سیاست

بنا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اِتراتا

حفیظ نعمانی

اللہ جانے شیعہ وقف بورڈ کے صدر کو شیطان انگلی دکھا دیتا ہے یا ان کے دماغ کا ہی کوئی کیڑا ہے جو رہ رہ کر ان سے وہ حرکتیں کراتا ہے جس سے ہر مسلمان توبہ توبہ کرنے لگتا ہے۔ گذشتہ دنوں میں ایک خبر ہر اخبار کی سرخی بنی کہ وسیم رضوی نے وزیراعظم کو خط لکھا ہے کہ ملک کے تمام مدرسے بند کردیئے جائیں۔ اور تفصیل وہی کہ بچوں کا وقت خراب ہوتا ہے وہ آئی اے ایس یا پی سی ایس نہیں بن پاتے وغیرہ وغیرہ۔ اس خبر کا چھپنا تھا کہ ان مدرسوں کے ذمہ داروں پہ جو بیچارے ملک کے نظام سے واقف نہیں ہیں اور اللہ نیز اس کے رسولؐ اور اس کی کتاب قرآن عظیم کی تعلیم دینے کے علاوہ کوئی کام نہیں کرتے لرزہ طاری ہوگیا جیسے وسیم کا خط ملتے ہی مودی جی مدرسے بند کردیں گے۔

وہ یہ نہیں جانتے ہیں کہ وقف بورڈ کا صدر بہت بڑی شخصیت نہیں ہوتا ہے۔ اور یہ بھی ضروری نہیں کہ وزیراعظم کو ان کے دفتر کے لوگ اس خط کو دینا بھی پسند کریں یا نہ کریں اس کی وجہ یہ ہے کہ وزیراعظم بابر، اورنگ زیب یا واجد علی شاہ جیسے اختیارات کا مالک نہیں ہوتا۔ وہ ملک کے لاکھوں مدرسوں میں سے اگر یہ چاہے کہ ایک مدرسہ کو بند کردے تو نہیں کرسکتا وزیراعظم یہ تو کرسکتا ہے کہ مدرسہ کو اگر سرکار کی مدد مل رہی ہے تو اسے بند کردے یا اگر مدرسہ ایسی جگہ پر ہے جس سے کسی طرح کا فساد ہونے کا ڈر ہے تو اسے وہاں سے ہٹوا تو سکتا ہے مگر بند نہیں کرسکتا۔ اور جن مدرسوں کو 100  سال سے زیادہ انگریز بند کرنے کی کوشش کرتے رہے اور ناکام رہے انہیں کون بند کرسکتا ہے؟

ملک میں مدرسوں کی بہت سی قسمیں ہیں اس اعتبار سے کہ ہر مدرسہ کا نصاب ایک نہیں ہے۔ مسلک کے اعتبار سے بھی سُنی مدرسے ہیں شیعہ مدرسے ہیں سنیوں میں دیوبندی مسلک اور بریلوی مسلک کے مدرسے ہیں ان میں ہی اہل حدیث حضرات کے مدرسے ہیں اور سب سے بڑی تقسیم یہ ہے کہ وہ بھی مدرسہ ہی ہیں جن کا پورا خرچ حکومت اٹھاتی ہے اور وہ بھی ہیں جن کی کچھ مدد حکومت کرتی ہے باقی وہ ہیں جو عمومی چندہ سے پورا کرتے ہیں لیکن ایسے مدرسوں کی تعداد کی کوئی گنتی نہیں ہے جو حکومت سے ایک پیسہ بھی نہیں لیتے اور اپنی عمارت میں ہیں اور سرکاری واجبات پورے ادا کرتے ہیں۔ حقیقت میں اصل مدرسے وہی ہیں اور انہیں پوری دنیا کے وزیراعظم مل کر بھی بند نہیں کراسکتے۔

اب رہی یہ بات کہ مدرسے کیوں ضروری ہیں تو اگر وسیم رضوی اپنے کو مسلمان مانتے ہیں تو یہ تو انہوں نے نہیں دیکھا ہوگا کہ وہ جب پیدا ہوئے تھے تو ان کی پیدائش کی خوشی میں مجلس ہوئی تھی اور اس مجلس کو کسی عالم نے ہی خطاب کیا ہوگا جو کسی نہ کسی مدرسہ سے فارغ ہوکر ذاکر بنے ہوں گے۔ اور نہ یہ یاد ہوگا کہ جب ان کا عقیقہ ہوا تھا تو اس وقت بھی مجلس ہوئی تھی اس کو بھی جن ذاکر صاحب نے خطاب کیا ہوگا وہ مدرسہ سے نکلے ہوئے عالم تھے۔ اور وہ یاد کریں کہ جب ان کی شادی ہوئی تھی تو صیغۂ نکاح جن صاحب نے پڑھا ہوگا وہ عالم تھے اور عالم مدرسوں میں بنتے ہیں۔ بات کو مختصر کریں تو ان کو یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ وقف بورڈ کا وجود اس لئے ہے کہ مدرسہ سے فارغ عالموں نے بتایا کہ وقف علی اللہ اور وقف علی الاولاد کیا ہوتا ہے اور ان اوقاف کا ریکارڈ رکھنے کے لئے وقف بورڈ بنانا پڑے جن میں سے ایک کے صدر وسیم رضوی ہیں گویا اگر مدرسے نہ ہوتے تو جو آج وزیراعظم کو خط لکھنے کا اپنے کو قابل سمجھتے ہیں وہ یا کہیں نوکری کررہے ہوتے یا ریٹائر ہوکر اولاد کی کمائی کھا رہے ہوتے یا کوئی چھوٹی سی دکان لئے بیٹھے ہوتے۔

وسیم رضوی کا خط وزیراعظم کے نام ایسا موضوع نہیں تھا کہ ذمہ دار اخباروں کے کالم سیاہ کئے جاتے۔ تین دن ہوچکے ہیں ان شریفوں کو بیان پر بیان دیتے ہوئے کہ ایک اس آدمی نے جو وقف بورڈ کا صدر ہے اور اپنے کو مسلمان کہتا ہے وزیراعظم کو خط لکھا ہے کہ دینی مدرسے بند کردیئے جائیں اور انہیں خطرہ پیدا ہوگیا کہ جیسے تین طلاق بل وزیراعظم نے پاس کرا دیا تھا جس میں طلاق دینے والے کو تین سال کی سزا کا اعلان تھا اسی طرح وزیراعظم مدارس کے بارے میں کوئی فیصلہ یہ کہہ کر نہ کردیں کہ مسلمانوں کا مطالبہ ہے اس لئے مدرسے بند کردیئے جائیں گے۔

حیرت ٹی وی اور اخباروں کے ذمہ داروں پر بھی ہے کہ انہوں نے وسیم رضوی کو ایران کا وزیر اوقاف سمجھ لیا۔ وہ مسلمانوں میں شیعہ فرقہ کے اوقاف کے دفتر کے ذمہ دار ہیں اور جس دن ان کی مدت ختم ہوجائے گی وہ پیدل رضوی ہوجائیں گے۔ سیاسی سماج کے اکثر حضرات وسیم رضوی کو اعظم خاں کا تحفہ قرار دے رہے ہیں۔ یہ اس وقت کی بات تھی جب اعظم خاں اکھلیش اور ملائم حکومت کا مسلم چہرہ تھے اب وہ خود اپنے زمانے کی ان پریشانیوں میں پھنسے ہیں جو انہوں نے اپنے کو وزیر باتدبیر سمجھ کر کرڈالیں اور یہ نہ سوچا کہ جب ان کی حکومت نہیں رہے گی تب کیا ہوگا؟ پھر بھی ہم اب یہ نہیں مان سکتے کہ اب بھی وسیم رضوی ان کے اشاروں پر چل رہے ہیں وہ جو کچھ بکتے اور کرتے ہیں یہ ان کا مزاج ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ سنی مسلمان تو کیا شیعہ بھی ان سے کٹے کٹے رہتے ہیں۔ ہم ہر مدرسہ کے مہتمم کو وہ چھوٹے مدرسہ کا ہو یا بڑے کا یقین دلاتے ہیں کہ وہ اپنا فرض ادا کریں وہ اللہ کا کام کررہے ہیں دنیا میں کوئی نہیں ہے جو اُن کا بال بیکا کرسکے۔

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close