سیاستہندوستان

بنانے والے جب بگاڑنے والے بن جائیں تو؟

حفیظ نعمانی

ہم بھی ان خوش نصیبوں میں ہیں جن کے گھر پروردگار نے دو چار سے لے کر دو چار درجن تک ملازم، معاون اور مددگار کے طور پر رکھے اور ساٹھ سے زیادہ برسوں میں یہ دیکھا کہ اگر ہم نے ان ملازموں سے کوئی غلط کام نہیں کرایا تو اُن کی ہمت بھی نہیں ہوئی کہ وہ کچھ غلط کریں اور بعض دوستوں نے جب اپنے ملازموں کی شکایت کی تو تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ مالک نے ان سے غلط کام کرائے تو انہوں نے خود بھی غلط کرنے کی ہمت کی۔

مرکزی حکومت کی قیادت کرتے ہوئے وزیراعظم مودی کو پانچ سال ہونے والے ہیں۔ ان سے پہلے ڈاکٹر منموہن سنگھ دس برس وزیراعظم رہے۔ دونوں کا موازنہ اگر کیا جائے تو معلوم ہوجائے گا کہ ایک نے دس سال میں سی بی آئی کا استعمال کیا ضرور ہوگا لیکن اتنے سلیقہ سے کیا کہ کوئی کلائی نہ پکڑسکا۔ اور موجودہ حکومت نے سی بی آئی کو بالکل ذاتی اور گھر کا نوکر سمجھ کر اس طرح کام لیا کہ اب اس کا وجود ہی خطرہ میں نظر آرہا ہے۔

وہ گہری اور بڑی بڑی باتیں جن سے سی بی آئی اور حکومت کا رشتہ سامنے آیا ان کے بارے میں حزب مخالف بار بار اشارے کررہا ہے اور پورا ملک دیکھ رہا ہے کہ وہی سی بی آئی جو ایک بڑے نیتا کو باندھ کر لے جاتی ہے اور ضمانت بھی نہیں ہونے دیتی وہی سی بی آئی کلین چٹ دے دیتی ہے۔ اور وہ سی بی آئی جس کی دھمک کا یہ حال ہے کہ دو خاندانوں کا جھگڑا ہو، دو برادریوں کا جھگڑا ہو، افسر ماتحت کا جھگڑا ہو یا ملازم اور حکومت کا جھگڑا ہو تو صرف ایک آواز آتی ہے کہ سی بی آئی سے انکوائری کرادی جائے۔ وہی سی بی آئی جسے ایک جواں سال چمکتے ہوئے علمی ستارے نجیب کی ماں پکارتی ہے کہ دیکھو میرا بیٹا دیکھو کہا گیا؟ اور وہ سی بی آئی جو بادلوں میں سے چاند نکالنے کی شہرت رکھتی ہے وہ دو سال کے بعد سپریم کورٹ میں لکھ کر دیتی ہے کہ ہم نجیب کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہ کرسکے اور فائل بند کردی جائے۔

وہ نجیب جو پی ایچ ڈی کرنے کے لئے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی آیا تھا اور اس یونیورسٹی اور اس میں پڑھنے والے مسلمان اور دلت لڑکوں کو لڑکوں کی ایک پارٹی برداشت نہیں کرتی اور حکومت کی حمایت کی وجہ سے وہ آخری درجہ کے کام بھی کر گذرتی ہے۔ اس کے بارے میں اشارے ملے بھی تھے اور یقین ہے کہ سی بی آئی کے افسروں کو یہ معلوم ہوچکا ہوگا کہ نجیب کو کن لڑکوں نے مارا، کس اوزار سے مارا اور کس جگہ مارا لیکن اوپر سے حکم ہوگا کہ منھ پر ٹیپ لگالو اور دو سال کے بعد وہ ٹیپ سپریم کورٹ میں ہٹاکر معذرت کرلی گئی۔

یہ تو بہت معمولی کام تھا اس سے بہت بڑے بڑے کام مودی سرکار نے سی بی آئی کے افسروں سے لئے ہیں لیکن وہ جانتے ہیں کہ اگر انہوں نے زبان کھولی تو پھر وہ بھی نجیب بنادیئے جائیں گے۔ اس لئے انہوں نے ان غلط کاموں کی یہ فیس رکھی کہ بڑے بڑے پاپیوں کے بارے میں زبان بند رکھنے کے دو کروڑ اور دوسرے پاپی کے خلاف زبان کھولنے کے تین کروڑ وصول کرلئے جائیں۔ اور یہ تو عام بات ہے کہ اختلاف زیادہ تر زرزن اور زمین کی وجہ سے ہوتا ہے اور زر کی وجہ سے جو دو سب سے بڑے تھے وہ ہی برسرپیکار ہوگئے اور کہتے ہیں کہ مودی سرکار نے سی بی آئی کو بی بی آئی بنا دیا۔

حکمراں ٹولہ اور حزب مخالف اپنی اپنی بات کریں گے لیکن فکر کی بات یہ ہے کہ صرف ایک ایجنسی سی بی آئی تھی کہ اس کے ہوتے ہوئے عام آدمی کو اتنی ہی ڈھارس تھی جتنی ڈھارس سپریم کورٹ سے ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حکمراں ٹولے نے اس کے ہاتھوں کو اتنا گندہ کردیا کہ ان کی بدبو سے لوگ اب نام لیتے وقت سوچیں گے کہ کہیں وہ اُلٹا نہ کردے؟ یہ بات تو بار بار کہی گئی ہے کہ جب اس کی گردن حکومت کے ہاتھ میں ہوگی تو وہ خودمختار ایجنسی کیسے رہے گی؟ اس کی طرح ہی الیکشن کمیشن ہے ان دونوں کو آزاد کہا جاتا ہے مگر دونوں سے حکومت من مانی کراتی ہے۔ اس میں صرف سلیقہ کا فرق ہے۔ مودی جی کی چار سالہ حکومت میں الیکشن کمیشن بھی بھونڈے طریقہ سے استعمال ہوا ایک چیف نے تو وفاداری کی انتہا کردی کہ عام آدمی پارٹی کے 20  ممبروں کو آفس آف پرافٹ کے الزام میں نااہل قرار دے گئے اور جلدی میں صدر جمہوریہ سے بھی دستخط کرادیئے۔ جس پر وہ جشن ہوا کہ الاماں اور پھر ہائی کورٹ نے سب کو بحال کردیا جس سے چیف الیکشن کمشنر بھی ذلیل ہوئے صدر صاحب پر بھی انگلی اُٹھی اور حکومت تو منھ دکھانے کے قابل نہیں رہی۔ اب موجودہ چیف صاحب پانچ ریاستوں کے الیکشن کی تاریخ کا اعلان دوپہر کے 12  بجے کرنے والے تھے۔ لیکن پھر ساڑھے تین بجے کے بعد اعلان کیا۔ اور شہرت ہوئی کہ وزیراعظم تین بجے راجستھان میں ایک ریلی سے خطاب کرنے جارہے تھے اس میں وہ اعلانات کرتے تو مناسب نہیں تھا۔ پھر جب شور ہوا تو چیف صاحب نے بھونڈا جواب دیا کہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے اعلان میں تین گھنٹے کی تاخیر ہوگئی۔

ایک طرف تو سی بی آئی کے افسروں میں آپس میں چھریاں چل رہی ہیں دوسری طرف اترپردیش میں پولیس کے سپاہی بغاوت کی باتیں کررہے ہیں۔ وویک تیواری کے قتل کے الزام میں دو پولیس والوں کو نوکری سے کیا نکالا اور جیل کیا بھیجا کہ ان سپاہیوں کے ساتھیوں نے اور سپاہی کی بیوی نے حکومت سے لڑنے کیلئے چندہ اکٹھا کرنا شروع کردیا۔ خبروں میں پولیس کی بغاوت کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور پولیس کے یہ تیور صرف اس لئے ہیں کہ ناتجربہ کار وزیر اعلیٰ نے گولی چلانے کی پولیس کو چھوٹ دے دی تھی۔ جس پولیس والے پر وویک تیواری کو سامنے سے گولی مارنے کا الزام ہے وہ جھوٹ پر جھوٹ بول رہا ہے کہ کار کھڑی تھی اور مجھے گاڑی سے مارنے کی کوشش کی۔ یہ تیور صرف اس لئے ہیں کہ جب حکومت نے مروانا چاہا تب بھی مارا اور جب ہم نے چاہا تو ہم نے مارا۔ اور یہ بھی وہی بات ہے کہ جب آپ نوکر سے غلط کام کرائیں گے تو وہ دو کام اپنی مرضی سے کرے گا۔ اگر تیواری نے سپاہی کے کہنے سے گاڑی نہیں روکی تو اس لئے کہ وزیراعلیٰ نے پولیس والوں کو عزت سے کھیلنے اور گولی چلانے کی چھوٹ دے رکھی تھی۔ اس قتل میں جتنا قصور سپاہی کا ہے اتنا ہی اسے ریوالور دینے اور اختیارات دینے والے کا بھی ہے۔ جب سزا ایک کو ہوگی دوسرا بغاوت کیسے نہیں کرے گا؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close