سیاست

بیشک وہ ہوا، جس کا تصور بھی نہیں تھا

حفیظ نعمانی

تاریخی الیکشن کے نتیجے تقریباً آگئے ان میں بہت کچھ ایسا ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا اور کچھ ایسا ہے جس کا خطرہ محسوس ہی نہیں ہورہا تھا بلکہ تذکرہ میں بھی آچکا تھا۔ اب تک جب بی جے پی کے صدر امت شاہ اپنی پارٹی کے لئے تین سو کا ہندسہ بتاتے تھے تو ہم جیسے لوگ اسے مذاق سمجھتے تھے۔ لیکن صرف تین دن پہلے ہم نے ایک ٹی وی کے مذاکرہ میں ہونے والی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ مذاکرہ کے بزرگ ممبر منورنجن بھارتی نے اچانک کہا کہ لیجئے کلام خاں بھی آگئے یہ برسوں سے ان لوگوں کے ساتھ رہتے ہیں یہ بتائیں گے کہ یہ کیا سوچتے ہیں؟ تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا تھا کہ اترپردیش میں بی جے پی کو 50  کے قریب سیٹیں مل جائیں گی۔ اور جب سب کا منھ کھلا رہ گیا تو انہوں نے کہا تھا کہ ایک اہم بات کانگریس کا گٹھ بندھن میں شامل نہ ہونا یا شامل نہ کرنا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ برسوں کے پرانے کانگریسی سب گٹھ بندھن کے مخالف ہوگئے اور جہاں کانگریس کا امیدوار تھا سارا ووٹ اسے دیا اور جہاں نہیں تھا وہاں بی جے پی کو دے دیا۔ اور ہماری اطلاع یہ ہے کہ دلتوں میں صرف مایاوتی کی ذات والے تو ان کے ساتھ رہے باقی ذاتوں برادریوں کو دل کھول کر پیسے دیئے اور سب کو بی جے پی نے لے لیا اور یہی یادو برادری کے ساتھ بھی ہوا کہ جو آدیواسی ان کے ساتھ تھے وہ چھوٹ گئے۔

یہ بات صرف ہم نے نہیں کئی لوگوں نے لکھی کہ راہل گاندھی جو کھیل کھیل رہے ہیں وہ صرف یہ ہے کہ علاقائی پارٹیوں کو ختم کردیا جائے جیسے چودھری چرن سنگھ کی بی کے ڈی اب سمٹ کر آر ایل ڈی یعنی تین سیٹوں تک رہ گئی ہے۔ لیکن اس کی توقع نہیں تھی کہ وہ اتنا نقصان پہونچائیں گے کہ دونوں پارٹیوں کو 2014 ء کے انجام کے قریب پہونچا دیں گے۔

ایک بات جس کا اندازہ تو تھا مگر یقین نہیں تھا کہ ریزرو بینک کے گورنر سے وہ کرالیں گے جس کا اس وقت خطرہ محسوس ہورہا تھا لیکن ایک جگہ سے نہیں جگہ جگہ سے اطلاع آئی کہ ہر گائوں کے جیتے ہوئے پردھان کو پچاس ہزار اور ہارے ہوئے پردھان کو تیس ہزار دے کر پورے گائوں کے ووٹ خرید لئے گئے تھے۔ اور دوسرا حربہ طاقت کا بھرپور استعمال ہوا۔ جواب اس کا صرف یہ تھا کہ اپنے کو سیکولر طاقت کہنے والی پارٹیاں مسلمانوں کو برابر کھڑا کرتیں اور ان پر اعتماد کرتیں۔ لیکن جب سے مودی جی نے مسلمانوں کو اتنا زہریلا بنا دیا کہ وہ گجرات کے ہندوئوں سے کہنے لگے کہ اگر بی جے پی کو ووٹ نہیں دیا تو کانگریس پاکستان کی مدد سے احمد پٹیل کو وزیراعلیٰ بنا دے گی۔ اور گجرات کے پورے الیکشن میں راہل گاندھی نے اپنے کسی جلسہ میں مسلمان کا نام نہیں لیا اور نہ کسی اہم مسلمان کو قریب آنے دیا۔ اس کے باوجود مسلمانوں نے کانگریس کو ووٹ دیا لیکن آئندہ کیا ہوگا؟

2017ء کے الیکشن کے وقت اترپردیش میں وزیراعظم ہر تقریر میں کہتے تھے کہ جب قبرستان کے لئے مسلمانوں کو زمین دے رہے ہو تو شمشان کے لئے ہندوئوں کو بھی زمین دے دینا چاہئے اور جب رمضان میں مسلمانوں کو بجلی دیتے ہو تو دیوالی میں ہندوئوں کو بھی دینا چاہئے۔ اب  یہ سابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادو کی کم عمری تھی یا خاندان سے کٹ کر اکیلے لڑنے کی کمزوری کہ اتنا بھی نہ کہہ سکے کہ آپ کے جلسہ میں ہزاروں آدمی آتے ہیں ہندو بھی مسلمان بھی ان سے ذرا کہلا دیجئے کہ زمین کہاں کہاں دی ہے اور مسلمان رمضان میں بجلی کب مانگتے ہیں؟ اس کے بجائے انہوں نے اکھلیش کو دوسرے درجہ کا ہندو ثابت کرنا شروع کیا تو ایک بار انہوں نے بڑے درد کے ساتھ کہا کہ میں بھی تو ہندو ہوں۔

لیکن یہ بات ہم نے گذشتہ دو سال میں کئی دوستوں سے سنی کہ مایاوتی تو مسلمان کو ووٹ دینے کے لئے یا ان کو ریزرویشن کے لئے زبان کھولتی بھی ہیں اکھلیش یادو نے تو مسلمان کانام لینا ہی چھوڑ دیا۔ اور اترپردیش کے گٹھ بندھن میں اس کی اتنی بری حالت صرف اس لئے ہوئی کہ مسلمان انتخابی سیاست سے الگ کردیا گیا۔ وہ جس کے ساتھ بھی ہوتا تھا دل سے ہوتا تھا۔ اب جو اکثر زبانوں پر ہے کہ بی جے پی کے پاس انتہائی تربیت یافتہ آر ایس ایس کی فوج ہے اور مخالف پارٹیوں کے پاس ورکر نہیں ہے۔

بات اترپردیش کی نہیں بہار، بنگال، کرناٹک اور ان صوبوں کی بھی ہے جہاں کانگریس کی حکومت تھی۔ ہم کہتے رہے کہ وہاں دونوں بہن بھائیوں کو محنت کرنا تھی مگر دونوں اترپردیش میں اپنے بھائیوں کی جڑیں کھودنے میں لگے رہے جس کا ایک بدلہ تو یہ ملا کہ راہل امیٹھی میں اس وقت تک ہار رہے ہیں جب ہم لکھ رہے ہیں اور یہ اس وقت ہے جبکہ مایاوتی اور اکھلیش نے اپنے ووٹروں کو ان کی مدد کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اس کے بعد کانگریس یہ سوچے کہ اب وہ اترپردیش کے صوبہ پر حکومت کرے گی تو اسے انجام سوچنا چاہئے کہ اب وہ اپوزیشن لیڈر تو بن جائے گی لیکن بغیر مسلمانوں کے پارٹی کی شکل میں باقی بھی رہے گی یا نہیں؟ جب بائیں بازو نے بنگال میں ممتا کی ضد میں بی جے پی کو ووٹ دلادیئے تو ان کی مخالفت میں بھی کوئی نہ کوئی سامنے آئے گا۔

اب ماہِ مبارک کا آخری عشرہ شروع ہونے والا ہے ہر مسلمان روزہ افطار سے پہلے اور ہر نماز کے بعد یہ دعا ضرور کرے کہ ہماری خطائوں کو معاف کردیا جائے اور ملک میں مسلمانوں کی باعزت زندگی میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ آمین۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close