سیاست

بھاگوت اور مودی کو گول مول جواب کا سامنا کرنا پڑرہا ہے

حفیظ نعمانی

اُترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ریاست کا سرکاری خزانہ لٹاکر کمبھ کو اتنا رعب دار بنایا تھا کہ کوئی بڑے سے بڑا ہندو نیتا اور سادھو سنت تعریف کے علاوہ دوسرا لفظ نہ کہہ سکے۔ لیکن وہ بھول گئے تھے کہ آزادی کے بعد سے ملک میں حکومت جس کی بھی رہی ہو سادھو سنتوں کے لئے خزانہ کا منھ سب نے کھلا رکھا ہے اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ہریانہ میں ڈیرہ سچا سودا کے بابا رام رحیم کی حیثیت ایک مہاراجہ سے کہیں زیادہ تھی جس نے زمین پر جنت ِشد ّاد بنالی تھی اور ہزاروں نہیں لاکھوں ماننے والے اسے بھگوان مانتے تھے۔

اندرا گاندھی کا زمانہ ہو یا اٹل بہاری باجپئی کا کوئی نہیں تھا جس نے اس کی ہر مانگ پوری نہ کی ہو اور اندرا گاندھی نے ہی اسے زیڈ پلس سیکورٹی دی تھی اور پنجاب کے وزیراعلیٰ ہوں یا ہریانہ کے بی جے پی کے لیڈر ہوں یا اکالی دل کے سب ووٹوں کے لئے اس کے دربار میں ہاتھ جوڑے کھڑے رہتے تھے اور کوئی نہیں تھا کہ جو اندر جھانک کر دیکھے کہ شیطان نے کتنا بڑا جال پھیلا رکھا ہے۔

اور آسارام جو عمرقید کی سزا کاٹ رہا ہے اُس کے کس صوبہ میں کروڑوں روپئے کے عشرت کدے بنے ہوئے نہیں ہیں اور آئے دن کسی نہ کسی بابا کی عبرت بھری داستان سامنے آجاتی ہے۔ لیکن آج تک یہ ہمت کسی کی نہیں ہوئی کہ ہر اس سادھو سنت کے بارے میں تحقیقات کرے جو اپنا آشرم بنا رہا ہے۔ اور آج کے نئے سادھو سنت رام دیو یادو ہیں جو 2014 ء میں مودی جی کے پیچھے دُم ہلاتے اور ان کی ہر بات کی تائید کرتے پھرتے تھے اب ہزاروں کروڑ کی زمین اور فیکٹریوں کے مالک بن کر بھارت رتن نہ بنانے کی وجہ سے وزیراعظم کو آنکھیں دکھا رہے ہیں۔ اور انہوں نے اپنی جڑیں اتنی مضبوط کرلی ہیں کہ حکومت مودی جی کی ہو یا کسی اور کی ان کی صحت پر اثر نہیں پڑے گا۔

اور یہ سرکاروں کی سنیاسی نوازی کا ہی نتیجہ ہے کہ وہ چیلے جو گرو کی چلم بھرتے تھے اب خود بابا ہوگئے ہیں اور اتنے شہ زور ہوگئے ہیں کہ وزیراعظم اور وہ موہن بھاگوت جو وزیراعظم بناتے ہیں ان کی بولتی بند کرنے کی ہمت دکھاتے ہیں۔ اب تک موہن بھاگوت کے سامنے سب کی گردن جھک جاتی تھی وہ اس آر ایس ایس کے سربراہ ہیں جو غیرقانونی فوج ہے اور اس کی ہندو سماج میں جڑیں اتنی گہری ہیں کہ وہ جس دن چاہیں ایک دن میں سادھو سنتوں کا ملک میں رہنا دوبھر کرسکتے ہیں۔

کمبھ میں جو بھاگوت کے ساتھ ہوا وہ اس وجہ سے ہوا کہ وہ بھی سچ بولنے کی ہمت نہیں کرتے جو بات کل سابق جج کاٹجو نے کہی کہ ہزاروں سال پہلے کے واقعہ کے بارے میں یہ کہنا کہ رام اس خاص جگہ ہی پیدا ہوئے تھے کیسے کہا جاسکتا ہے۔ یہ مسئلہ بار بار اُٹھ چکا ہے کہ لاکھوں برس پہلے کا وقت بیان کرنے والے انگلی رکھ کر کہہ دیں کہ یہاں پیدا ہوئے تھے۔ یا یہ کہ کھدائی سے یہ معلوم ہوگیا کہ مسجد کے نیچے عظیم الشان مندر تھا۔ یہ بات وزیراعظم کیوں نہیں کہتے کہ سپریم کورٹ کے پانچ جج یہی فیصلہ کریں گے کہ جہاں مسجد تھی وہاں اس سے پہلے کیا تھا؟ مسلمانوں کا کہنا یہ ہے کہ کوئی مسلمان وہ شیعہ ہو یا سنی ایسی زمین پر اپنا گھر تو بنا سکتا ہے جس پر کوئی فریق یہ دعویٰ کرے کہ یہ اس کی زمین ہے لیکن مسجد یعنی اللہ کا گھر نہیں بنائے گا۔ مودی جی اور موہن بھاگوت سادھو سنتوں سے یہ کیوں نہیں کہتے کہ جب تک یہ بات سپریم کورٹ کے جج نہ کہہ دیں کہ یہ زمین مندر کی ہے اس وقت تک ایک اینٹ نہیں رکھی جاسکتی۔ رہا سپریم کورٹ کے کام کرنے کا طریقہ تو یہی طریقہ اس مقدمہ میں ہورہا ہے جو مسجد گرانے کے ملزمین اڈوانی جی، جوشی جی اور اوما بھارتی وغیرہ کے خلاف چل رہا ہے اور برس پر برس گذرتے جارہے ہیں اس کی پیشی نہیں ہوتی۔

یہ بات کہتے ہوئے کیوں ڈرتے ہیں کہ جب تک سپریم کورٹ یہ نہ کہہ دے کہ اس زمین کے نیچے مندر تھا یا میرباقی نے طاقت کے بل پر اس زمین پر قبضہ کرلیا تھا اس وقت تک یہ زمین نہ ہندو کی ہے نہ مسلمانوں کی۔ اور یہ بھی بزدلی کی بات ہے کہ رام مندر اور حکومت کو گڈمڈ کردیا ہے جسے حکومت بنانا ہے اس نے بجٹ کو اپنے نزدیک ایسا بناکر پیش کردیا کہ جو اس سے فائدہ اٹھائے گا وہ بی جے پی کو ووٹ دے گا شری رام چندر جی جسٹس کاٹجو کے کہنے کے مطابق شاہزادے تھے پھر اجودھیا کے راجہ بن گئے اور بعد میں انہیں بھگوان کہہ دیا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ مندر انسان کا نہیں بھگوان کا بنا کرتا ہے۔ رہی یہ بات کہ ملک میں کتنے ہی رام مندر ہوں جب تک جنم استھل پر مندر نہیں بنے گا اس وقت تک ہندو دھرم مکمل نہیں ہوگا۔ یہ صرف الیکشن کا نعرہ ہے۔ شیوسینا، بی جے پی، آر ایس ایس سب رام مندر کے ذریعے ووٹ لینا چاہتے ہیں۔ یہ فیصلہ ووٹ دینے والے کریں گے کہ وہ کسے ووٹ دیں۔

بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ہائی کورٹ نے مان لیا ہے کہ مسجد کے درمیان گنبد کے نیچے رام جی پیدا ہوئے تھے ہائی کورٹ نے تو یہ بھی مانا ہے کہ ایک تہائی زمین پر مسجد تھی۔ یہ فیصلہ اور تمام کاغذات عدالت کے پاس ہیں ان سے پہلے یہ کہنا کہ فیصلہ رام مندر کے حق میں ہوگا اس لئے کام شروع کردینا چاہئے عدالت کے ساتھ مذاق ہے اور اتنا ہی غلط ہے کہ مسجد کے نیچے کھدائی میں عظیم الشان مندر کا سامان نکلا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close