا تصور بھی محال تھا اور آگے بڑھئے تو بہار میں مستقل کوششیں کی جارہی ہیں ،عظیم اتحاد کی چولیں ہلتی ہوئی محسوس ہوتی رہتی ہیں اور نتیش کو دیکھ کر بسا اوقات قلب پر یہ احساس ثبت ہوتا ہے کہ وہ لالو کا ساتھ چھوڑ کر بی جے پی کا دامن تھام لیں گے۔ بہرحال یہ تو قیاس آرائی ہے ،حقیقت تو مستقل کے دبیز پردے میں چھپی ہوئی ہے ،ممتا کا خیمہ ابھی تک مضبوط و محفوظ ہے اور اس میں بظاہر اختلاف و انتشار نظر نہیں آرہا ہے ۔عام طور پر اب جتنی بھی سیاسی جماعتیں بہتر حالات میں ہیں ،وہ علاقائی جماعتیں ہیں ،ملکی سطح پر کانگریس کس کیفیت میں ہے سب جانتے ہیں ،لیکن انقلابی تحریک سے پیدا ہوئی عام آدمی پارٹی ،جس کی پیدائش ایک انقلابی خیال پر مبنی تھی ،جسے غرباء فقراء اور نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کا ساتھ ملا اور وہ اس تیزی کے ساتھ سیاسی منظرنامے پر ابھر کرآئی کہ لوگ اسے کانگریس کا متبادل خیال کرنے لگے اور سیکولر ازم کا محافظ گرداننے لگے ،اس سے بے پناہ امیدیں وابستہ ہوگئیں ،دہلی میں اس نے ایسی کامیابی حاصل کی کہ آنکھیں پھٹی رہ گئیں اور ذہن و خیال متعجب و حیران ہوگئے ۔

شیلا دکشت کے عہد کا خاتمہ ہوا ،بی جے پی کی فتوحات کا سفر اختتام پذیر ہوا ،پھر اروند کیجریوال کا نریندر مودی کے خلاف میدان میں اترنا اور ملک میں اپنے وجود کا احساس کرانا ،صوبائی انتخابات میں پنجاب کی سرزمین پر اپنے وجود کا احساس کرانا ،یہ وہ اسباب و عوامل ہیں ،جو اس بات کو ثابت کررہے تھے کہ بی جے پی کا مدمقابل عام آدمی پارٹی کی شکل میں پیدا ہوچکا ہے اور مستقبل میں یہ جماعت کانگریس کی جگہ لے لے گی،لیکن اس وقت عام آدمی  پارٹی کا سفینہ بھنور میں ہے اور اس میں اختلافات کا ختم نہ ہونے والا سلسلہ نظر آرہا ہے ،پہلے کمار وشواس ناراض ہوئے اور انہوں نے کیجریوال کو نشانہ بنایا ،انہیں منا لیا گیا، اب پارٹی کے ممبر اسمبلی کپل مشرا اپنے اخراج کی وجہ سے ناراض ہیں اور یہ ناراضگی اتنی بڑھ چکی ہے کہ وہ کیجریوال پر بدعنوانی کا الزام لگارہے ہیں ،کروڑوں کے گھپلہ کا الزام لگا رہے ہیں ،چندے میں غلط معلومات فراہم کرنے کا الزام لگا رہے ہیں ،انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ وہ اروند کا کالر پکڑ کر کھینچتے ہوئے انہیں تہاڑ جیل لے جائیں گے ،یقینا یہ صورت حال گجرات میں کیجریوال کے قدم لڑکھڑا سکتی ہے ۔

اسمبلی انتخابات میں انہیں نقصان پہنچا سکتی ہے ،جس کا فائدہ براہ راست بی جے پی کو ہوگا اور اس کے ووٹ بینک میں اضافہ ہوگا ،اس کے مد مقابل کا خاتمہ ہو جائے گا ۔میڈیا کا رویہ بھی تشویشناک ہے اور وہ بھی کیجریوال کے خلاف محسوس ہورہا ہے اور اس کے علاوہ کپل مشرا کی والدہ انوپرنا مشرا جو بی جے پی کی لیڈر ہیں ،وہ بھی کیجریوال کی مخالفت میں کھڑی ہوگئی ہیں اور انہوں نے بھی کیجریوال کو خط لکھا ہے ،اس عمل پر بی جے پی کہ کسی لیڈر نے اسے انوپرنا کا ذاتی معاملہ نہیں کہا ہے ،یہ تمام چیزیں اشارہ کررہی ہیں کہ اس سب کے پیچھے بی جے پی تو نہیں ہے ؟اروند کیجریوال بھی کہہ چکے ہیں ،کہ بی جے پی کپل مشرا کہ پیچھے رہ کر وار نہ کرے سامنے آئے ،اگر یہ صورت حال برقرار رہی تو عاپ کا  نقصان یقینی ہے ،لیکن ملک کی عوام کو اس موقع پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے اور خود صحیح اور غلط میں امتیاز کرنے کی ضرورت ہے ،کپل مشرا اگر واقعی سچے ہیں ، ایماندار ہیں ،تو اتنے دن خاموش کیوں تھے ؟کیوں سارے گھوٹالے دیکھتے رہے اور مخالفت نہیں کی ؟کیوں اپنی ماں کا رشتہ عوام سے چھپایا؟

اب عہدہ و منصب جانے کے خوف نے انہیں اتنا بدحواس کردیا کہ وہ وزیر اعلی کے عہدہ کا وقار بھی بھول گئے اور ان کا کالر پکڑ کر کھینچنے کی باتیں کرنے لگے ،یہ سوالات کپل مشرا کا اصلی چہرہ دکھا رہے ہیں ، ان کی اب تک کی خاموشی انہیں مجرم بناتی ہے ،یہ ہے کپل مشرا کا اصلی چہرہ لیکن اگر یہ تدبیر کامیاب ہوجاتی ہے ،تو سیکولر غیر مسلم طبقہ جو کیجریوال کی طرف جھک رہا ہے ،وہ دور ہوجائے گا اور بی جے پی کا مدمقابل کوئی نہیں ہوگا ،چونکہ دلت رہنمائی کو وہ پہلے ہی ختم کرچکی ہے اور دو دلت لیڈروں کو نائب وزیر اعلی بنا کر وہ مایاوتی کا کھیل بگاڑ چکی ہے، اب سہارنپور میں دلت ٹھاکر دنگے کے بعد جس میں بی جے پی کے لیڈران کا نام ابھر کر آیا ہے ،مایاوتی کے پاس موقع تھا کہ وہ دلتوں کی حمایت میں کھڑی ہوتیں ،ان کے رہنما ہونے کا فریضہ انجام دیتیں ، ان کا ووٹ بینک متحد ہوجاتا ،انہوں نے اس اہم موقع پر ایک نیا جھمیلا کھڑا کرلیا ہے اور نسیم الدین صدیقی کو پارٹی سے نکال کر الجھن میں پڑ گئے ہیں ،اب نسیم الدین بھی مشرا کی زبان بول رہے ہیں ،مایاوتی کی بوکھلاہٹ اور جذباتیت نے انہیں عرش سے فرش پر لا دیا ہے ۔

 اگر چہ نسیم الدین بھی دودھ کے دھلے نہیں ہیں اور وہ بھی خاموشی کے مجرم ہیں ، لیکن یہ نازک موقع مایاوتی کو جوش سے نہیں ہوش سے کام لینے کی دعوت دے رہا تھا ،جس پر انہوں نے لبیک نہیں کہا اور اس پورے کھیل کے باوجود بی جے پی نے یقینی طور سے دلتوں کا اعتماد حاصل کرلیا ہے ،یہی دو پہلو تھے ،جہاں سے بی جے پی کے مضبوط قلعے میں سیندھ لگائی جاسکتی تھی اور مستقبل میں ان کے کامیاب سفر کو مدہم کیا جاسکتا تھا ،اب اگر کیجریوال بدنام ہوجاتے ہیں ،ان پر سے لوگوں کا اعتماد ختم ہوجاتا ہے ،تو سیکولر غیر مسلم بھی بی جے پی کے دامن میں اور دلت پہلے سے بی جے پی سے محبت کا دم بھر چکا ہے، تو بھارت کانگریس مکت نہیں اپوزیشن مکت ہوجائے گا ،اس لئے کیجریوال مشرا کے معاملہ میں دفاعی رخ اختیار نہ کریں بلکہ اقدام کریں اور کپل مشرا کے اصلی چہرہ سے عوام کو روبرو کرائیں اور اپنی پوزیشن مستحکم کریں اور مایاوتی بھی ہوش کے ناخن لیں اور دلتوں کی رہبری کے فرائض انجام دیں ،ان کا اعتماد دوبارہ حاصل کریں ،نہیں تو وہ تاریخ میں قصۂ پارینہ بن کر رہ جائیں گی اور سیاست میں صرف ان کی یادیں ہوں گی، ان کا وجود نہیں ،ان حالات میں جو صورت حال منظرنامہ پر ابھر کر آرہی ہے ،وہ یہ ثابت کرتی ہے کہ ملک پر فرقہ پرستی کا راج ہوگا ،وہ جو چاہیں گے کریں گے ،جہاں چاہیں کریں گے اور ہمارے پاس اس کے مقابلہ کی کوئی تدبیر نہیں ہوگی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close