سیاستہندوستان

ایک تیر سے کئی نشانے

کہ تصویر کا ایک تیر چھوڑ کر کئی سارے نشانے سادھے گئے ہیں جن میں اب ایسا نہیں لگتا کہ ان کو کامیابی حاصل ہوگی اور وہ دلت اور ہندومسلم کی سیاست کر پائیں گے

محمد حسن

علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی کے یونین ہال میں جناح صاحب کی تصویر کولے کر ستیش کومار گوتم صاحب کے برہم ہونے اور یونیوسیٹی احاطے میں بڑھتے فسادات سے یہ بات پوری طرح کھل کر ہندوستانی عوام کے سامنے آگئی ہے کہ اب تعلیم اور تعلیمی ادارے بھی پوری طرح سے سیاستدانوں کے نشانے پرآگئے ہیں حالانکہ علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی کوئی پہلا ادارہ نہیں جو سیاستدانوں کے نشانے پر ہو بلکہ اس سے پہلے بھی جواہر لعل نہرو یونیورسیٹی دہلی، حیدرآباد یونیورسیٹی اور بنارس ہندویونیورسیٹی ان کے نشانے پر رہے ہیں لیکن ایسی تاریخ مٹانےکی کوشش پہلی بار کہیں کی گئی ہے، سیاسی مبصرین کے ذریعہ یونیورسیٹی کے حالیہ تنازع کو کئ رخ دئے گئے ہیں اور سب اپنی رائے میں سو فیصد درست نظر آرہے ہیں اگر ستیش کومار گوتم صاحب کا مقصد امن کی فضا قائم رکھتے ہوئے جناح صاحب کی تصویر کو ہٹانا ہوتا تو وہ اپنے مقصد میں اچھی طرح کامیاب ہوگئے ہوتے اور آج فساد کی جڑ کہے جانے کے بجائے انہیں مبارکباد دی جاتی لیکن جہاں ایک طرف 1938 سے لگے ہوئے اس تصویر کو اور وہ بھی ملک کے کئی بڑے دانشوران کے ساتھ یہاں تک کہ بابائےقوم مہاتما گاندھی اور بابائے آئین بھیم راؤ امبیڈکر اور دیگر صاحبان کی تصویروں کے ساتھ اس میں اس طرح چھیڑ خانی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی سوائے سیاسی بازار گرم کرنے اور ملک کے عوام کے ذہنوں میں نت نئے فتنے بھر کر ان کے من کو بدلنے اور سیاست کو نیا رخ دینے کی چاہے وہ حالیہ کرناٹک اسمبلی انتخابات ہوں یا اس کی کڑی 2019 کے اسمبلی انتخابات سے جوڑے گئے ہوں اور جاہل عوام جو تاریخ نہیں جانتی اس کو تاریخ کے ایک ایسے باب میں الجھا دیا جائے جو اس کے سمجھ سے پرے ہو اور اس کی دانش تک وہ باب صرف سیاہ ہی نظر آئے اور بجائے کچھ خود فیصلہ کرنے کے امڈی بھیڑ کے ساتھ چل پڑے۔

تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ تقسیم ہند سے لے کر اب تک جناح کی کوئی قدرو اہمیت ہندوستانی مسلم عوام میں ہے اور نہ ہی روزمحشر تک رہے گی کیونکہ وہ تقسیم ہند کے سب سے بڑے موجب تھے اور وہ اس لئے کہ تقسیم ہند مسلمانان ہند کا متفقہ فیصلہ تھا اور نہ ہی کوئی مسلم اپنے عزیز ملک ہندوستان سے کسی بھی ملک کی طرف رخ کرنا چاہے گا، جناح صاحب کا نام اور مختلف مقامات میں لگی تصویریں اور مجسمات صرف تاریخ کا ایک باب ہیں جیسے انگریزوں کے بیشتر مقامات پر لگی تصویریں اور ان کے مجسمات جنہوں نے سو سال تک ہندوستان کو غلام بنا کر اسے بوری طرح سے لٹا اور سونے کی چڑیا کہے جانے والے ملک کو خاک بنا کر چھوڑ دیا اور وہ چاہے مسلم مقامات پر ہوں یا سرکاری دفتروں میں، مسلم دانش گاہوں میں ہوں یا غیرمسلم اداروں میں، اسے صرف ایک تاریخ تسلیم کیا جانا چاہئے نہ کہ مذہب اور سیاست کی پلید عینک سے دیکھا جانا چاہئے، وطن عزیز کی آزادی میں ہندو ملسم سب نے برابر کردار ادا کیا اور فرنگی بربریت سے آزادی حاصل کی، بدقسمت غلامی سے سنہری آزادی تک کا سفر تاریخ کا ایک نرالا باب ہے جس سے منہ موڑنا اور اسے فراموش کرنے کی کوشش کرنا تاریخ کو مٹانے اور اپنے ماضی کو ختم کرنے کی ناپاک کوشش ہے اگر تاریخ زندہ رہے گی توجہاں ہماری آنے والی نسلیں اس سے نصیحت حاصل کریں گی اور ان کے اندر بہادری اور ناموری کا جوش پیدا ہوگا وہیں اپنی تاریخ میں ضبط اپنے دشمنوں اور نمائندوں سے اچھی طرح واقف ہوں گی ورنہ جن قوموں کا کچھ ماضی نہیں ہوتا وہ مستقبل بھی بمشکل بناتی ہیں اور انہیں بہت دیر لگ جاتی ہے اپنے اور غیروں کو پہچانتے اور سیاست کے چکربھیو کو سمجھتے۔

ہو نہ ہو علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی کا فساد جہاں سابق نائب صدر جمہوریہ کو سیاسی شکار بنانے کی سازش ہو یا اس کا تار کرناٹک اسمبلی انتخابات سے جوڑے گئے ہوں وہیں 2019 کے انتخابات میں بھی اب کوئی زیادہ وقت نہیں بچا ہے یہ اس کی سیاسی مہم کاآغاز ہوورنہ ملک میں دسیوں مقامات پر جناح کی تصویریں برسوں سے لگی ہیں اور وہیں ملک کے دشمنوں کی تصویریں بھی ہیں جنہوں نے ہمارے ابا واجداد کو غلامی کی چکی میں پیس کران کا نام ونشان تک مٹانے کی کوشش کی لیکن ان کے خلاف کچھ نہ کہے جانے کی وجہ صرف یہی ہوسکتی ہے کہ یہ مذہب کی سیاست ہے اور فرقہ وارانہ فسادات سے جہاں ملک کو دو حصوں میں بانٹا جاسکتا ہے وہیں ووٹ بٹورنے کی سیاست بھی خوب کی جاسکتی ہے کیوں کہ صرف ایک معمولی تصویر کو لے کر جو ایک فکرونظر سے نہیں بلکہ تاریخ سے جڑی ہے اس پر اتنا واویلا مچانا اور بیشتر ہندوتنظیموں کا جوش میں آنا یہاں تک کہ پولیس انتظامیہ کا بھی ان کی حمایت کرنا یہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ تصویر کا ایک تیر چھوڑ کر کئی سارے نشانے سادھے گئے ہیں جن میں اب ایسا نہیں لگتا کہ ان کو کامیابی حاصل ہوگی اور وہ دلت اور ہندومسلم کی سیاست کر پائیں گے کیوں کہ عوام اب جاگ رہی ہے اور وہ سیاسی رہنما بھی بیدار نظر آرہے ہیں جو ملک کی سالمیت کو قائم اور گنگا جمنی تہذیب کوبرقرار رکھ کرہندوستان کو منفرد بنائے رکھنا اور قومی یکجہتی کی مثال پیش کرنا چاہتے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد حسن

گدیانی۔ پوسٹ۔ گوکھولہ۔ نرکٹیا گنج، مغربی چمپارن۔ بہار۔ 845451

متعلقہ

Close