سیاست

بی جے پی کی فتح یابی اور کانگریس کی شکستہ دلی ذمہ دار کون؟

ہلال احمد

کانگریس کے لیے اس سے زیادہ ہتک کی بات کیا ہوسکتی ہے کہ آہستہ آہستہ ملک کے تمام ریاستیں اس کے ہاتھ سے ریت کی طرح پھسلتی جارہی ہیں، کانگریس اب محض پنجاب اور کرناٹک تک سمٹ کر رہ گئی ہے، کرناٹک میں عنقریب انتخاب ہونے والے ہیں، ہوسکتاہے یہاںبھی این ڈی اے اتحاد بازی مارلیجائے اور پھر پنجاب ہی اس کی مٹھی میں باقی رہ جائے۔ جس پارٹی کی خدمات ایک صدی سے زائد پر محیط ہوں اس کی یہ درگت ایک لمحہ کے لیے ہر شہری کو غور وفکرپر ابھارتی ہیں، آخر کیاوجہ ہے کہ جس پارٹی کو آئے ہوئے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہوں اپنی محنت اور باہم کوشش سے مرکز ہی نہیں بلکہ ملک کی تمام ریاستوںمیں کہیں اپنے بل پر اور کہیں تیموری سرکار بنانے میں کامیاب ہورہی ہے، اور گانکریس اندھیرے کی طرح چھٹتی جارہی ہے۔

یہ سوال بہت ہی اہم ہے جو ہر سیکولر ہندوستانی کے ذہن میں پایاجارہاہے، ابھی حالیہ میگھالیہ،تریپورہ اور ناگالینڈمیں ہوئے انتخابات اور اس کے نتائج نے بی جے پی میں نئی رمق پیداکردی ہے، میگھالیہ کی معلق اسمبلی پر بھی بی جے پی اتحاد نے حکومت سازی کا دعوی پیش کردیاہے اس طرح سے بی جے پی ملک کے تقریباً۲۱؍ریاستوں میں بھگوا پرچم لہرانے میں کامیاب ہوگئی ہے، کچھ ریاستیں ایسی ہیں جہاں پر علاقائی پارٹیوں کا رعب ودبدبہ برقرارہے تاہم ملک کی اہم ریاستیں بی جے پی کے چنگل میں سماچکی ہیں۔ میگھالیہ میں کانگریس نے ۲۱؍نشستیں حاصل کرنے کے باوجود شاید دوری بنائے رکھنے میں عافیت محسوس کی تبھی تو وہاں ناکامی حاصل ہوئی ورنہ کم سے کم میگھالیہ کی کلید برداری کاحق کانگریس ہی کوتھا۔ خیر بھگوااتحاد یہاں بھی کامیاب ہوااوربی جے پی کو ملک کو ایک راشٹربنانے میں ایک قدم مزیدکامیابی مل گئی۔ بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتیں جس چابک دستی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں کانگریس کو سبق سیکھنا چاہیے لیکن کانگریس ہوش کے ناخن کب لے گی کچھ کہنا مشکل ہے!!

کانگریس کی اعلی قیادت بشمول راہل گاندھی نے گجرات الیکشن میں کارکردگی اورمحنت کا جومظاہرہ کیاتھا قابل تحسین ہے یہاںحکومت سازی میں شرکت کا موقع گرچہ نہیں ملا تاہم کامیابی ضرور ملی، ایک نیاحوصلہ اورامنگ بیدارہواتھا۔مذکورہ تین ریاستوں کے انتخابات کا ملکی سیاست پر گرچہ کوئی خاص اثر نہ ہولیکن شکست نے شایدکانگریس کو پھر سے پژ مردگی کے غار میں ڈھکیل دیا ہو۔ ۲۰۱۹ء کاعام انتخاب بھی سر پر آچکاہے ایک سال سے کم کا عرصہ باقی رہ گیا ہے اگرکانگریس ایسے ہی شکستہ دلی کاشکار رہی تو ہرحال میںعام انتخابات میں مودی میجک کامیاب ہوگا اور دس سالہ مودی حکومت ملک کو بھگوارنگ میں رنگنے میں کلیتاًکامیاب ہوجائے گی۔

بہرحال کانگریس کو منتھن کرنے کی ضرورت ہے اور نرم گرم حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے ابھی سے سر پر کفن باندھ کر نکلنے کی ضرورت ہے،لیکن حالات و مشاہدات اس بات کی گواہی دے رہے ہیںکہ کانگریس اپنا دم خم سب کچھ لٹاچکی ہے، اس کے یہاں اعلی قیادت میں نقص برقرار ہے وگرنہ ملک میں اتنے سارے مسائل اور ایشوز ہیں کہ اگر درست ڈھنگ سے عوام کے سامنے پیش کیاجائے توبھگوابریگیڈاور مودی اینڈ کمپنی کو گجرات کی طرح ناکوں چنے چبوایاجاسکتاہے۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جو عام آدمی کے حق میں جاں سوز تھا،جس سے عام آدمی آج تک جانبرنہیں ہوسکاہے مودی جی اور بی جے پی نے اس کو بھی اپنے مفاد میں بھنانے میں کامیابی حاصل کی، ملک کی سب بڑی مشترکہ تہذیب کی علمبردار ریاست اترپردیش میں بلا اشتراک غیرے حکومت سازی میں کامیاب ہوگئے۔ وہاں کامیابی حاصل کرنے میں گرچہ فرقہ پرستی کازہر،مندرمسجداور گائے گوشت، عیددیوالی، شمسان قبرستان جیسے مذہبی استحصالی نعرے شامل ہیںبہرحال کامیابی کا سہرا مودی ہی کو جاتاہے۔

کانگریس کی ناکامیابی میں وہ تنہاحصہ دار نہیں ہے بلکہ جمہوری ہندوستان کی مین اسٹریم میڈیابھی برابر کی شریک ہے جو حکومت کی چاپلوسی میں دن رات لگا ہواہے اور اپوزیشن کی کردار کشی اپنا حق سمجھتاہے، مین اسٹریم میڈیا ہی کی بدولت بی جے پی نے پارلیمانی الیکشن میں کامیابی حاصل کی اور کانگریس کو اس کے گھوٹالے نے غرق کردیا۔ ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالہ کا ہوا جس انداز سے کھڑا کیا گیاتھا اس سے پوری کانگریس سرکار ندامت سے پسینہ چھوڑرہی تھی بالآخر یہی گھوٹالے اسے لے ڈوبے، حالانکہ ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالہ کو کورٹ نے یہ کہتے ہوئے خارج کردیاہے کہ اس میں کوئی گڑبڑی نہیں ہوئی ہے۔ ادھر برسر اقتدار پارٹی کے ان  چار سالہ مدت میں اتنے بڑے بڑے گھوٹالے اور راہ فرار کے معاملے سامنے آچکے اورآرہے ہیں کہ شاید بقول بی جے پی سینئر لیڈر شترگھن سنہا ’’کانگریس کو آپ نے ۶۰؍سال دیئے مجھے(بی جے پی) صرف ۶۰؍مہینے دیدیجئے کا حقیقی عکس ظاہر ہورہاہے ‘‘حالیہ پی این بی کاگھوٹالہ اور کے بعد ملک میں پیدا شدہ معاشی حالات سے ملک کا ہر نفس واقف ہے لیکن مودی جی اور ان کی اعلی قیادت اس کو بھی اپنے حق میں استعمال کرتے نظر آرہے ہیں۔

یہ بات بنائی جانے لگی کہ کرپشن پر قدغن لگانے کی وجہ سے ایسے گھوٹالے سامنے آرہے ہیں جو کہ مودی حکومت کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے یہ اور اس طرح کے دیگر گھوٹالے مودی حکومت میں ہوئے ہیں، پی این بی گھوٹالہ کے منظر عام پرآنے کے بعد بی جے پی نے پہلے دفاعی کوشش کرتے ہوئے اس کا ٹھیکرہ کانگریس کے سر پھوڑنے کی کوشش کی پھر بعد میں اسے اپنے حق میں استعمال کرنا شروع کردیا۔ نیرومودی، میہول چوکسی اورروٹومیک کے مالک وکرم کوٹھاری کے ذریعہ بینکوں سے لین میں دھوکہ دھڑی اور معیشت کو تباہ وبربادکردینے والے گھوٹالے اس پائے کے ہیں کہ اگر کانگریس اور اس کی اعلی قیادت ان کو بھنانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو شاید بی جے پی کا ۲۰۱۹ء خواب محض انہیں گھوٹالوں سے چکناچور ہوجائے لیکن کانگریس کی جانب سے کوئی خاص چاک وچوبندی نہیں دکھائی جارہی ہے، ہر طرف قبرستان سا سناٹا پسراہواہے ایسامحسوس ہورہاہے جیسے ملک میں کچھ ہوا ہی ہے نہیں، دوسری جانب میڈیا بس وہی ترقی بنام ہندومسلم ایشوزعوام کے سامنے تھالی میں سجا کر پروس رہے ہیں۔

کانگریس کے لیے وقت ہے کہ قیادت کو دلجمعی کے ساتھ سنبھالے اور فراخ دلی کامظاہرہ کرتے ہوئے ہرچھوٹی بڑی جماعت کو اپنے حصے میں شامل کرے، ملک میں پیدا شدہ عوامی مسائل پر توجہ دے۔ پارلیمانی انتخاب میں زیادہ وقت نہیں رہ گیا ہے اگر کانگریس نے حالات کو مٹھی میں جکڑنے کی کوشش نہیں کرتی ہے تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ بی جے پی کودوبارہ ملک کی قیادت سنبھالنے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک کے بعد ایک ریاستوں میں بی جے پی فتح کے پیچھے مودی میجک اور آرایس ایس کی دیرینہ محنت ضرور شامل ہے۔ جبکہ کانگریس میں اس چیز کا فقدان ہے، اس لیے کانگریس کو زمینی سطح پر بساط پھیلانے کی ضرورت ہے اور جی ایس ٹی، نوٹ بندی اور سب بڑا ایشوپی این بی بینک گھوٹالے کو پورے زوروشور کے ساتھ ملکی منظر نامے پر پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ بشمول کانگریس سیکولر جماعتوں کوبھی اس جانب توجہ دینے کی ضرور ت ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ہلال احمد

ایڈیٹرماہنامہ الاتحادممبئی

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close