سیاست

بہت مایوس کیا راہل گاندھی نے!

حفیظ نعمانی

دہلی میں آخرکار وہی ہوا جس کا خطرہ ہمیں نظر آرہا تھا۔ راہل گاندھی جو پہلے کھلی کتاب تھے اب بند گولک بن گئے ہیں۔ انہوں نے جب اترپردیش کے بارے میں اعلان کیا کہ وہ 80  سیٹوں پر الیکشن لڑیں گے تو اندازہ یہ تھا کہ وہ سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی سے بڑا حصہ چاہتے ہیں۔ ہم جیسے لوگوں نے لکھا بھی اور کہا بھی کہ ماحول کی فضا میں گرد نہ اُڑایئے ان لوگوں سے بات تو کرلیجئے یا اجازت دیجئے کہ ہم بات کریں۔ لیکن انہوں نے اچانک پرینکا گاندھی کو میدان میں اتار دیا اور یہ سمجھا کہ بس اب ہمارا اور بی جے پی کا مقابلہ ہوگا۔ وہ یہ بھول گئے کہ اس گٹھ بندھن کے لئے اکھلیش یادو نے ایک سال سے زیادہ خون جلایا اور محنت کی ہے۔ اور وہ کیا ہے جو کوئی نہیں کرسکتا۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ ملک کا سب سے مضبوط ستون بنا ہے اور جو اس سے ٹکرائے گا وہ چور چور ہوجائے گا۔

اور جب راہل گاندھی ڈھونڈنے نکلے تو انہیں 50  آدمی بھی ایسے نہیں ملے جن کو لوک سبھا کے اکھاڑے کا پہلوان کہہ سکیں۔ ہم نے بار بار لکھا تھا کہ اُترپردیش کی مسلم سیٹوں پر سلمان کو ٹکٹ نہ دیجئے گا لیکن مراد آباد جیسی اہم سیٹ پر ایک گانے والے کو لاکر کھڑا کردیا لکھنؤ میں ایک بابا کو ٹکٹ تھما دیا اور ایسی بچکانہ حرکتیں کیں جس نے ان کا وقار مجروح کردیا۔

اسی زمانہ میں اروند کجریوال کو نہ جانے کس کیڑے نے کاٹا کہ وہ یہ کہنے لگے کہ لوک سبھا کا الیکشن بی جے پی کو ہرانے کے لئے ہم اور کانگریس مل کر لڑلیں۔ حیرت ہے کہ وہ برابر دیکھ رہے تھے کہ راہل یہ طے کئے بیٹھے ہیں کہ علاقائی پارٹیوں کو چاہے وہ جتنی بھی مضبوط ہوں ختم کرنا ہے۔ شاید ان کے بقراط مشیروں نے انہیں یہ سمجھایا تھا کہ اگر علاقائی پارٹیاں جیت گئیں تو وہ نہ مودی کو حکومت بنانے دیں گی اور نہ راہل کو بلکہ غیربی جے پی اور غیرکانگریس حکومت بنائیں گی۔ اس لئے یہ کوشش کرنا چاہئے کہ بی جے پی، کانگریس اور علاقائی پارٹیوں میں سب سے زیادہ ممبر کانگریس کے ہوں تاکہ راہل وزیراعظم بن سکیں۔

یہ بات تو ہم بھی محسوس کررہے ہیں کہ اگر کوئی سید شجاع جیسا مشینوں کا شاطر نہیں ہے تو جن ریاستوں نے 2014 ء میں بی جے پی کو دو سو سیٹیں دی تھیں وہ اس بار اگر پچاس دے دیں تو بہت ہے اترپردیش، بہار، راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، گجرات، پنجاب اور ہریانہ ہر جگہ دشمنوں نے ڈیرہ ڈال رکھا ہے ان کے بعد جو ریاستیں ہیں وہ حکومت نہیں بنوا سکتیں۔ اسی لئے راہل گاندھی نے کسی بھی اس پارٹی سے اتحاد نہیں کیا جو جیتنے کے بعد ان کو آنکھیں دکھائے۔ حیرت ہے کہ کجریوال جنہوں نے 2015 ء میں کانگریس اور بی جے پی دونوں کو صاف کردیا تھا وہ اس دشمن کانگریس کے دروازہ پر کیوں گئے جسے انہوں نے مسل کر ختم کردیا تھا۔ وہ شیلا دکشت جس کی ساری عزت اور شہرت انہوں نے خاک میں ملادی وہ کیسے ان سے مل کر لڑسکتی تھیں؟

ایک ماہر کی طرح کجریوال کو میدان میں اترکر پھر دونوں کو للکارنا چاہئے ہر سمجھدار آدمی یہ جانتا ہے کہ کجریوال تو بہت کچھ کرنا چاہتے تھے مگر مودی جی نے اتنا ہی نہیں کہ کرنے نہیں دیا بلکہ نئے نئے مسئلے کھڑے کرکے سب کو پریشان کردیا۔ اپنے پالتو الیکشن کمشنر کو ان کے ممبروں کے پیچھے لگایا صدر محترم سے راتوں رات دستخط کرائے غرض کہ اتنا تو انہوں نے پاکستان کو بھی پریشان نہیں کیا اور چین کو پریشان کرنے کی نہ ہمت کی جتنا عام آدمی پارٹی کو کیا۔ ان کا آج تک باعزت وزیراعلیٰ بنا رہنا ایک کارنامہ ہے۔ وہ بھول جائیں کانگریس کو اور ایک بار پھر وہی کہانی دہرائیں جو 2015 ء میں سنائی تھی ان کے پاس سب سے بڑی طاقت ان کی ایمانداری ہے۔ ان کو اندازہ نہیں ہے کہ کجریوال کا چندر بابو نائیڈو اور ممتا بنرجی سے بہت قریب ہونا راہل کو برداشت نہیں ہے۔ لیکن یہ نکون خود ایک طاقت ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ کجریوال ایک چھوٹی سی ریاست کے وزیراعلیٰ ہیں اور وہ بھی آدھے اختیارات کے مالک لیکن صلاحیت کے اعتبار سے نہ جانے کتنی بڑی بڑی ریاستوں کے وزیراعلیٰ سے زیادہ اہم ہیں وہ دہلی میں جو کرسکتے ہیں وہ کریں ہار جیت جس کے ہاتھ میں ہے وہ کوئی اور ہے اور اس کے بعد ممتا بنرجی کے ساتھ لگ کر ان دونوں خود غرضوں کا بیڑہ غرق کریں۔

ایک اہم مسئلہ وزیراعظم مودی کے مقابلہ کا ہے۔ ہم نے بہت پہلے یشونت سنہا کے نام کے بارے میں کہا تھا کہ وہ کسی پارٹی کے نہیں ہیں اور اگر راہل گاندھی صبر کرلیں اور ان کے نام پر تیار ہوجائیں تو اڈوانی جی، جوشی جی اور وہ سب جو زخمی ہیں پلیٹ فارم پر نظر آئیں گے ہم تو یہ بھی کہتے ہیں کہ کانگریس کو اس کے حال پر چھوڑ دیے اور یشونت سنہا کو کھڑا کردیجئے۔ ملک میں پرینکا کے بارے میں بار بار کہا جارہا ہے۔ انہوں نے کہہ دیا کہ اگر بھائی کہہ دیں تو وہ تیار ہیں۔ راہل گاندھی ہوں یا کوئی اور مودی جی خاندان اور پریوار کی کہانی شروع کردیں گے۔ اور ایک بہت بڑا حلقہ کٹ جائے گا۔ یہ بات سنہا صاحب کے نام کے ساتھ نہیں ہوسکتی۔ یہ ایک نام ایسا ہے جس میں وزن بھی ہے تجربہ بھی ہے اور کشش بھی۔ ان کو مودی جی کے مقابلہ پر کھڑا کردیا جائے پھر دیکھئے قوم انہیں کیسے سر پر اٹھاتی ہے۔ رہی بات وزیراعظم کی تو اس کا فیصلہ تو ایک مہینہ کے بعد ہوگا اس وقت ملک کے دانشور جو فیصلہ کریں گے اسے منظور کرلیا جائے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close