سیاستہندوستان

بھوک کی شدت تم کیا جانوں میاں!

راحت علی صدیقی قاسمی

 ہندوستانی معیشت کی بنیادیں زراعت پر ٹکی ہوئی ہیں ،کسانوں کی ترقی ہندوستانی معیشت کے استحکام کا باعث ہے ،تاریخ کے صفحات پر حقائق موتیوں کی مانند بکھرے پڑے ہیں ،ہندوستان کو جب جب معاشی بلندی حاصل ہوئی ، اس میں کسانوں کی قربانیاں شامل رہیں ،ہندوستان کو سونے کی چڑیا ہونے کا شرف حاصل ہوا تو کسانوں کی محنتوں کی مرہون منت ،آج ڈجیٹل انڈیا، میک ان انڈیا ان خوبصورت خوابوں کی تعبیر تلاش کرنے میں کسان نذرانداز ہوگیا ہے ،اس کی اہمیت قدر و منزلت ماضی کی یادوں میں تبدیل ہوگئیں ،اس کے سامنے مسائل کا پہاڑ ہے اور کسان مثل مانجھی رات ودن اس سے مقابلہ آرائی میں مصروف ہے ،تمام تر کوششوں کے باوجود اس پہاڑ کو پاٹنا جوئے شیر لانے سے بھی مشکل تر ہوگیا ہے ،ہر رات ساون کی خوفناک رات اور دن گرمی کے شدید سخت اور طویل تر دن کے مثل ہوگیا ہے ،جس کا گذران کسان کی ہمت و جرأت کا ہر لمحہ امتحان لے رہا ہے ،اسے آزما رہا ہے اور یہ آزمائش اتنی شدید ہے ،جس سے نبرد آزما ہونے کے مقابلہ کسان جان دینے کو آسان سمجھ رہا ہے اور ہر مہینہ 70کسان زندگی پر موت کو ترجیح دے رہے ہیں ،اپنی زندگی کا اختتامیہ اپنے ہاتھوں لکھ رہے ہیں ،جس میں درد ہے ،تکلیف ہے اور ان مسائل پر فتحیاب نہ ہونے کا غم ہے ،بیوی بچوں ماں باپ  بیٹی کی فکر کا احساس ہے ،زندگی کا یہ آخری خط ادبی شہ پارہ تو نہیں مگر درد کی ان کیفیات کو اپنے اندرسموئے ہوئے ہے جو ہر صاحب دل کو رنجیدہ ہی نہیں اشکبار ہونے پر مجبور کردیں گی اور کسانوں کی مشکلات سے پردہ اٹھادیں گی۔

اگر یہاں بھی کسی کو کسانوں کا دکھ درد نظر نہ آئے تو وہ کسانوں کی زندگی دیکھے ،سخت زمین کا سینہ چیرنا ،اسے قابل کاشت بنانا ،ساون کی بھیانک رات اور جنوری کی سرد رات میں جب کوئی عام آدمی پانی پینے کی ہمت بھی نہیں جٹا پاتا اور بستر سے اٹھتے ہوئے سو مرتبہ سوچتا ہے ، ایسے وقت میں کسان زمین کی پیاس بجھاتا ہے ،کھیتوں کو سیراب کرتا ہے ،سانپ بچھوں اور سینکڑوں موذی جانوروں کے خوف سے لڑتا ہے اور ہر طرح کے خوف کو شکست دے کر اپنا مقصد حاصل کرتا ہے ، بوائی کے موقع پر گرمی کی شدت کے باوجود پورے دن بھوک سے لڑتا ہے ،گیہوں کی کٹائی کا عالم نہ پوچھئے سرپر تپتا ہوا سورج آبلہ پاء کی کیفیت لئے ہوئے، زمین پر پاؤں جسم کو تکلیف میں مبتلا کرتی گرم ہوائیں اور ہاتھ سخت ترین کام میں مشغول، ہاتھ میں آبلہ پڑے ہوئے ،اگر کسی کو یقین نہیں آتا تو جاکر دیکھ لے ،اردو کے مشہور شاعر احسان دانش نے لکھا ہے کہ ’’میں نے ہر طرح کی مزدوری کی مگر گیہوں کی کٹائی سے سخت ترین کام نہیں پایا‘‘ان محنتوں کے باجود کسان کو کیا ملتا ہے ،تصورات کی دنیا تو اجر عظیم کی دعویدار ہے اور کسانوں کے لئے عزت و عظمت کی متقاضی ہے ،مگر تصدیقات کا عالم کچھ اور ہی منظر دکھاتا ہے ۔

کسان قرض میں ڈوبا ہوا ،بھوک سے نڈھال ،غربت و افلاس کا شکار ،تن ڈھنکنے کے لائق ہے ،نہ ضروریات زندگی کی تکمیل کے لائق ہے ،نتیجہ کسان زراعت چھوڑ رہا ہے ،ماں سے رشتہ توڑ رہا ہے اور جو ہمت جٹا پارہا ہے، وہ اپنے حق کے لئے آواز بلند کررہا ہے اور اپنے مسائل کے ازالہ کی تدبیر کررہا ہے ، حکومت سے دو دو ہاتھ ہونے کو تیار ہے ،چونکہ حکومتیں رحم و کرم کی بھیک کم ہی دیتی ہیں ،پورے ملک میں کسانوں کی بلند ہوتی آواز کا اثر محسوس کیا جاسکتا ہے اور اس آواز میں شدت پیدا ہوئی ،مدھیہ پردیش میں جہاں شیوراج کے راج میں کسان قرض میں ڈوبا ہوا ہے ،اور کوئی خوش کن خبر ان کے کانوں میں نہیں پڑ رہی تھی ،اس صورت حال سے مقابلہ کے لئے کسان کھڑے ہوئے ،حکومت کی بے توجہی نے ان کی آواز میں شدت پیدا کردی اور اسی ماحول میں 6کسانوں کو پولیس کی گولیوں نے موت کی نیند سلا دیا، ان کا جرم یہ تھا کہ وہ اپنا حق مانگ رہے تھے ،قرض سے چھٹکارہ کی فریاد کررہے تھے ۔

ڈاکٹر سوامی ناتھن کی سفارشات کے نفاذ لئے حکومت سے سوال کررہے تھے ،وہ تحقیقات جو 2004میں ہوئیں کسانوں کی دردناک صورت حال کو واضح کیا گیا اور اس صورت حال کو بہتر کرنے کے لئے کچھ تجاویز پیش کی گئیں ،جو 13سال گذرنے کے بعد بھی دفتروں میں پڑی ہوئی دھول پھانک رہی ہیں اور کسان انہی مسائل و مشکلات سے دوچار ہے اور جب اس نے ان مسائل کے خاتمہ کے لئے آواز بلند کی تو بدلے میں انہیں لاٹھیاں ملی ،گولیوں نے ان کا استقبال کیا اور وزیر اعلیٰ شیوراج اس وقت تک خاموشی کا لبادہ اوڑھے رہے جب تک معاملہ سنگین نہیں ہوگیا ،حالات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے مل بیٹھ کر معاملہ سلجھانے کی بات کہی لیکن بے اثر رہی اور کسان اپنی مانگوں کو پوری کرانے کے لئے اڑے رہے ۔

شیوراج بے بس ہوگئے اور انہوں نے بھوک ہڑتال کرنے کا فیصلہ لیا ،جو دو دن سے کچھ کم مدت میں اختتام پزیر ہوگئی اور کسانوں کو پر امید کیا گیا ہے ،ان کی تمام مانگوں کو پوری کرنے کا دعوی کیا گیا ،ایک کروڑ روپے کے فنڈ کو مختص کرنے کا اعلان کیا گیا ،شیوراج کی یہ تدبیر کتنی بااثر ہوتی ہے یہ تو وقت بتائے گا ،مگر بھوک کی شدت کا انہیں کیا علم، فاقہ کشی کی لذت سے وہ کب آشنا ہوپائے ہیں،اگر چند دن واقعتا کسی کسان کی زندگی گذاریں تو انہیں ان حقائق کا علم ہوجائے اور احساس ہو جب بھوک کی شدت سے آنتیں اکٹھی ہونے لگتی ہیں تو انسان کس تکلیف کا شکار ہوتا ہے اور جب پیاس کی شدت سے کلیجہ منھ کو آنے لگتا ہے ،تو انسان کس صورت حال کا شکار ہوتا ہے ،وہ دو دن کی اس ڈرامائی بھوک ہڑتال سے کیا ان کیفیات کو سمجھ پائیں گے اور کہاں کسانوں کے مسائل کی شدت سے آگاہ ہوپائیں گے ،جن پانچ لوگوں کی جانیں گئیں کیا یہ بھوک ہڑتال ان کی سانسوں کا بدلہ ہوسکتی ہے ؟ان کے مسائل کا حل ہوسکتی ہے ؟ان کی زندگیاں لوٹا سکتی ہے ؟جواب سوچئے اور صورت حال سمجھ لیجئے ۔

بہرحال شیوراج نے کوشش کی ہے اور ریاست کو تشدد کی آگ سے بچانے کی عمدہ تدبیر کی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے ،وزیر خزانہ اعلان کرچکے ہیں ،قرض معافی کے جو اعلانات حکومتیں کررہی ہیں ،وہ خود اس کا انتظام کریں گی ،مرکزی حکومت اس سلسلہ میں کوئی مدد فراہم نہیں کرے گی ۔ اس اعلان نے شیوراج کے فرمان کو مشکوک کردیا ہے اور ذہنوں کو غور و فکر کے عمیق دریا میں مستغرق کردیا ہے ،کہیں یہ کسانوں کو ٹھگنے کا کوئی حربہ تو نہیں ،کسانوں کے جذبات سے کھیلنے کی کوئی تدبیر تو نہیں ،ان کے مسائل کا مذاق تو نہیں بنایا جارہا ہے ،اگر واقعتا ایسا ہی ہوا اور کسانوں کے مسائل کا سدباب نہ کیا گیا تو مدھیہ پردیش ہی نہیں پورے ملک کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ،چونکہ اس تحریک نے کسانوں کے دلوں میں پک رہے لاوے کو باہر کردیا ہے اور اس سے مندسور جھلسا، اندور، مہارشٹر تک بھی چنگاریاں گئیں ، وہ آگ میں تبدیل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں ،پنجاب ہریانہ کے کسانوں نے بھی قرض معافی کا نعرہ بلند کیا ہے ،راجستھان سے قرض معافی کی صدائیں اٹھتی ہوئی محسوس ہورہی ہیں۔

اس صورت حال میں شیوراج ہی نہیں پوری بی جے پی کو سنجیدگی سے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے ،اگر ان مسائل کے ازالہ کی مضبوط تدبیر نہیں کی گئی ،تو حالات اس جانب مشیر ہیں کہ کسانوں کی یہ تحریک ملک گیر تحریک میں تبدیل ہوسکتی ہے اور بی جے پی کے مضبوط قلعہ کو متزلزل کرسکتی ہے ،چونکہ مرکزی حکومت تین سال مکمل کرچکی ہے اور اگر اب کسانوں کی تحریک چلتی ہے ،تو آنے والے انتخاب میں بی جے پی کے لئے فتح سے ہمکنار ہونا عظیم چیلنج ہوگا اور کسانوں کی توجہ حاصل کرنا بڑا سوال ہوگا ،یہ نکتے کسانوں کے مسائل کے حل کا تقاضا کررہے ہیں اور سنجیدگی کا مطالبہ کررہے ہیں ،ورنہ وزیر اعظم کھولی آنکھوں سفر تنزلی دیکھنے کے لئے تیار رہیں اور کسانوں کی طاقت کو دیکھنے کے لئے تیار رہیں ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close