سیاستہندوستان

بھیڑکا علاج ضروری ہے!

وصیل خان

مسلمانوں کے ساتھ ظلم و زیادتی اور گائے کے نام پر قتل و غارت گری کا ایک لامتناہی سلسلہ چل پڑا ہے۔ اس کی تیز رفتاری کا یہ عالم ہے کہ اخبارات کے صفحات ایک آدھ نہیں روزانہ کئی کئی خبروں سے خون آلود رہتے ہیں ۔مارپیٹ اور قتل و خون میں سنی ہوئی ان خبروں کی تعداد اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ آنے والی ہولناک خبریں سابقہ خبروں کی ہولناکی کو ماند کرتی جاتی ہیں کس کو یاد رکھا جائے ، کس کو بھلایا جائے انسانی ذہن ماؤف ہوتا جارہا ہے ۔ایسا لگتا ہے کہ ہم دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک میں نہیں کسی جنگل میں رہ رہے ہیں جہاں نہ کوئی قانون ہے نہ ہی کوئی ضابطہ ،جس کی لاٹھی اس کی بھینس ۔آپ نہ کھلے عام سفر کرسکتے ہیں نہ کہیں آجاسکتے ہیں خطرہ کس طر ف سے منھ پھاڑے آجائے گا اس کی کوئی ضمانت نہیں ۔ماضی میں ہندومسلم فسادات ہوتے تھے ، اس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی جانیں جاتی تھیں بیشمار گھروں کو نذرآتش کردیا جاتا تھا اور نہ جانے کتنے مالی اثاثے لوٹ لئے جاتے تھے ،مگر اب فرقہ پرستوں نے پیٹرن تبدیل کردیا ہے اور اچانک اسلحوں سے لیس ایک بھیڑ کسی پر بھی پل پڑتی ہے ا ور ذرا سی دیر میں آگ و خون کی ندیاں بہنے لگتی ہیں ، چاروں اور چیخ وپکار مچ جاتی ہے ۔

یہ کوئی معمولی بات نہیں ایک  نہایت خطرناک اشاریہ ہے اس ہندو راشٹر کے قیام کیلئے جس کی تکمیل کیلئے سنگھ پریوار ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے ہے۔ یہ بھیڑ کوئی آوارہ بھیڑ نہیں بلکہ پوری طرح منظم ہے ۔یہ بھیڑ مذہبی اشتعال انگیزیوں کے پیچھے بہت تیزی سے چلتی ہے ۔یہ بھیڑ کسی بھی ایسی تنطیم یا گروہ کے ساتھ ہوسکتی ہے جو ان میں اشتعال ،کشیدگی اور شر انگیزی بھردے ،پھر اس بھیڑ سے کوئی بھی تباہ کن کام کرائے جاسکتے ہیں ۔ہمارے ملک کے اندر اس بھیڑ میں تیز ی سے اضافہ بھی ہورہا ہے اور استعمال بھی ۔مستقبل قریب میں اس بھیڑ کا استعمال ساری قومی اور انسانی اقدار کی تباہی اور جمہوری طرز نظام کے خاتمے کیلئے کیا جانےوالاہے۔

پہلے فسادات پرانکوائری یاکمیشن بٹھائے جاتے تھےتو لوگوں کو کچھ ڈھارس ہو جاتی تھی ، آنکھوں کے آنسواس امید میں رک جاتے تھے کہ ممکن ہے انہیں انصاف مل جائے اور مجرمین کیفر کردار کو پہنچ جائیں اور ماضی میں ایسا ہوا بھی ہے، مگر اب بی جے پی سرکار کے دور حکومت میں نہ کوئی داد ہے نہ فریاد، نہ کوئی سننے والا نہ دیکھنے والا۔حکمراں ٹولہ بس زبانی جمع خرچ سے کام لیتا ہے اور وہ بھی منصوبےکےایک حصے کے طوریا پھر اس وقت جب پانی سر سے اونچا ہوجاتا ہے اور بین الاقومی سطح پر رسوائی کی بات آجاتی ہے ۔وزیراعظم کی خاموشی اور چشم پوشی کا حال یہ ہے کہ گذشتہ تین سالوں میں شاید تین ہی بار انہوں نے گئورکشکوں کی سرزنش کی ہو اوروہ بھی اس طرح جیسے پانی پر لاٹھی ماری جائے جس سے نہ لاٹھی کوکو ئی نقصان پہنچے نہ پانی ہی الگ ہو ۔بی جے پی سرکار نے برسراقتدار ہوتے ہی گائے اور گئو ونش کے تحفظ کیلئے نہ صرف اقدامات کئے بلکہ پارلیمنٹ او رصوبائی اسمبلیوں میں کچھ قوانین بھی پاس کئے اس کے باوجود گذشتہ تین سالوں میں گئو کشی کے نام پر گوشت اور مویشیوں کے بیوپاریوں پر حملوں کے ( 75)سے زائد واقعات ہوچکے ہیں جن میں اب تک 48 سے زائد بے گناہوں کو اس بھیڑ نے پیٹ پیٹ کرمارڈالاہے اور شاید یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ان مرنے والوں میں اکثریت مسلم نوجوانوں کی ہے ۔

ایک انگریزی پورٹل کے مطابق این ڈی ٹی وی کے رپورٹر اطہرالدین عرف منے بھائی جب اپنے بوڑھےوالدین، بیوی اور دو بچوں کے ساتھ بہارکے ویشالی ضلع کے کرنچی گاؤں سے سمستی پور کے ایک گاؤں رحیم آباد جارہے تھے، مظفرپور نیشنل ہائی وے پر ٹریفک جام کے سبب انہوں نے اپنی کار روک دی اور انتظار کرنے لگے تبھی ایک نوجوان کار کی طرف آیا اورکہنے لگا کہ گاڑی موڑ لیجئے ورنہ آپ کی گاڑی جلا دی جائےگی ،ان کے استفسار پر اس نے بتایا کہ وہ بجرنگ دل کے لوگ ہیں ،اسی درمیان چار پانچ لاٹھی بردار لوگ ان کی کار کی طرف بڑھےاور اندر جھانکنے لگے ،ان کے والد باریش اور بیوی نقاب میں تھی، پھر اچانک جے شری را م کے نعرے تیز ہونے لگے یہ لوگ مسلسل لاٹھیاں سڑک پر پٹخ رہے تھے ، اس وقت میں اور میراخاندان گھبراہٹ سے کانپ رہا تھاوہ لوگ کار کے قریب پہنچے اور زور زور سے چلاتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ بولو جے شری رام ورنہ گاڑی پھونک دیں گے، اس وقت سامنے کسی گاڑی سے دھواں اٹھ رہا تھا ، ایسا لگتا تھا کہ کوئی گاڑی جلا دی گئی ہے ۔میرے سامنے مصیبت قہر بن کے کھڑی تھی مجبوراً اور مصلحتاًمیں نے اور گھر کے سبھی افراد نے جے شری رام کے نعرے لگائے ۔اطہرالدین کے مطابق انہوں نے جو بھی کیا وہ محض  اپنی اور گھروالوں کی جان بچانے کیلئے کیا کیونکہ زندگی اور موت کے درمیان محض چند لمحوں کا فاصلہ رہ گیا تھا ۔جس خوف و دہشت کے دباؤ میں مجھ سے جے شری رام کے نعرے لگوائے گئے اس کا انہیں زندگی بھر افسوس رہے گا ۔بہر حال کسی طرح وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے  ، آج بھی سارا منظر آنکھوں کے سامنے گھوم رہا ہے ،موت رقص کررہی تھی اور ہم مجبور و بے بس تھے ۔

یہ خوف صرف اطہرالدین کا ہی نہیں نہ جانے کتنے اطہرالدین روزانہ اس طرح کی بربریت کا شکار ہورہے ہیں ۔ یہ خوف و دہشت کی فضا پورے ملک پر مسلط ہےجہاں اقلیتی طبقات، خصوصا ً مسلمان بڑے پیمانے پر نشانہ بن رہے ہیں ۔آخر حکومت وہ بھی جمہوری حکومت کے ہوتے ہوئے کچھ لوگ اس قدر آزا د کیوں چھوڑ دیئے گئے ہیں کہ وہ جب چاہیں لوگوں میں موت تقسیم کرنے لگتے ہیں ، وجہ صاف ہے پولس سورہی ہے ، انتظامیہ اونگھ رہی ہے اور انہیں سلانے والے وہی حکمراں ہیں جو بڑی مکاری سے ملک پر قابض ہوگئے ہیں ۔انہیں سبق سکھانا ضروری ہے اور آنے والاپارلیمانی الیکشن اس بات کا فیصلہ کردے گا کہ ملک میں یا تو جمہوریت رہے گی یا پھر فاشزم ۔لیکن تاریخ کے ریکارڈ میں یہی درج ہے کہ جیت ہمیشہ حق کی ہی ہوتی ہے اور حق انہی کے ساتھ ہوتا ہے جو اللہ کی مرضی کو اپنا نصب العین بنالیتے ہیں اور جو ایسا کرتے ہیں اللہ انہیں ہر حال میں سرخرو ئی کے انعام سے نواز تا ہے ۔

وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے

ہزارسجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

وصیل خان

ممبئی اردو نیوز

متعلقہ

Back to top button
Close