سیاست

ایک ملک ایک الیکشن خواب ہے دیوانے کا

حفیظ نعمانی

وہ ضمنی الیکشن جو انسان کی اپنی غلطی سے یا قدرت کے فیصلہ کی وجہ سے اُترپردیش اور بہار میں ہوئے ان میں بددلی اور بے نیازی کی جھلک سب نے دیکھ لی 37 فیصدی، 42 فیصدی یا 55 فیصدی پولنگ کیا آج کے دَور میں اس کا ثبوت نہیں ہے کہ عوام کو ان فیصلوں سے اتفاق نہیں ہے۔ اتوار کو الہ آباد کے ایک پولنگ بوتھ پر بی جے پی کے ایک ممتاز لیڈر ووٹ ڈالنے آئے تھے۔ (افسوس ہے کہ ہم ان کا نام یاد نہ رکھ سکے)۔ این ڈی ٹی وی انڈیا کے نمائندے کمال خاں نے ان سے بات کی اسی گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ ’’ایک ملک ایک الیکشن‘‘ کے لئے ایک گیارہ رُکنی کمیٹی بن گئی ہے جس کا چیئرمین مجھے بنایا گیا ہے۔ ہم اس کا خاکہ بنا رہے ہیں کہ پورے ملک میں پارلیمنٹ، اسمبلی اور کارپوریشن کے میئر کا الیکشن ایک بار ہو جو پانچ سال تک چلے۔ روز روز کے الیکشن سے ملک کا بہت نقصان ہوتا ہے۔ اس موقع پر ان سے کہنا چاہئے تھا کہ جس الیکشن میں آپ ووٹ دینے آئے ہیں کیا وہ خود وزیراعظم کا روز ر وز کا الیکشن نہیں ہے؟ 325  اسمبلی کے ممبروں میں اگر کوئی وزیراعلیٰ اور نائب وزیراعلیٰ بننے کے لائق نہیں ہے تو لعنت ہے ان پر جنہوں نے ٹکٹ دیئے۔ اور وزیراعلیٰ، نائب وزیراعلیٰ کے لئے کروڑوں روپئے خرچ کرکے کائونسل کے ممبر خریدے ان سے استعفیٰ دلایا اور خانہ پری کی۔

وزیراعظم کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ ہر وقت کچھ نیا کرنے کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں اور جب فیصلہ کرلیتے ہیں تو پرانی باتوں کو ایسے بھولتے ہیں جیسے وہ کسی دشمن کی بات تھی۔ کچھ دنوں سے انہوں نے ایک ملک ایک الیکشن کی فضیلت بیان کرنا شروع کی ہے اب معلوم ہوا کہ اس کے لئے گیارہ رُکنی کمیٹی بھی بن گئی۔ اگر وہ سنجیدہ ہیں تو پھر اس میں یہ بھی ہونا چاہئے کہ اگر کوئی دو حلقوں سے الیکشن لڑے اور دونوں جگہ جیت کر ایک جگہ سے استعفیٰ دے تو اس الیکشن کا پورا خرچ اس سے وصول کیا جائے گا۔ اور اُترپردیش کی طرح سے اگر کسی دوسرے عہدہ کے لئے استعفیٰ دے کر سیٹ خالی کرے گا تو اس کے الیکشن کا خرچ بھی اس سے لیا جائے گا۔ اگر کوئی سیٹ قدرت کے فیصلہ کی وجہ سے ہوتی ہے تو اس کی بات الگ ہے۔

ایک ملک ایک الیکشن جن کو جنرل الیکشن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے وہ آزادی کے بعد 20  برس تک ہوئے۔ اس کے بعد جو افراتفری ہوئی اس کی ذمہ دار اندرا گاندھی نہیں ہیں۔ ہوا یہ تھا کہ 1966 ء میں اندرا گاندھی نے کانگریس سے بغاوت کی اور اپنی پارٹی الگ بنائی جس کا پہلے کانگریس ایس نام رہا بعد میں کانگریس آئی ہوگیا۔ 1967 ء کے جنرل الیکشن میں کانگریس کے پھٹ جانے کی وجہ سے ملک کے کئی صوبوں میں ملی جلی سرکار بنی۔ اُترپردیش میں سی بی گپتا کو 198  سیٹوں پر کامیابی ملی جن میں چند آزاد اور ایک چھوٹی پارٹی کو لے کر انہوں نے اکثریت بنالی اور حکومت کو حلف دلا دیا۔ چودھری چرن سنگھ جو برابر کے لیڈر تھے انہوں نے گپتا جی سے کہا کہ وزارت میں فیض آباد کے جے رام ورما اور باندہ کے ایم ایل اے اُدِت نرائن شرما کو وزارت میں لے لیں۔ گپتا جی نے جواب دیا کہ جے رام ورما کو تو اسٹیٹ منسٹر بنا دوں گا مگر شرما کو نہیں لوں گا وہ بہت بدنام لوگوں کی مدد سے جیت کر آیا ہے۔ چودھری صاحب اُٹھے اور چلے آئے۔ بجٹ اجلاس میں ہی چودھری صاحب نے ایک ترمیم پیش کردی اس پر ووٹنگ کی نوبت آگئی۔ چودھری چرن سنگھ اپنے 13  ساتھیوں کو لے کر اُٹھے اور حزب مخالف کی صف میں جا بیٹھے۔ گپتاجی نے یہ دیکھا تو وہ سیدھے گورنر کے پاس گئے اور استعفیٰ دے دیا۔

چودھری صاحب نے اندرا کانگریس کے لیڈر کملاپتی ترپاٹھی اور دوسری کانگریس مخالف پارٹیوں کو ملاکر اور اپنی پارٹی کو جن کانگریس بناکر سنیوکت ودھائک دَل (la;qDr fo/kk;d ny)  بنایا اور اکثریت ثابت کرکے حکومت بنالی۔ یہ بات صرف اُترپردیش میں نہیں مزید آٹھ ریاستوں میں ہوئی اور جہاں جہاں رنگ برنگی پارٹیوں کو ملاکر حکومت بنی وہ سب آگے پیچھے بکھر گئیں اور 9 ریاستوں میں نئے الیکشن کرانا پڑے۔ مودی جی کو یہ سوچنا چاہئے کہ 1967 ء میں شمالی ہند میں کانگریس اور جن سنگھ کے علاوہ پرجاسوشلسٹ پارٹی کمیونسٹ پارٹی سوشلسٹ پارٹی سوتنتر پارٹی ری پبلکن پارٹی اور ہوسکتا ہے دو چار اور ہوں لیکن اب یہ حال ہے کہ ہر لیڈر کی ایک پارٹی ہے اور جس کے پاس بھی سو دو سو آدمی ہوتے ہیں وہ ایک پارٹی بنا لیتا ہے۔ ایسے میں اگر مخلوط حکومت بنی اور مدت پوری کرنے سے پہلے ٹوٹ گئی تو کیا پھر ایسے ہی گورنروں کا راج برسوں تک رہے گا جیسے اب مودی جی نے بنائے ہیں جن کی حالت دیکھ کر چنگی کے منشی یاد آتے ہیں؟

مودی جی یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ مسئلہ لیڈروں کا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ صرف عوام کا ہے انہیں جب تک یہ شعور نہیں ہوگا کہ محلہ کا نیتا ملک کا لیڈر یا گائوں کا بکیت کسانوں کا لیڈر نہیں بن سکتا اس وقت تک یہ بیماری نہیں جاسکتی۔ وزیراعظم دیکھ رہے ہیں کہ تمل ناڈو میں ڈی ایم کے اور اننا ڈی ایم کے ہی دو بڑی پارٹیاں تھیں۔ اب فلمی دنیا کے دو بہت مقبول لیڈر بوڑھے ہوکر سیاست میں آگئے ہیں اور دونوں نے اپنی اپنی پارٹی بنالی ہے۔ اب اگر تمل ناڈو میں بھی معلق حکومت بنی اور بکھر گئی تو کیا ہوگا؟ وزیراعظم کا جذبہ برا نہیں ہے لیکن یہ ایسا ہی ہے جیسا وہ جھاڑو دے کر پورے ملک کو صاف کرنا چاہ رہے تھے اور پھر جھاڑو پھینک دی یا نوٹ بندی سے کانگریس کو بھوکا مارنا چاہ رہے تھے لیکن وہ فاقوں سے اور زیادہ طاقتور ہوکر نکلی کیا خبر ایک ملک ایک الیکشن کا انجام بھی وہی ہو؟

 ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے جاتے ہیں

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

2 تبصرے

متعلقہ

Back to top button
Close