سیاست

بتا ائے قائد یہ تیرا لہو ہے یا میرا لہو!

شہاب مرزا

زمین پر ٹپکتی ہر بوندپوچھ رہی تھی

بتا ائے قائد یہ تیرا لہو ہے یا میرا لہو

۲۰۱۴ کے بعد سے ملک میں مسلمانو ں کو اپنے وجود کے تحفظ کی فکر سب سے زیادہ لاحق ہوا۔ کیونکہ خود ساختہ ہندوتوادی طاقتیں اپنے ہندوتواد اور راشٹربھکتی کے زہریلے خنجر کی نوک کی دھار مسلمانو ں کی ہی گردنوں پر آزماتی آرہی ہے اور اب یہی ماحول امن کا مرکز سمجھے جانے والے شہر اورنگ آباد میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ۱۱ مئی کے غیر فرقہ وارانہ فساد کا شکار جواں سال حارث قادری اور غیر مسلم معمر جگن ناتھ کی موت اس بات پر مہر ثبت لگادی کہ ملک ترقی یافتہ اور مشہور شہر اورنگ آباد کو اپنے وجو دکی سلامتی کی خاطر شیوسینا اور بی جے پی تخت مشق بنارہی ہے۔ گذشتہ ۳۰ سالوں سے اورنگ آباد پر شیوسینا کی قیادت میں پارلیمنٹ اسمبلی اور میونسپل کارپوریشن پر حکومت جاری ہے لیکن ۲۰۱۴ کے انتخابات کے بعد ہندوتواد کی سب سے بڑی خودساختہ ٹھیکیدار بی جے پی نریندرمودی کا قبضہ ہوا اور ایسے حالات پیدا ہوئے کہ اگر مودی کو ووٹ نہیں دیا جاتا تو ہندوتو خطرے میں آجاتا تھا نتیجے میں ہندوتوا پر سوار ہو کر کامیابی کے قصیدے پڑھتی شیوسینا کو بھی بی جے پی کے نارواسلوک کے سبب اپنا وجود خطرے میں محسوس ہونے لگا ہے۔

گذشتہ میونسپل کارپوریشن انتخابات میں بی جے پی نے اتحادی پارٹی شیوسینا کی پیٹھ میں خنجر گھونپ کر شیوسینا کے مرکز اور ناک سمجھے جانے والے علاقہ گلمنڈی سے اس کا پتہ صاف کیا اور اسی سیاسی کھیل کے قائد تنوانی کو اس کے انعام میں بی جے پی کی صدارت کا تاج پہنایاگیا۔

اس حادثے سے دلبرداشتہ اپنے وجود بچانے میں لگ گئی مسلسل بی جے پی کے حملو ں کا جواب دینے کی غرض سے اپنے آپ کو شہر کے ہندئوں کا مسیحا ثابت کرنا شیوسینا کے لئے ضروری محسوس ہونے لگا ہے۔ اس لئے شہر میں ہندو مسلم بھائی چارے کے ماحول کو دائو پر لگائو اور ۱۱ مئی کی منحوس رات کو نوعمر معصوم محمد حارث قادری اور بے قصور معمر بزرگ جگن ناتھ کی جانو ں کی بلی دے کر اپنے وجود کو قائم رکھنے کی کوشش کی شیوسینا کو شہر کے ہندئوں کا مسیحا بنتا دیکھ کر بی جے پی بھی اپنے وجود کا لوہا منوانے کی غرض سے اور ہندوئوں کے مسیحائی کا پرچم شیوسینا کے ہاتھ سے چھیننے کی غرض سے تڑپ اٹھی۔ غرض کہ شیوسینا اور بی جے پی کے درمیان جاری ہندوتواد کے پرچم کو چھیننے کے مقابلے میں مسلمانوں کو زبردست نقصان اٹھانا پڑرہا ہے اپنے وجود کی خاطر خیریت منانے والے شہر کے مسلمانوں اور سبھی امن پسند شہریان کو اپنا وجود خطرے میں محسوس ہونے لگا ہے۔ یہ بے چینی ہنوزختم ہی نہیں ہوئی تھی کہ شہر میں سناتنوں کی گرفتاری نے بے چینی کی آگ میں انڈیلنے کا کام کیا ہے۔

کارپوریٹر سید متین کی ماب لنچنگ کا واقعہ بھی انہیں دنوں میں پیش آیا۔ جس پر امتیازجلیل کا بیان پولس انتظامیہ کے لئے لمحہ فکریہ ہوسکتا ہے انھو ں نے کہا کہ حال ہی میں ہوئی سناتن سنستھا کے کارکنوں کی گرفتاری سے بوکھلائی بی جے پی نے اپنی بوکھلاہٹ متین پر اتاردی اور شہر کی فرقہ پرست طاقتیں بقرعید کی خوشیوں میں زہر گھول سکتی ہے۔ خدانخواستہ عید کے روز شہر کے حالات بگڑے تو اس کی مکمل ذمہ داری پولیس انتظامیہ کی ہوگی۔ خدا خدا کرکے عید تو پرسکون گزری لیکن آئندہ ۱۳؍ تاریخ سے شروع ہونے والے گنپتی اور محرم کے فیسٹیول میں ممکنہ خطرح سے مسلمان اور شہر کے تمام امن پسند شہریان خوفزدہ ہے۔ کیونکہ ۱۱؍ مئی کے فساد سے لے کر اب تک شہر کی پر امن فضا پر آفتیں ہی آرہی ہیں۔ دو مہینے فسادات میں پکڑے گئے سیاسی لیڈروں اور نوجوانوں کی رہائی میں گذرگئے اس کے بعد میونسپل کارپوریشن میں کارپوریٹر سید متین کی پٹائی اور اب جمعہ کی رات بڈی لین علاقے میں شرپسندوں کاغنڈہ راج اسی بات کی تصدیق کرتا ہے۔

واضح رہے کہ شیوسینا کے ممبر آف پارلیمنٹ چندر کانت کھیرے نے خود ان تمام معاملوں میں پولیس کے کردار پر سوالیہ نشان کھڑا کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ کچرا نکاسی کے معاملے میں پولیس اس قدر مستعد ہوتی ہے کہ مٹمٹہ تک پورے ۵۰۰ پولیس پر مشتمل فورس کاروائی کرتا ہے لیکن فساد کے وقت آخر پولس کہاں غائب تھی۔ CCTVفوٹیج میں بھی کھیرے کے بیانات کے سبب مسلمانوں اور تمام امن پسند شہریان کا پولیس انتظامیہ سے بھروسہ اٹھتا نظر آرہا ہے۔ پورے شہر کے رعایا شیوسینا بی جے پی کے کھیل میں اپنے آپ کو بے یارو مددگار محسوس کررہی ہے۔

یہ بے یارومددگار رعایا اس سوال پر الجھی ہوئی ہے کہ فساد کی بلی چڑھے ہوئے بے قصور محمد حارث قادری اور جگن ناتھ رائو کے  مجرموں کے خلاف کیا کاروائی ہوئی کہ سوشل میڈیا میں وائرل ہوئے ویڈیوز جس میں فرقہ پرست ننگی تلوار میں آسمان میں لہرا رہے ہیں ان فسادیوں پر کیا کاروائی ہوئی۔ جب تک ان سوالوں کوا جواب نہیں ملتا یہ شہر آئندہ ۱۳؍تاریخ کے ممکنہ خطرح پر شدید خوفزدہ ہے۔ کیونکہ برسوں بعد گنپتی کے ساتھ محرم آرہے ہیں اور ۲۰۱۹ انتخابات کی ہولناکی شہریان پر سایے فگن ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close