سیاست

بی جے پی اور خواتین

محمد صابر حسین ندوی

وہ بھی دن آئے کہ ان خوابوں کی تعبیر بنے

تیری خاطر جو حسیں خواب چنے میں نے

حکومت وقت کی پالیسیاں تعمیر سے زیادہ تخریب کاری پر مبنی ہیں،جھوٹ بولنا،سچ اور واقعہ کو خلط ملط کر کے گمراہ کرنا،عمدہ نعروں اور وعدوں پر اعتماد کرنے کیلئے آمادہ کرنا اور پھر تفرقہ و تشدد کے ذریعے ذہنی آزمائش و تشویش میں مبتلا کر کے بے راہ کردینا اس کی فطرت ثانی بن چکی ہے،اسی کا ایک حصہ یہ بھی ہے؛ کہ نام نہاد شہرت، طاقت و قوت  اور حکمرانی کا سکہ جمانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگادیتی ہے، خواہ اس میں کسی کی جانی ومالی قربانی ہی کیوں نہ سینی پڑے،یا دغا و مکر کا پلندی ہی کیوں نہ کھڑا کرنا پڑے،خصوصا  انتخابات میں زنانہ اعتماد حاصل کرنے کیلئے سبز باغ دکھلاتی ہے،خوشنما جملوں اور اشتہارات سے ان کی فکروں کو سحرزدہ کردیتی ہے، رطب ویابس اور خشک و تر کی تمیز سے غافل بنا دیتی ہے، ایسے مسائک اور مدعوں کو زیر بحث لاتی ہے کہ عقل حیران وسرگردان رہ جائے، چنانچہ ایک وقت تھا جب بیٹی پڑھاو،بیٹی بچاو کی تحریک چلائی گئی تھی،دہلی کے میں واقع نربھیا کیس میں بڑھ چڑھ حصہ لیا گیا تھا،اور پورے ملک کو یہ باور کرایا گیا تھا؛ کہ زعفرانی پارٹی خواتین کے حقوق کی محافظ ہے،اگر اسے موقع دیا گیا ؛ تو ظلم وجور کا باب بند ہوجائے گا،حقوق نسواں کی تبلیغ واشاعت کی جائے گی، مرکزی حکومت اسے ۵۰ فیصد ریزرویشن بھی دیدے گی،ہر طرف امن وامان ہوجائے گا،وہ جب چاہیں جہاں چاہیں؛ چل پھر سکیں گی، شب وروز کی کوئی پابندی نہ ہوگی، ہوس کی نگاہیں اور مردانہ زور کارگر نہ ہوپائے گا، آزادی کی ایک نئی عبارت لکھی جائے گی،جو دلوگوں کے دل و دماغ پر نقش ہوجائے گی۔

سچ تو یہ ہے؛ کہ یہ سب کچھ نظروں کا فریب ثابت ہوا،چشمہ سراب تھا،یہ شادابی دراصل ویرانی تھی، اور اندازہ بھی نہ تھا ؛کہ حقیقت اس کے برعکس اس قدر خوفناک لبادے میں ظاہر ہوگا،جسے ریوڑ کا محافظ و سربراہ سمجھا جارہا تھا، وہی اس پر رہزنی کرے گا، ڈاکہ ڈال کر پورا قافلہ ہی چٹ کر جائے گا، چنانچہ ہوا یہ ؛کہ عورتوں کو سر عام بازاروں اور چوراہوں پر ننگا کر کے کوڑیوں کے بھاو بیچ دیا گیا،اس کے منتظمین ہی زانی نکلے، کٹھوعہ سے لے کر اناو اور پھر مظفرپور کی داستان معصوم و صنف نازک کے خون سے لکھی گئی، عبادت گاہوں اور متبرک سمجھے جانے والے مقامات بھی ناپاک کر دئے گئے،عمر کی کوئی قید نہ رہی،درندگی کی ایسی تصویریں دکھلائی گئین؛  کہ شاید تاریخ میں کبھی نہ دکھی ہوں،اور اس دن چشم فلک بھی غمگین ہو اٹھا، ابر آلود ہوگیا، انسانیت شرمسار ہوگئی، جس دن عالم یہ ہوا؛ کہ زعفرانیت کے رنگ میں ملبوس نوجوانوں کی ایک جماعت نے ایسے حیوانون کی حفاظت کرنے، اور انہیں قانونی مواخذہ سے بچانے؛ نیز ایسے معاملات کو کم تر بنانے کی خاطر سڑکوں پر نکل پڑی،بعض دیوسیت اور خباثت کے مرقع نے عورتوں کی عزت کے ساتھ کھلواڑ کرنے کو معمولی بات کہہ کر نسوانیت کے گال زوردار طمانچہ مارا،اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کہ عورت کی خمیر ہی کچل ڈالنے اور پیروں تلے روند ڈالنے کی ہے۔

ہوسکتا ہے کہ اس طرح کے واقعات کا شکار دیہی علاقوں میں موجود معصوم ہورہی ہوں،لیکن واقعہ یہ ہے؛کہ اپنے آپ کو لبرل اور ماڈرن زمانے کی اپ ٹو ڈیٹ لڑ کی ہونے کا دعوی کرنے والیاں،کالج اور یونیورسٹیز کی ہونہار و ہوشیار طالبات،ترقیاتی منصوبوں اور ملکی مفاد میں جیسے تعلیم و تربیتی کاموں میں اہم رول ادا کرنے والیاں بھی محفوظ نہیں ہیں،رہی سہی آزادی اور عزت بھی خطرے میں پڑ گئی ہے،آپ الہ باد میں امت شاہ کو کالے جھنڈے دکھلانے والی لڑکیوں کی ویڈیو دیکھئے! مردانہ پولیس کی بے تحاشا ڈنڈے اور نرم ونازک خواتین کی بے بسی وبے کسی دیکھ کر دل بھر آئے گا،اگر آپ میں غیرت کی غ بھی ہو؛ تو رعشہ طاری ہوجائے گی، خون ابال مارنے لگے لگا، اور رہ رہ کر محسوس ہوگا؛ کہ کاش آپ ان ظالموں کا ہاتھ مروڑ پاتے، اور کسی طرح ان کے درد کا درماں بن پاتے، محبت و مدد کا ایک ہاتھ بڑھا کر ان کے زخموں پر پھایہ رکھ پاتے،اور ان کی امیدوں کی کشتی کو کسی طرح بھی ساحل سے لگا پاتے،اور یہ دعا دیتے:

ہونٹوں پہ ہنسی کی دھوپ کھلے، ماتھے پہ خوشی کا تاج رہے

کبھی جس کی جوت نہ ہو پھیکی، تجھے ایسا روپ سنگھار ملے

اسی طرح جے،این،یو کی طالبات پر گھٹیا الزامات لگائے گئے،لکھنو یونیورسٹی کی وہ طالبات جنہون نے یوگی آدیہ ناتھ کے قافلہ کو روکنا چاہا، اور احتجاج درج کرانے کی کوشش کی؛ انہیں بھی مارا اور گھسیٹا گیا،حد تو تب ہوگئی؛ جب ان تمام طالبات کو داخلہ دینے سے بھی انکار کر دیا گیا،تعلیم کے نام پر انہیں فحاشیت کا خزانہ کہا گیا،نوجوانوں کے جنسی خواہشات کیکئے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے؛انہیں حدود وقیود کی سرحدیں دکھائی گئیں، سوسائٹی کیلئے خطرہ بتلا کر تعلیمی مراکز بند کردئے جانے اور انہیں گھروں میں شو پیس بنانے کی تلقین کی گئی، اندازہ کیجئے کہ کچھ ہورہا ہے! ان کے ہر بول پر ٹرول ہوتا ہے،ان کی رائے تہمت بن جاتی ہے،آزاد خیالی بد چلنی کا انعام پاتی ہے، جمہوریت یا ملک کے حق میں زبان کھولنا زہر بن جاتا ہے،فیس بک اور ٹیوٹر جیسے عالمی شوشل نیٹ ورکس پر بے دریغ گالیاں دی جاتی ہیں،ان کے گھروں میں گھس کر عصمت دری کرنے اور ہوا وہوس کی صولی دے دینے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں،راہ پر چلنا، سیر وتفریح پر نکلنا، بازاروں اور گلیوں میں پیدل چلنا ہھرنا غلطی اور جرم تصور کرلیا گیا ہے،اوباش اور بد معاشوں کی پوری جماعت بھگوا دھاری میں لپٹ کر سد راہ بننے کو تیار بیٹھی رہتی ہے،جو پھبتیاں کسنے اور فقرہ بازی کرنے کے خصوصی پیادہ ہوتے ہیں۔جنہیں سیاست دانوں کی پشت پناہی نصیب ہوتی ہے،اگر خدارا پولیس کی مدد لی جائے تو وہ بھی سوائے ایضا کے کوئی کردار ادا نہیں کرتی۔

ممکنہ طور پر یہ مان لیا جائے؛کہ ملک میں عمومی اخلاقی انارکی اور بے روزگاری و بے مروتی نے اسے اس دوراہے پر لاکھڑا کیا ہے؛لیکن کیا عجب ہے؛ کہ اکثر و بیشتر واقعات میں رواں حکومت کے افراد ہی ملوث نظر آتے ہیں، بعض اوقات بلاواسطہ تو کہیں بالواسطہ مرادنہ قوت؛ بلکہ کہنا چاہئے کہ حکومتی گرمی دکھاتے نظر آتے ہیں، یہی وجہ یے؛ کہ ایک سروے میں ہندوستان کو خواتین کیلئے سب سے مضر ملک بتایا گیا ہے،یہاں کی معروف اداکارہ(پرینکا چوپڑا) جب بیرونی ممالک کا دورہ کرتی ہیں، اور خواتین کے سلسلہ میں زمانے سے ملک عزیز کا موازنہ کرتی ہیں؛ تو وہ بھی یہ ماننے پر مجبور ہوجاتی ہیں؛ کہ ہندوستان میں لڑکی ہونا جرم ہے،بحیثیت خاتون سالمیت کی زندگی حرام ہے،اندازہ کیا جاسکتا ہے؛ کہ جو خود ہزاروں برائیوں سے اٹی ہوئی ہے؛ غالباجس کیلئے اقدار بے معنی ہوں اور نام نہاد آزادی کی علمبردار ہو، اس کیلئے لئے بھی یہ ملک محفوظ نہیں؛گویا باغ بھی اجڑ گیا، گلستاں کا ہر گل مرجھانے کی ضد پر ہے،تب بھی الووں کی جماعت کا ڈیرا برقرار ہے،خانہ خراب میں آگ لگانے کی دیر ہے،بس انتظار ہے؛کہ کسی آن یک بیک ہر ذرہ بے نشاں کردیا جائے۔

عورت نے جنم دیا مردوں کو، مردوں نے اسے بازار دیا

جب جی چاہا مسلا کچلا جب جی چاہا دھتکار دیا

مردوں کے لیے ہر ظلم روا، عورت کے لیے رونا بھی خطا

مردوں کے لیے ہر عیش کا حق، عورت کے لیے جینا بھی خطا

مردوں کے لیے لاکھوں سیجیں، عورت کے لیے بس ایک چتا

عورت نے جنم دیا مردوں کو، مردوں نے اسے بازار دیا ہے

  ساحر لدھیانوی نے عورت کو دنیا کی قسمت قرار دیا تھا؛لیکن آج وہ خودبحث تقدیر بن گئی ہیں۔

وتار پیعمبر جنتی ہے پھر بھی شیطان کی بیٹی ہے

یہ وہ بد قسمت ماں ہے جو بیٹوں کی سیج پہ لیٹی ہے

اسی لئے ان سب کے درمیان بسااوقات حقوق نسوان کا جن بوتل سے نکل پڑتا ہے، اور سڑکوں و راہ گزر پر مسلط ہوجاتاہے؛لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے؛ کہ اس میں ایک خاص طبقہ ہی نظر آتا ہے؛ صرف انہی کے مسائل درپیش ہوتے ہیں،نہ جانے کیوں وہی مظلوم نظر آتے ہیں،دنیا کی سب سے زیادہ لٹی پٹی اور مظلوم ہستی انہیں کی ہوتی ہے،کبھی تین طلاق اور حلالہ جیسے پرسنل لا پر حملہ کر کے بالجبر حقوق کے تحفظ کا دم بھرنے کی کوشش ہوتی ہے،یہ الگ بات ہے؛ کہ ان کے شوہروں کو گئو رکشا یا بچہ چوری کے بے معنی الزامات پر ہجومی دہشت گردی کے ساتھ قتل۔کروادیا جائے، اور انہیں بیوگی برداشت کرنی پڑے، ایسے میں کوئی چوں بھی نہیں کرتا؛لیکن نا اتفاقی کی بنا پر آزادانہ زندگی کے مواقع فراہم کئے جائیں، تو اسے ظلم و بربریت کا ہمالیہ بنا دیاجاتا یے،جب کہ نہ جانے کتنی خواتین آشرم میں بغیر شوہر کے اور معاشرے کی دوہری نظر کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں؛لیکن کیا مجال؛ کہ کوئی ان کی خبر لے،ان کی بے چینیوں کا مداوا کرے، معاشرے میں انہیں مقام دلوائے،عزت وبلندی کی زندگی میسر کرے۔

اصل بات تو یہ ہے کہ حکومت بے اولادوں،رنڈووں اور اس طبقہ کی ہے جو عورت کو داسی ماتنے ہیں، ان پر حکومت کرنے اور انہیں زیر دست رکھنے اور اپنی بھوکی ہوس کی پیاس مٹانے کا آلہ کار سمجھتے ہیں، یہ زعفرانیت کا اور برہمن کا رنگ ہے،جس کی اصل دوسروں کو غلام بنانے یا وقت پڑنے پر غلام بن جانے کی ہے،اگر ان کے سایہ میں آپ کی بچیان اور بہو بیٹیاں چھوڑی گئیں؛تو یقین جانئے! سوائے افسردگی اور پشیمانی و زود کے کچھ حاصل نہ ہوگا،معاشرہ برباد ہوجائے گا،خاندانی نظام تہس نہس ہوجائے گا،تماما قوموں کی پرسنل لا پر قدغن لگا دیا جائے گا،اور پھر سے زمانہ ماضی کی طرح عورتوں کو ہاتھوں کا کھلونا بنا کر؛ اس کے ساتھ کھیلنے، توڑنے اور بیچ دینے کی مہم چل پڑے گی، ابھی تو دو چند قصہ رونما ہورہے ہیں، اگر آئندہ انتخابات میں بھی فتح ہوئی، تو ممکن ہے؛ کہ یہی سب کچھ اضعافا مضاعفہ ہوجائے،آپ گنتی بھول جائیں گے؛ لیکن واقعات کم نہ ہوں گے، اب یہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ آپ اپنی بچیوں کو کیسا مستقبل دینا چاہتے ہیں،انہیں کس طرح کا ملک فراہم کرنا چاہتے ہیں؟ کیا ڈر و خوف اور ہراسانی کی تاریک ترین دنیا میں انہیں گم کردینا چاہتے ہیں؟یا ایک خوبصورت اور روشن وتاباں کل کی روشنی عطا کر کے نئی زندگی اور نئی روح بخشنا چاہتے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close