سیاستمراسلات

بابا گرمیت رام رحیم کے جرم پر خاموشی کیوں؟

محمد وسیم

بابا گرمیت رام رحیم ایک سکھ تنظیم "ڈیرہ سچا سودا” کا صدر ہے، یہ تنظیم 1948 میں بنی، 1990 میں اس تنظیم کی کمان گرمیت سنگھ کے ایک نوجوان نے بابا رام رحیم کے نام سے سنبھالی، اس وقت اس تنظیم سے 6 کروڑ لوگ وابستہ ہیں ، بابا رام رحیم ہندو مذہبی رہنما کے علاوہ گلوکار، پاپ سنگر، فلمی ہیرو، سماجی کارکن بھی ہے، اس بابا پر ایک صحافی کے قتل کرنے کا الزام بهی ہے۔ جس واقعے نے اس بابا کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالنے پر مجبور کیا ہے وہ کہانی لڑکی کی عصمت دری سے متعلق ہے، 2002 میں ڈیرہ سچا سودا کی ایک سادھوی لڑکی نے نام نہ ظاہر کر کے اس وقت کے وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپئی کو خط لکھ کر انصاف کی اپیل کی، خبر کے مطابق اس خط میں بابا کے کالے کرتوتوں کا ذکر تها، وہ خط پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ کے جج کے پاس پہنچا، کاروائی ہوتی رہی اور 15 سالوں کے بعد بابا کے خلاف فیصلہ آیا، بابا کی لڑکی کے ساتھ عصمت دری سچ ثابت ہوئی، پنچکولہ (ہریانہ) کی سی بی آئی عدالت نے مجرم بابا کو قصوروار بتا کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال کر انصاف کی تاریخ رقم کی، زانی بابا سے متعلق حتمی فیصلہ 28 اگست کو سنایا جائے گا۔

ہندو بابا گرمیت رام رحیم کے خلاف فیصلہ آنے سے پہلے ہی پورے ہندوستان میں حکومت کی طرف سے سکیورٹی کے سخت انتظامات کے دعوے کئے جا رہے تھے، دہشت گردی اور فسادات کا خطرہ تها، اس لئے 5 ریاستوں کو ہائی الرٹ کیا گیا تھا، 10000 جوان تعینات تهے، فون سروس اور انٹرنیٹ کی سہولیات معطل تھیں ، دفعہ 144 نافذ تهی، تاکہ بابا کے خلاف فیصلہ آنے پر دہشت گردی کا کوئی واقعہ پیش نہ ہونے پائے، مگر ان سب کے باوجود بھی بابا کے خلاف فیصلہ آنے کے بعد دہلی، راجستھان، ہریانہ و پنجاب میں کافی جانی و مالی نقصانات ہوئے، تمام سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا، ریل کو جلایا گیا، حد تو یہ ہے کہ دنیا کی پانچویں بڑی طاقت کا دعویٰ کرنے والے ملک کے فوجی تمام ضروری ہتھیاروں سے لیس ہونے کے باوجود بھی بھیڑ کے غصے کے سامنے پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہوئے نظر آئے، میڈیا رپورٹروں کی گاڑیاں نظر آتش کر دی گئیں اور رپورٹروں کو بهی خوب پیٹا گیا، اس کے باوجود بھی سرکار، میڈیا ان غنڈوں کے خلاف ٹھوس کارروائی نہیں کر سکی، ان کی غنڈہ گردی کو نہیں روک سکی، جب کہ یہی میڈیا والے اور سرکار یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ضرورت پڑنے پر پاکستان کو خون کے آنسو رلائیں گے، چین کو جنگ کے میدان میں شرمناک شکست سے دوچار کریں گے اور ہماری فوج ملک کے مختلف علاقوں کے دہشت گردوں کو مٹا کر دم لے گی- مگر آج فوج بابا رام رحیم کے غنڈوں کے آگے بے بس کیوں ہے ؟

ہریانہ کی پنچکولہ عدالت نے تمام حقائق اور تصدیقات کے بعد بابا رام رحیم کو زانی قرار دیا- مگر افسوس ہے ہندوستان کی تمام ہندو سیاسی پارٹیوں پر کہ کسی نے بھی اس فیصلے کی حمایت نہیں کی اور نہ ہی کسی نے اس زانی کے خلاف کوئی بیان دیا، ستم بالائے ستم تو یہ ہے کہ برسرِ اقتدار پارٹی کے دو ایم پی نے عدالت کے فیصلے کو غلط ٹہرایا، بی جے پی کے صدر امت شاہ نے بابا کے حامیوں کے ذریعے ہوےء نقصانات کا ذمہ دار تو عدالت ہی کو ٹہرا دیا، اس سے زیادہ شرمناک بات اور کیا ہو سکتی ہے ؟ یعقوب میمن اور افضل گرو کے خلاف عدالتِ عظمیٰ کے پاس تو ثبوت بهی نہیں تهے- مگر ان دونوں کی پھانسیوں پر مسلمانوں نے کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا جب کہ بابا کا جرم ثابت ہونے کے بعد بهی ہندوستان کی سیاسی پارٹیاں اور نام نہاد سیکولر چہرے خاموش کیوں ہیں ؟ اس بابا کو ہندو زانی، اس کے حمایتیوں کو غنڈہ اور ہندو آتنک وادی قرار کیوں نہیں دیتے ؟ کشمیر میں محض معصوم بچے کے پتھر اٹھا لینے پر پیلیٹ گن اور گولیاں چل جاتی ہیں ، تب نام نہاد سیکولروں کو کشمیر دہشت گرد اور معصوم بچہ آتنک وادی دکهائی دیتا ہے

قارئینِ کرام ! بابا رام رحیم کو عدالت کے ذریعے سے زانی قرار دے دیا گیا ہے، مگر کسی سیاسی پارٹی نے عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم نہیں کیا ہے، جو کہ انتہائی افسوسناک بات ہے، 28 اگست کو بابا رام رحیم کے خلاف فیصلہ سنایا جائے گا، خبر ہے کہ بابا رام رحیم کو عدالت میں حاضر نہیں ہونا پڑے گا بلکہ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سزا سنائی جائے گی، خبر یہ بھی ہے کہ سی بی آئی کی خصوصی عدالت جیل جا کر سزا سنائے گی، ادھر بابا کو زانی قرار دینے کے بعد سے اب تک فساد رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے، حکومت، فوج اور میڈیا سب بے بس ہیں ، اس واقعے کے بعد تو ہریانہ حکومت کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ مستعفی ہو جائے مگر بڑی بے شرمی سے جانی و مالی نقصانات کا تماشا دیکھ رہی ہے، کشمیر میں محض پتھر اٹھانے پر پیلیٹ گن اور گولیاں چل جاتی ہیں- مگر جب دہلی، ہریانہ جل رہا ہے تب ہندوؤں پر آنسو گیس بهی نہیں چھوڑا جاتا، ڈاکٹر ذاکر نائک کے معاملے میں ابھی تک حکومت نے ان کو نوٹس تک نہیں بهیجی ہے اور حکومت و میڈیا نے انهیں بغیر ثبوت کے دہشت گرد تسلیم کر لیا ہے، جب کہ زانی بابا کے خلاف حکومت خاموش ہے-

آخر میں بابا رام رحیم کے خلاف 15 سالوں تک پنجاب کی لڑنے والی لڑکی، ججوں کے حوصلوں اور بابا کے خلاف فیصلہ دینے والے جج جگدیپ سنگھ کی بہادری اور ہمت و بیباکی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، کیوں کہ انهوں نے ہندوستانیوں کے اندر نہ صرف انصاف کی مندر عدالت پر یقین کو مضبوط کیا ہے بلکہ ظلم کے خلاف لڑنے والے لوگوں کے اندر ہمت بهی پیدا کی ہے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close