سیاستہندوستان

بابری مسجد معاملہ اور سیکولرزم کا تاج

ندیم عبد القدیر 

انگریزی میں ایک کہاوت ہے’’ You can’t have your cake and eat it too‘‘ مطلب’ ’یہ ممکن نہیں ہے کہ ،آپ اپنا کیک کھابھی لیں اوراسے صحیح سلامت بچا کر بھی رکھ لیں‘‘ ‘کچھ ایسی ہی کوشش ہماری سرکار ’سیکولرزم‘ نامی کیک کے ساتھ کرنا چاہتی ہے۔ وہ ہندو راشٹر کی آرزو مند بھی ہے لیکن ساتھ ہی سیکولرزم کے تاج سے بھی دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔

بابری مسجد معاملہ میں سپریم کورٹ نے ایک بار پھر گیند عدالت کے باہر پھینکنے کی کوشش کی تاکہ وہ اپنا دامن بچا سکے۔حالانکہ عدالت کے احاطۂ علم میں ہے کہ وہاں بابری مسجد موجود تھی،جسے دن دہاڑ ے ہندو انتہا پسندوں نے شہید کردیا اس کے باوجود عدالت یہ نہیں جانتی کہ انصاف کیسے کیا جائے ۔ عدالت اب تک یہ بھی نہیں پتہ لگا پائی کہ مسجد کو کس نے شہید کیا۔ عدالت اس بات سے واقفیت رکھتی ہے کہ 1949ء میں زبردستی گھس کر چند شرپسندوں نے وہاںمورتیاں رکھ دی تھیں اس کے باوجود عدالت یہ فیصلہ کرنے سے قاصر ہے کہ وہ جگہ مسجد ہے کہ مندر۔

سوال یہ ہےکہ ایک ایسے معاملے کو باہمی رضا مندی سے حل کرنے کا مشورہ کیوں دیا جارہا ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے باہمی رضا مندی سے حل نہیں ہوسکا ہے ؟ دراصل برہمنی مقتدرہ کا ارمان ہے کہ اس کے سینے پر ’سیکولرزم ‘ کے تمغوں میں کسی طرح کی کوئی کمی نہیں آئے اوروہ عین مسجد کی زمین پر مندر تعمیر کرنے میں کامیاب بھی ہوجائے۔ لیکن یہ ہوگا کیسے؟ اس کا آسان سا جواب یہ ہے کہ مسلمانوں کو اتنا مجبور کردیا جائے کہ وہ خود ہی مذکورہ جگہ ہندوؤں کے حوالے کردیں۔ اس سے سنگھ پریوار کا کام بھی بن جائے گا اور سیکولرزم کے دامن پر مذہبی تعصب اور ناانصافی کا کوئی داغِ ندامت بھی نہیں لگے گا۔

اسی زریں خیال کو ذہن میں رکھتے ہوئے سنگھ پریوار اور اس کا میڈیا مسلمانوں کو مشورہ دے رہا ہے کہ وہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کیلئے عدالت کے باہر ہی اس معاملہ کوحل کرلے ۔ جب بھی عدالت ، حکومت ، سنگھ پریوار یا کسی اور کی طرف سے یہ بات کہی جاتی ہے کہ بابری مسجد معاملہ کو عدالت کے باہر باہمی رضا مندی سے حل کرلیا جائے تو اس کا مطلب یہ قطعی نہیں ہوتا ہے کہ اس جگہ دوبارہ مسجد تعمیر کرکے وہ مسجد مسلمانوں کے حوالے کردی جائے بلکہ اس کا ایک ہی مطلب ہوتا ہے کہ مسلمان مذکورہ جگہ ’شرافت‘ کے ساتھ ہندوؤں کے حوالے کردیں۔ یہ نکتہ بھی غور کرنے کا ہے کہ’گفت و شنید ‘ سے معاملہ کو حل کرنے کیلئے سنگھ پریوار ہمہ وقت تیار رہتا ہے بلکہ وہ اسے عملی جامہ پہنانے کیلئے کوشاں رہتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہاسے معاملہ کی قانونی صورتحال کا مکمل ادراک ہے ۔ اسے خبر ہے کہ اگر عدالت عدل کا ذرا سا بھی پاس رکھتی ہے تو اس ’کیس‘ میں کوئی دم نہیں ہے، یہ جگہ مسلمانوں کی ہے ۔ اگر کسی طرح عدالت کو مجبور کیا جاتا ہے اور فیصلہ ہندوؤں کے حق میں دے کر وہاں رام کا ایک عالیشان مندرکا فیصلہ حاصل کرلیا جاتا ہے تو یہ باضابطہ طور پر مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کا آئینہ دار ہوگا۔یہ اس بات کی دلیل ہوگی ۔ ہندوستانی عدالتوں میں ہندو آستھا ،انصاف کے تمام تقاضوں سے بالاتر ہےاور اسے ثابت کرنے کیلئے کسی ثبوت ، دستاویز یا قانونی نکتہ کی ضرورت نہیں ہے ، صرف عقیدہ ہی کافی ہے۔ ان کی عدالتوں کا بھی شدھی کرن ہوچکا ہے ۔ عالمی سطح پر یہ پیغام ’ہندوستان ‘ کیلئے نیک شگون نہیں ہوگا۔’سیکولرزم‘ ،جسے ہماری حکومتیں اپنے ماتھے کا جھومر بنا کر اتراتی پھرتی ہیں، اس کےچھن جانے کا خطرہ بھی ہوگا۔ایسا کوئی بھی فیصلہ بین الاقوامی رسوائی کا باعث ہوسکتا ہے ، کیونکہ ساری دنیا نے اُس جگہ پر بابری مسجد دیکھی تھی پھر ساری دنیا نے وہاں بابری مسجد کو شہید ہوتے ہوئے بھی دیکھا۔ بابری مسجد کے انہدام کو تو غیرقانونی اورچند شر پسندوں کی شرارت کا عنوان دیا جاسکتا ہے لیکن عدالتوں کے کمروں سے اسی شرپسندی کو قانونی جامہ کیسے پہنایا جاسکتا ہے ؟

ان سارے پریشانیوں کا آسان حل یہ ہے کہ مسلمان خود یہ جگہ ہندوؤں کو دے دیں۔ اس سے سانپ بھی مر جائے گا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی۔ عدالتوں کوایک بہت بڑے آسیب زدہ معاملے سے بھی نجات مل جائے گی۔ سیکولرزم کا بھرم بھی قائم رہے گا بلکہ پہلے سےکہیں زیادہ توانا ہوجائے گا ۔ اس صورتحال میں مسلمانوں کا صرف نقصان ہی نقصان ہوگا۔باہمی رضا مندی میں یہ جگہ ہندوؤں کو سونپ دینے سے سنگھ پریوار اور برہمنی مقتدرہ کی اسلام کے تئیں نفرت اجاگر نہیں ہوگی۔ آنے والے وقت میں سنگھ پریوار یہ کہے گا کہ مسلمانوں نے تو خود وہ مسجد ہندوؤں کے حوالے کی، ہندوؤں نے چھینی نہیں ۔

مسلمانوں کورضا مند کرنے کیلئے اِن کے دلوں میں جان ، مال ، عزت و آبرو کا ڈر بٹھا نا ضروری ہے تاکہ مسلمانوںکو یہ محسوس ہونے لگے کہ بابری مسجد دے کر ہم امن و سکون حاصل کرسکتےہیں۔ وقفے وقفے سے ہونے والے فسادات سے اس سمت میں کام ہوتا رہتا ہے ۔

مسلمانوں کو رضا مند کرنے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ انہیںقانون سے ڈرایا جائے ، جیسا کہ سبرامنیم سوامی نے حال ہی میں کہا ہے کہ راجیہ سبھا میں اکثریت حاصل ہوتے ہی ہم ’رام مندر‘ کےلئے قانون بنالیں گے۔ اب ان سے یہ سوال کون کرے کہ جب یہ کام اتنی آسانی سے ہی ہو سکتا ہے تو مسلمانوں کو کیوں مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ راضی ہوجائیں؟ سیدھا سا معاملہ ہے ۔ قانون بنائیے اورقبضہ حاصل کرلیجئے(قانونی طور پر) ۔قانون بنانے میں اتنی ہچکچاہٹ کیوں ہے؟ اپنی اصل فطرت کودنیا کےسامنے ظاہر کیجئےاور عدالتوں کا بھی شدھی کرن کردیجئے۔

اس معاملہ کو اگر تکنیکی نظر سےدیکھیں تو اسد الدین اویسی کی بات بالکل صحیح نظر آتی ہے کہ یہ ایک ’ٹائٹل ‘ (جگہ کے مالکانہ حقوق) کا معاملہ ہے ۔ساری مورتیاں اس میں ’گھس پیٹھئے‘ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ سیدھی غنڈہ گردی ہے ۔جگہ کا مالک کوئی اور ہے اور اس زمین کو برہمنی مقتدرہ محض ’آستھا‘ کے نام پر ہتیا لینا چاہتا ہے ۔ قانون ثبوت چاہتا ہے ، آستھا نہیں ۔

بابری مسجد کی جگہ پر کوئی مندر موجود نہیں تھا ۔مندر کا کوئی ثبوت بھی نہیں ہے ۔ یہ مسجد 1528ء میں میر باقی نے تعمیر کرائی تھی ۔ اس کے بعد انگریزوں کے راج تک ، مذکورہ جگہ پر کسی بھی مندر ہونے کی کوئی بات کہیں سے نہیں اٹھی تھی۔ سب سے پہلے برٹش راج میں ایسی باتیں گردش کرنے لگیں، اور 1853ء میں اس معاملہ پر ہندو شدت پسندوں نے پہلا حملہ کیا تھا۔ گرونانک ، بابر کے ہم عصر ہیں۔ انہوں نے اپنی تحریر میں بابر کے حملوں پر سخت تنقید کی ہے ۔ ان کے گرنتھ میں ’بابروانی‘ بھی ہے جس میں انہوں نے بابر کے خلاف بہت ساری باتیں لکھیں ، لیکن اس میں بھی کہیں رام جنم بھومی کے مندر کو توڑکر بابری مسجد تعمیر کرنے کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔ بابری مسجد 1528ء میںتعمیر کی گئی ۔ 1631ء میں انتہائی معروف رام بھکت ’تلسی داس‘ نے ایودھیا میں ہی ’رام چرتر ‘ مانس لکھی جو کہ رام کی پوری زندگی پر مبنی ہے ۔ اس میں بھی کہیں ’ رام جنم بھومی ‘ کو مسمار کرکے اس جگہ پر بابری مسجد تعمیر کرنے کی بات نہیں ہے ۔ بابر نے خود اپنی زندگی کے بارے میں ’بابر نامہ‘ لکھا ، لیکن اس میں بھی کہیں بھی ایودھیا میں مندر توڑ کر بابری مسجد بنانے کا ذکر نہیں ہے۔
آخری بات اور سن لیجئے ، کروناندھی نے حال ہی میں کہا تھا کہ ’رام ،ایک من گھڑت کردار ہے‘ ۔ یوپی اے حکومت نے 2007ء میں سپریم کورٹ میں ’رام سیتو‘ معاملہ پر ایک حلف نامہ داخل کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ’ رام ‘ محض ایک خیالی کردارہے ، رام کا وجود تاریخ میں نہیں ہے ۔ کوئی تاریخ داں رام کے وجود کو ثابت نہیں کرسکا ہے ۔ ان سب کے باوجود سنگھ پریوار ’رام‘ کی جنم بھومی پر لڑ رہا ہےاور چاہتا ہے کہ مسلمان ’شرافت ‘ کے ساتھ اس جگہ سے دستبردار ہوجائےتاکہ وہ سیکولرزم کا کیک کھا بھی لیں اور اسے سلامت بھی رکھیں ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ندیم عبدالقدیر

فیچر ایڈیٹر (روزنامہ اردوٹائمز ، ممبئی)

متعلقہ

Close