سیاستہندوستان

ایجنٹ الیون پر میڈیا کی خاموشی

بی جے پی کو اب کیا کہا جائے، اور کس نام سے موسوم کیا جائے کیوں  کہ جس طرح سے اے ٹی ایس یکے بعد دیگر ے بی جے پی سے منسلک آئی ایس آئی کے ایجنٹ کو گرفتار کررہی ہے اس سے تو یہی اندازہ ہورہا ہے کہ دوسروں  کو حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ دینے والی محب وطن پارٹی اب بھارت ماتا کا سودا دشمن ملک سے کررہی ہے۔ یہ جاسوسی کوئی نئی بات نہیں  ہے بلکہ آر ایس ایس اور دیگر فرقہ پرست جماعتوں  کی سرشت میں  ہی ملک سے غداری وبے وفائی پنہاں ہے۔

جنگ آزادی میں بھی انہوں  نے انگریزوں  سے چند ٹکوں  کی خاطر ملک کا سودا کیا اور اب بھی کررہے ہیں ۔ ان کی اس جاسوسی پر افسوس بھی نہیں  ہے کیوں  کہ یہ ان کی فطرت ہے اور جس کی فطرت یہ بن جائے وہ مجبور ہوجاتا ہے اس فعل کے کرنے پر۔ ہاں ! البتہ ہمیں  افسوس جمہوریت کے چوتھے ستون ’میڈیا ‘ پر ہے اگر خدانخواستہ اس واقعہ میں  کوئی مسلمان شا مل ہوتا تو دن رات چوبیس گھنٹے یہی خبر گردش کررہی ہوتی کہ غور سے دیکھئے ’’اس مسلم آتنکی کو کس طرح بھارت ماتا کا سودا دشمن ملک سے کررہا تھا‘‘ ، ’’پکڑا اے ٹی ایس (اینٹی ٹریرازم اسکواڈ ) نے ان مسلم دہشت گردوں  کو جو آئی ایس آئی ایس سے سودا کرکے ملک سے غداری کے مرتکب ہو رہے تھے‘‘۔

اسی پر جمہوریت کے یہ چوتھے ستون بس نہیں  کرتے بلکہ وہ اپنی چرب زبانی اور دھواں  دھار اینکرنگ سے ان پکڑے گئے مسلمانوں  کو پھانسی کا حقدار ٹھہرا کر سپریم کورٹ او رحکومت کو مجبور کردیتے کہ ان ملک مخالف مسلمانوں  کو پھانسی دے دی جائے کیوں  کہ ہم (میڈیا) نے یہ فیصلہ سنادیا ہے اب بس آپ کو عملدرآمد کرنا ہے۔لیکن اس معاملے میں  ایسا کوئی شور نہ اُٹھا۔ کوئی نیوز نہ بنی۔ بلکہ ایسی خاموشی اختیار کرلی گئی جیسے یہ پکڑے گئے آئی ایس آئی کے ایجنٹ نہیں  بی جے پی کے داماد ہوں ۔ آئی ایس آئی ایس کے لئے جاسوسی کے الزام میں  گرفتار ملزمین کے نام یہ ہیں  کش پنڈت، ترلوک سنگھ بھدوریہ، منیش گاندھی، موہت اگروال، دھروسکسینہ، موہن بھارتی، سندیپ، بلرام سنگھ، رتیش کھلّر، جتیندر ٹھاکر۔ یہ وہ لوگ ہیں  جن میں  سے کچھ ملک کی حکمراں  جماعت پارٹی کے کارکن ہیں ۔ وہ پارٹی اور ان سے منسلک افراد ایسے ہیں  جو دیش بھکتی کاسرٹیفکیٹ دیتی ہے۔ وہ یہ طے کرتی ہے کہ کون دیش بھکت ہے اور کون ملک مخالف۔ افسوس ہوتا ہے کہ ملک دشمن پارٹی محب وطن ’مسلمانوں ‘ کے لئے یہ پیمانہ طے کرتی ہے کہ وہ دیش بھکت ہیں  یا نہیں ۔

 ہم میڈیا سے کہناچاہتے ہیں  کہ آخر کیوں  سانپ سونگھ گیا۔ کہاں  گئی تمہاری آزادی۔ تمہیں  یہی خوف ہے نہ کہ اگر ہم بی جے پی کے خلاف بولیں  گے ،ان الیون ایجنٹوں  کی گرفتاری کی خبر نشر کریں  گے تو ہمارا ناطقہ بند ہوجائے گا‘ تف ہے ایسی میڈیا پر جو حقائق کی پردہ پوشی کو مصلحت کا نام دے کر برادران وطن میں  نفرت کے بیج بونے کا کام کرتی ہے۔ ہوناتو یہ چاہئے تھا کہ ان دہشت گردوں  کے خلاف بلیٹن چلاتے۔ جس طرح بے قصور مسلم نوجوانوں  کی گرفتاری کے بعد کرتے تھے تب کہا جاتا کہ واقعی میڈیا نے کام کردکھایا۔ لیکن یہاں  دیکھنےمیں  الٹا آتا ہے اگر کوئی مسلمان جھوٹے الزامات میں  پکڑا جائے تو چار چار دن تک خبریں  نشر  ہوتی رہتی ہیں  وہیں  اگر کوئی غیر مسلم پکڑا جائے تو کوئی نیوز نہ بنے۔ اسی طرح اگر کوئی مسلمان عدلیہ کے انصاف کی وجہ سے بے قصور ثابت قرار دیاجائے تو کوئی سرخی نہیں  لگتی لیکن وہیں  اگر کوئی غیر مسلم سیاسی اثر ورسوخ حاصل کرکے اپنے گناہوں  کو چھپا کر جھوٹے وکیلوں  کی چرب زبانی کی وجہ سے عدلیہ کو گمراہ کرکے رہا ہوجائے تو خبریں  ہی خبریں  ہوتی ہیں ۔

 ملک کی سیکولر سیاسی پارٹیوں  نے اس تعلق سے آوازیں  اُٹھانی شروع کردی ہے۔ عام آدمی پارٹی کے اشوتوش نے اس ضمن میں  کہا ہے کہ ماقبل میں  جس نے بھی مودی اور بی جے پی کے خلاف آواز اٹھائی، اسے غدار قرار دیا گیا،ہندوستان میں  اگر کوئی سیاسی پارٹی ہے، جس کے رشتے آئی ایس آئی سے وابستہ ہیں  تو وہ بی جے پی اور سنگھ ہے۔انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہاکہ دھرو سکسینہ بھوپال میں  بی جے پی میڈیا سیل کا رکن تھا اور اس کی تصویر وزیر اعلی شیوراج سنگھ کے ساتھ اسٹیج پر بھی ہے ا س سے صاف ہے کہ بی جے پی آہستہ آہستہ آئی ایس آئی ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں  نے دعوی کیا کہ پٹھان کوٹ اور اڑی کی معلومات بھی انہیں  کے ذریعہ آئی ایس آئی کو مہیا کرائی گئی ہے۔انہوں  نے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ بی جے پی وضاحت کرے کہ ان کے لیڈران اور کارکنان آئی ایس آئی سے کس حد تک جڑے ہوئے ہیں ؟

بھوپال کے سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ نے بھی اپنے ٹوئٹ کے ذریعے کہا ’بھوپال میں  پکڑے گئے آئی ایس آئی کے ایجنٹوں  میں  ایک بھی مسلمان نہیں ۔ ان میں  سے ایک بی جے پی کا رکن۔ مودی بھکتوں  کچھ سوچو‘۔ لیکن بھکت خاک سوچیں  گے عقل پر پردہ پڑ چکا ہے۔ میڈیا نے نفرت کی آندھی اس تسلسل کے ساتھ چلائی ہے کہ انہیں  کچھ سجھائی نہ دے گا۔ اب گنگا جمنی تہذیب کو ڈھونڈنا ناپید ہے۔ بس اب ان بھکتوں  کے ایک ہی عزائم ہیں  کہ ملک ہندو راشٹر بنے۔  اب تو اس معاملے میں  بلکہ بھارت ماتا کے سپوت سے آگے بڑھ کر گئوماتا کے رکشک بھی ملوث بتائے جارہے ہیں  دیکھنا یہ ہے کہ یہ سلسلہ کہاں  جاکر رکتا ہے،ابھی تو گرفتاری کا سلسلہ شروع ہوا ہے،یہ جو چند افراد پکڑے گئے ہیں  وہ تو شطرنج کے مہرے ہیں ،بادشاہ اور وزیر تو ابھی تک صیغہ راز میں  ہیں ،اُن کی نقاب کشائی ہوگی یا نہیں  یہ تو وقت بتائے گا لیکن ایک بہت اہم سوال ملک کے تمام سیاسی اور باشعور افراد سے ہے کہ ڈھاکہ بنگلہ دیش میں  دہشت گردانہ سر گرمی میں  ملوث ایک شخص ذاکر نائیک کا فالور ثابت ہوا، وہ بھی محض سوشل میڈیا کے ذریعہ،حالانکہ بنگلہ دیش حکومت نے ذاکر نائیک کے خلاف کسی بھی طرح کے الزام کو مسترد کردیا تھا ،اس کے باوجود ملک میں  ایسا طوفان بدتمیزی برپاکی گئی کہ العياذ بالله، ہر چیز کا ذمہ دار ذاکر نائیک، زی نيوز، ارنب گوسوامی اور دیگر چینلز کی واہی تباہی ناقابل برداشت تھی،اور اب ملک کے راز کو بیچنے والا ملک کا سودا کرنے والا بھارت کو نیلام کرنے والا بی جے پی کا آدمی ہے،کیوں  کوئی شور نہیں  ہے،کیوں  ملک کو بتایا نہیں  جارہا ہے۔

ہوناتو یہ چاہئے تھا کہ جس طرح مبلغ اسلام ڈاکٹر ذاکر نائیک آئی آر ایف پر پابندی عائد کردی گئی، ان کا ناطقہ بند کردیاگیا اسی طرح بھوپال سے پکڑے گئے آئی ایس آئی ایجنٹ جو کہ ثابت ہوچکا ہے کہ بی جے پی کا رکن ہیں  کیا بی جے پی پر پابندی عائد کی جائے گی۔ کیا آر ایس ایس جو ملک کے لئے ناسور ہے اسے ختم کیا جائے گا۔ نہیں  ایسا نہیں  ہوگا۔  اگر ایسا ہوتا تو جے این یو طالب علم کنہیا کمار کو سسٹم کی آزادی طلب کرنے کے لئے یہ میڈیا والے نہیں  لتاڑتے، عمر خالد کو جیل نہ بھیجتے۔ شہلا رشید کو یہ یاد نہ دلانا پڑتا کہ ۹؍فروری کو "عمر خالد کا لنک تو جیش محمد سے نہیں  نکلا لیکن بی جے پی سے منسلک دھروسکسینہ کا لنک آئی ایس آئی سے نکل آیا "کہاں  ہے وہ دیش بھکت۔ملکی میڈیا اور نفرت کے پجاری چاہے جتنا زور لگالے لیکن آج پھر ایک بار یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ ہمیشہ کی طرح یہ انگریزی غلام اب بھی ملک کا سودا کرنے پر تلے ہیں ،پہلے انگریزوں  کی دلالی اور اب پاکستان کی دلالی، ملک کا سودا تو ہر حال میں  کیا ہے ان ضمير فروشوں  نے اور آئندہ بھی یہ اس قدم سے باز آنے والے نہیں  ہیں ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close