سیاستہندوستان

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ2016: ایک جایزہ

کہتے ہیں کہ ’’جب قاتل کی پشت پناہی کی جا رہی ہو اور مقتول کا اس پر احتجاج کرنا جرم بنا دیا جائے تو اس وقت انتظار میں رہنا چاہیے کہ زمین فساد سے بھر جائے گی اور اس میں رہنے والے تمام لوگوں کا جینا دوبھر ہو جائے گا۔‘‘ برابر یہی صورت حال کشمیر کی ہے،یہاں قتل کئے جا رہے ہیں اور قاتلوں سے کوئی بازپرس بھی نہیں ہوتی، بلکہ اُلٹا قاتلوں کے ہمنوائوں کی طرف سے ’’دہشت گردی ‘‘وغیرہ جیسے القاب سے کشمیریوں کو نوازا جاتا ہے ۔

کشمیر کے حوالے سے حالیہ ایمنٹسی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ جس میں کہا گیا ہے کہ ’’کشمیر میں حالیہ ایجی ٹیشن کے دوران پرامن مظاہرین کو طاقت کانشانہ بنایاگیا۔ طاقت کا بے تحاشہ استعمال کر کے 80سے زائد ہلاکتیں ہوئیں ، سینکڑوں زخمی، درجنوں بینائی سے محروم و معذور کر دئے گئے ، کئی زخمی نوجوان ذہنی امراض میں مبتلا ہو چکے ہیں ، جس کی تفصیل حالیہ ایک رپورٹ کے مطابق یہ ہے کہ سرینگر کے کاٹھی دروازہ میں قائم ذہنی مریضوں کے اسپتال میں اب پیلٹ اور گولیوں سے مضروب افراد بھی علاج ومعالجے کے لیے پہنچ رہے ہیں ۔ اسپتال میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اب تک 500سے زائد زخمی نوجوانوں کی کونسلنگ کی گئی جن میں کئی ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہو گئے ہیں ۔

علاوہ ازیں ایجی ٹیشن کے دوران وادی سے منسلک پرنٹ میڈیا اور مواصلات پر بھی قدغن لگائی گئی۔‘‘ مواصلاتی قدغن کو حقوق انسانی کی سنگین خلاف ورزی سے تعبیر کرتے ہوئے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اس وجہ سے زخمی فوری طبی سہولیات اور علاج ومعالجہ حاصل کرنے میں بھی ناکام رہے اور اس وجہ سے کئی زندگیوں کا زیاں ہوا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مختلف علاقوں اور ممالک میں سیاسی اتھل پتھل ، سیاسی مخالفین کو دبانے کے حربوں اور حقوق انسانی کی سنگین خلاف ورزیوں نیز عوامی مظاہروں کیخلاف طاقت کے بے تحاشہ اور اضافی استعمال سے متعلق ایک خاکہ پیش کیا،جس میں امریکہ ، ترکی ، شام ، عراق اور دیگر کئی ممالک کے ساتھ ساتھ بھارت اور پاکستان میں مختلف سطحوں پر ہوئی حقو ق انسانی کی پامالیوں اور مختلف قوانین کے غلط استعمال سے متعلق حالات اور واقعات کا تفصیلی ذکر کیا گیا ہے۔

بھارت کے حوالے سے رپورٹ میں کشمیر وادی کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہاں گرمائی ایجی ٹیشن 2016کے دوران مظاہرین کیخلاف طاقت کا بے تحاشہ اور من مانے طور استعمال کیا گیا۔ رپورٹ میں عوامی ایجی ٹیشن کو دبانے کیلئے چھاپوں اور گرفتاریوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگوں کو مختلف قوانین کے تحت گرفتار کرکے پولیس تھانوں اور جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے، جن میں نو عمر اور چھوٹے اسکولی بچے بھی شامل ہیں ۔ بہر حال رپورٹ کے خاکے میں اگرچہ حقوق انسانی کے حوالے سے حسب معمول یہ بات دہرائی گئی کہ کشمیر وادی میں اس سال بھی امن وقانون کی کوئی صورت سامنے نہیں آئی بلکہ آئے روز یہاں حقوق انسانی کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں ۔

2016ایجی ٹیشن کے زخم ابھی بھی ہرے پڑے ہیں ، ان کی مرہم پٹی بھی ابھی نہیں ہو پائی ہے کہ بھارت کی مرکزی حکومت کی جانب سے کشمیریوں کو دھمکیوں کی صورت میں نصیحتیں کی جا رہی ہیں کہ ’’مظاہرین کو مکمل طور سے جکڑنے کے لیے سیکورٹی انتظامات کو سخت کیا جائے تاکہ احتجاج کرنے والوں کو زیر کیا جائے،مساجد اور مساجد سے وابستہ ذمہ داروں پر کڑی نگاہ رکھی جائے۔ احتجاجی سنگبازوں پر سیفٹی ایکٹ، علیحدگی پسندوں کا گھیرائو تنگ کرنے اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ (اخوان) کو پھر سے زندگہ کرنے کی باتیں سامنے آرہی ہیں ۔ ‘‘عسکریت کے خطرے کی آڑ میں اب تدابیر کے طور اور لوگوں کو خوف زدہ کرنے کی غرض سے عارضی موبائل بینکر قائم کئے جا رہے ہیں ۔

حالانکہ حال ہی شائع ایک رپورٹ کے مطابق وادی میں فی الوقت 258سیکورٹی کیمپ اور 18بینکر موجود پائے جاتے ہیں ۔ احتجاجی مظاہرین سے نمٹنے کے لیے اب مزید طور پر سی آر پی ایف اور محکمہ پولیس کو 20ہزار زرہیں ، 3ہزار شیلڈ، جدید ہیلمٹ، پروٹکٹر اور پیلٹ وپاواگن خریدنے کے لیے مرکزی حکومت کی طرف سے ٹینڈر طلب کیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ کشمیر کے لوگوں کو خوف زدہ کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ بجائے اس کے کہ حقوق انسانی کی حالیہ خلاف ورزیوں کے بعد اب مسائل پر توجہ مرکوزکی جاتی اُنہیں ایسی ایسی اشتعال انگیز دھمکیاں دی جاتی ہیں ۔ حالانکہ جہاں تک فی الوقت کشمیر کے لوگوں کا تعلق ہے تو ان میں اب موت کا خوف ختم ہو چکا ہے، کیوں حالیہ ایجی ٹیشن میں پوری دنیا نے دیکھا کہ کس طرح لوگ سڑکوں پر نکل کر بندوقوں سے نکلی گولیوں کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے حق کا اظہار کر رہے تھے۔ کشمیر کے لوگوں کو اب دھمکیوں سے کمزور نہیں کیا جا سکتا۔

بہر حال بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ حسب معمول ایک رپورٹ بن کر رہ جائے گا، کیوں کہ حقوق انسانی کے حوالے سے ایمنسٹی ہر سال اس طرح کی رپوٹیں شائع کرتی رہتی ہے لیکن حاصل کچھ بھی نہیں ، کیوں کہ عالمی صورت حال یہ ہے کہ انہیں کشمیر معاملے پر کسی بھی حیثیت سے کوئی فکر مندی نہیں ہے، بلکہ اگر کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ وہ اُلٹا اُن ہی کی طرف داری کرتے دکھائی دیتے ہیں جو حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔ بجائے اس کے عالمی طاقتیں اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے پیش پیش رہتیں وہ عملاً اس مسئلہ کے حوالے سے یہ بات بار بار دہرا کرکہ ’’اگر بھارت اور پاکستان چاہے تو ہم ثالثی کرنے کے لیے تیار ہیں ‘‘کہہ کر اپنی ذمہ داریوں سے پیچھا چھڑا رہے ہیں ۔

حالیہ رپورٹ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک رسمی رپورٹ ہے جس میں حسب معمول انہوں نے کشمیر میں ہو رہی انسانی حقوق کی خلاق ورزیوں پر ایک بار پھر بات کی تاہم اس سے کوئی نتیجہ اخذ کرنا ایک فضول مشق کے سوا کچھ نہیں ، کیوں کہ آج تک ایسے بے شمار رپورٹس حقوق انسانی کی تنظیموں نے پورے عالم کے سامنے رکھیں لیکن نتیجہ تادمِ ایں کچھ بھی نہیں ۔ برابر وہی صورت حال کہ ایک طرف قاتل کے ہمنوائی و تعاون میں عالمی طاقتیں ہاتھوں میں ہاتھ ملائے ہوئی ہیں اور دوسری طرف حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کا ڈھونگ رچا کر رپورٹس پیش کئے جارہے ہیں ۔ بہرحال کشمیر کے لوگ کشمیرکی موجودہ صورت حال سے اچھی طرف باخبر ہیں ، انہیں معلوم ہو چکا ہے کہ ہمیں کن لوگوں پر بھروسہ کرنا چاہیے، کون سی چیز ہمیں کامیابی سے ہم کنار کر سکتی ہے۔انہیں اس بات کا اچھی طرح سے اندازہ ہو چکا ہے کہ کون لوگ کشمیریوں کے اپنے ہیں اور کون غیر۔

آج صورت حال یہ ہے کہ کل تک جو مین سٹریم جماعتوں کے لیڈران بیان دیا کرتے تھے آج ان کے بیانات میں واضح تضاد دکھائی دیتا ہے، جو لوگ کل تک ووٹ حاصل کرنے کے لیے اور لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے اٹانومی کی رٹ لگائے چلتے پھرتے تھے آج وہ کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے دکھائی دیتے ہیں ، ان میں اپنے آپ کو شامل کر کے ہمیں ہمارا حق ’’آزادی‘‘ مانگنے کی بات کرتے ہیں ، جن لوگوں کو اپنی دور حکومت میں سنگباز اور امن دشمن لوگ کہا کرتے تھے، آج انہیں کشمیر کے ہیرو کے روپ میں پیش کر رہے ہیں ۔

ان متضاد چہروں سے لوگ آج پوری طرح باخبر ہیں ۔ بہر حال کشمیر کے لوگوں کو اپنی جدوجہد کے تئیں ثابت قدمی کا مظاہرہ کر کے مبنی بر حق جدوجہد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے عمل کوجاری رکھنا ہو گا۔ کوئی سہارا رہے یا نہ رہے لیکن خدا کا سہارا اپنا ہتھیار بنانا ہوگا ، لوگوں کی کامیابی کا راز بس اسی ایک طریقے میں پوشیدہ ہے کہ ہم اللہ کے دین کی پیروی کریں ، ڈر اور خوف تو کشمیر کے لوگوں نے چھوڑ دیا، جس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بھارت کے سابق مرکزی وزیر داخلہ وکانگریس کے سینٹر لیڈر پی چدمبرم نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ انہیں اس بات کا شدید احساس ہے کہ بھارت کی مرکزی حکومت کی جانب سے کشمیر میں بے رحمانہ طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے کشمیر اب ہندوستان کے لیے عملًا ایک تھلگ ہو گیا ہے۔ غرض کشمیر کے لوگ اب بندوق سے نکلی گولیوں کا جواب نہ صرف پرامن احتجاج کی صورت میں دے رہے ہیں بلکہ پتھر بھی ان کا ایک ہتھیار بن چکا ہے۔ جو قوم بندوق کا جواب پتھر سے دے سکتی ہے ان کو دھمکیوں سے خاموش کرنے یا ڈرانے سے کچھ بھی حاصل ہونے والا نہیں ہے۔

چنانچہ ایمنسٹی کی رپورٹ کو اگرچہ کسی حد تک درست بھی کہا جا سکتا ہے لیکن رپورٹ کا یہ خاکہ تب ہی فائدہ مند ہوتا جب اس پر عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے کوئی کاروائی ہوتی، لیکن اس کی دورتک کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ ان ظاہری سہاروں سے منہ موڑ کر اگر کشمیر کے لوگ یک جان ویک زبان ہو کر کام کریں کریں گے تو وہ دن دور نہیں جب یہاں کے لوگ اپنے بنیادی حق سے نوازیں جائیں گے۔ بس ضرورت ہے مسلسل جدوجہد اور ثابت قدمی کی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ابراہیم جمال بٹ

کشمیر کے کالم نگار ہیں

متعلقہ

Close