سیاستہندوستان

بابری مسجد کے انہدام کا مقدمہ اور سنگھ پریوار

عبدالعزیز

سپریم کورٹ نے بابری مسجد منہدم کرنے والوں کی مجرمانہ سازش پر مقدمہ چلانے کا حکم دے کر سنگھ پریوار کے کرتوتوں کو پھر سے اجاگر کر دیا ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ ملزمین جس پریوار سے تعلق رکھتے ہیں ان کی بے حیائی اور بے شرمی اس قدر بڑھی ہوئی ہے کہ وہ عوام میں اسے اپنے لئے ذلت اور رسوائی سمجھنے کے بجائے باعث عزت سمجھتے ہیں ۔ وینے کٹیار نے کہاہے کہ رام مندر کیلئے جیل جانا پڑے تو اس سے بڑی خوشی اور مسرت کی بات اور کیا ہوگی۔ مرکزی وزیر برائے آبی وسائل اوما بھارتی نے کہا ہے کہ 6دسمبر 1992ء کو جو کچھ اجودھیا میں ہوا وہ کھلم کھلا ہوا، کوئی سازش کا معاملہ نہیں تھا۔ اس کیلئے اگر جیل جانا پڑا یا سزائے موت ہوئی تو وہ اپنے لئے باعث عزت و مسرت سمجھیں گی۔ اوما بھارتی کے وکیل عدالت میں جچی تلی بات کہنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اگر اوما بھارتی کی زبان استعمال کریں تو پھر ملزم کے جرم کا اقرار سمجھا جائے گا پھر آسانی سے ان کی سزا بھی طے کر دی جائے گی۔

  سنگھ پریوار کے بہت سے لیڈر اس معاملہ میں ملوث ہیں ۔ پارٹی کے سینئر لیڈر ایل کے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی سمیت 13 بی جے لیڈروں کے خلاف مجرمانہ سازش کا مقدمہ چلانے کا حکم سپریم کورٹ نے دیا ہے۔ بابری مسجد کے انہدام کو دستوری اور قانونی لحاظ سے بڑا جرم بتایا ہے اور کہا ہے کہ اس سے ملک کے سیکولر ڈھانے پر برا اثر مرتب ہوا ہے۔ اسے نہایت سنجیدگی سے لینا ہوگا۔

 فیصلہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لکھنؤ اور رائے بریلی کی عدالت میں اس معاملہ میں جو الگ الگ مقدمات چل رہے ہیں ان کو چار ہفتوں کے درمیان لکھنؤ بنچ کے تحت منتقل کر دیا جائے اور اس کی سماعت روزانہ کی جائے اور دو سال میں فیصلہ بھی کردیا جائے۔ یہ بھی کہا گیا کہ مقدمہ کی سماعت کرنے والے دو ججوں کے تبادلے بھی اس دوران نہیں کئے جائیں گے۔

 آر ایس ایس اور بی جے پی کے چھوٹے بڑے لیڈران بابری مسجد کی پانچ سو سالہ عمارت کو منہدم کرنے کو ایک تاریخ ساز کام سمجھتے ہیں ۔اس پریوار کے لوگ انٹرویو اور بیانات میں اعلانیہ کہتے ہیں کہ بابری مسجد کو منہدم کرکے انھیں فخر محسوس ہوا ہے اور ان کی آنے والی نسل بھی ان پر فخر کرے گی کہ ان کے باپ دادانے بابری مسجد کو دن دہاڑے ڈھایا ہے۔

 سنگھ پریوار والوں کیلئے بابری مسجد کی عمارت تو محض عمارت تھی، اسے عبادت گاہ یا اللہ کا گھر ہر گز تسلیم نہیں کرتے تھے۔ ان کی رام مندر تحریک سیاسی فائدہ اٹھانے کیلئے تھی اور انتقامی جذبہ بھی۔ اس مجرمانہ کام کیلئے آمادہ کیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ دن کی روشنی میں کیمرے کے سامنے وہ بابری مسجد کی عمارت کو ڈھٹائی اور بے حیائی کے ساتھ گرانے اور ڈھانے میں مصروف عمل تھے۔ مرکزی اور ریاست کی حکومتیں ان کی پشت پر تھیں ۔ نہ کسی چیز کا کھٹکا تھا اور نہ کسی کا ڈر اور خوف تھا۔ ایک سازش کے تحت مسجد کی عمارت زمیں بوس کر دی گئی۔

  بابری مسجد سانحہ کو آج 25سال ہونے کو آئے مگر مجرموں کو سزا نہیں ملی۔ اس میں حکومتوں کی کوتاہیوں کا بڑا دخل ہے۔ اب تو صورت حال بالکل بدل گئی۔ مسجد گرانے والوں کی حکومت مرکز میں بھی ہے اور ریاست میں بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملزمین کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ ان کو پھانسی بھی دے دی جائے تو ان کو خوشی ہوگی۔ اصل میں ان کو دونوں حکومتوں پر بھروسہ ہے اور سی بی آئی پر مکمل اعتماد ہے کہ وہ وہی کرے گی جو مرکزی حکومت کا اشارہ ہوگا۔

لالو پرساد یادو نے کہاہے کہ مودی جی ایل کے ایڈوانی اور مرلی منوہر جوشی کو صدارتی انتخاب کی دوڑ سے باہر رکھنے کیلئے یہ سب سی بی آئی کے ذریعہ کروا رہے ہیں ۔ اگر یہ بات سچ ثابت ہوئی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ صدارتی انتخاب کے بعد سی بی آئی اس کام میں لاپروائی برتے گی اور معاملہ پھر کھٹائی میں پڑسکتا ہے۔

 ملزموں یا مجرموں کو اگر دنیا میں کسی قسم کی سزا کسی وجہ سے نہ ملی تو دوسری دنیا میں تو انھیں سخت ترین سزا ضرور ملے گی۔ یہ مسلمانوں کو پورے طور پر یقین ہے۔ یہ بھی یقین ہے کہ ایڈوانی یا جوشی جو بھی پیش پیش تھے۔ وہ دنیا بھی ذلیل و خوار ہوکر مریں گے۔ اس کے ایک بڑے شاطر مجرم نرسمہا راؤ تھے، جو اس وقت ملک کے وزیر اعظم تھے۔ ان کو ذلیل و خوار ہوکر اس دنیا سے جانا پڑا۔ کہا جاتا ہے کہ اس قدر گھناؤنی اور مہلک بیماری میں مبتلا تھا کہ ان کی سڑی ہوئی لاش کو ان کے بیٹوں نے بھی ہاتھ دینا پسند نہیں کیا۔ ہریجنوں کو روپئے پیسے دے کر لاش جلانے کیلئے دے دیا۔

 فیض آباد ڈسٹرکٹ جج پانڈے جس نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے اشارے پر بابری مسجد کا تالا کھلوایا تھا اس کا بھی انجام برا ہوا۔ وہ برسوں بستر مرگ پر پڑا رہا اور سسکتے سسکتے دنیا سے رخصت ہوا۔

 مسلمانوں کا یہ پختہ عقیدہ اور ایمان ہے کہ برائی کا انجام برا ہوتا ہے اور مسجد جسے اللہ کا گھر کہتے ہیں ۔ اگر اسے کوئی گراتا ہے یا نقصان پہنچاتا ہے تو اسے ایک نہ ایک دن دردناک سزا سے دوچار ہونا پڑے گا۔ آج تحریک رام مندر کے سب سے بڑے سربراہ کا حال یہ ہے کہ ان کا چیلا بھی ان کی ذلت اور رسوائی کا سامان کر رہا ہے۔ یہ بھی ایک طرح کی دنیوی سزا ہے۔ ابھی اخروی سزا باقی ہے۔ جس نے بھی بابری مسجد کو دورسے یا قریب سے نشانہ بنایا ہے وہ اللہ کی نظر میں ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے نشانے پر ہے اللہ کی نگری میں دیر ضرور ہے مگر اندھیر نہیں ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close