سیاست

بلندشہر میں جو ہورہا ہے، وہ چوہے بلّی کا کھیل ہے

حفیظ نعمانی

بلندشہر کے قصبہ سیانہ میں تین دسمبر سے اب تک جو کچھ ہورہا ہے وہ وزیراعلیٰ کی ہدایات کے دائرہ میں ہورہا ہے۔ یوگیش راج اور شیکھر اگروال دونوں کو چاہے بجرنگ دل کا کہا جائے یا بی جے پی کا بہرحال دونوں آر ایس ایس کے پروردہ ہیں اور جہاں ہندو مسلمان دونوں زد پر ہوں وہاں ہندوستان میں کون سی حکومت ہے جو انصاف کی خاطر مسلمانوں کو چھوڑکر ہندو کے گلے میں پھندہ ڈال دے گی؟

یہ بات کتنی صاف اور واضح ہے کہ ایک سینئر انسپکٹر سبودھ کمار کے اوپر ہندوئوں کی بھیڑ حملہ کرتی ہے۔ وہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں تو جواب میں ان کو ہی گولی ماردی جاتی ہے۔ یہ حادثہ جس میں ایک پولیس انسپکٹر زخمی ہوکر گرپڑے ایسا تھا کہ ہزار دو ہزار کا مجمع بھی ڈرکر بھاگ جاتا کہ یہ کیا ہوگیا؟ اس کے بجائے ہوتا یہ ہے کہ انسپکٹر کا ڈرائیور جب اپنے زخمی افسر کو اٹھاکر گاڑی میں ڈال کر اسپتال لے جانا چاہتا تھا تو وہی قاتل مجمع اس پر ٹوٹ پڑتا ہے اور ڈرائیور اپنی جان بچانے کیلئے اپنے افسر کو زخمی حالت میں چھوڑکر بھاگ جاتا ہے۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اگر ڈرائیور یا دوسرے پولیس والے مقابلہ کرتے تو دو چار اور مار دیئے جاتے۔

یہ وہ واردات ہے جسے وزیراعلیٰ نے حادثہ کہا ہے اور گودی میڈیا نے دو گھنٹے تک اور بعض نے دن بھر یہی بتایا کہ پتھرائو میں انسپکٹر کے ماتھے پر پتھر لگا اور وہ مرگئے اور ہم سوچتے ہی رہے اتنی طاقت سے پتھر باز تو کشمیر میں ہوتے ہیں جنہیں مسلمان بتایا جاتا ہے۔ یہاں کون آگیا جس کے پتھر نے ایک پولیس انسپکٹر کی جان لے لی؟ اس دل دہلادینے والے واقعہ کو اسی طرح دیکھ کر ملک کے سو افسروں کے قریب جو حال میں ہی ریٹائر ہوئے ہیں انہوں نے وزیراعلیٰ کو کھلا خط لکھا ہے اور انہوں نے اس رویہ پر انتہائی دکھ کا اظہار کیا ہے کہ وزیراعلیٰ گائے کے مارنے کو زیادہ بڑا مسئلہ قرار دے رہے ہیں۔ دو دن پہلے ہی یہ بات افسروں میں آئی تھی کہ وہ نیل گائے کا گوشت بھی ہوسکتا ہے اس لئے کہ نیل گایوں کا جھنڈ جس کھیت کے اندر گھس جاتا ہے اسے صاف کردیتا ہے۔

وزیراعلیٰ شکاری نہیں ہیں ہم نے جب اجازت تھی تو برسوں شکار کھیلا ہے ہمیں وہ زمانہ بھی یاد ہے کہ اچھے شکاری نیل گائے کو نہیں مارتے تھے۔ اگر مسلمانوں کے گائوں سے گذر ہوتا تھا تو وہ خوشامد کرتے تھے کہ ایک نیل گائے ماردو تاکہ ہم لوگ گوشت کھالیں اور ہندوئوں کے گائوں سے گذرتے تھے تو وہ کارتوس دیتے تھے کہ ہمارے ساتھ چلئے اور دوچار نیل گائے ماردیجئے انہوں نے کھیتی برباد کرڈالی ہے۔ ہمیں وہ زمانہ بھی یاد ہے کہ حکومت نے اسے نیل گھوڑا قرار دے کر اس کا شکار عام کردیا تھا۔ یہ بھی دیکھا ہے کہ حکومت نے شکاریوں کی ٹیم کرایہ پر لی تھی کہ ان جنگلی جانوروں کو مارو جو کھیت کے کھیت صاف کئے دے رہے ہیں۔ اور پہلے کیا کیا ہوتا تھا اس کے ذکر سے کیا فائدہ۔ اب بھی کسان ہندو ہو یا مسلمان وہ اسے جنگلی جانور سمجھتے ہیں۔ سیانہ کے معاملہ میں جن چار مسلمانوں کو گرفتار کیا تھا ان کو رہا کرانے کی باتیں ہورہی ہیں کیونکہ ان کے خلاف ثبوت نہیں ملے اور دوسرے تین گرفتار کرلئے ہیں جن کے خلاف ثبوت ملے اور ثبوت یہ ہیں کہ ندیم کے پاس لائسنسی بندوق ہے۔ حیرت ہے کہ ان پولیس والوں کو نہیں معلوم کہ جس کے پاس لائسنس کی بندوق ہوتی ہے وہ بزدل ہوجاتا ہے اسے ذرا ذراسی بات پر فکر ہوتی ہے کہ لائسنس کینسل نہ ہوجائے جو انتہائی بے عزتی کی بات ہوتی ہے۔ اس لئے ندیم ہو یا کوئی اور وہ گائے کو گولی مارنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے اور گائے کو کوئی کیوں گولی مارے گا جو بلانے سے آپ کے پاس آجائے گی۔ اگر پولیس ان تینوں کو ہی یوگی مہاراج کے دل کی ٹھنڈک کے لئے بند کرانا چاہتی ہے تو بند کرادے مگر اس فساد کے ہیرو بجرنگ دل کے یوگیش راج اور شیکھر اگروال کو تو گرفتار کرے۔ بار بار یہ سننے میں آتا ہے کہ ان کو اس لئے گرفتار نہیں کیا جارہا ہے کہ ان کے خلاف ثبوت نہیں ہیں۔ یہ کوئی معمولی بات ہے کہ انسپکٹر سبودھ کمار کا ریوالور اور موبائل پولیس اب تک برآمد نہیں کرپائی۔ اور ان دونوں چیزوں کا پتہ اس وقت تک نہیں چلے گا جب تک یہ دونوں گرفتار نہیں ہوں گے ان کو ہر وہ نیتا جو آر ایس ایس کا ہے وہ اپنے گھر میں معزز مہمان کی طرح رکھے گا۔

84  افسروں کو اور انسپکٹر کی بیوہ کو اس کی فکر ہے کہ وزیراعلیٰ ان کے قاتلوں کو گرفتار کرانے کی کوشش کے بجائے اس گائے کے قاتلوں کو تلاش کرانے پر سارا زور دے رہے ہیں جس کے بارے میں 18  دن ہونے کے باوجود یہ نہیں معلوم ہوسکا کہ وہ گوشت بھینس کا تھا بیل کا تھا یا نیل گائے کا اور بقول تحصیلدار اسے کھیتوں میں سجایا کیوں تھا اور وہ 48  گھنٹے سے زیادہ باسی تھا۔ کوئی جانور جو چوری سے کاٹا جائے اس کی ہر چیز کو چھپایا جاتا ہے۔ اگر اس کی نمائش کی گئی ہے تو یقین کرنا چاہئے کہ یہ یوگیش راج اور شیکھر کا کھیل ہے۔

ان دنوں میں کسی نے تھانے میں آکر رپورٹ نہیں لکھائی کہ اس کی گائے چوری ہوگئی ہے اس کی نہ تاریخ معلوم نہ عمر نہ رنگ اور نہ وزن بس ایک ہوا ہے۔ اور اگر گہرائی میں جایا جائے تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حاصل یہ نکلے کہ صرف اس انسپکٹر کو جو سنگھ پریوار کی لسٹ پر تھا اسے راستے سے ہٹانے کے لئے تحصیلدار کے بیان کے مطابق سجایا گیا تھا تاکہ اسے دکھاکر شور مچایا جائے اور موقع ایسا پیدا کیا جائے کہ بھیڑ میں انسپکٹر کے گولی ماری جاسکے۔ لیکن یہ نتیجہ اس وقت نکلے گا جب وزیراعلیٰ بھی اسے تسلیم کرلیں گے جو ہر جاندار اور دنیا کی ہر چیز کے بنانے والے پروردگار نے فرمایا ہے کہ انسان اشرف المخلوقات ہے۔ یعنی شاہکار ہے وہ ہندو ہو یا مسلمان سکھ ہو یا عیسائی مرد ہو یا عورت وہ دنیا کی ہر چیز حد یہ کہ چاند اور سورج سے بھی زیادہ قابل فخر اور افضل ہے اب جو ایک گمنام گائے یا جانور کے گوشت سے بھی اسے گیا گذرا سمجھے تو پھر نتیجہ بھی ایسا ہی آئے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close