سیاست

بابری مسجد، شری شری روی شنکر اور نیی ڈیل 

مشرف عالم ذوقی

پہلے 14 مارچ 2016 کی ایک خبر دیکھتے ہیں .جمنا کنارے شری شری روی شنکر،آرٹ آف لیونگ کے بانی نے مرکزی حکومت کی مدد سے تین دنوں کا رنگا رنگ پروگرام کیا جس میں لاکھوں کی بھیڑ امڈ پڑی –پروگرام ختم ہوا تو وہ جگہ کچرے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکی تھی .کیی ٹی وی چینلز نے کوڑے کے ڈھیر کو دکھاتے ہوئے شری شری روی شنکر کے آرٹ وف لیونگ کو مذاق کا نشانہ بنایا .اس پروگرام نے آر ایس ایس کے موقف اور نظریات کی وضاحت کرتے ہوئے صاف کر دیا کہ آئندہ برسوں میں سارا زور مذھب کی سیاست پر رہے گا .

2017 میں مندروں کی جگمگاہٹ مودی کے سارے پروگرام پر حاوی رہی .بنارس، ایودھیا کو چمکا کر مذہب کو چمکانے کی سیاست حاوی رہی . یوگی مودی میں کمپٹیشن شروع ہو گیا کہ مذھبی رنگ میں کس کے چہرے کو عوام کا زیادہ ووٹ ملتا ہے . یوگی اتر پردیش کی ساری ترقی چھوڑ کر مندر مندر گوشہ گوشہ ناپتے رہے. مودی بھی مندروں کے پجاریوں کی تاج پوشی میں لگے رہے .کل ملا کر ملک مندروں کا، پجاریوں کا، باباؤں کا ملک بن گیا .اب جہاں مندر ہونگے، وہاں صرف سنیاسی ہی ہونگے . راہل گاندھی کا گہری نیند سے بیدار ہونا مودی کے لئے گجرات انتخاب کے مد نظر منہگا ثابت ہونے لگا، تو راستہ صرف مذہبی اشتعال کی طرف جاتا تھا .نوٹ بندی، جی ایس ٹی سے ووٹ متاثر ہوتا ہے تو مذھب لے آؤ .منھگایی سے مرتے لوگ بھی مذھب کی شرن میں جا کر غریبی، دکھ، دلدر سب بھول جاتے ہیں .بس پھر کیا تھا، بابری مسجد کے جن کو دوبارہ زندہ کر دیا گیا …لیکن اتنا کافی نہیں تھا تو پھر ڈیل شروع ہوئی .

میں نے بابری مسجد کو لے کر دو ناول لکھے .ایک بیان .دوسرا آتش رفتہ کا سراغ ..ان دونوں ناول میں میں نے ایک بات اٹھایی تھی کہ کیا بابری مسجد کی شہادت ایک ڈیل تھی جو بھگوا لیڈران نے مسلم لیڈران کے ساتھ کی تھی .میں نے اس وقت کا سیاسی و سماجی منظر نامہ بھی پیش کیا تھا، جب ایک ماہ تک مسلم لیڈران ریت میں شتر مرغ کی طرح سر دے کر، مین ا سٹریم سے غایب ہو گئے تھے ..دس برس قبل جب الوک مہتا نے اپنے اخبار میں بھی یہ خبر شایع کی اور شک کا اظہار کیا کہ بابری مسجد ایک ڈیل تھی .اب خیال آتا ہے کہ ان پر سیاسی دباؤ رہا ہوگا کہ وہ آگے اس ایپیسود کی دوسری قسط نہیں دے سکے .اس وقت کانگریس کی حکومت تھی .

آرٹ آف لیونگ کے بانی شری روی شنکر اب بابری مسجد معاملے میں امام، سوامی، اکھاڑا، مندروں کے پجاری کے ساتھ مل کر مندر بنا دینے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں .ڈرامے کے نیے سین میں ایک سے بڑھ کر ایک کردار موجود ہیں . مسلم پرسنل لا کو بھی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ مٹی کی ہنڈیا آگ پر کیسے چڑھائی جائے .ولی رحمانی نے شری روی شنکر سے بات کی تو سید احمد بخاری کو غصّہ آ گیا .پانچ دسمبر سے ہونے والی سماعت کے لئے ہندو مسلم تمام اکھاڑے جاگ گئے ہیں .یہ مسلہ ہندو مسلمانوں کی شناخت اور تشخص کا سوال بن گیا ہے .اس جنگ میں کس کی جیت ہوگی یہ بات آپ ابھی بھی ملک کی اکثریت سے پوچھ سکتے ہیں .بلکہ بے خوف ہو کر یہ سوال اپنے دل سے پوچھ سکتے ہیں .گاندھی کی مورتیاں توڑی جا رہی ہیں .پٹیل، دین دیال اپادھیاے اور گوڈسے کے مندر بنانے والے کیا 2012 اور گجرات- ہماچل پردیش کے انتخاب کے پیش نظرمسجد آپ کے حوالے کر دینگے، یہ سوچنا کم از کم آج کے ماحول میں ایک مذاق لگتا ہے .کورٹ کے فیصلے پرمیں نے پہلے بھی لکھا تھا —

بابری مسجد زمین کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا نہیں ہے
آزادی کے بعد سے آج تک مسلمان حق وانصاف کے لیے ترس گئے

"یہ زمین کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے۔ جس پر چلنے سے فرشتے بھی ڈرتے ہیں۔  زمین میں چاروں طرف بارودی سرنگیں بچھی ہیں۔  ہم سے کہا گیا ہے کہ اسے صاف کیا جائے۔ کچھ سمجھدار لوگوں نے صلاح دی ہے کہ اسے صاف کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ لیکن یہ خطرہ اٹھانا ہوگا۔”

۔۔۔ بابری مسجد کا تاریخی فیصلہ سنانے والے جج سبغت اللہ خاں کے بیان کا ایک حصہ۔

سبغت اللہ خاں کی حیثیت دراصل اس پورے معاملہ میں اس معصوم اورسہمے ہوئے مسلمان کی تھی جو تاریخی حقائق کی جگہ حکومت اور ماحول کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور تھا۔ وہ اس خطرے کا تجزیہ نہیں کرسکے جو اس غلط فیصلے کے بعد اس ملک کے مسلمانوں کو نفسیاتی سطح پر کمزور کرنے کے لیے کافی تھا۔ بلکہ یہ بھی کہنا چاہئے کہ وہ اس فیصلے سے قبل کی تاریخ پر بھی غور نہ کرسکے جس نے آزادی کے بعد سے ہی اس ملک میں مسلمانوں کو حاشیے پر ڈالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ فیصلہ آنے سے قبل ہی آر ایس ایس اور ہندو مہا سبھا جیسی تنظیموں نے کہنا شروع کردیا تھاکہ اگر فیصلہ ان کے حق میں نہیں آتا ہے تو وہ اسے قبول نہیں کریں گے۔ اور اس کے بعد اگر پورے ملک میں گجرات جیسا ماحول پیدا ہوتا ہے تو یہ ان کی ذمہ داری نہیں ہوگی۔ تو کیا مرکزی اور ریاستی حکومت آر ایس ایس اور ہندو مہاسبھا جیسی تنظیموں سے خوفزدہ تھی؟ فیصلہ سے تین دن قبل تک حکومت اور میڈیا دونوں نے یہ ماحول بنانے کی کوشش کی تھی کہ فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہوگا۔ وہ تاریخی فیصلہ جس کے انتظار میں 18 برس لگے تھے۔ اور جس کے لیے عدلیہ نے 8189صفحات کیا صرف اس لیے برباد کیے تھے کہ مسلمانوں کو یہ بتایا جاسکے کہ اس ملک کے کسی بھی فیصلے پر مسلمانوں کا نام نہیں لکھا جاسکتا۔۔۔ ؟ کیا عقیدے اور مذہب کو بنیاد بنا کر جمہوریت کا مذاق نہیں اڑایاگیا۔۔۔ ؟ اوراس مذاق میں عدلیہ کے تین ستونوں میں سے ایک ستون کے طورپر اقلیت کی آواز بھی جان بوجھ کر شامل کی گئی کہ مستقبل کے مورخ یہ بتا سکیں کہ انصاف ملنے میں ایک مسلمان کا بھی ہاتھ رہا ہے۔ پانچ سو برس سے جو متازعہ زمین بابری مسجد کی شکل میں تھی، کورٹ نے اس کے بارے میں ایک لفظ نہیں کہا۔ یہ بھی نہیں کہ جو مورتیاں 1949میں وہاں رکھی گئیں، وہ وہاں کیسے آئیں ؟

مرکزی حکومت، عدلیہ، ریاستی حکومت کسی کو بھی مسلمانوں کے احساس و جذبات سے کویی مطلب نہیں، اسلئے اب جو فیصلہ ہوگا، وہ یکطرفہ ہوگا .

کھیل شروع ھوا تو سپریم کورٹ نے ہتھیار ڈال دیا.. کہا کہ آپ آپس میں فیصلہ کر لیجئے …فیصلہ مشکل لگا، تو سینٹر شیعہ وقف بورڈ کے چیر میں وسیم رضوی کی لاٹری نکل پڑی .. اوقاف کی جائداد میں خرد برد کے الزام میں گرفتاری کا وارنٹ جاری ہو چکا تھا .اب بابری مسجد کے جن سے امیدیں قایم تھیں .مودی یوگی آر ایس ایس کو بھی ایک ایسا بیان مسلمانوں کی طرف سے مطلوب تھا جو کورٹ کا راستہ آسان کر سکے .وسیم بنگلور آشرم میں شری روی شنکر سے مل آے .مندر کی حمایت میں ٹھوس بیان جاری ہو گیا .لیکن حکمت جانتی تھی کہ وسیم کے کہنے بھر سے کچھ نہیں ہوگا .پھر کیا کیا جائے ؟

آسمان سے مغل شہزادوں کی طرح پگڑی باندھے پرنس توسی اچانک آر ایس ایس کے لئے فرشتہ بن کر زمین پر اتر اے ..
اورنگزیب کے انتقال کے بعد آھستہ آھستہ مغل شہزادے اس تیزی سے غروب ہوئے کہ انگریزوں کو آسانی سے ہندوستان کا کھلونا ہاتھ آ گیا .آزادی کے بعد سے بابری مسجد کا پٹارا کھلا . لیکن نہ پرنس کے ماں باپ سامنے اہے نہ پرنس — بابری مسجد تنازعہ کا شکار رہی، پرنس طلسمی غار میں چھپے رہے .یہاں تک کہ بابری مسجد شہید ہو گی، پرنس باہر نہیں اہے ..مقدمہ چلتا رہا .فیصلہ آتا رہا، پرنس توسی سامنے نہیں اے .اب اچانک مغلوں والی پگڑی پہنے برآمد ہو گئے کہ میں مغل .پراپرٹی میری .فیصلہ میں کرونگا ..

فیصلہ جو بھی ہو لیکن اس حال میں شری شری روی شنکر، آرٹ آف لیونگ کے بانی کا سہ روزہ پروگرام یاد آتا ہے، جب پروگرام کے خاتمے کے بعد دلی کا وہ حصّہ کوڑے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گیا تھا …اب وہ مہربان ہیں تو آگے کیا کیا ہوگا، ابھی سے سوچ کر آپکو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے …

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مشرف عالم ذوقی

ڈاکٹر مشرف عالم ذوقی اردو کے معروف نقاد، ادیب اور فکشن نگار ہیں۔ موصوف کم و بیش تین درجن کتابوں کے مصنف ہیں۔

متعلقہ

Close