سیاست

بنا ہے شاہ کا مصاحب پھرے ہے اِتراتا

عبدالعزیز

 نریندر مودی کی مقبولیت اور شہرت گجرات کی وزارتِ اعلیٰ کی کرسی پر فائز ہونے سے پہلے کچھ بھی نہیں تھی۔ آر ایس ایس کے پرچارک اور بی جے پی کے معمولی ترجمان یا لیڈر کی حیثیت سے کچھ لوگ انھیں جانتے تھے۔ ایل کے ایڈوانی کے اچھے چیلوں میں سے ایک تھے۔ سومناتھ سے بابری مسجد یاترا کے دوران اپنے گرو کے ساتھ تھے۔ اس موقع پر اخبارات میں ان کی تصویر ان کے گرو لال کرشن ایڈوانی کے ساتھ شائع ہوئی تھی۔ اس پر کچھ ہی لوگوں کی نظر پڑی ہوگی جو ان کو قریب سے جانتے ہوں گے۔ راقم نے تو انھیں دو چار بار ’’آج تک‘‘ یا ’’این ڈی ٹی وی‘‘ کے نیوز چینلوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے دیکھا تھا۔ اچانک جب انھیں ارون جیٹلی کے ساتھ دہلی سے احمد آباد جاتے ہوئے دکھایا گیا کہ اب پٹیل کو سبکدوش کرکے نریندر مودی کو تخت نشیں کیا جائے گا تو ان پر لوگوں کی نظریں پڑنے لگیں مگر ان کو اس وقت گجرات میں خاص طور سے اور ملک میں عام طور پر شہرت ملی جب وہ گودھرا ٹرین سانحہ کے بعد پورے گجرات میں بی جے پی کی ہڑتال کی حمایت اور گودھرا کے رد عمل کو جائز ٹھہراتے ہوئے کہا کہ "Every action has equal and opposite reaction” ۔ ہر عمل (ایکشن) کا برابر رد عمل ہوتا ہے۔ یہ سرائزک نیوٹن کشش زمین کے قانون (Laws of Gravitation) کی بات تھی جو مودی گودھرا کے واقعہ پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کیا۔

 پھر 2002ء میں جو کچھ گجرات میں ہوا اس سے ساری دنیا واقف ہے۔ پولس کو اور بلوائیوں کو چھوٹ دینے کی ہدایت کر دی گئی۔ کئی روز تک مسلمانوں کا قتل عام ہوتا رہا۔ فوج اس وقت بلائی گئی جب قتل عام کا منصوبہ پورا ہوا۔ یہ وہ واقعہ قتل عام تھا کہ جس سے پورے ملک میں نریندر مودی کی فرقہ پرستوں میں جے جے کار ہوگئی۔ اس وقت اٹل بہاری واجپئی وزیر اعظم تھے۔ انھوں نے بیان دیا کہ ’’نریندر مودی نے راج دھرم نہیں نبھایا، لہٰذا ان کو گدی سے اتار دیا جائے مگر برہمن لابی اور آر ایس ایس کے لوگ مودی کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ ان کے گرو ایل کے ایڈوانی اور آج کے وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے مودی کا خاص طور سے ساتھ دیا جس کی وجہ سے مودی کو وزارت اعلیٰ سے واجپئی جی ہٹانے سے قاصر رہے۔

 مودی کا پھر تو گجرات میں اچھی طرح پاؤں جم گیا۔ اب گجرات کے امبانی اور اڈانی سے مودی کی قربت ہوگئی۔ دونوں کو وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے جس قدر تجارت کے میدان میں رعایت دینا پڑا مودی نے بڑھ چڑھ کر دیا۔ اڈوانی کو گجرات میں ایک روپیہ فی اسکوائر فٹ زمین دی اور ان کی جہاز کمپنی کو بھی ہر طرح کی سہولت بہم پہنچائی۔ آج وہ ہندستان کے بیس پچیس امیروں میں سے ایک ہیں ۔ مکیش امبانی کو اس قدر سہولت حاصل ہوئی کہ مودی کو وہ گاندھی سے تشبیہ دینے لگے۔ ان کیلئے وہ گاندھی ہوگئے۔ مودی کیلئے وہ امبانی ہوگئے۔ اس طرح مودی سرمایہ داروں کے چہیتے بن گئے۔

 اب تازہ تازہ معاملہ سامنے آیا ہے حکمراں جماعت کے صدر امیت شاہ کے بیٹے اجے شاہ کا۔ اجے شاہ کے بیٹے کی ایک کمپنی ہے جس کا نام ٹیمپل انٹرپرائز گجرات کا ایک ویب سائٹ جس کا نام "The Wire.com” ہے ، اس کے نامہ نگار روہنی نگھ نے اپنے ویب سائٹ پر امیت شاہ کے بیٹے کی دو تین سال میں جب سے مودی جی وزیر اعظم کی گدی پر براجمان ہوئے ہیں اور امیت شاہ بی جے پی کی صدارت کی کرسی سنبھالے ہیں اجے شاہ کی تجارت میں آہستہ آہستہ دن دونی رات چوگنی ترقی نہیں ہوئی ہے بلکہ یہ محاورہ بھی ان پر چسپاں نہیں ہوتا کیوں کہ شاہ بیٹے نے ساری سرحدیں پھاند لیں ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2014-15 ء میں ان کی کمپنی کا کاروبار (Turn over) 50 ہزار تھا لیکن 2016-17ء میں یہ ٹرن اوور (کاروبار) بڑھ کر 80 کروڑ سے زیادہ ہوگیا یعنی 16 لاکھ گنا ہوگیا۔ 2014ء سے آج تک جو ملک کی معیشت دن بدن پستی کی طرف جارہی ہے۔ بڑے پیمانے پر معاشی بحران (Economic Crisis) ہے۔ بہتوں کا کاروبار بالکل بند ہوگیا ہے۔ بہت سے کل کارخانے بند ہوگئے ہیں ۔ چالیس لاکھ افراد بے روزگار ہوگئے ہیں ۔ پروڈکشن (Production) کم ہوگئی ہے کیونکہ خریدنے کی صلاحیت لوگوں میں کم ہوگئی۔ جائداد اور زمین کی قیمتوں میں بھی گراوٹ پیدا ہوگئی ہے۔ لیکن جو لوگ بی جے پی یا آر ایس ایس یا سنگھ پریوار سے قریب ہیں وہ خوب پھل پھول رہے ہیں ۔ جو جس قدر مودی یا شاہ سے قریب ہے اتنا ہی اترا رہا ہے اور تجارت کے میدان میں آگے بڑھ رہا ہے۔ اگر چہ مودی جی کی پوری ٹیم شاہ کے دفاع میں لگ گئی ہے یہاں تک کہ کابینہ درجہ کے کئی وزراء بھی دفاع کر رہے ہیں ۔ ملک کا سولی سیٹر جنرل نے وزارت قانون سے اجازت لے لی ہے کہ وہ شاہ کا مقدمہ لڑیں گے۔ شاہ کے بیٹے نے عدالت میں سو کروڑ کا کردار کشی کا مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ ان سب کے باوجود بی جے پی اپنی بوکھلاہٹ کو چھپا رہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے ۔ کوئی گھپلا یا اسکینڈل نہیں ہوا ہے۔

ایک صحافی نے بہت اچھی بات کہی ہے کہ کہ مودی کے راج میں جس طرح شاہ کے بیٹے کی ترقی ہوئی ہے ایسی ترقی مودی جی ہر ہندستانی کیلئے اگر کردیں تو پھر مودی جی نے جو وعدہ کیا ہے کہ ہر ہندستانی کے بینک کے کھاتہ میں 15-15لاکھ وہ جمع کرادیں گے اور ملک کے اندر اور باہر سے کالا دھن لائیں گے۔ تین سال سے مودی کا وعدہ ابھی تک وعدۂ فردا ثابت ہوا۔ راہل گاندھی فرما رہے ہیں کہ مودی جی کہہ رہے تھے کہ نہ کھائیں گے اور نہ کھانے دیں گے۔ اب کیا ہورہا ہے۔ مودی جی نے کہا تھا کہ میں پردھان منتری نہیں بلکہ ملک کا چوکیدار ہوں ۔ اب وہ چوکیدار کہاں گیا؟ مودی جی اپنے آپ کو چوکیدار کہتے تھے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مودی جی دوسروں کیلئے چوکیدار ہی نہیں بلکہ داروغہ ہیں مگر اپنوں کیلئے وہ ہمدرد اور ہم نوا ہیں ۔

 گجرات میں چند ماہ میں اسمبلی الیکشن ہونے والا ہے۔ گجراتی جن پر یہ فخر کرتے تھے کہ چھ سات کروڑ گجراتی ان کے ہیں اور وہ ان کے ہیں ۔ اب وہ ناراض ہوگئے ہیں کیونکہ ان کی تجارت ماند پڑگئی ہے بلکہ ٹھپ ہوگئی ہے۔ ہوسکتا ہے گجراتیوں کی ناراضگی الیکشن کے موقع پر بڑے پیمانے پر ظاہر ہو اور گجرات جہاں سے ان کا عروج ہوا وہیں سے ان کا زوال شروع ہوجائے۔

ہر عروج را زوال است (ہر عروج کیلئے زوال ہے)۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close