سیاست

بی جے پی میں بوکھلاہٹ، وجہ کیا ہے؟

حکیم نازش احتشام اعظمی

29اپریل2019کو عام انتخابات کا چوتھا مرحلہ چھٹ پٹ تشدداور مارپیٹ کی خبروں کے درمیان  مجموعی طور پر پُر امن ماحول میں اختتام پذیر ہوگیا۔ 29اپریل کوملک بھرکی 9ریاستوں کے 72پارلیمانی حلقوں میں رائے دہندگان نے اپنے اختیارات کا کھل کر استعمال کیا،لیکن یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ سابقہ مراحل کے مقابلے اس بار ووٹنگ فیصد انتہائی کم رہا۔ ایک مغربی بنگال کو چھوڑ دیا جائے تو زیادہ تر ریاستوں میں 65فیصد سے بھی کم  ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔ جبکہ انتخابی کمیشن نے اجمالاً 64 فیصد ووٹنگ کا دعویٰ کیا ہے۔ حالاں کہ گزشتہ 2014کے عام انتخابات میں چوتھے مرحلے کے ووٹ فیصد پر اگر نگاہ ڈالی جائے تو جونتائج برآمد ہوتے ہیں وہ بی جے پی کیلئے تشویش کا باعث ہوسکتے ہیں۔ گزشتہ عام انتخابات  کے چوتھے مرحلے میں 63.5فیصد ووٹ پڑے تھے۔ جبکہ بیشتر سیٹوں پر ایک ڈیڑھ فیصد کے فرق سے ہی بھاجپائی امیدوار کامیاب ہوسکے تھے۔ اب قابل غور بات یہ ہے اس بار اگر وہی ایک ڈیڑھ فیصد ووٹ بی جے کے مخالف امیدوار کے کھاتے میں چلے جاتے ہیں تو سمجھا جاسکتا ہے کہ فیصد کا یہ کھیل برسر اقتدار این ڈی اے خاص طور پر بی جے پی کا کھیل بگاڑ سکتا ہے۔ خیال رہے کہ 29اپریل2019کو جن 72سیٹوں پر انتخابات ہوئے ہیں، ان میں سے 56سیٹیں یکمشت بی جے پی کے کھاتے میں گئی تھیں۔ مگر اس بار کی صورت حال مختلف ہے، البتہ یہ کہنا مشکل ہے کہ اضافی ووٹ کس کی طرف گئے ہیں۔ اگر یہ ووٹ بی جے کی حامی طاقتیں، کارپوریٹ گھرانے، ان کے ذریعہ چلائے جارہے نیوز چینلس اور پولرائزیشن کی شرمناک کوششوں اور نفرت میں آگ سے بھری ہوئی بی جے پی کے خلاف گئے ہوں گے تو یقینی طور پر کہا جاسکتاہے کہ ترقی کے گجرات ماڈل کودکھا کر عوام کو فریب دینے والا منصوبہ اور ترقی کے خواب دکھانے والے بیانات، جنہیں خاص طور پر آرجے ڈی سپریمولالو یادو نے ’’جملہ ‘‘ قرار دیا تھا اور وزیر اعظم کے قلمدان سنبھالنے کے کچھ ہی دنوں بعد نامہ نگاروں کے  روبرو بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ نے ملک سے باہر جمع دھنا سیٹھوں کی بلیک منی واپس لا کر ملک کے ہر غریب کے اکاؤنٹ 15لاکھ روپے جمع کرانے اور سالانہ دوکروڑ نوکریاں فراہم کرا نے کا وعدہ کرنے اور اس ایشو کو انتخابی منشورمیں شامل کرنے کیباوجود حکومت کی ناکامی پر اٹھے سوال کاجواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ سب انتخابی ’’جملہ‘‘ تھا، جس سے حکومت اور بی جے پی خود کو علیحدہ کررہی ہے۔ روزگار فراہم کرنے کے خوشنما دعووں کے درمیان وزیر اعظم پٹریو ں اور خانچوں پر سخت دھوپ اور موسم کی سختیوں کے باوجود ہر طرح کی تکالیف جھیل کر اپنے کنبہ کیلئے پکوڑے اور فاسٹ فوڈ جیسے چاؤمین، برگر، پیٹیز اور تلے یا کچے چنے بیچنے والوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ایک منصوبہ بند انٹرویو میں بھاجپائی ٹی وی چینل کی اینکر کو جواب دیا تھا کہ آپ کے آفس کے باہر جولوگ خانچے اور ریڑھیاں لگاکر پکوڑے بیچ رہے ہیں اور شام کو دو تین سوروپے کماکر گھر لوٹتے ہیں۔ کیا انہیں آپ روزگار کہیں گی یا نہیں ؟ یعنی وزیر اعظم نریندر بھائی دامودر داس مودی اس نامعقول جواب کے ذریعہ بی ٹیک، بی ایڈ،ایم ایڈ، ایم فل اور پی ایچ کرنے والے اور مذکورہ بالا کورس کررہے  نوجوانوں کو یہ پیغام دے ہیں کہ نوکریاں دینا یا نوکری پانے کسی متبادل منصوبہ کو عملی جامہ پہنانا ان کے بس کا روگ نہیں ہے، لہذا یہی بہتر ہے کہ وہ پکوڑے تلیں اور بیچیں۔ مطلب صاف ہے کہ آپ جعلیڈگری پر وزیر اعظم بن جائیں، آٹھویں پاس یا قطعی طور پراپنی اور حلیف جماعت کے ناخواندہ ممبران کو بھی اپنی وزارت کے قلمدان میں شامل کرلیں۔ اور جس اعلی تعلیم پانے کسی ریاست یا ملک کی ترقی کے امکانات اور منصوبہ پر پی ایچ ڈی کر چکے اسکالرس، دانشوروں اور محققین سے پکوڑے تلوائیں۔

بی جے پی کویہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ وزیر اعظم کا یہ بیان آج بھی پڑھے لکھے اور اعلیٰ ڈگری یافتہ نوجوانوں کے ذہنومیں محفوظ ہے۔ اسی زمانے جب وزیر اعظم نریندرمودی کا یہ بیان سنہ 2018میں ایک مخصوص میڈیا چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے تعلیم یافتہ اور اسکالر س کی توہین کی تھی اور اس انٹرویو کو نشر بھی کیا گیاتھا۔ جس خلاف ملک بھر کے چنندہ اور معیاری یونیوسیٹیوں اور کالجز کے طلبا ء نے ملک گیر پیمانے پر احتجاج کیا تھا۔ یہ بھی عجیب بات ہے کہ اپنی ہی ڈگری کے اسکیم میں پھنسے ہوئے اور اس سے بھی کم تر یعنی آٹھویں، دسویں پاس لوگوں کوبی جے پی نے سیاسی راستے سے اعلیٰ مقام  فراہم کیا ہے، جبکہ محنت کی چکی میں خود کو دن رات پیس کرکندن بنانے والے اور دھن کے پکے قول وعمل کے سچے، عزم کے پہاڑ اور ملک کے آئین و قانون کا احترام کرنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ڈی گریڈ کی ایک مستقل ملازمت کیلئے بھی ترس رہے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ مدعوں سے بھٹکاکر اور فوج کے جوانوں کی دہائی دے کر، کبھی سرجیکل اسٹرائیک تو کبھی بالا کوٹ تو کبھی مذہب کا کارڈ کھیل کر ملک کے صاف ذہن اور امن پسند شہریوں کو یرغمال بنانے کی یہ روش ملک کے حساس اور ٹھگی کے شکار ہوچکے عوام کو اپنی جانب مائل کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوسکیں گے، یہ کہنا مشکل ہے۔ البتہ ووٹ پرسینٹ میں اضافہ کی رپورٹ بی جے پی اور اس کی حلیف جماعتوں کے اندرکھلبلی مچائے ہوئی ہے۔

 فصل بیمہ کے نام پر لگ بھگ ایک کروڑ سے زائد کسانوں کو اربوں روپے کا قرض دار بنادیا گیا، اس کے بدلے میں تو انہیں کچھ بھی نہیں ملا، البتہ بی جے پی کو بڑا بڑا چندہ دینے والے اور وزیر اعظم کی چہیتی بیمہ کمپنیوں کے مالکان کو دس ہزار کروڑ کا راست منافع ہوا۔ اس کے برخلاف کسانوں سے مختلف فصلوں کیلئے پریمیم کی شکل میں لاکھوں کروڑ روپے وصول کرلئے گئے اورفصلوں کی بربادی کے بد لے میں انہیں آٹے میں نمک برابر بھی معاوضہ نہیں دیا گیا، البتہ بیمہ کمپنیوں کی جانب سے ملک  کے(انیہ داتاؤں ) کی برباد شدہ فصلوں کی مالی مدد کی جگہ انہیں ٹھینگا دکھا دیا گیا۔ نتیجہ کار بیمہ کمپنیوں کی جانب سے فراڈ اور فریب کا شکار بننے والے ملک کے بارہ ہزار کسانوں نے اب تک اپنی قیمتی زندگی کو موت کے حوالے کردیاہے۔ جبکہبیمہ کمپنیوں کو راست طور پر 1000کروڑ کا منافع ہوا۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس کا نقصان بی جے پی کو اٹھا ناپڑسکتا ہے۔ آج پورے ملک میں مرکزی حکومت کی کسان مخالف پالیسیوں کی وجہ زبردست غم وغصہ ہے اور اس بار ووٹنگ فیصد میں جو دو ڈھائی فیصد اضافہ ہوا ہے، اس کا بڑی حدتک مخالف جماعتوں کو فائدہ مل سکتا ہے۔ لہذا برسر اقتدار جماعت کے اندر زبردست اضطراب کا ماحول ہے۔ وہ شدید طور پر مضطرب ہوچکے ہیں، حتیٰ کہ بی جے پی کے بعض سینئر لیڈروں اپنا ٓپا بھی کھودیا ہے۔ وہ افسران کو گالیاں بھی بول رہے ہیں۔ انہیں دیکھ لینے کی دھمکی بھی دے رہے ہیں۔ نتیجہ کار ملک گیر سطح پر کسانوں کا احتجاج بیمہ کی رقم اور قرض کی معافی کیلئے لگاتار ہورہا ہے۔ اس وقت جنوبی ہند کے سوسے زائد کسان وزیر اعظم کیخلاف انتخابی میدان میں دریائے گنگاکے ساحل پر واقع تاریخی شہر اور وزیر اعظم کے انتخابی حلقہ سے میدان میں اتر چکے ہیں، یہ بھارتیہ جنتا پارٹی اوراس کی حلیف جماعتوں کیلئے کوئی اچھا اشارہ نہیں ہے۔

دوسری جانب کمرتوڑ مہنگائی کیخلاف ملک کے عوام  محاذ آراء ہوچکے ہیں، رائے دہندگان دوٹوک لفظوں میں نعرے لگارہے ہیں ’’ کمل کا پھول ہماری بھول‘‘ جبکہ رفائل جیسے سودوں اور اس میں ہونے والی گڑبڑیوں پر کانگریس صدر راہل گاندھی مستقل یہ نعرے لگوا رہے ہیں کہ ’’چوکیدار چور ہے‘‘۔ جبکہ ااس الزام کو ایک سال سے زائد کا عرصہ بیت گیا۔ مگر ابھی تک وزیر اعظم یا پی ایم اواور وزارت دفاع  میں کسی جانب سے بھی اس الزام کاقابل قبول اور پختہ جواب نہیں دیا جاسکا ہے۔ بہرحال ووٹنگ  فیصد میں ہورہے اضافہ اور بے جے پی امیداواروں کی بوکھلاہٹ اس بات کی غمازی کررہی ہے کہ اگروہ لوگ چہ کلین سویپ کے دعوے کررہے ہیں۔ مگر اپنی عوام مخالف پالیسیوں کی وجہ سے اقتدار ان کے ہاتھوں سے جاتا ہوا صاف نظر آ رہاہے۔

گزشتہ پیر کے روز کان پور میں ملک اور ریاست کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقامی رہنما نے ووٹنگ کے دوران پولنگ آفیسر کو سنگین نتائج کی دھمکی دے دی، جس کی ویڈیو کلپ سامنے آگئی اور وائرل بھی ہورہی ہے۔ لوک سبھا انتخابات کے چوتھے مرحلے میں ریاست اترپردیش میں ایوانِ بالا کی 13 نشستوں پر ووٹنگ ہوئی، کانپور، شاہ جہان پور، لکھیم پورکھیری، ہردوئی مسرکھ، اوناؤ،فرخ آباد، ایٹاوا، قنوج، اکبر پور، جالان، جھانسی اور ہمیر پور کے شہریوں نے پیر کے روز اپنا حق رائے دہی کا بھرپور استعمال کیا۔ اطلاعات ہیں کہ پولنگ کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقامی رہنما سریش اوستھی نے الیکشن کمیشن کے تعینات کردہ آفیسر کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے کہا کہ ’میں تمہیں تو کل دیکھوں گا، کیونکہ ویسے بھی تم میری ہٹ لسٹ پر ہو‘۔

حکومت کی ایجنسی سمجھے والے ایک نشریاتی ادارہ اے این آئی نے بی جے پی رہنما کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کردی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اس تنازع میں جس وقت نیتاجی کے دماغ پر کرسی کا غرورچھایا ہواتھا، لہذاالیکشن آفیسر کو بھدی گالیاں بک رہے تھے اوربازاری زبان کاا ستعمال کررہے تھے، اس وقت کانپور کے میئر پرامیلا پانڈے بھی وہاں موجود تھے اور وہ سریش کو سمجھانے کی کوشش کررہے تھے۔ خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ بی جے پی رہنما کی ضد تھی کہ وہ اپنی مرضی چلائیں گے اور ساتھیوں سمیت پولنگ اسٹیشن میں بیٹھیں گے، جس پر الیکشن آفیسر نے انہیں سمجھانے کی کوشش بھی کی مگر وہ نہ مانے اورانتخابی افسران کو دھمکاتے رہے۔ بعد ازاں بی جے پی رہنما کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ تعجب تو اس بات پر ہے کہ اس قدر ظلم وزیادتی اور مثالی انتخابی ضابطۂ اخلاق کی دھجیاں اڑانے کے دو روز روز گزر جانے کے باوجود انہیں اب تک حراست میں نہیں لیا گیا ہے۔ دریں اثنا ملک بھرکی حزب اختلاف کی پارٹیوں کی جانب سے مسلسل چیف الیکشن کمیشن پر دلیل کے ساتھ یہ الزام عائد کیا جارہا ہے کہ وہ بی جے پی کیلئے کام کررہے ہیں، جبکہ یہ خود مختار ادارہ ہے، جس کی ماضی کی تاریخ بڑی مثالی اور غیر جانبدارانہ رہی ہے۔ مگر مودی اور امیت کی شاہ کاسہ لیسی میں وہ اس قدر پیش پیش ہیں کہ ان کے دربار میں بھاجپا،  امت شاہ اور بی جے کیخلاف کسی بھی سیاسی جماعت کی عرضی کو بہت کم وہ اپنی غیر جانب داری دکھا وا کرنے کیلئے کچھ شکایات قبول کرلی جاتی ہیں۔ آخر میں بی جے پی کیلئے کام کرنے والے چیف الیکشن کمیشن مسٹرسنیل اروراکے خلاف کانگریس اور دیگر سیاسی جماعتوں نے سپریم کورٹ میں  عرضی تک داخل کردی ہے۔ ان تمام واقعات کی کڑیاں ملائی جائیں تو محسوس ہوتا ہے کہ، اگرچہ بی جے پی لیڈران اپنی یکطرفہ جیت کے دعوے کررہے ہیں۔ مگر پسپائی کا خوف ان کا سکون اور راتوں کی نیندیں غارت کرچکا ہے۔

خیال رہے کہ ہندوستان  میں لوک سبھا کی نشستوں پرعام انتخابات کے چار مراحل مکمل ہوچکے ہیں۔ چوتھے مرحلے میں کل 943 امیدوار تھے اور 12 کروڑ 79 لاکھ رائے دہندگان نے  اپنا حق رائے دہی استعمال کیاتھا، اس دوران کئی پولنگ اسٹیشن پر بدنظمی نظر آئی، مختلف علاقوں میں پرتشدد واقعات بھی رونما ہوئے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ پولنگ کے  دوران جہاں جہاں بھی تشدد کے واقعات سامنے آئے ہیں، ان میں زیادہ تر مقامات پر بی جے پی اراکین ہی پیش پیش نظر آرہے ہیں، جن کی ویڈیو کلپس بھی وائرل ہورہی ہیں۔ ہندوستان میں اعام نتخابات 7 مرحلوں میں ہو رہے ہیں پانچویں مرحلے کے لیے پولنگ چھ مئی، چھٹے مرحلے کے لیے بارہ جبکہ ساتویں اور آخری مرحلے کے لیے پولنگ انیس مئی کو ہوگی۔ جبکہ ووٹوں کی گنتی 23 مئی کو ہوگی اور اسی دن نتائج کا اعلان بھی کیا جائے گا۔ مگر اس دوران بھاجپا کے اعلیٰ اہلکاروں اور عہدیدارن کی جانب سے مثالی انتخابی ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑانا  اور انتخابی کمیشن سمیت بیشتر بیورو کریٹس کا جانبدارانہ رویہ اس کی بات کی جانب اشارہ کررہا ہے کہ مذکورہ تمام طاقتوں نے بی جے پی کو جتانے کا تہیہ کررکھا ہے۔ مگر مایوس کن بات یہ ہے کہ نتائج کے اعلان سے قبل ہی شکست کے خوف بی جے پی کے اوسان خطا  ہورہے ہیں اور حالت جنون میں جو بھی زبانپر آتا ہے وہ بکتے چلے جارہے ہیں۔ خیال رہے کہ ان کی یہ غلیظ حرکتیں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل اطلاعات ایپس اور ویب پورٹل کے ذریعہ شہر سے گاؤں تک، حتیٰ کہ کھیت کھلیانوں تک پہنچ رہی ہیں جس پارٹی کیلئے عوام کے دلوں نفرت جگہ پالے گی کا راست نقصان بی جے کو ہی اٹھا نا پڑے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حکیم نازش احتشام اعظمی

ڈاکٹرنازش اصلاحی ضلع اعظم گڈھ کےعلمی خانوادے سےتعلق رکھتےہیں۔ مدرستہ الاصلاح کےفاضل، جامعہ ملیہ اسلامیہ کےخوشہ چیں، ہمدرددیونیورسٹی سےبی یو ایم ایس ڈگری یافتہ ہیں۔ آپ بنیادی طورسےطبیب ہیں تاہم تصنیف وتالیف سےحددرجہ شغف رکھتے ہیں۔ کئی کتابوں کےمصنف ومؤلف ہیں۔ موصوف 'ترجمان اصلاح' اور 'فیملی ہیلتھ' میگزین کےایڈیٹر، صحت سےمتعلق ایک NGO اصلاحی ہیلتھ کیئر کےبانی بھی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close