سیاست

ایک بے حیثیت بیان پر اتنا شور

سلمان خورشید نے اپنے دامن پر خون مسلم کے دھبوں کا اعتراف کرکے بہادری کا مظاہرہ نہیں کیا ہے بلکہ اب ان کو اندازہ ہوگیا ہے کہ اب حالات کچھ بھی ہوں کانگریس میں جو کرسی ان کی مخصوص تھی وہ اب ان کی قسمت میں نہیں ہے۔

حفیظ نعمانی

سلمان خورشید نے اپنے دامن پر خون مسلم کے دھبوں کا اعتراف کرکے بہادری کا مظاہرہ نہیں کیا ہے بلکہ اب ان کو اندازہ ہوگیا ہے کہ اب حالات کچھ بھی ہوں کانگریس میں جو کرسی ان کی مخصوص تھی وہ اب ان کی قسمت میں نہیں ہے۔ جہاں تک اس اعتراف کا تعلق ہے تو کانگریس کے اقتدار کے زمانہ میں اس وقت بھی مسلمانوں کا خون بہایا گیا جب ڈاکٹر ذاکر حسین خاں نائب صدر بنے اور پھر صدر بھی بنے اور اس وقت بھی بنایا گیا جب سلمان خورشید کے والد محترم خورشید عالم خاں وزیر پھر گورنر تھے۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جسے سن کر لوگ چونک جائیں۔ کانگریس کے جو مسلمان فائدہ اٹھاتے رہے ان کو معلوم تھا کہ وہ کانگریس میں رہیں یا کانگریس چھوڑ دیں یا نکال دیئے جائیں ان مسلمانوں سے جو ہندوستان میں رہ گئے ہیں پاکستان کا حساب لیا جاتا رہے گا ان میں وہ بھی ہوں گے جنہوں نے پاکستان بنوایا تھا اور وہ بھی ہوں گے جو پاکستان کے آخری وقت تک مخالف رہے۔

سلمان خورشید جسے بہادری سمجھ رہے ہیں وہ بہادری نہیں ہے وہ ان مقبول لیڈروں میں بھی نہیں ہیں جن کے پاس مسلمانوں کے ووٹ ہوں اور کانگریس میں رہتے ہوئے ان کا کوئی کارنامہ بھی نہیں ہے وہ ان لوگوں میں ہیں جو سابق لکھے جاتے ہیں اور سابق ہی لکھے جاتے رہیں گے۔ کانگریس کے ترجمان پی ایل پنیا کا یہ کہنا کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے۔ یہ بھی مذاق ہے۔ جو کوئی بھی کوئی بات کہتاہے اور وہ عہدہ دار نہیں ہوتا تو وہ اس کی ذاتی رائے ہی ہوتی ہے۔ رہی یہ بات کہ کانگریسی لیڈروں کے دامن پر مسلمان کے خون کے دھبے ہیں یا نہیں؟ کیا یہ بھی ایسا مسئلہ ہے جس پر بحث کی جائے؟ بی جے پی نے کل ملاکر دس سال ملک پر حکومت کی ہے جس میں چھ سال مخلوط حکومت کے تھے اور جسے بھگواراج کہا جاسکتاہے اس کی عمر صرف چار سال ہے۔ اور ان میں اگر حساب لگایا جائے تب بھی کانگریس کے دس برسوں کا پلڑا جھک جائے گا اسی معاملہ میں پنڈت نہرو کا زمانہ بھی پاک صاف نہیں ہے۔ تقسیم کے بعد 1961 ء میں جبل پور میں مسلمانوں پر قیامت ٹوٹی وزیراعظم پنڈت نہرو کے دوست کیلاش ناتھ کاٹجو مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ تھے۔ ان سے جب پنڈت جی نے معلوم کیا کہ کیا ہوا؟ تو ان کا جواب تھا کہ پہل مسلمانوں نے کی تھی اور وزیراعظم نے مان لیا۔

اگر اس زمانہ کے فسادات کی تفصیل سامنے رکھ دی جائے تو کوئی کانگریسی منھ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا۔ مسلمان ان سب کے باوجود جو بی جے پی کے مقابلہ میں کانگریس کو قبول کرتے ہیں تو اس کی وجہ ان کا صرف یہ کردار ہے کہ قتل و غارت گری اور لوٹ مار میں وہ حصہ نہیں لیتے لیکن اگر کسی مسلم محلہ میں کوئی لوٹ مار کررہاہے تو اپنا دروازہ بند کرلیتے ہیں۔ موجودہ حکومت آر ایس ایس کی وجہ سے مجبور ہے کہ وہ مسلمان کو ملک کا حصہ دار نہیں سمجھ سکتی اسے اپنے قول اور عمل سے دکھانا ہے کہ وہ مسلم مکت بھارت بنائے گی۔ کانگریس کی بات یہ ہے کہ دل میں جو جذبہ بھی رکھتے ہوں ظاہر یہ کریں گے کہ وہ سیکولر ہیں اور ان کے نزدیک ہندو مسلمان میں کوئی فرق نہیں۔

بابری مسجد کا مسئلہ پہلے دن سے آج تک جو ہوا وہ کانگریس کا کھڑا کیاہوا ہے۔ پنت جی نے مورتیاں رکھواکر سرکاری تالا ڈلوایا اور راجیو گاندھی نے وہ تالا کھلواکر پوجا پاٹ شروع کرائی اور نرسمہاراؤ نے اسے شہید کرادیا کانگریس نے رام مندر کی بات نہیں کی اسے بی جے پی نے موضوع بنالیا۔ اب وہ کون کانگریسی ہے جو ان سچائیوں سے انکار کرسکتاہے؟ اور مسجد کے تالا کھلنے پر میرٹھ میں کچھ زیادہ احتجاج ہوا تو ویربہادر جسے راجیو گاندھی نے اُترپردیش کا وزیراعلیٰ بنایا تھا اس نے ہی میرٹھ میں وہ کیا جو گجرات میں مودی جی نے کرایا تھا۔ افسوس اس کا ہے کہ گجرات میں تو مارنے والوں کو گرفتار کیا بھی گیا اور جیل میں ڈالا بھی گیا میرٹھ میں یا کہیں کانگریس نے تو کسی ایک کو بھی گرفتار نہیں کیا اور نہ سزا دلائی۔

اگر پرانی باتوں کو نظر انداز کردیا جائے تو اسے کون بھول سکتا ہے کہ آج بھی 1993 ء میں مسلمانوں کو ممبئی میں قتل کیا گیا جن کی تعداد اس وقت اخبارات نے 2000 (دوہزار) سے زیادہ بتائی تھی۔ اور اس قتل عام کو روکنے کے لئے کہا جاتا ہے کہ ممبئی میں مسلمانوں نے بم دھماکے کئے جن میں 262 ہندو مرگئے۔ یہ کانگریس کی حکومت کا ہی فیصلہ تھا کہ مسلمانوں پر ہونے والے حملوں کی اور مرنے اور برباد ہونے والے مسلمانوں کی تحقیقات جسٹس بی این کرشنا کریں اور بم دھماکوں کی سی بی آئی کرے۔

کانگریس کی اسی بے ایمانی کا نتیجہ یہ ہوا کہ جسٹس کرشنا نے لکھا کہ 900 سے زیادہ مسلمان مارے گئے اور 200 کروڑ سے زیادہ ان کا مال لوٹا گیا لیکن ان میں سے کسی ایک کو نہ ایک دن کی سزا ہوئی نہ جرمانہ ہوا اور 262 ہندوؤں کے بم دھماکوں میں مارنے کے الزام میں مسلمان کو پھانسی بھی ہوئی عمر قید بھی ہوئی اور دوسری سزائیں بھی۔ اس کے بعد کسی کانگریسی کا وہ پنیا صاحب ہوں یا کوئی اور یہ کہنا کہ کانگریس نے ہمیشہ ایس سی ایس ٹی اور اقلیتوں کو آگے بڑھانے اور ان طبقات کی بہبودی کے لئے کام کیا ہے۔ اور پارٹی نے ہمیشہ خیرسگالی کو اہمیت دی ہے۔ مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنا نہیں تو کیا ہے؟

پنیا صاحب دلت طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں وہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ کانگریس نے ان کے ساتھ کیا کیا ہے؟ جو بھی پارٹی سے جڑا ہوا ہو اور اس سے ذاتی فائدے اٹھا رہا ہو اس کا یہ فرض ہے کہ وہ خون کے دھبوں کو زعفران کا رنگ کہے سلمان خورشید بھی جب مایوس نہیں ہوئے تھے تو مسز سونیا کے داماد پر حملوں کے جواب میں کہتے تھے کہ ہم سونیا جی کے لئے جان دے دیں گے۔ وہ ہمیں الیکشن لڑاتی ہیں، ہمیں وزیر بناتی ہیں۔ اب وہ سمجھ چکے ہیں کہ وہ سابق ہوگئے تو انہیں زعفران کے دھبے مسلمان کے خون کے محسوس ہونے لگے۔ اگر انہوں نے میرٹھ کے خونی حادثہ کے بعد یہ بیان دے کر استعفیٰ دے دیا ہوتا تو کوئی بات تھی اب وہ جو بھی کہہ رہے ہیں ان کی ذاتی رائے ہے اور ایک وکیل کی ذاتی رائے کی حیثیت ہی کیا ہے؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close