سیاست

برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر

منصورقاسمی

اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کی تازہ رپورٹ ہے ’’ہندوستان میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو مذہبی بنیادوں پر ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ان کی حالت ابتر ہے، وہ کئی طرح کی مشکلات سے دوچار ہیں، انہیں تحفظ اور بنیادی حقوق فراہم نہیں کئے جا رہے ہیں۔ کونسل کی سربراہ مشل باچلیٹ کہتی ہیں : ہندوستان میں سخت گیر سیاسی ایجنڈے کے باعث کمزور طبقات خصوصاًمسلمان نشانے پر ہیں گرچہ دلت اور قبائل بھی اس میں شامل ہیں ؛ یہاں عدم مساوات، انتہا پسندی، لسانیت پرستی اور ذات و پات کے مسائل میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اس رپورٹ کو حکومت ہندمسترد کرکے اپنی خفت مٹانے کی ضرورناجائز کوشش کررہی ہے تاہم دنیا کی آنکھیں سب دیکھ رہی ہیں۔

   گزشتہ ۱۴؍ فروری کو پلوامہ میں انڈین فورسزپر دہشت گردانہ حملہ ہوا جس میں ۴۲ سے زائد فوجی جوان مارے گئے، اس حملے کی ملکی اور عالمی پیمانے پر بھرپور مذمت کی گئی، ہندوستانی مسلمانوں نے بھی وطن پرستی کا ثبوت دیتے ہوئے جتنی شدت سے اس حملے کی مذمت کی اور مظاہرے کئے اس کی مثال آپ ہے ؛اس حملے کی ذمہ داری جیش محمد نے لی ہے، حکومت ہند پاکستان کو مجرم قرار دیتی ہے، جب کہ بعض اہل نظر کا خیال ہے کہ یہ ایک سیاسی کھیل ہے، جس کا تعلق عنقریب ہونے والالوک سبھا انتخاب سے ہے۔ اس حملے کے  فوراً بعد عموماً مسلمانوں پر اور خصوصاً کشمیریوں پربرق سی گر گئی ؛بھگوا دھاری غنڈوں نے مذہب کے نام پر غنڈہ گردی شروع کردی، جموں میں مسلمانوں کو ہراساں کرنے لگے، ان کے املاک نذر آتش کرنے لگے، چن چن کر ان کی دکانوں اور گاڑیوں میں آگ لگانے لگے، ایسا لگ رہا تھا کہ بلوائیوں کو فری ہینڈ دے دی گیا ہے جبکہ خفیہ ایجنسیوں نے بروقت اطلاع دے دی تھی کہ جموں کے حالات تشویسناک ہیں، تشدد کا خدشہ ہے لیکن انتظامیہ نے کسی حساس مقامات پر حفاظتی انتظام نہیں کیا ؛ گورنر ستیہ پال اور مرکزی انتظامیہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہے، جس طرح جموں میں مظاہرے ہورہے تھے، اسی طرح اگرکشمیر میں مظاہرے ہوتے تو وہاں بے دریغ پیلٹ اور بیلٹ کا استعمال ہوتا مگر جموں میں دندناتے شدت پسند بھگوائوں پر کوئی پیلٹ اوربیلٹ نہیں چلا۔ پلوامہ حملہ کا اثرصرف جموں و کشمیر تک محدود نہیں رہا بلکہ ملک کے دیگر صوبوں میں رہ رہے کشمیری طلباء  و غرباء پر راست پڑا۔ چھتیس گڑھ کے رائے پور میں زیر تعلیم چار کشمیری طلباء کو تشدد کا نشانہ بنا کر زخمی کیا گیا،ہریانہ اور دہرہ دون میں میں طلباء کو زد و کوب کیا گیا، دہرہ دون میں یونیورسیٹی انتظامیہ نے تحفظ دینے کے بجائے ہوسٹل ہی خالی کرنے کا فرمان سنا دیا، اس کے بعد دیوبند کے بھگوا دہشت گردوں نے دھمکی دے ڈالی کہ دو دن کے اندر دارالعلوم سے کشمیری طلباء کو نکال دیا جائے ورنہ انجام برا ہوگا !اور اب اس نفرت کی آگ کی لپیٹ میں لکھنئو میں خشک میوہ جات فروش دو کشمیری غریب آ گئے، یہ غریبی سے لڑنے کے لئے باہر نکلے تھے لیکن انہوں نے یہ نہیں سوچاکہ اس نیو انڈیا میں وحشی اور دندوں کی تعداد بڑھ گئی ہے، جو کبھی بھی، کہیں بھی، کسی کو بھی لقمہ ء تر سمجھ کر نگلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وائرل ویڈیو میں سبھوں نے دیکھا کہ بجرنگ دل، اوروشو ہندو دل  کے دہشت گرد کس بے رحمی سے کشمیری غریبوں کو مار رہے ہیں، یہ غریب بچاؤ بچاؤ چلا رہے ہیں،  بزدلوں کی ایک بھیڑکھڑی یہ تماشہ دیکھ رہی ہے مگر کسی کوروکنے کی ہمت نہیں  ہو رہی ہے، بھلا ہو اس نوجوان کا جس نے تنہا  روکنے جرأت کی اور ان حیوانوں کو روکا، بمشل یہ لوگ رکے مگر ان کشمیریوں سے آئی ڈی پروف مانگنے لگے، جیسے یہی لوگ قانون کے رکھوالے ہوں۔

    جس دن ان دو کشمیریوں پر حملے ہوئے اسی دن مظفر نگر کے کمپنی باغ میں لائیو نیوز چینل کے لئے شو کی ریکارڈنگ کے دوران بی جے پی اور شیو سینا کے اندھ بھکتوں نے محمد عدنان پرمحض اس لئے حملہ بول دیا کہ وہ بے روزگاری، کسان کی خودکشی اورلاء اینڈ آرڈر کے حوالے سے مودی حکومت پر تنقید کر رہا تھا، انٹرویو لینے والے صحافی نریندر پرتاپ نے کہا : حکومت کے خلاف کوئی کچھ کہتا تو یہ لوگ نریندر مودی اور بھارت ماتا کی جے کے نعرے لگاتے لیکن جب اس خاص شخص یعنی مسلمان کو دیکھا تو ان لوگوں نے اس پر اپنا غصہ نکال دیا۔ عدنان کا کہنا ہے : وہ لوگ مجھے دہشت گرد اور حکومت کے خلاف ہو،، کہہ کر مارنے لگے، عدنان اتنا سہما ہوا تھا کہ مجرمین کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے سے بھی گھبرا رہا تھا کیونکہ بی جے پی اور شیو سینا کے یہ غنڈے عدنان کے تھانہ پہنچنے سے پہلے ہی وہاں پہنچ کرآرام سے چائے نوشی کر رہے تھے۔ سوال یہ ہے کہ ان موالیوں کو اتنا حوصلہ کہاں سے مل رہا ہے کہ کسی کو بھی دہشت گرد گردان دیتے ہیں، کسی پر بھی حملہ کردیتے ہیں، کسی کی بھی جان لے لیتے ہیں ؟جواب آپ کو یقیناً معلوم ہوگا اگر نہیں تو ۲۰۱۴ کے بعد کے نیو انڈیا کا جائزہ لے لیجئے، جواب مل جائے گا۔

     لکھنئو کے معاملے میں اچھی بات یہ رہی کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے لے کر ہرشخص نے کھل کر مذمت کی، اور سبھوں نے ان مظلوم کشمیریوں کی حمایت کی، وزیر اعظم نے اتر پردیس سرکار کو ہدایت دی کہ کشمیریو ں پر حملہ کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت قدم اٹھائیں، وزیر داخلہ نے ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے سبھی ریاست اور مرکز کے انتظام ریاستی حکومت سے کہا :کہ وہ جموں و کشمیر کے لوگوں کی سلامتی یقینی بنائیں !چنانچہ حسن گنج پولیس اسٹیشن میں قانون تعزیرات ہند کی مختلف دفعات بشمول ۱۵۳ اور ۳۰۷ کے تحت مقدمہ درج کر کے سب سے اہم غنڈہ ہمانشو اوستھی اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا ہے، لیکن صرف ہمانشو کو سلاخوں کے پیچھے دھکیل دینے سے مسلمانوں اور کشمیریوں کے خلاف نفرت کی جو ایک زہر آلود فضا بن گئی ہے، وہ ختم نہیں ہو سکتی، اس کے لئے ضروری ہے کہ شر پسند عناصر جودیش بھکتی کے نام پر دہشت پھیلا رہیں ان کی سرکوبی کی جائے ؛انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کڑی سے کڑی سزا دے، اگر مظلوم کو انصاف نہیں ملے گا تو بعید نہیں ہے کہ اس کے سینے میں جب بدلے کی آگ بھڑکے گی تو وہ شعلہ ء جوالہ بن کر پورا شہر جلا ڈالے گا، اس وقت لوگ اسے دہشت گرد  اور مجرم تو ضرورکہیں گے مگر جرم کی دنیا میں کس نے اس کو جانے پر مجبور کیا ا س پر گفتگو نہیں کریں گے۔ یاد رکھیں ! ماں کے پیٹ سے کوئی مجرم پیدا نہیں ہوتا ہے، کوئی دہشت گرد جنم نہیں لیتا ہے، کوئی نکسلائٹ پیدا نہیں ہوتا ہے بلکہ، اس کو غلط راہ میں ڈالنے والا کبھی تعصب زدہ معاشرہ ہوتا ہے اور کبھی قانون کے رکھوالے۔ جن کی ماؤں بہنوں کی عزت لوٹی گئی، جن کے اپنے بجرنگ دل، آر ایس ایس  اور گئو راکشوں کے ہاتھوں مارے گئے، جن کے اقرباء پولیسیا ظلم و تشدد میں مارے گئے، جیسا کہ ضلع سیتا مڑھی بہار کے محمد تسلیم اور غفران کو معمولی چوری کے الزام میں تھرڈ ڈگری ٹارچر کر کے پولیس نے جان لے لی ؛جن بے گناہوں کو گولیوں سے اڑا دیا گیا اگر ان کو انصاف نہیں ملے گا تو پھر ان سے دیش بھکت اور قانون کے پاسدار بننے کی امید رکھنا سراسر بے انصافی ہے۔ آج کہیں بھی کوئی بھی حادثہ ہو اس کا سیدھا ذمہ دار مسلمانوں کا قرار دیا جاتا ہے ؛مسلمان اپنی شناخت کے ساتھ ٹرین یا بس میں سفر کرتے ہیں توبھگوائی انہیں دیش دروہی اور آتنکوادی کہہ کر چھیڑتے ہیں، رد عمل پر وہ موب لنچنگ کا شکار ہو جاتا ہے۔ آخر مسلمان جس نے دیش کی آزادی میں اپنا خون بہایا ہے، اپنوں کو گنوایا ہے، کب تک اپنی جان و مال کی امان چاہتے رہیں گے، کب تک خوف و وحشت میں جیتے رہیں گے ؟ ایمنسٹی انڈیا جس نے ہیٹ کرائم میں اتر پردیس کو نمبر۱، گجرات کو ۲، راجستھان کو ۳، تمل ناڈو کو ۴ اور بہار کو ۵ویں نمبر پر رکھا ہے اور اقوام متحدہ برائے انسانی حقوق نے جو آیئنہ دکھایا ہے، وہ بالکل صاف ستھرا ہے، حکومت ہند کو چاہئے کہ اس آیئنہ کو توڑنے کے بجائے اپنے دل، دماغ اور اپنی آنکھوں کو صاف کرے !

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

منصور عالم قاسمی 

مدیر اعزازی بصیرت میڈیا گروپ 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close