سیاست

ایک نعرہ لگانا چاہتا ہوں

سلیمان سعود رشیدی

 ہندستان میں الیکشن ۲۰۱۹ کی مہم اپنے عروج پر ہے، ٹوٹی سڑکوں پر خوبصورت گاڑیاں دوڑائی جا رہی ہیں، مشینوں اور ”پرنٹنگ پریس“ کے ساتھ ساتھ کئی انسان بھی دن رات چل رہے ہیں،  ایک طرف اکثر بڑے بڑے  سردار پاگل ہو کر بھیکاری بن چکے ہیں، تو دوسری طرف متوسط طبقے کے مخلص لوگ بھی امیدوار ہیں،  ”چلو چلی“ کے اسی میلے میں عام زندگی کے علاوہ انٹرنیٹ پر بھی کئی احباب پوچھتے ہیں کہ پھر کس کو ووٹ دینے کا ارادہ ہے؟ میرا جواب ہوتا ہے کہ میں پچھلے دو انتخابات سے ووٹ دینے کے قابل ہوا ہوں، دونوں دفعہ اپنے دل کی آواز سنی اور اسے ووٹ دیا جس نے اس فرسودہ نظام کے خلاف تبدیلی کی صدا لگائی، اس دفعہ بھی اسی نظریے کے تحت ووٹ دوں گا، میں اس معاملے میں ہمیشہ ڈوبتی کشتی میں سوار ہوا، صاف پتہ چلتا تھا کہ یہ امیدوار کبھی نہیں جیتے گا لیکن پھر بھی میں نے اپنے ضمیر کی آواز پر ووٹ دیا، مجھے کسی کی ہار جیت سے کوئی فرق نہیں پڑتا، میں تو بس یہ دیکھتا ہوں کہ میں اچھائی کی طرف ہوں یا برائی کی طرف۔

ہندستان میں کیا ہوتا ؟

ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جو آبادی کے لحاظ سے چین کے بعد سب سے بڑا ملک ہے ،  اس کی ثقافت، زبان، فلمیں، پکوان اور نہ جانے کتنی ایسی چیزیں ہیں جو دنیا بھر میں صرف مقبول ہی نہیں بلکہ اثر انداز بھی ہوتی ہیں،ہندوستان کا جمہوری نظام اتنا بڑا ہے کہ امریکہ سمیت برطانیہ اور یورپ کے علاوہ کئی ممالک اس کا احترام کرتے اوراس کی مثالیں دیتے ہیں،  اس میں دو رائے بھی نہیں ہے کہ انگریزوں نے جب ہندوستان کو چھوڑا تھا تو انہوں نے ہندوستان کو کئی ایسی چیزیں فراہم کی تھی جس کے بدولت ہندوستان کا مقام دنیا بھر میں اہم اور اعلیٰ مانا جاتا ہے، اس میں جمہوریت اور پارلیمنٹ ایسا اہم ادارہ ہے جو ہندوستان کے عام آدمی کے لئے کافی مفید ثابت ہو ا، تاہم یہاں یہ بات بھی زیرِ بحث ہے کہ ہندوستانی جمہوریت کو کچھ لوگوں نے اپنے مفاد اور مقصد کے لئے پامال بھی کیا ہے، جمہوریت ایک ایسا عمدہ اور بہترین نظام ہے جس سے کسی ملک کوچلانے اور اس کی ترقی کے لئے عام لوگ اپنا حق استعمال کر سکتے ہیں، پھر چنے ہوئے ایم پی، لوگوں کے مسائل بنا کسی بھید بھاؤ کے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں،  تبھی جمہوریت کا استعمال اور اس کا فائدہ عام انسان کو پہنچتا ہے،لیکن ایسا دیکھا جا رہا ہے کہ پچھلے کچھ برسوں سے جمہوریت کو غلط طور پر استعمال کیا جانے لگا ہے، جو کہ ایک فکر انگیز بات ہے۔ ہندوستان کے الیکشن میں زیادہ تر امیدوار یا تو کسی مجرمانہ مقدمے میں ملوث ہیں یا کوئی غبن اور بدعنوانی کے معاملے میں پھنسا ہوا ہے،گویا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان تمام باتوں سے نجات پانے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے ممبر آف پارلیمنٹ بن جانا،  بیچاری عوام بھی الیکشن کو اب تفریح کے طور پر دیکھتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہورہا ہے کہ کوئی اپنے زبان  سے تو کوئی اپنے طاقت کے بل بوتے پر تو کوئی جھوٹے پروپگنڈے کے سہارے پارلیمنٹ میں داخل ہوجاتا ہے ۔

 ہندوستانی الیکشن کمیشن نے 2019 کے عام چناؤ کا اعلان کرتے ہوئے الیکشن کو سات مرحلوں میں مکمل کروانے کا اعلان کیا، یہ  انتخاب 11 ؍اپریل سے شروع ہو کر 19مئی کو ختم ہوگا اور 23؍ مئی کو ووٹوں کی گنتی ہوگی،90کروڑ لوگ اس بار ہندوستان کے عام چناؤ میں ووٹ دینے کے اہل ہوں گیں۔ ہندوستانی الیکشن میں امن و امان برقرار رکھنے کے لئے فوج سے لے کر اسپیشل پولیس فورس کا بھی انتظام کیا جارہا ہے،جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ الیکشن میں سیاسی مجرم کتنے سرگرم ہوتے ہیں، جو کہ ایک شرمناک بات ہے۔

ہندوستانی الیکشن کو کامیاب بنانے اور جیتنے کے لئے پانی کی طرح پیسہ بہایا جاتا ہے جس کا اندازاہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ  انڈیا سینٹر فور میڈیا اسٹیڈیز کے مطابق 2014 کے الیکشن میں سیاسی پارٹیوں اور امیدواروں نے لگ بھگ 400کروڑ روپئے خرچ کئے تھے۔ اس بار ممکن ہے یہ مصارف دوگنا ہوجائیں، اب اگر ہندوستانی الیکشن میں اتنی رقم خرچ کی جارہی ہے تو کہیں نہ کہیں اس بات کا شک گزرتا ہے کہ تمام سیاسی پارٹیوں کو اس کے بدلے اچھی خاصی آمدنی ہو رہی ہے۔تبھی تو ایک ایم پی الیکشن جیتنے کے بعد اس کے کپڑوں سے لے کر کے اس کے مکان ، گاڑی اور نہ جانے کتنی ایسی چیزیں اس کے پاس آجاتی ہے جو ہم اور آپ دن رات محنت کر کے بھی محروم رہتے ہیں، اس کے بر عکس ایک ووٹ دینے والا عام آدمی جس کی زندگی پریشانِ حال رہتی ہے اور وہ چار سال تک صرف اپنے آپ کو کوستا رہتا ہے کہ آخر ملک کی حالت کب سدھریں گی۔

اس بار کے الیکشن میں متعدد قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔کوئی مودی کی دوبارہ جیت کا دعویٰ کر رہا ہے تو کوئی خانوادہ کے برسراقتدار آنے کی امید میں ہے،تو وہی صوبائی پارٹیوں کی جیت سے امید افزا بھی ہے۔تاہم عام آدمی کی زندگی بد سے بد تر ہورہی ہے اور اس کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔ مودی حکومت نے پچھلے چار سال میں جس طرح سے عام آدمی کا جینا مشکل ہی نہیں ناممکن سا ہوگیا ہے ،جوکہ نا قابلِ فراموش ہے چند ایک کا تذکرہ بھی صفحات سیاہ کردیتا ہے،کہیں نجیب کے ماں کے آنسو ،تو کہیں اخلاق کی بیوہ بیوی اور یتیم بچوں کی چیخیں تو کہیں کورکھپور کے شفاخانہ میں زندگی کی جنگ ہارنے والے معصوموں کی سسکیاں ، تو کہیں گروگرام کے ایک گھر کی آوازیں تو کہیں مسجد کا امام اپنے جوان بیٹے کے غم کروٹیں بدلناتو کہیں ریلوے اسٹیشن پر مدد کی آس میں پڑی جیند کی لاش ،تو کہیں پہلو خان کا خون تو کہیں آصفہ کی آبرو،  اس کے علاوہ سکیڑوں جوان جو بھیڑ کے تشدد کا نشانہ بنے ،ان سب سے ہٹ کر  کسانوں کا جینابھی  دو بھر ہوچکا ہے کیونکہ ان پر قرض کا بوجھ کافی بڑھ گیا ہے۔2016میں نوٹ بندی نے جہاں کئی لوگوں کی جان لے لی تھی تو وہیں اس کے نتائج زیادہ فائدہ مند نہیں ثابت ہوئے۔ جی ایس ٹی ٹیکس سے چھوٹے بیوپاریوں کا جینا حرام ہو گیا ہے، بیرون ممالک کو مال کی برآمد دھیمی ہوچکی ہے جس سے بہت سارے لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں سمجھ نہیں آتا کس پر آنسو بہاوں اور کس کس کے آنسو صاف کروں۔

ووٹ کیا ہے؟

ووٹ ایک شہادت ہے۔ آپ جس کو ووٹ دیتے ہیں ۔ اس کے متعلق آپ گواہی دیتے ہیں کہ یہ شخص دیانتدار اور امانتدار ہے اور اس کام کی قابلیت اس میں موجود ہے، اگر آپ جانتے ہو کہ اس میں یہ صفات نہیں ہے، تو یہ ایک جھوٹی گواہی ہے، جو کہ گناہ کبیرہ ہے،٭ووٹ کی دوسری حیثیت سفارش کی ہے،  یعنی آپ جس کو ووٹ دیتے ہیں اس کی اس عہدے کیلئے سفارش کرتے ہیں،  اس سفارش کے بارے میں اﷲ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ’’جو شخص اچھی سفارش کرتا ہے اس میں اس کو بھی حصہ ملتا ہے اور جو بری سفارش کرتا ہے تو اس کی برائی میں بھی اس کا حصہ ہوتا ہے‘‘۔ یعنی ہمارے ووٹ سے جو شخص کامیاب ہوگا وہ اپنے پانچ سالہ دور میں جو بھی نیک یا بد عمل کرے گا ہم بھی اس میں شریک سمجھے جائیں گے، ٭ ووٹ کی ایک حیثیت وکالت کی ہے،  مگر یہاں جس کو منتخب کرلیتا ہے وہ پوری قوم کا وکیل بن جاتا ہے،  اب اگر وہ کسی کی حق تلفی کر، تو پوری قوم کی ذمہ دار ہم ہوں گے۔
گویا کہ ہمارے ووٹ کی تین حیثیتیں  ہیں، شہادت، سفارش اور حقوق مشترکہ میں وکالت، تینوں حیثیتوں میں جس طرح نیک، صالح اور قابل آدمی کو ووٹ دینا ثواب ہے اسی طرح ناہل، سیکولر اور بے دین شخص کو ووٹ دینا جھوٹی شہادت بھی ہے، بری سفارش بھی اور ناجائز وکالت بھی۔ اس کے تباہ کن ثمرات اس کے نامہ اعمال میں لکھے جائیں گے۔

ووٹ کا درست استعمال جمہوریت کو مضبوط کرتا ہے، اس کے صحیح استعمال کے نتیجے میں ایک مثبت شخص پارلیمنٹ میں پہنچ سکتا ہے اور یوں معاشرے میں مثبت تبدیلی آ سکتی ہے،  جمہوری نظام کی مضبوطی ،ہندستان  کی مضبوطی ہے اور اس کی مضبوطی میں ہی ہماری بقاء ہے،اس لیے اپنے بچوں میں آگہی اور شعور پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم انہیں ووٹ کا صحیح استعمال کرنا سکھائیں تاکہ وہ ایک اچھا شہری ہونے کا فرض بخوبی ادا کر سکیں اور ایک بہترین معاشرہ تشکیل پا سکے۔

میرا ووٹ کس کو؟

انتخاب 11 ؍اپریل سے شروع ہو کر 19مئی کو ختم ہوگا اور 23؍ مئی کو ووٹوں کی گنتی ہوگی، 90کروڑ لوگ اس بار ہندوستان کے عام چناؤ میں ووٹ دینے کے اہل ہوں گیں ،لیکن اس وقت عوام سخت تذبذب کا شکار ہیں کہ کس کو ووٹ دیں، کیونکہ ہماری سیاست منشور اور پارٹی پروگرام کے بجائے الزام اور جوابی الزام پر چل رہی ہے اور الزامات بھی اخلاق سے گرے ہوئے، میرا ووٹ کس کو ؟ یہ بڑا مشکل سوال ہے کیونکہ ہماری سیاست میں کوئی ایسا رہنما کوئی ایسی پارٹی موجود نہیں جو قومی مسائل کا ادراک رکھتی ہو، بین الاقوامی سیاست کے نشیب و فراز کو سمجھتی ہو، عوام کے مسائل سے جانکاری رکھتی ہو اور انھیں حل کرنے کی اہلیت رکھتی ہو، ایسی صورتحال میں کوئی کسی کو کیا مشورہ دے سکتا ہے، لیکن کچھ حقائق ایسے ہیں جن کو پیش نظر رکھا جائے تو شاید فیصلے کرنے میں آسانی ہو۔

اس حوالے سے پہلی بات یہ ہے کہ ہندوستان  کی 70 سالہ تاریخ میں کون کون سی پارٹیاں برسر اقتدار آئیں اور کتنی بار آئیں، اپنے دور حکومت میں ان برسر اقتدار آنے والی پارٹیوں نے عوام کے کون سے مسئلے حل کیے، ایک بڑا مسئلہ جو ہمارے عوام کا اجتماعی مسئلہ ہے وہ ہے تعلیم وغربت، سوال یہ ہے کہ اس قومی مسئلے کو حل کرنے میں برسر اقتدار آنے والی پارٹیوں نے کیا کیا؟ غربت کے علاوہ ملک میں بے روزگاری ہے، مہنگائی ہے، یہ دونوں مسئلے ایسے ہیں جنھیں سیاسی پارٹیوں کے ایجنڈے میں سرفہرست ہونا چاہیے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسائل ہماری سیاسی پارٹیوں کے ایجنڈے اور منشور کا حصہ ہی نہیں ہیں۔

دنیا بھر کی جمہوری حکومتوں میں تعلیم اور علاج مفت ہوتا ہے لیکن ہمارے ملک میں یہ دونوں بنیادی ضرورتیں عوام کی پہنچ سے دور ہیں بلکہ مڈل کلاس بھی ان دو سہولتوں سے محروم ہیں، پرائیویٹ اسپتال اور تعلیم گاہیں دراصل ایک منافع بخش صنعت بن گئے ہیں، عوام کے مسائل حل کرنے کی دعویدار حکومتوں نے کیا ان دو بنیادی ضرورتوں کو پورا کیا ہے؟ اس بددیانتی کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے اہل سیاست کی اولین ترجیح کم سے کم عرصے میں زیادہ سے زیادہ دولت کمانا ہے آج میڈیا عوامی نمایندوں کی ملکیتیں نقد اور اربوں کھربوں کے اثاثوں کی تفصیل سے بھرا ہوا ہے، کیا اربوں کھربوں کے مالک عوام کے مسائل حل کرسکتے ہیں؟ عوام پوچھتی ہیں کہ ہم ووٹ کس کو دیں؟ ہمارے پاس اور تو کوئی آپشن نہیں، عوام ان جماعتوں کو ترجیح دیں جو اب تک اقتدار میں نہیں آئیں،حدیث پاک کا مفہوم ہے کا” انسان ایک سراخ سے دومرتبہ ڈسا نہیں جاتا "لیکن اسکے باوجود ہم ستر سال سے انھیں سراخوں سے ڈستے آرہے ہیں جو ہمیں ڈس ڈس کو سؑند کرچکے ہیں، میرے ووٹ سے  مستقبل کے حکومت کافیصلہ کیا جائے گا،  اگر ماضی پر نظر دوڑایا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہم نے خود غلط لوگوں کو ووٹ کے ذریعے منتخب کرکے اپنے آپ پر مسلط کیا، اور پھران کے حکومت کے خاتمے تک ہاتھ مسل کر روتے رہے، مچھے معلوم ہے کہ دنیا کی تاریخ کئی ایسے انقلابی واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں عوام نے انتخابات میں اپنے ووٹوں کی قوت سے جمہوری سیاسی اور معاشی انقلاب برپا کئے،  مغرب کے امیر ترین ممالک کے سائنسی معاشی سماجی اور سیاسی انقلابات کا راز جمہوریت اور انتخابی عمل کے باقاعدہ تسلسل میں پنہاں ہے،ترقی یافتہ ممالک میں برادری ازم لسانیت اور فرقہ وارانہ گروہی تضادات کی بجائے عوام کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ کا دانشمندانہ استعمال کرتے ہیں۔

قوم کو بتانا چاہتا ہوں:

قوم پر بھاری زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بالغ نظری کا ثبوت دیتے ہوئے اہل امیداروں کو میرٹ پر ووٹ دے جو منتخب ہونے کے بعد ایک طرف اپنے حلقہ انتخاب میں خوشحالی اور ہریالی کا عمل پورے ذوق شوق سے شروع کریں تو دوسری طرف منتخب نمائندگان پارلیمان میں ملک و قوم کے روشن مستقبل کی خاطر ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر صحت مندانہ قومی امور پر توجہ مرکوز کرسکیں،عوام پارٹیوں اور امیدواروں کے پرفریب نعروں اور دلکش منشور کے جھانسے میں آنے کی بجائے انکی کارکردگی اور ماضی کے کردار کا تجزیہ کرنا چاہیے۔

جمہوری ریاستوں کے قیام کے لئے ووٹ کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہندوستان میں آئین کی روح سے ہر بالغ فرد کوووٹ دینے کا حق دیا گیا ہے، تاکہ وہ ملکی امور میں برابر کا شریک ہو سکے۔ اور مرضی کی حکومت بنائے، ہندوستان بھر میں مجموعی آبادی کا تقریباً 25 فیصد ووٹ کے استعمال سے واقف ہیں جبکہ دیگر اس کی ضرورت ہی خیال نہیں کرتے، دراصل ووٹ دیناہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ علم و عقل و دانش کو بروئے کار لا کر صحیح فرد کو حکمرانی کا اعزاز بخشے، جوکہ حکمرانی کے اصولوں پر دسترس رکھتا ہوں اور عملی اقدامات سے عاری نہ ہو،کسی پھوپھا، تایے کے کہنے پر کسی ماموں، خالو کو ووٹ یوں ہی مت دیجئے گا، پہلے ایک بار صحیح آدمی کی جانچ کر لیجیے گا ، نسلوں برادریوں کے چکروں سے نکلیں اور ملک کوہرے اور بھرے  بھیڑیوں سے پاک کریں جنہیں ہم اپنا ضمیر بیچ کر لائے ہیں، اس بار نہ پانچ سو پر بکنا ہے، نہ سائیکل ، موٹر سائیکل لینی ہے، نہ بریانی کی پلیٹ کھانی ہے، ہر فرد کو اپنی مرضی سے، اپنی سوچ اور فہم کے مطابق ووٹ کا حق حاصل ہے اور اسے اسکا درست استعمال کرنا ہے ، ووٹ صرف اسے دینا ہے جو اس کے قابل ہے اور اس کے لیے ہر طبقے اور ذات کے فرق کو پس پشت ڈال کر اچھے کردار اور قابل انسان کو چننا ہے اور انہیں آگے لانا ہے تا کہ ہم سب کی بہتری ہو سکے نہ کہ چند طبقوں کی۔ ووٹ دینا ہمارا قومی فریضہ ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے جیسے جھوٹی شہادت کو حرام قرار دیا ہے ویسے سچی شہادت کو واجب اور لازم قرار دیا ہے، قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے’’اﷲ کیلئے سچی شہادت کو قائم کر‘‘۔ دوسری جگہ ارشاد ہے’’شہادت کو نہ چھپاؤ اور جو چھپائے گا اس کا دل گناہ گار ہے‘‘اسی طرح نبی ﷺ کا ارشاد مبارک ہے’’جس کسی کو شہادت کیلئے بلایا جائے ، پھر وہ اسے چھپائے تو وہ ایسا ہے جیسے جھوٹی گواہی دینے والا’’۔ ایک اور حدیث میں نبی ﷺ کا ارشاد ہے ’’ کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ بہترین گواہ کون ہے؟ وہ شخص جو اپنی گواہی کسی کے مطالبے سے پہلے ہی ادا کردے‘‘۔ قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے ’’اور جب کوئی بات کہو تو انصاف کرو، خواہ تمہارے قریبی رشتہ دار کے خلاف کیوں نہ ہو‘‘۔ معلوم یہ ہوا کہ  انتخابات میں ووٹ کی حیثیت ایک شہادت ہے جس کا چھپانا بھی حرام ، اس میں جھوٹ بولنا بھی حرام اور اس پر معاوضہ لینا بھی حرام، یہ محض ایک سیاسی ہار جیت نہیں ، آپ جس کو ووٹ دیتے ہیں شرعا آپ اس کے حق میں یہ گواہی دیتے ہیں کہ یہ شخص اپنے نظریئے،علم و عمل اور دیانتداری کے روسے اس کام کا اہل ہے اور دوسرے امیدواروں سے بہتر ہے۔مولانا ابو الکلام آزاد ؒ اپنی کتاب اسلام اور سیاست میں فرماتے ہیں کہ دیندار کیلئے ووٹ مانگنا امر بالمعروف اور فاسق کو ووٹ دینے سے منع کرنا نہی عن المنکر ہے۔

خلاصہ:

ہندوستان میں مسلمانوں کے ووٹ کو کافی اہم اور فیصلہ کن  مانا جاتاہے ، جس  کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگ سبھا کی تریسی سیٹوں پر مسلمانوں کی تعدادتیس سے پیسنٹھ کے بیچ ہے ،لیکن جیسے ہی الیکشن قریب آتے ہیں، کچھ ہمدرد اور سیکولر پارٹیوں کاایک سیلاب آتا ہے، جو ہمارے ووٹوں کو جان ومال کی حفاظت زبان ومذہب اور کچھ بنیادی حقوق کے فراہمی کےنام پر تقسیم کردیتے اور ہم خش وخاشاک کی طرحاس طوفان میں بہہ جاتے ہیں اور نتیجہ یہ ہوتاہے کہ دنگائی اور فسطائی طاقتیں اقتدار پر قابض ہوجاتی ہیں اور ہم ان کے حکومت کے خاتمے تک ہاتھ مسل کر روتے رہتے ہیں۔

کب تک ہم اپنے حال پر روتے رہیں گے ، کب ہم اپنے ووٹوں کی قیمت کو جانیں گئے،کب ہمیں فکر ہوگی اپنے بچوں کی تعلیم اور بے روزگاری کی یہی وہ گھڑی سونچیں اور سمجھنے کی ،میں تمام سیکولر ذہین والوں سے اپیل کرونگا کہ وہ ووٹ ڈالنے سے پہلے ایک بار ضرور سونچیں اور دل کی آواز کو سنیں پھر چاہئے کسی بھی پارٹی یا مسلک کا ہو اب سب ملکر ایک جٹ ہوکر اس شخص کو اپنا رہنما چنیں جو آپ کے لیے ،ملک اور مذاہب کے لیے بہتر ہواور یہ نہ سونچیں کہ ہمارے باپ دادوں نے کسے رہنما چنا بلکہ یہ مقصد ہو کہ ہمارے لیے اور ہمارے آنے والے بچوں کے لیے کون بہتر ہے ، ورنہ حال وہی ہوگا۔

یہ جبر بھی دیکھا تاریخ کے نظروں نے

لمحوں نے خطاکی صدیوں نے سزاپائی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close