سیاستہندوستان

ایک اِک سمت سے شب خون کی تیاری ہے!

نایاب حسن

 جب ہندوستان کی سیاست میں کچھ بھی ممکن ہے،توپھر ہندوستان کے معاشرتی و تہذیبی کولاژمیں بھی کسی بھی قسم کی تبدیلی ممکن ہے۔بی جے پی اس وقت ملک کی مین سٹریم سیاست کا محورہے اوراس کی بغل بچہ سیاسی ،سماجی اور ثقافتی تنظیمیں پورے ملک میں اودھم مچائے ہوئی ہیں ،ملک کے حقیقی مسائل کیاہیں اور ملک کے عوام کی اصل ضروریات و مشکلات کیاہیں ،ان پر نہ توبحث کرنے کاکسی کے پاس وقت ہے اورنہ کوئی اس قسم کے موضوع کو چھیڑنا چاہتاہے،میڈیایرغمال ہوچکاہے،افراد بک چکے ہیں ،ادارے سہمے ہوئے ہیں ،جبرکا سلسلہ ہے کہ صبرکے پیمانہ کولبریز کیے دے رہاہے،مگرآوازوں کوچپ لگ گئی ہے،کان اَن سنے ہوچکے ہیں ۔مرکزاورپھر ملک کی سب سے بڑی ریاست یوپی میں برسرِ اقتدار آنے کے بعد بی جے پی نے تمام تر اندیشوں اور سیاسی مخالفین کے اعتراضات کودرکنار کرتے ہوئے یوگی آدتیہ ناتھ کوسی ایم بنادیا،حالاں کہ الیکشن سے پہلے لوگ اس کانام سنتے ہی کان پر ہاتھ دھرلیتے تھے،مگر جب جیت حاصل ہوگئی اور اسے وزیر اعلیٰ بنادیاگیا،تو اب توجھیلنا پڑے گا،بالکل اسی طرح جیسے مودی کا وزیر اعظم ہونا آج سے چار پانچ سے خیال و خواب سے زیادہ کچھ نہیں لگتا تھا؛لیکن گزشتہ تین سال سے وہ پورے ہندوستان کے وزیر اعظم ہیں اور بڑی شان سے ہیں !

  مودی اینڈکمپنی کے عروج سے ملک کے ایک بڑے طبقے میں یہ امید پھر سے جاگنے لگی ہے کہ ہندوستان کو مستقبل قریب میں ہندوراشٹر بنایاجاسکتاہے اوراس مقصد کے لیے ملک وبیرون ملک میں موجود ہندوتنظیمیں بڑی مستعدی کے ساتھ سرگرمِ عمل ہوگئی ہیں ۔مرکزی حکومت خفیہ طورپر اور یوپی کی یوگی سرکار علانیہ اس راہ پر چل پڑی ہے،ان کا عزم ہے کہ2023تک ہندوستان کوہندوراشٹرمیں تبدیل کردیناہے اوراس کے لیے وہ ہندوستان کے علاوہ نیپال،بنگلہ دیش اور شری لنکا وغیرہ کے ہندووں کے ساتھ مل کر بڑا گیم پلان تیار کررہی ہیں ۔ابھی 14سے17جون تک گوامیں چھٹاآل انڈیاہندوکنونشن منعقد ہوا،جس میں تقریباً150دائیں بازوکی ہندوتنظیموں کے ذمہ داران و نمایندگان نے شرکت کی اور مختلف ملکوں سے بھی بڑی تعداد میں لوگ شامل ہوئے،اس کنونشن کا انعقادہندوجن جاگرن سمیتی کی جانب سے کیاگیاتھا،یہ تنظیم 2013میں اس وقت سرخیوں میں آئی تھی جب نریندرڈابھولکرمرڈرکیس میں اس کے ممبر کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔یہ کنونشن بنیادی طورپر اس مقصد سے منعقدکیاگیاتھا کہ آنے والے چار پانچ سالوں کے اندر بھارت کو ہندوراشٹر کیسے بنایاجاسکتاہے اوراس کے لیے سیاسی رہنماؤں ،بی جے پی اور مودی حکومت سے کس طرح کام لیاجاسکتا ہے،گائے اور گئوکشی اس وقت تو ہاٹ کیک ہے ،سو یہ موضوع بھی اس کنونشن پر حاوی رہااوروی ایچ پی کی رائزنگ اسٹارسادھوی سرسوتی نے ببانگِ دہل یہ کہاکہ جولوگ بھی بیف کھاتے ہیں ان کے ساتھ دشمنوں جیسا برتاؤ کرنا چاہیے اور حکومت انھیں فوری طورپر سخت سزا دے،انھوں نے گائے کے تحفظ کو مذہبی فریضہ قرار دیااور حاضرین کوکھلے طورپر اکساتے ہوئے کہاکہ جس کے بارے میں بھی گئوکشی کا شبہ ہو،اسے فوری طورپر سبق سکھانا چاہیے۔ہندووں کو اپنے آپ کوتیار رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے کہاکہ آپ اپنی حفاظت خود کیجیے ،اپنی بیٹیوں کولوجہاد کے چکر میں پھنسنے سے بچائیے،سادھوی نے ملک کے سیکولر طبقہ کوآڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہاکہ اس ملک میں ہندووں کی حالت اس وجہ سے بگڑی ہوئی ہے کہ وہ سیکولرزم کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں ،پہلے ہندوں کوہندوبنانے کی ضرورت ہے؛ تاکہ وہ بھارت کو ہندوراشٹربنائے جانے کے خواب کوشرمندۂ تعبیر کرسکیں ۔

سناتن سنستھاکے قومی ترجمان ابھے ورتک نے سادھوی کے بیان کی تایید کی اور بی جے پی حکومت پر نشانہ سادھتے ہوئے کہاکہ اس پارٹی کو2014میں لوگوں نے اس لیے ووٹ دیاتھا کہ وہ مندروں اور گایوں کے تحفظ کے لیے ٹھوس قدم اٹھائے گی،مگر حکومت میں آنے کے بعد وہ اپنے وعدے بھول چکی ہے۔اس کاکہناتھاکہ آج خود بی جے پی کی حکومت میں مہاراشٹراور راجستھان میں مندروں کو مسمار کیاجارہاہے،جبکہ خود بی جے پی کے کئی رہنما سرِ عام یہ بیان دے رہے ہیں کہ وہ بیف کھاتے ہیں ۔کنونشن کے اختتام پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حیدرآباد سے بی جے پی کے ایم ایل اے اور شری رام یواسیناکے بانی راجہ سنگھ ٹھاکر نے رام مندر کے موضوع پربراہِ راست مودی حکومت کونشانے پر لیا،انھوں نے کہاکہ اگر 2019ء تک بی جے پی رام مندر کی تعمیر شروع نہیں کرتی تووہ ایک کروڑ ہندووں کے ساتھ مل کر ایودھیاپرچڑھائی کریں گے۔اس کنونشن میں بھارت کوہندوراشٹرمیں تبدیل کرنے کے لیے مختلف منصوبے اور ریزولیشنزپاس کیے گئے،مثلاً بھارت کو ہندوراشٹربنانے کے لیے ہرممکن کوشش کی جائے،گائے کو قومی جانور قراردیاجائے،بابری مسجدکی تعمیر کے لیے حکومت فوری اقدامات کرے،تبدیلیِ مذہب کوپورے ملک میں بین کیاجائے،بنگلہ دیشی گھس پیٹھیوں کوباہر کیاجائے وغیرہ،اس کے علاوہ بارہ مختلف سماجی،علمی و سیاسی شعبوں میں اس حوالے سے بیداری پیدا کرنے کا تہیہ کیاگیا،آنے والے دنوں میں ضلعی سطح پر ملک بھر میں 45ہندوکنونشنز کے انعقاد کافیصلہ کیاگیا،ممکنہ حادثاتی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے750رضاکاروں اور66ڈاکٹروں کی ایک ٹیم بنائی جائے گی،ملک بھر میں 34مختلف مقامات پرفرسٹ ایڈاور آگ زنی پر قابوپانے کے طریقوں سے آگاہ کرنے کے لیے کیمپ لگائے جائیں گے،اسی طرح آرٹی آئی سے فائدہ اٹھانے اوراپنے ہدف کی تکمیل کے لیے معلومات کے حصول کے مقصد سے50وکلاکی ایک ٹیم تیار کی جائے گی،جولوگوں کی رہنمائی کرے گی۔

 یہ تواس کنونشن کی بس جھلک بھر ہے،ورنہ اس پورے چار روزہ اجلاس میں کیاکچھ بولاگیا ہوگا اور برادرانِ وطن کے ذہن و دماغ کو پراگندہ کرنے کے لیے کیسی کیسی باتیں بنائی گئی ہوں گی،وہ توبراہِ راست اس میں شرکت کرکے یا اس کی ویڈیووغیرہ دیکھ سن کر اندازہ لگایاجاسکتاہے۔ایک چیز البتہ واضح ہوگئی ہے کہ خود شدت پسند ہندووں کاایک طبقہ موجودہ حکومت کے طرزِ عمل سے خوش نہیں ہے،اگر چہ اس کے ناخوش ہونے کی وجہ عوامی فلاح و بہبود کے شعبے میں مودی کی ناکامی کی بجاے مندر اور گائے کے معاملے ہیں ۔حالاں کہ دوسری طرف اگر دیکھیں تو لگتاہے کہ اگر چہ مودی نے علانیہ ایسا نہیں کہا،مگر خا موش طریقے سے توانھوں نے اُن لوگوں کو چھوٹ دے ہی رکھی ہے؛چنانچہ آئے دن گائے کے تحفظ کے نام پر انسانوں کے کشت و خون کا سلسلہ تو جاری ہی ہے۔

ملک کے عوام کو نہ جانے کتنے مسائل درپیش ہیں ،ابھی سب سے بڑا مسئلہ کسانوں کی مایوسی،قنوطیت اور ان کی مسلسل خود کشیاں ہیں ،جنوبی ہندسے لے کر مہاراشٹر ،مدھیہ پردیش وچھتیس گڑھ تک کے علاقوں میں کسان بے حال ہیں ،قرضوں تلے دبے ہوئے اور کھیتی کرنا تو دور ،ان کے پاس زندگی گزارنے کے بھی اسباب میسر نہیں ،مگر حکومت ہے کہ اس کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی،مدھیہ پردیش میں کسان دھرنے پر تھے،تواس کے مقابلے میں وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان ڈرامہ رچاتے ہوئے بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے اور اپنے چند حواریوں کی منہ بھرائی کرکے واہ واہی بھی لوٹ لی،یہ کیسی حکومت ہے اورکس طرح کاطرزِ حکومت ہے؟بے حسی کی انتہاہوتی جارہی ہے،مودی اور ان کی حکومت کومحض اپنی پیٹھ تھپتھپانے اور شورہنگامے کرنے سے مطلب ہے۔ملک کے عام لوگوں کے لیے بڑا مسئلہ یہ پیدا ہوگیا ہے کہ ان کی آواز کوحکومت تک پہنچانے کاکوئی ذریعہ بچاہی نہیں ہے،ایک میڈیاتھا،جس سے وہ امید کرسکتے تھے،مگر وہ بھی خود سپردگی کرچکاہے اور ٹی وی اینکرز حکومت کی حاشیہ نشینی کرکے اپنی جیبیں گرمانے میں مگن ہیں یا مارے ڈرکے ان کی زبانیں گنگ ہوتی جارہی ہیں ۔

 یوپی میں جب سے یوگی جی آئے ہیں ،تب سے ان کی نظر کچھ نیاکام کرنے کی بجاے بس اکھلیش حکومت کے ذریعے کیے گئے کاموں کی جانچ اور انھیں منسوخ کرنے پر ہے،قانون اور سسٹم کو ٹھیک کرنے کے نام پر بی جے پی حکومت میں آئی تھی،مگر گزشتہ سودنوں کے اندر یوپی میں قانون کی ایسی دھجیاں اڑی ہیں کہ پناہ بخدا!یوگی اپنے فرائض کو ٹھیک طرح سے پورا کرنے کی بجاے تاج محل ، بابراور غازی سالارمسعود کے چکروں میں پڑے ہوئے ہیں ،ان کی جو پرانی عادت ہے،وہ گئی نہیں ہے، زبان اگر چہ اب کچھ حد تک قابومیں ہے،مگر عمل وہ وہی کررہے ہیں ،جس کی ان سے توقع کی جانی چاہیے تھی،مسلمانوں سے متعلق مختلف شعبے ان کی نظر میں ہیں اور وہ بتدریج ان پر ہاتھ ڈال رہے ہیں ،وقف بورڈکوتحلیل کیے جانے کا فیصلہ ہوچکاہے اور اب ریاست بھر میں قبرستان کی گھیرابندی ان کی زدپرآگئی ہے،دیکھیے آگے آگے اور کیاکیاکرتے ہیں ۔ان کے منسٹرزبھی کھلے عام یہ کہتے نظرآرہے ہیں کہ یوگی جی بالکل راج راجیہ لانے والے ہیں اوروہ اسی نہج پرکام کررہے ہیں ،ابھی سودن مکمل ہونے کے بعد یوگی جی کی ملاقات بی جے پی کے سرپرستِ اعلیٰ موہن بھاگوت سے ہورہی ہے،یقیناً وہاں سے کچھ نئی ہدایات ملیں گی اور پھر کچھ نئے اقدامات عمل میں آئیں گے۔الغرض ملک کی مجموعی فضااور زمینی صورتِ حال کو کہیں سے کہیں پھیرنے کی کوشش کی جارہی ہے،ایسا ماحول بنایاجارہاہے کہ کم ازکم اکثریتی طبقہ کے لوگ روزمرہ درپیش پریشانیوں کو بالکل بھول جائیں اوران کا واحد مطمحِ نظربھارت کو ہندوراشٹربنانارہ جائے،انھیں بے روزگاری سے شکایت نہ ہو،مہنگائی سے شکایت نہ ہو،جہالت اور ناخواندگی سے شکایت نہ ہو،عام سہولیات کی عدم فراہمی سے شکایت نہ ہو،الغرض وہ تمام تر پریشانیوں کو بھول کر بس ہندوراشٹرکی تعمیر و تشکیل میں جٹ جائیں ۔

 ویسے گواوالے کنونشن میں ایک چیز ہمیں اچھی بھی لگی اور وہ ہے ایک سو پچاس ہندوتنظیموں کا حیرت انگیزاتحاد واتفاق،وہ سب جانتے ہیں کہ ہمارا مدمقابل مسلمان ہے،سوسب مل کر اس سے لڑنے اوراس کا ناطقہ بندکردینے کے لیے کہیں بھی اکٹھے ہوجاتے ہیں ،اتنے سارے اداروں کے ذمہ داران اکٹھاہوتے ہیں ،مگران کے درمیان کبھی آگے یاپیچھے بیٹھنے ،کرسی ملنے نہ ملنے ،تقریرکا موقع ملنے یا نہ ملنے یامیڈیاکوریج پر کوئی جھگڑانہیں ہوتا،وہ ہر حال میں بالکل ایک جٹ رہتے ہیں ،ان تمام کی زبانوں سے ایک ہی قسم کی بات سننے کو ملے گی،اس کے برعکس ہندوستان کے مسلمان آئے دن جہاں تہاں جلسہ بازی کرتے رہتے ہیں ،مگر افسوس کہ ان جلسوں میں سوپچاس تو کیا پانچ دس مختلف تنظیمیں اور نمایندہ ادارے بھی اسٹیج شیئرکرتے ہوئے نظرنہیں آتے،اگر اتفاقاً کبھی ایسا ہوابھی،توپھر ہمارے رہنماؤں میں اس کاکریڈٹ لینے کی ہوڑ لگ جاتی ہے،یہ قائدینِ گرامی اس بات پر ایک دوسرے سے نالاں ہوجاتے ہیں کہ اخبار میں میری تصویر چھوٹی اور تمھاری بڑی کیوں چھپ گئی،اسی طرح پروپیگنڈااتنا کریں گے گویا سات آسمان اور سات زمینوں کوفتح کرڈالا،حالاں کہ اس کے مقابلے میں سامنے کی مثال ہے کہ چار دن تک چلنے والے آل انڈیاہندوکنونشن کے پوسٹراور جلسے میں شریک ہونے کی اپیلیں ہمیں کتنی نظرآئیں ؟ان لوگوں نے کتنے اخباروں کواپنی خبریں چھاپنے کے لیے ہایرکیا؟کچھ بھی نہیں ؛کیوں کہ وہ چاہتے ہی نہیں کہ ایسا ہو،وہ توکام کرنا چاہتے ہیں ،’’اورہم ہیں کہ نام کررہے ہیں !‘‘۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close