سیاستہندوستان

بیٹیوں کا تحفظ: محض سیاسی جملہ

راحت علی صدیقی قاسمی

بی جے پی 2014 کے اسمبلی انتخابات کی تشہیر سے آج تک ہمیشہ عورتوں کے تحفظ کا دعوی کرتی رہی ہے، ان کے حقوق و مسائل بی جے پی کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں، ہمارے وزیر اعظم مختلف مواقع پر عورتوں کے مسائل پیش کرتے ہیں، ان کی مشکلات و مصائب پر بحثیں کرتے ہیں، اپنی گفتگو میں اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ وہ عورتوں کی پریشانیوں کے تعلق سے کتنے سنجیدہ و فکرمند ہیں، ان کے مسائل کو ہر حال میں حل کرنا چاہتے ہیں، عورتوں کے مسائل کو ختم کرنے کی مسلسل تدبیریں کرتے ہیں، خاص طور پر انہیں مسلم عورتوں کے مسائل زیادہ ستاتے ہیں، اسی لئے انہوں نے مسلم عورتوں کے مسائل حل کرنے کا بیڑا اٹھایا، ان پر ہونے والی تکالیف ختم کرنے کی تحریک چلائی، اس کے ضمن میں مذہبی معاملات میں دخل دینے لگے، مسلمانوں کی مخالفت بھی جھیلنے کے لئے تیار ہوگئے۔

مسلم ووٹ بینک کی انہیں کبھی ضرورت تھی ہی نہیں اور نا انہوں نے اس طبقہ کی خواہشات کی پرواہ کی، انہوں نے عورتوں کے مسائل کے لئے مسلمانوں کی ناراضگی کا خیال تک بھی نہیں کیا، طلاق ثلاثہ، حلالہ، تعدد ازدواج وغیرہ مسائل کو لیکر انتہائی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا، عدالت عالیہ کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا، جس پر کچھ مسلم عورتیں ان کی دلدادہ ہو گئیں، ان کے اس فعل کو قابل ستائش گرداننے لگیں، اِن عورتوں کی تصویریں ٹی وی اور اخبارات کی زینت بنیں، انہیں شہرت حاصل ہوئی، اور ملک کے اکثریتی طبقہ کی پسندیدہ ہوگئیں، اس طبقہ کی جانب سے اِنہیں منصف، تعلیم یافتہ اور جدید خیالات سے ہم آہنگ ذہن رکھنے کا اعزاز حاصل ہوا، انہوں نے مٹھائیاں تقسیم کیں، خوشی کے ترانے گنگنائے، تمام چینلز پر ان عورتوں کی جیت کے شادیانے بج رہے تھے، ہمارے وزیر اعظم مسلم عورتوں کے حقوق کی بازیابی کا جشن مناتے نظر آئے، ملک کا اکثریتی طبقہ وزیر اعظم کے نعروں سے متاثر نظرآیا، حالانکہ کے اکثر مسلم عورتیں ان کے اس عمل کے خلاف احتجاج کرتی ہوئی نظر آئیں، لیکن یہ ہمارے رہنما کی نظر میں عورتوں کا تعاون تھا۔

بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ بھی ہمارے وزیر اعظم کا پسندیدہ نعرہ ہے، وہ بیٹیوں کو ترقی کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں، انہیں معیاری تعلیم سے بہرہ مند کرنا چاہتے ہیں، مختلف قسم کی اسکیمیں رائج کر رہے ہیں، بیٹیوں کے روشن مستقبل کی خواہش رکھتے ہیں، جہیز کے مخالف ہیں، بیٹیوں پر ظلم و جبر کے خلاف ہیں، حتی المقدور اسے روکنے کی کوشش کرتے ہیں، بیٹیوں پر ہونے والی جنسی زیادتی انہیں پسند نہیں ہے۔

میڈیا نے یہی ثابت کیا ہے، وزیراعظم نے بھی اس نظریہ کو پختہ کرنے والے دلائل پیش کئے ہیں، بی جے پی کے کارکنان نے ان دلائل کو قابل اعتبار بنانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور صرف کیا ہے، ان نظریات اور دلائل پر غور کریں اور بی جے پی کے عورتوں کے تحفظ کے تئیں کئے گئے دعووں پر غور کریں، تو احساس ہوتا ہے، عورتیں ملک میں صد فی صد محفوظ ہونگی،انہیں کوئی غم نہیں ہوگا، کوئی مسئلہ ان کے دل میں بے چینی کا باعث نہیں ہوگا، ان کی عزت و آبرو محفوظ ہوگی، ان کا وقار بحال ہوگا، ان پر تشدد نہیں ہورہا ہوگا،ان کی خواہشات کا احترام کیا جا رہا ہوگا، جہیز کی مانگ نہیں کی جارہی ہوگی، بیٹیاں پڑھ رہی ہونگی، اعلی تعلیم حاصل کر رہی ہونگی، انہیں کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوگا،یقینی طور پر اتنے دعووں اور محنت کا ثمرہ یہی ہوسکتا ہے۔

حالانکہ منظرنامہ پر نگاہ ڈالی جائے تو تصویر کا رنگ کچھ الگ ہی ہے، ملک کی صورت حال انتہائی متحیر کن ہے، عصمت دری کے واقعات اخبارات کی سرخیاں بن رہے ہیں، بچیوں کا گوہر آبرو تار تار کیا جارہا ہے، ان معصوموں کو ہوس کے پجاری کچل رہے ہیں، ان کے ساتھ وحشت کا گھناؤنا کھیل کھیلا جارہا ہے، اور ایسی تصویریں نگاہوں کا استقبال کر رہی ہیں، جنہیں دیکھ کر آنکھیں خون کے آنسو رونے لگتی ہیں، دل دہل جاتا ہے، راتوں کی نیند اُڑ جاتی ہے، تصورات کی دنیا میں ہلچل ہو جاتی ہے، مسلم اور غیر مسلم بچیوں سے متعلق اس طرح کے واقعات رونما ہوئے ہیں، لیکن ہمارے وزیر آعظم کی زبان پر خاموش چھائی رہی، انہوں نے کوئی ایسا جملہ ادا نہیں کیا جو ان کی تکلیف کا غماز ہوتا،ان کے درد کو ادا کرتا، ماضی میں جو اس سے لمحہ بھر کے لیے اگر نگاہیں پھیر لیں، تو مظفر پور کے ایک پناہ گھر میں ایسا واقعہ پیش آیاجس نے قلوب کو ہیبت زدہ کردیا، انسانیت کو شرمسار کردیا ہے، اعتماد کی دھجیاں اڑا دی ہیں، عزت کے محافظ ہی عزت کے لٹیرے بن گئے، 21 بچیوں کی عصمت دری کی گئی، ان کی آبرو کو کچلا گیا، ان بچیوں کے بیان کے مطابق ایک بچی کو مار کر پناہ گھر کے احاطہ میں دفن کردیا گیا، جس کی تلاش جاری ہے، ملک میں سناٹا ہے، میڈیا نے اتنے عظیم سانحہ کوسیاسی مصلحتوں کے پیش نظر منظر نامے سے غائب کردیا ہے، کہیں اس پر ڈیبیٹ نہیں ہے، وزیر اعظم کا کوئی بیان نہیں آیا، بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ کے نعرے کا بھی لحاظ نہیں کیا گیا، کیا یہی بیٹیوں کے تحفظ کی دلیل ہے؟ کیا یہی بیٹیوں کے حقوق کی جنگ ہے جو ہمارے وزیر اعظم لڑ رہے ہیں ؟ کیا عورتوں پر ظلم کرنے والوں کے لئے کوئی شکنجہ نہیں ہے؟

اتنا بڑا واقعہ ہوا ہے اور کسی کو علم ہے نا احساس ہے، اور درد کی یہ داستان یہیں تک محدود نہیں ہے، بلکہ مظفر پور کے ریمانڈ ہوم کا دورہ کرنے والی خواتین کمیشن کی چئیرمین دلمنی دیوی حیرت زدہ رہ گئیں، جب انہیں علم ہوا کہ یہاں رہنے والی لڑکیوں کے ساتھ ہر منگل کو جنسی بدسلوکی ہوتی ہے، اور یہ فعل بد انجام دینے والے کوئی اور نہیں قوم کے محافظ ہوتے ہیں، اور ہر منگل کو یہ افسران جانچ کے نام پر آتے ہیں، لڑکیوں کو وہاں سے لے جاتے ہیں، اور پھر بعد میں انہیں چھوڑ جاتے ہیں، ان مظلوم خواتین کی داد رسی کرنے والا کوئی نہیں ہے، ان کی فریاد سننے والا کوئی نہیں ہے، کیا یہی بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ کے نعرے کی حقیقت ہے؟ کیا اسی طرح بیٹیاں ترقی کی منازل طے کریں گی؟ اور نگاہ اٹھائیے تو دہلی تین لڑکیاں بھوک کی وجہ سے دم توڑ گئیں، کسی پر کوئی فرق نہیں پڑا، کہاں ہیں ہمارے وزیراعظم جو سیاسی دنیا میں پتہ بھی ہلتا ہے، تو گرجتے اور برستے ہوئے دکھائی پڑتے ہیں، کیا محض طلاق کے مسئلہ کو اٹھانا عورتوں کا تحفظ تھا؟ کیا عورتوں کو کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے؟ کیا جن پر مظالم ہورہے ہیں یہ عورتیں نہیں ہیں ؟ یہ ملک کی بیٹیاں نہیں ہیں ؟ انہیں مدد اور تعاون کی ضرورت نہیں ہے؟ اگر واقعی انہیں مدد کی ضرورت ہے، تو ان کی مدد کب ہوگی؟ یا محض طلاق اور مسلمانوں سے متعلق مسائل کو ہوا دے کر سیاسی فائدہ اٹھانا ہی اس نعرے کا مقصد ہے؟

جیسا کہ قرین قیاس ہے، ورنہ تونجیب کی ماں بھی مسلمان ہے، وہ بھی ہمدردی اور تعاون کی ضرورت مند ہے، وہ بھی اسی دیش کی مظلوم بیٹی ہے، اس کے ساتھ ہمارے وزیراعظم ہمدردی کا اظہار کیوں نہیں کرتے؟ ہمارے وزیراعظم کو خیال کرنا چاہئے،محض جملوں سے زیادہ دنوں تک ملک پر حکمرانی نہیں کی جاسکتی، آہستہ آہستہ حقائق پر پڑی گرد صاف ہونے لگی ہے، لوگوں کو حقائق نظر آنا شروع ہوگئے ہیں، اور اس مرتبہ حصول اقتدار کی راہ میں اپوزیشن کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے، بلکہ عوام جس کو اگر بی جے مطمئن نہیں کرپائی تو وہی صورت بی جے پی کا بھی استقبال کریگی، جس کا چار سال قبل کانگریس نے مشاہدہ کیا تھا، لہذا ہمارے وزیراعظم کو بیٹیوں کے حقوق کے لئے حقیقتاً سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے، اور سیاسی پہلو سے صرف نظر کرتے ہوئے عورتوں کے حقیقی مسائل کا ازالہ کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close