سیاستمعاشیات

بدعنوانی کی حکمرانی

راحت علی صدیقی قاسمی

ذہنوں میں وہ واقعات ابھی تازہ ہیں، جب دہلی سے اننا ہزارے بدعنوانی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کررہے تھے، صحت کی پرواہ نہ جان کا خیال بس ملک کو  صاف وشفاف کرنے کی فکر ذہن پر سوار تھی، ہندوستان سے بدعنوانی کا خاتمہ کرنا چاہتے تھے، ملک میں ایسے نظام کا نفاذ چاہتے تھے، جس میں غریب مفلس و نادار بھوک سے دم نہ توڑے بیمار دوا کے بغیر تڑپ کر ہلاک نہ ہو، بے روزگاری نوجوان کو خودکشی پر مجبور نہ کرے، کسان قرض کے بوجھ تلے دب کر نہ مرے، اس فکر میں  انا ہزارے نے بھوک ہڑتال کی، پورا ملک ان کے ساتھ کھڑا ہوگیا، حکومت کی چولیں ہل گئیں، برسر اقتدار سیاسی رہنما گھٹنوں پر آگئے، انا ہزارے کی طرح بابا رام دیو نے بھی کوشش کی، اور اپنا مشن جاری کیا، یقینی طور پر یہ خدمات قابل ستائش محسوس ہو رہی تھیں، ان تحریکوں نے ملک کی فضاء کو تبدیل کردیا تھا، لوگوں کے ذہنوں سے کانگریس پارٹی کو ختم کردیا تھا، انہیں احساس ہوگیا، کرپشن کے خاتمہ کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی موزوں ہے، لہذا اس کا انتخاب کیا جائے، اور سکون واطمینان کی زندگی بسر کی جائے۔

اچھے دنوں کا نعرہ دے کر بھارتیہ جنتا پارٹی نے ان خیالات کو پختہ کردیا تھا، لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات راسخ ہوگئ کہ ہندوستان کے مقدر کا ستارہ اسی وقت بلند ہو سکتا ہے، جب بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکمرانی ہو، چنانچہ 2014 کا اسمبلی انتخاب تاریخی ثابت ہوا، اور پورا ملک زعفرانی ہوگیا، لوگ خوابوں کی تعبیر ڈھونڈنے کی فکر میں لگے رہے، وقت کا پہیہ گھومتا رہا، آنکھیں خوابوں کی تعبیر کے انتظار میں پتھرا گئیں، اچھے دنوں کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا،اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لئے وزیر اعظم نے قربانی چاہی لوگوں نے صبر وضبط کے ساتھ قربانی پیش کی، پورا ملک قطاروں میں لگا رہا، ڈولیاں ارتھیوں میں تبدیل ہوئیں، خوشی کا ماحول ماتم میں بدلا لیکن عوام نے صبر و ضبط کا دامن نہیں چھوڑا، تقریباً 67لوگ دنیا سے رخصت ہوئے، ملک کے اکثر باشندے تکلیف سے دوچار ہوئے، لیکن بدعنوانی کا خاتمہ اور اچھے دنوں کی آمد حقیقت کا جامہ نہ پہن سکی، البتہ ٹیکس ادا کرنے والوں میں کچھ اضافہ ضرور ہوا، لیکن فوائد و نقصانات کی تفصیلات نے اس بات کو ثابت کردیا کہ اچھے دنوں کا ابھی اور انتظار کیجئے-

لیکن کچھ ایسے بھی واقعات رونما ہوئے ہیں، جنہوں نے اچھے دنوں کا نشہ ہی ذہنوں سے اتار دیا  ہے، ملک کی معاشی صورتحال کی فکر دامن گیر ہے، بیکنگ نظام کے تحفظ پر شکوک و شبہات کے جالے تن چکے ہیں، لوگ اپنے مال کے تحفظ کے لئے فکر مند ہیں، ہندوستان کے سرمایہ کار بینکوں سے دولت لوٹ کر بھاگ رہے ہیں، اور حکومت تماشائی بنی ہوئی ہے، خاطر خواہ نتائج نظر نہیں آرہے ہیں، وجے مالیہ اس سے پہلے 9 ہزار کروڑ کے قرض کے باوجود فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، اور آج تک نہ وہ ملک آئے ہیں، اور نہ ہی ایک پھوٹی کوڑی واپس کی ہے، خیر یہ قصہ تو پرانا ہو چکا، اب تو ایک ایسا قصہ زبانوں پر ہے جو عقل کو حیرت میں ڈال دیتا ہے، جہاں چور یہ کہ رہا کہ تم لوگوں نے میری بہت بے عزتی کردی اب میں کچھ نہیں دونگا، جی ہاں آپ سمجھ گئے ہوں گے، نیرو مودی کی بات ہورہی ہے، ساڑھے گیارہ ہزار کروڑ کا گھوٹالہ کرنے کے بعد ملک چھوڑ چکا ہے، واپس نہ کرنے کی دھمکی دے رہا ہے، ملک میں چہ میگوئیاں ہورہی ہیں، لیکن کوئی ایسا شخص نہیں ہے، جو حکومت سے سوال کرے یہ سب کیسے ہوا؟ نیرو مودی ملک سے باہر کیسے گیا ؟ کیسے اس کا پاسپورٹ تیار ہوا؟ اتنے مضبوط انتظامات کے درمیان وہ کیسے فرار ہو گیا؟ حالانکہ اس سے قبل مالیہ ایسا کرچکا تھا، پھر دوبارہ آپ کو مات کیسے ہوئ؟ آپ کالادھن واپسی کے لئے بے گناہ ہندوستانیوں کو قطار میں لگا دیتے ہیں، لیکن ایک دھوکہ باز آپ کے قبضہ نہیں آتا ایسا کیوں ؟کیا ملک سے بدعنوانی ختم کرنے کی باتیں صرف نعرہ ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے، صورت حال اسی جانب مشیر ہے، ہر دن گھوٹالہ اور گھپلے کی خبریں آرہی ہیں، بینکوں سے خطیر رقم لے کر لوگ دینے کا نام نہیں لیتے، اور غریب  کو اس کے مال کی قیمت بھی میسر نہیں آتی، حالانکہ کرپشن کا عالم یہ ہے کہ مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے آر بی آئی کی جانب سے بیان دیا ہے کہ ملک میں 21 دسمبر 2017 تک 25600 معاملات دھوکہ بازی سے متعلق سامنے آچکے ہیں۔

وزیرآعظم ملک کو کیش لیس کرنے کی بات کر رہے تھے، ڈیجٹل انڈیا کا خواب دکھا رہے، لیکن صورت حال یہ ہوچکی ہے کہ تمام بینک کیش لیس ہوئے جارہے ہیں، دھوکہ بازوں نے دولت کو اپنے باپ کا مال سمجھ کر ہڑپنا شروع کردیا ہے، او بی سی کے 390 کروڑ ڈوب گئے، دہلی میں زیورات کا کام کرنے والی ایک کمپنی نے بینک آف مہاراشٹر کے ساڑھے نو کروڑ غبن کر لئے ہیں، بنگلور میں 2012 سے 2016 تک 227 بلین روپے کا نقصان ہوا ہے، روپے لوگوں کے پاس ہیں مگر وہ قرض ادا نہیں کرتے، دوسری طرف غریبوں کی صورت حال یہ ہیکہ انہیں معمولی رقم  کے لئے بینک کےچکر کاٹنے پڑتے ہیں بینک سے وابستہ لوگوں کے طعنہ سننے پڑتے ہیں، رشوت دینی پڑتی ہے، جب جاکر انہیں کچھ پیسے ملتے ہیں، بسا اوقات وہ اس کی ادائیگی کے لئے اپنی جان بھی قربان کریدتے ہیں، لیکن ان پر اعتماد نہیں کیا جاتا، ان کی تکلیف کو نہیں سمجھا جاتا، یہ صورت حال بدعنوانی کی حکمرانی کا منظر دکھا رہی ہے، اعلان کررہی ہے ملک کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے، حالانکہ حکومت 50 کروڑ سے زیادہ قرض کی جانچ کی تیاری میں ہے، اور دھوکہ بازی کا شک ہوتے ہی اس معاملہ کو سی بی آئی کے سپرد کرنے کا من بنا چکی ہے، لیکن کیا اس کے ذریعہ نیرو مودی کو واپس لایا جا سکے گا؟ جو امریکہ میں اپنی جان بچانے کے لئے قانونی چارہ جوئی کررہا ہے، اور اپنی کمپنی کے دیوالیہ ہونے کی گہار لگا رہا ہے، یا وجے مالیہ کو لایا جا سکے گا؟ جو مزہ کی زندگی گذار رہا ہے، کیا یہ ممکن ہے؟ کیا ایسا ہوگا؟ اورکب ہوگا؟ کب ملک بدعنوانی سے پاک ہوگا؟ کب ہندوستان کی صورت حال بہتر ہوگی؟

سوالات ذہن کوبیچین کر رہے ہیں، برسر اقتدار جماعت بھی صورت حال سے بخوبی واقف ہے، اس لئے وکاس کا دامن چھوڑ کر وہ بھی اس مرتبہ تفریق کے رتھ پر سوار ہوگئ ہے، دیکھیے مستقبل میں کیا ہوگا، بدعنوانی ملک میں کیا گل کھلائے گی، کیا صورت حال ہوگی، سب ابھی مستقبل کی قبر میں دفن ہے، وقت کا طوفان مٹی اڑائیگا، اور حقائق کو باہر نکالے گا، لیکن بات جہاں سے شروع ہوئ تھی، اس سمت میں اگر سوچا جائے تو تکلیف ہوتی ہے، گذشتہ اسمبلی انتخاب سے قبل بھی ملک کی صورت حال اچھی نہیں تھی، مہنگائی بدعنوانی، کالادھن یہ سب مسائل تھے، ان کے خلاف تحریکیں چل رہی تھیں، مخالفت ہو رہی تھی، حکومت کو کٹگھرے میں کھڑا کیا جارہا تھا، اس سال بھی صورت حال اچھی نہیں ہے، اسمبلی انتخاب سر پر ہے، کوئی تحریک بدعنوانی کی مخالفت میں نہیں ہے، کوئی آواز جرائم کے خلاف بلند نہیں ہورہی ہے، فرقہ پرستی کی مخالفت کرتا ہوا کوئی نظر نہیں آرہا ہے، حالانکہ بدعنوانی کی خبریں اخبار کی زینت بن رہی ہیں، لوگوں کو تکلیف پہونچا رہی ہیں پھر مصلحین میں سناٹا کیوں پسرا پڑا ہے، غور کیجئے، جواب آپ کے ذہن پر عیاں ہوگا، اور احساس ہوگا آخر یہ طرز عمل کیوں ؟ مگر اس بات کا خیال رکھئے ہم میں سے ہر ایک کو ملک کی فکر کرنی ہوگی، فرقہ پرستی شدت پسندی کو بالائے طاق رکھ کر حالات کی اصلاح کے لئے ملک کی ترقی کے لئے عام آدمی سے لے کر وزیرآعظم تک ہر شخص کو ملک کی ترقی کے لئے اپنا صد فی صد عطا کرنا ہوگا، اگر ایسا نہیں ہوا، تو کرسی پر بیٹھنے والوں کے نام بدلتے رہیں، برسر اقتدار جماعتوں کے جھنڈے تبدیل ہوتے رہیں گے، حکمراں بدعنوانی ہوگی، اور ملک ایسی صورت حال سے دوچار ہوگا، جس کا تصور بھی ہراساں کرنے والا ہے، موجودہ حالات کو اس کا پیش خیمہ سمجھ لیجئے، اور ہوش کے ناخن لے لیجیے تاکہ ملک کی صورت حال بہتر ہو سکے تباہی سے بچا جاسکے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close