بھیڑ، درندگی اور سیاست

تبسم فاطمہ

25 مارچ1931 کو مشتعل ہجوم نے نامور صحافی اور کانگریسی لیڈر گنیش شنکر کو ودیارتھی پر حملہ کیا اور انہیں جام شہادت پینا پڑا۔ کانپور میں جب فرقہ وارانہ فساد بھڑک اٹھا تو ودیارتھی ہندو مسلمانوں کے درمیان امن ومحبت کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ جمشید پور میں مشہور افسانہ نگار ذکی انور کو بھی ہجوم کا سامنا کرتے ہوئے موت کو گلے لگانا پڑا۔ ایسے حادثوں کی تاریخ آج بھی ہمیں رسوا کرتی ہے اور یہ سوچنا پڑتا ہے کہ آخر ایسے موقعوں پر انسانیت کہاں کھوجاتی ہے؟ غلامی کی تاریخ کا بیشتر حصہ لہو لہو ہے۔ ہندستان کی تقسیم نے بھی اس درد کو محسوس کیا ہے، جب ہندو مسلمان دونوں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے تھے۔ اس وقت بھی یہی بھیڑ یہی ہجوم تھا اور اس ہجوم کو نفرت کے خون کا ذائقہ مل گیا تھا۔ ۱۵؍ اگست کو ہماری آزادی کے ستربرس پورے ہوجائیں گے۔

 ان ستر برسوں میں فرقہ وارانہ فسادات کی اپنی تاریخ رہی ہے۔ لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پچھلے تین برسوں میں نفرت کی سیاست نے پورے ملک میں جو ماحول پیدا کیا ہے، اس نے آزادی کے وقت ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے— اس وقت ایک نیا ملک پاکستان کی شکل میں سامنے آیا تھا۔ جنگ برابر کی تھی۔ جو مسلمان ہندوستان چھوڑ کر نہیں گئے، انہیں اس بات کا سہارا تھا کہ جمہوری نظام میں وہ یہاں زیادہ چین اور سکون سے رہیں گے۔ ان ستر برسوں میں مذہب کے نام پر پاکستان میں جو کچھ ہوتا رہا اور اب بھی ہورہا ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ معصوم عورتوں اور بچوں کا قتل، دہشت گردی کو فروغ، آپسی خانہ جنگی اورمذہبی تنگ نظری نے پاکستان کو کس حد تک نقصان پہنچایا، یہ بھی سب کے سامنے ہے۔ اس لیے پچھلے تین برسوں سے ہونے والی سیاست کودیکھتے ہوئے یہ سوچنا ضروری ہوجاتا ہے کہ غیراعلانیہ ایمرجنسی میں ، مذہبی تنگ نظری کہیں ہندوستان کا وہی حال نہ کردے جس نے پاکستان کو دردر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کردیا ہے۔

دادری حادثہ نے ہندوستان بھر کے دانشوروں کو بیدار کیا۔ لیکن ہندو راشٹر کی گونج میں دانشوروں اورفنکاروں کے تمام اقدامات ناکام ثابت ہوئے۔ ایک وقت ایسا بھی محسوس ہوا کہ خوف اوردبائو کی سیاست میں کوئی بھی دانشور اب سامنے آنے کو تیار نہیں ہے۔ ملک کی سالمیت اور تحفظ کے لیے اس سے زیادہ حوصلہ شکن کوئی دوسری بات نہیں ہوسکتی تھی۔

 ابھی حال میں آر ایس ایس سپریمو موہن بھاگوت نے ایک بیان جاری کیا کہ نریندر مودی ہندو راشٹر کے سچے علمبردار بن کر ابھرے ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ایک بڑے مشن کے لیے کام کر رہے ہیں ۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ہجوم کی بڑھتی ہوئی درندگی مسلسل قیامت بن کر مسلمانوں پر نازل ہورہی ہے۔ معصوم بے گناہ مسلمان جھوٹے الزامات کے تحت مشتعل ہجوم کی وحشت کا شکار ہورہے ہیں ۔ ایسے کئی حادثے سامنے ہیں جہاں پولیس مسلمانوں کاساتھ دینے کے بجائے درندوں کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے بلکہ حالات اس حد تک خراب ہوچکے ہیں کہ درندگی کا شکارہونے والے مسلمانوں پر پولیس جھوٹا الزام لگا کر انہیں شک کے گھیرے میں کھڑا کردیتی ہے۔ جب ان حادثات کی عالمی سطح پرمخالفت شروع ہوئی تو وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک کمزور بیان جاری کرکے ان حادثوں سے پلہ جھاڑ لیا۔ یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بیان دیا کہ اکثریتی طبقے کو اکسانے میں اقلیتی طبقے کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اس کا سیدھا اور صاف مطلب یہی ہے کہ ہر طرح کا ظلم سہنے کے باوجود اقلیتی طبقے کو اپنی زبان بند رکھنی چاہیے۔ اس وقت پورے ملک میں مسلمانوں کے اندر خوف اس حدتک سرایت کرچکا ہے کہ مسلمان ٹرین میں سفر کرنے سے گھبرانے لگے ہیں ۔ شام میں گھر سے باہر نکلنے میں خوف محسوس ہوتا ہے۔

ان دنوں سوشل ویب سائٹس پر نفرت آمیز ویڈیو اورپوسٹ ڈال کر ماحول کو خطرناک بنانے کی سازش ہورہی ہے۔ مذہب کے نام پر ان دہشت گردوں کے حوصلے اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ کرنال میں مسجد پر چڑھ کر جے شری رام کے نعرے لگائے گئے۔ حصار کی مسجد کے باہر ایک مسلمان کو تھپڑ جڑ کر اس سے بھارت ماتا کی جئے کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا گیا۔ مویشیوں کو لے جانے کے جھوٹے الزامات لگا کر بھیڑ کے ذریعہ زخمی کرنے کی وارداتیں اب ہر نئے دن کی سرخیاں بن چکی ہیں ۔ عدلیہ خاموش۔ حکومت چپ۔ آر ایس ایس کو فکر نہیں ، کیونکہ ایک بڑے مشن پر کام ہورہا ہے۔ کرناٹک میں سیکولر کہی جانے والی کانگریس کی حکومت ہے۔ ابھی حال میں وہاں پولیس نے مدارس کے ۲۰۰ طلبا کو بنگلور ریلوے اسٹیشن پر پوچھ تاچھ کے بہانے آٹھ گھنٹے تک روکے رکھا اور ان کے ساتھ برا سلوک کیا۔ ملک میں مسلسل ہونے والی بھیڑ کی درندگی پرکانگریس کی خاموشی اس بات کا اشارہ دے رہی ہے کہ وہ مسلمانوں کی حمایت کرکے اکثریتی طبقے کو ناراض کرنا نہیں چاہتی۔ موجودہ صورتحال میں وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کی تعریف کرنا ہوگی، جس نے بڑی حد تک مسلمانوں کے زخموں پر مرحم رکھنے کی کوشش کی ہے۔

امرناتھ یاتریوں پردہشت گردوں کا حملہ ہوا تو دہشت گردوں کی مخالفت میں سارا ہندوستان ایک پلیٹ فارم پر نظر آیا۔کشمیری حریت لیڈران نے بھی دہشت گردوں کی خبر لی۔ عمر عبد اللہ نے ٹوئیٹ کرکے راجناتھ کے قدم کی تعریف کی۔ یہ حقیقت ہے کہ راجناتھ سنگھ کے بیان نے مسلمانوں کو اس بات احساس کرایا کہ انہیں ایسے معاملوں سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر اس ملک میں جمہوریت کو داغدار کرنے والے لوگ موجود ہیں تو ایسے لوگوں کی بھی کوئی کمی نہیں جو ملک کے تحفظ اور سالمیت کو برقرار رکھنے کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں ۔بھیڑ کی درندگی کو لے کر دانشوروں کا سویاہوا طبقہ ایک بار پھر جاگ گیا۔ صبا دیوان، گوہر رضا، شبنم ہاشمی، گریش کرنارڈ اورہزاروں دانشوروں نے پورے ملک میں ناٹ ان مائی نیم، کی جو مہم چلائی، اس کی داد نہ دینا بے انصافی ہوگی۔ گلی محلے سے لوگ نکل کر سڑک چوراہوں پر جمع ہوئے۔ دلی کے جنتر منتراور دوسرے مقامات پر بھی جمہوریت پسندوں کا قافلہ نظر آیا۔ یہ ایک کھلا پیغام تھا کہ آپ دہشت گردی کے نام پر جو کچھ بھی کررہے ہیں اس میں ایک سو بیس کروڑ ہندوستانیوں کو شامل نہ کیجئے۔ چھوٹے چھوٹے بچے، اسکول کالج کے نو عمر لڑکے لڑکیاں ناٹ ان مائی نیم کی تختی لگائے سلگتے جلتے ہوئے ہندوستان کو وہ پیغام دینے کی کوشش کررہے تھے، جس کی اس ماحول میں سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ اور یہ پیغام خاموشی سے اپنا کام کر گیا۔

یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ہندوستان کے اکثریتی طبقے کے بیشتر لوگوں نے بھی یہ محسوس کیا کہ مذہب کے نام پر مشتعل ہجوم جو نفرت کا کاروبار کررہا ہے، اس کا روکا جانا ضروری ہے۔ امرناتھ یاتریوں پر حملے کے بعد کچھ بھاجپائی لیڈران نے ناٹ ان مائی نیم، مہم کو سیاسی رنگ دینا چاہا لیکن اس وقت ایسے لوگوں کی بولتی بند ہوگئی، جب اس موقع پر بھی محبت کا پیغام دینے والے بڑی تعداد میں جمع ہوئے اور ایک بار پھر یہ پیغام دیا گیا کہ ہندو مذہب ہو یا اسلام، ہمارے نام پر قتل وغارتگری کا بازار بند کیجئے، کیونکہ ہرمذہب محبت کی تعلیم دیتا ہے اورٹوٹے دلوں کو جوڑنا سکھاتا ہے۔نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے خوفناک اثرات کے باوجود ہندو راشٹر بنانے کا اعلان اکثریتی طبقے کو اپنی طرف کھینچنے  کے لیے کافی ہے۔ لیکن یہ بھی سچائی ہے کہ بڑھتی ہوئی فرقہ واریت اور نفرت نے اس طبقے کو بھی سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ آخر ہمارا ملک کس سمت میں جارہا ہے؟ اس وقت ایک خاموش بغاوت ناٹ ان مائی نیم کی شکل میں سامنے آئی ہے اور اس مہم کی کامیابی کادائرہ دنوں دن بڑھتا ہی جارہا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ ناٹ ان مائی نیم کا پیغام، آہستہ آہستہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کے دلوگوں تک پہنچنے کی کوشش کررہا ہے۔ یہی ہمارے ہندوستان کی اصل طاقت ہے۔ سماجی، معاشرتی اورتہذیبی سطح پر ہماری جڑیں اتنی پختہ اورمضبوط ہیں کہ دنیا کی کوئی بھی شر پسند طاقت ہمارے اتحاد کا شیرازہ نہیں بکھیر سکتی۔



⋆ تبسم فاطمہ

تبسم فاطمہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے