سیاست

ایک مجلس کے تین تھپڑ

سلیمان سعود رشیدی

اقوام متحدہ کے ۱۹۴۸ کے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ کے دفعہ ۱۸کے مطابق ہر آدمی اپنے خیال وضمیر اور مذہب کی آزادی رکھتاہے،مگر اس آزادی کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہوگا کہ کوئی شخص دوسروں کی دل آزاری کرے لیکن بعض پڑھے لکھے کم علم ، کم فہم، صیہونیت زدہ، شہرت کے دلدادہ اس آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں، یو ں تو ایک طویل عرصہ سےمسلمان اور مسلم رہنماوں کی دل آزاری کا سلسلہ جاری تھا، لیکن ۲۰۱۴ سے یہ سلسلہ ایک نیا روخ لیا، پھر ہوا یو ں کہ پہلے پہل ذر خرید میڈیا کے سہارے ہر نئے سورج کے ساتھ مسلمانوں کو ایک نیا لیبل دیا، مسلم رہنماوں نے ہر زاویہ سے دفاع کرتے رہے اور اب یہ سلسلہ اس حد کو پہنچ چکا کہ  کچھ نو خیز میڈیا چینلس نے ملکی اور عالمی سطح پر اپنی پہچان بنانے کے لیے مباحثہ کا سلسلہ شروع کیا، جس کی صورت حال سے ہم سب واقف ہیں، لیکن یہ مباحثہ مقاتلہ کی شکل اختیارکرتا جارہا ہے، جس کے نتیجہ میں تعصب، عناد، غنڈہ گردی، بے شرمی، پروان چڑھ رہی ہے، کل تک جو ساتھ بیٹھ کر مصالحت کے تیار تھے آج  دست وگریبان ہے یہ  اس لیے نہیں کہ وہ اصول وضوبط سے نا واقف ہیں بلکہ سب کو جانتے  بوچھتے  لایعقلون کی عملی تصویر بن رہے ہیں، اور یہ سب اینکر کے کرتوت ہیں  کہ وہ اس طرح جذبات  کو اور شخصیتوں کو مجروح کرنے والے سوال کرتے ہیں کہ انسا ن بے ساختہ ناشائستگی پر اترجاتا ہے  پھر یہ بیٹھکر تماشہ دیکھتے اور دیکھاتے ہیں، اسی طر ح کا ایک تماشہ ۲۱ مئی ۲۰۱۷ کو دہلی سے شروع ہونے والے ایک چینل پر دیکھنے کو ملا، امت مسلمہ کا ایک  ایسامسئلہ جس میں مسلمانوں کو کسی قسم کی دشواری نہیں لیکن میڈیا نے اپنی ٹی آر پی کے لیے ایک ایسا کھیل کھیلا جس میں نہ صر ف خواتین کا سر شرم سے نیچے ہو ا بلکہ ایک عالم کی بھی تذلیل کئی گئی،مباحثہ کو مقاتلہ  میں تبدیل کرکے ہندوستانی  تہذیب وثقافت کو  مجروح کیا۔

چینل کا کارنامہ:

 میڈیا جو کہ جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جا تا ہے، اگر اس ستون کے سہارے بھی اس طرح کے نا شائستہ  کرتوت ہوں تو پھر عام آدمی کس کا سہارا لیں، عام آدمی کے لیے حکومت کا ظلم کیا کچھ کم تھاکہ  آپ نے بھی بلائے گئے مہمان کے ساتھ  بد تمیزی کروای  جبکہ آپ سب کچھ جانتے تھے، آپ کےچینل پر کچھ اس طرح ٹھپڑ بازی ہوئی کہ جس سے سارےبرقی اور ورقی میڈیا  گونج اٹھے شہرت پانے کے اور بھی طریقے تھے لیکن آپ نے غلط طریقہ اختیار کیا  جس  سے نہ صرف آپ کا چینل مطعون ہوا بلکہ میڈیا  پر سے عوام کا بھروسہ اٹھ گیا، ایک ایسی جگہ جہاں سے مظلوم کی دہائی سنائی دینی تھی وہی سے ظالم بولنا لگا، ایک ایسی جگہ جہاں سے انصاف کی امید تھی وہی سے آپ نے  قانون کے پرخشے اڑائے، آپ وہی موجود تھے آپ چاہتے تو معاملہ کو موڑ سکتے اور بات کو روک سکتے تھے لیکن آپ نے اقدامی کراوئی تک تماشائی تھے لیکن جب دفاعی وقت آیا تو آپ نے روک لیا، اور فورا سے بھی پہلے محترم کو محبوس کروادیا   واہ رے چوتھے ستون۔

عورت کو برابری یا برتری:

  عورت اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ ایک خوبصورت ہستی ہے جس کے دم سے اس دنیا میں خوبصورتی ہے،لیکن عورت کو سمجھنا اتنا آسان نہیں جتنا کہ لوگ سمجھتے ہیں، اسلام کے ظہور پذیر ہونے سے پہلے عورت کی معاشرے میں کوئی عزت نہ تھی، عزت واحترام سے کوسوں دور، معاشرے میں ظلم وستم کا شکار تھی،مگرجب پیارے نبی حضرت محمد ؐ دنیا میں تشریف لائے تو عورت کو عزت واحترام کا رتبہ ملا اس کو مردوں کے برابر حقوق ملے وراثت میں اس کو حصے کا حق دار ٹھہرایا گیا اور اس کے ساتھ بیٹی کو اللہ کی رحمت قرار دیا گیا ’’ماں ‘‘ کے قدموں تلے جنت آئی، اسلام میں عورت کو جو عزت واحترام ملا اس کی مثال کہیں نہیں ملتی،لیکن آج کچھ عورتیں اپنے ہی کارناموں کی وجہ سے اپنے پائے ہوئے حقوق کو کھونے کے در پے ہے، اسلام نے عورت کو صرف برابری کے حقوق دیے تھے برتری کے نہیں، لیکن کچھ نا فہم نے برابری کو برتری سمجھ کر وہ سب کرنے تیار ہے جو ایک عورت کی شان کے خلاف ہے، جیساکہ کچھ نے اسکا مظاہرہ کیا۔

گذشتہ ہفتے دہلی کے ایک مقامی ٹیلی ویژن پر ایک پڑھی لکھی خاتون نے جب کیمرے کے سامنے ایک سفید پوش کو تھپڑ مارا تو مجھے لگا کہ جہالت اب بھی باقی ہے، جہالت کے حامل صِرف گاؤں قریوں کی خواتین ہی  نہیں بلکہ  دہلی میں پل بڑھ کر اعلی تعلیم یافتہ بزرگ خواتین بھی اس سے آگے ہیں، اس تھپڑ پر دانشوروں نے بھی یک آواز ہو کر کہا کہ ایسی بدتمیز عورت کا  ایک ہی علاج ہے۔وہ ہے قانونی کاروائی، کِسی نے اپنا غصہ میڈیا پر نکالا، کِسی نے رونا رویا کہ آج کل کے سفید پوشوں کو کیا ہوگیا کی وہ شہرت کے خاطر یا پھر مال وذر کے حوص میں اتنے ذلیل ہورہے ہیں، کچھ نے یہ ضرور کہا کہ ہاں غلطی وکیل صاحبہ  کی تھی لیکن بہرحال ایک سفید پوش مرد کو عورت پر ہاتھ نہیں اُٹھانا چاہیے تھا۔

   ایک ایسا پینل جس میں دوخوتین اور دومرد ہیں جبکہ مابقیہ سفید پوش کےسب  زرخرید ہیں،ان دوخوتین میں سے ایک نے پہلے منھ توڑنے تک کی دھمکی دیتی ہے، دفاع میں سفید پوش جوتے کی طرف اشارہ کیا تو، معافی مانگنی پڑتی ہے، لیکن اینکر کا تعصب دیکھنے لائق ہے "منہ توڑنے "والے بیان پر ایک لفظ نہیں کہتی؛ لیکن سفید پوش کے جوتے والے اشارہ  پر معافی کا مطالبہ کرتی ہے۔ذرا آگے بڑھیے  پھر اسی پینل کی ایک دوسری خاتون سفید پوش کو جانور تک کہدیتی ہے، تم انسان نہیں جانور ہو‘‘اتنا سنتے ہی سفید پوش نے  غصے میں کہا کہ ”جانور تم ہو‘‘جیسے ہی سفید پوش نے یہ جملہ کہا،فوراً ہی اینکر سفید پوش پر برس پڑی اور کہا کہ ’’ سفید پوش ہوکر عورت کو گالی دیتے ہو؟ شرم نہیں آتی‘‘۔(وکیل صاحبہ  نے جانور کہا، تو خاموشی؛لیکن سفید پوش نے کہا تو گالی زرا آگے بڑھکر دیکھیں ، اس خاتون نے سفید پوش کو ”پاکھنڈی، ڈھونگی” کہنا شروع کر دیا،جواباً سفید پوش بھی اس کے لفظوں کو اس پر لوٹاتے گئے، حتی کہ وکیل صاحبہ نے کمال بدتمیزی کرتے ہوئے سفید پوش کے گال پر تھپڑ لگا ہی دی، بس اس کے بعد سفید پوش نے ایک کے بعد ایک تین کرارے تھپڑ لگا کر وکیل صاحبہ کو مردانہ قوت کا بھرپور احساس کرا دیا،بظاہر  خاتون وکیل کو کیمرے کے سامنے تو تین تھپڑ پڑے ، لیکن مودی قانون کے مطابق ایک ہی مجلس کی تین وار ایک بھی نہیں مانی جاتی، گو یا خاتون وکیل کو تھپڑ پڑا ہی نہیں، کیونکہ سرکاری اور عدالتی حکم کے مطابق ایک مجلس کی تین طلاق سرے سے ہوتی ہی نہیں، اس اعتبار سے ابھی بدلہ باقی ہے، لیکن سب سے موثر دلیل جو اِس تھپڑ کے حق میں سامنے آئی وہ یہ ہے کہ اگر عورت مردوں والا کام کرے گی تو اُسے یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ اُسے کوئی عورتوں والی خصوصی رعایت حاصل ہو گی ( یہ دلیل اِس مفروضے پر مبنی ہے کہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کو خصوصی مراعات حاصل ہیں)، یہ بات درست ہے کہ ہمارے معاشرے میں گذشتہ کچھ عرصے سے عورتوں نے مردوں والے کام شروع کر دیے ہیں۔ اُن کی تعریف بھی ہوتی ہے اور گالیاں بھی پڑتی ہیں (حالانکہ ہم مرد جانتے ہیں کہ اکثر گالیاں صِرف عورت کے لیے ہی بنی ہیں)۔ ان سب کے بعد آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اسلام نے تو بربری کا حق دیا تھا لیکن ان نااہلوں نے برتری سمجھ بیٹھا۔!

تھپڑ بازی کے بعد :

 اس تماشے کے فوراً بعد چینل نے سفید پوش کی آڑ میں مسلمانوں کی کردار کشی شروع کردی،اور ساتھ ہی ساتھ  اکیل صاحبہ نے جو تھپڑ مارا وہ والا منظر کسی کو نہیں دیکھا یا، ،جب کہ سفید پوش والے منظر کو  مسلسل دکھا یا، پہلی والی کے منہ توڑنے والے بیان کو بالکل ہضم کرلیا اور سفید پوش کے بیان کو ”بدتمیزی”کہہ کر اسے بھی نشر کیا، مارپیٹ کی وجہ سے پولیس بلا کر سفید پوش  کو گرفتار کرایا، حالانکہ مارپیٹ کی شروعات وکیل صاحبہ نے کی تھی،اصولاً اس کو بھی گرفتار کرانا چاہیے تھا، اس واقعے کے بعد تو چینلز والوں کی دلی تمنا پوری ہوگئی؛کیوں کہ ان کا پروپیگنڈہ یہی تھا کہ ”مسلم معاشرے میں عورتوں کو آزادی نہیں ہے” اور سفید پوش نے اپنی نادانی سے ان کو ثبوت فراہم کر دیا۔سفید پوش  کو پہلے ہی سوچ لینا چاہیے تھا کہ جو عورت آر ایس ایس کے لیے کام کرتی ہو، اسلام کو چھوڑ کر ایک ہندو کی بیوی بنی ہو،وہ کیا اسلام کو جانتی ہوگی اور کیا علما کی عزت کو؟لیکن افسوس! سفید پوش کی نادانی نے خوب جگ ہنسائی کرائی،اگر تھپڑ کھا کر چلے آتے، تو بے غیرت کہلاتے اور اب جوابی تھپڑ مار کر بدتمیز کہلا رہے ہیں۔

 ” شہرت کی ہوس کے شکار کئی علما ان چینلز کی ڈبیٹ میں جانے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں اور وہاں جاکر اپنی اور قوم مسلم کی بے عزتی کراتے ہیں،صرف پانچ ہزار کے لفافے اور ٹی وی پر آنے کے شوقِ بیجا میں کئی مولوی نما چہرے مسلسل ان ڈبیٹس میں جاتے ہیں اور جگ ہنسائی کراتے ہیں، اب جملہ مکاتبِ فکر کے سنجیدہ علما کو چاہیے کہ وہ آر ایس ایس نواز چینلز کا بائکاٹ کریں اور شریک ہونے والے مولویوں کو سختی سے روکیں، ورنہ ان کا بھی عملی بائکاٹ کریں ؛تاکہ ان کی وجہ سے قوم اور مذہب بدنام نہ ہوں”۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close