سیاستہندوستان

بے فائدہ کام اور ہماری حکومت!

وصیل خان

اگر مسلمانوں یا کسی بھی غیرہندو کمیونٹیز کی طرف سے یہ مطالبات اٹھائے جانے لگیں کہ مرنے کے بعد( داہ سنسکار)یعنی مُردوں کے جلائےجانے کا عمل انسانی مزاج اور فطرت کے برخلاف ہے اور اس عمل سے مُردوں کو تکلیف ہوتی ہے اور یہ ایک طرح سے انسانی جسم کی توہین ہے تو اس کا رد عمل ہندوؤں کی طرف سے نہایت شدید ہوگا اور ان مطالبات کو براہ راست ہندودھرم میں مداخلت قرار دے کر اس کےحق میں دی جانے والی ساری دلیلوں کو بہ یک قلم مسترد کردیا جائے گااور آسمان سر پہ اٹھا لیا جائے گا ۔

انسانی معاشرے میں آگ لگنے یا لگانے کا عمل آئے دن ہوتا رہتا ہے اور دونو ں ہی صورتوں میں لوگوں کے اندر انسانی ہمدردی بیدار ہوجاتی ہے اور لوگ بلا امتیاز مذہب و ملت آگ بجھانے کیلئے دوڑ پڑتے ہیں اور بعض اوقات تو جان پر کھیل کر انسانی تحفظ کا یہ فریضہ انجام دیا جاتا ہے ، اس کام کے لئے فائر بریگیڈکا ایک محکمہ بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کو اس طر ح کی  تمام آفات ناگہانی سے بچایا جاسکے ۔لیکن وہی انسان جب موت کا شکار ہوجاتا ہے تو پھر اسے آگ کے اسی لپکتے شعلوں کی نذ رکردیا جاتا ہے ،بظاہر یہ ایک غیر انسانی عمل معلوم ہوتا ہے لیکن چونکہ اس کا تعلق دھرم سے ہے اس لئے اس پر کسی طرح کے اعتراض اور انکارکی گنجائش نہیں رہ جاتی کیونکہ ملک کے ہر ایک شہری کو ہندوستانی آئین کے مطابق اپنے اپنے مذاہب پر چلنے کی مکمل آزادی دی گئی ہے خواہ وہ عمل فطرت کے عین مطابق ہو یا برخلاف ۔ٹھیک اسی طرح مسلم کمیونٹی میں طلاق کا مسئلہ ہے چاہےوہ ایک طلاق کا ہو یا تین طلاق کا ۔

اسلام نے خودطلاق کے عمل کو انتہائی ناپسندیدہ قرار دیا ہے ، قرآن کے مطابق اللہ کے نزدیک طلاق سے زیادہ مبغوض دوسرا کوئی عمل نہیں ،یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اس کی کبھی حوصلہ افزائی نہیں کی ، لیکن بہر حال یہ بھی ایک حل ہے ۔کبھی لبھی زوجین کے مابین شدید اختلاف کے سب یہ عمل ناگزیر ہوجاتا ہے اور یہ اس صورت میں ہوتا ہے جب میا ں بیوی میں نباہ کی کوئی شکل باقی نہ رہ جائے، ایسے میں شریعت نے طلاق کو جائز قرار دیا ہے اس طرح سےطرفین کو یہ موقع مل جاتا ہے کہ علیحدگی اور نکاح ثانی کی صورت میں اپنی نئی اور پرسکون زندگی کا آغاز کرسکیں ۔اس تناظر میں وہی طلاق باعث تکلیف نہیں بلکہ رحمت کا سبب بن جاتا ہے اور طرفین نئی زندگی کا آغاز کردیتے ہیں ۔

شادی بیاہ ایک سادہ سا معاملہ ہے جسے مختصر سی تقریب میں نہایت کم خرچ سے انجام دیا جاسکتا ہے جس کی ماضی میں ہزاروں مثالیں موجود ہیں لیکن دولت کے حصول اور حرص و لالچ میں ڈوبا انسان یہاں بھی اپنی خواہشات کی تکمیل کیلئے ایک دوسرے کو لوٹ لینے کا کھیل شروع کردیتا ہے اور جہیز کے نام پر ایسے ایسے مطالبات کرتا ہے جسے پورا کرنا لڑکی والوں کیلئے ناممکن ہوجاتا ہے بالآخر انہیں زمین جائداد اور گہنے فروخت کرکے لڑکے والوں کو راضی کرنا پڑتا ہے ، اس کے باوجود ہزاروں لڑکیاں اسی جہیز کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں اور کتنی اسی انتظار میں جوانی کی دہلیز پار کرجاتی ہیں اس لئے  کہ ان کے والدین غریب ہیں ،ان کے پاس پیسے نہیں جس کی طاقت سے وہ ان لالچی اور دولت کے بھوکے لڑکوں کو خرید سکیں ۔

یہ صحیح ہے کہ حکومت نے جہیز کے خلاف سخت قوانین بنائے ہیں اور ضرورتاً اس پر عمل بھی ہوتا ہے اور یہ بھی درست ہے کہ جہیز کے خلاف اس سرکاری اقدام کی بچہ بچہ تائید کرتا ہے کیونکہ یہ قدم انسانی فلاح و بہبود کیلئے اٹھایا جانے والاایسا عمل ہے جس کا شکار ہر ہندستانی ہے خواہ وہ کسی بھی دھرم اور کمیونٹی سے تعلق رکھتا ہو ۔لیکن اگر اس معاملے کا غیر جانبدارانہ اور تحقیقی جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس لعنت کا شکار زیادہ تر ہندو کمیونٹی کے افراد ہوتے ہیں مسلمان بھی اس لعنت سے محفوظ نہیں ہیں لیکن ہندوؤں کے مقابلے میں نسبتاً ان کا گراف  بے حدکم ہے ۔

نکاح ، طلاق ، خلع اور ادائیگی ٔ مہر وغیرہ یہ سب کے سب خالص مذہبی معاملات ہیں اور ان میں پیدا ہونے والی کسی خرابی کےلئے تدارکی اقدامات بھی ان مذاہب نے طے کئے ہیں جن پر عمل کرکے انہیں سلجھا یاجاسکتا ہے ۔ان معاملات میں حکومت کی مداخلت بلا شبہ غیر فطری بھی ہے اور غیر آئینی بھی ۔یہ مذہبی آزادی ہندوستان کے ہر ایک شہری کواس وقت سے حاصل ہے جب ملک میں جمہوری طرز حکومت کی بنیاد تک نہیں پڑی تھی ۔تاریخی مطالعہ بتاتا ہےکہ انگریزوں ، مغلوں ، پٹھانوں اور ان سےبھی پہلے ہندواور بودھ حکمرانوں کے دور اقتدار میں بھی تمام مذاہب کے پیروکاروں کو اپنی اپنی عبادات اور رسومات کی آزادی حاصل تھی اوراس ضمن میں کسی بھی کمیونٹی کو کوئی شکایت بھی نہ تھی ،جس کے نتیجے میں سبھی کمیونٹی کے افراد امن و چین سے رہتے تھے ۔ حکومت ہو یا کوئی اورادارہ امن و انصاف کے بغیر نہیں چلایا جاسکتا ، موجودہ حکومت بھی امن و انصاف کے انہی اصولوں کی رہنمائی میں چل سکتی ہے یہ حکومتیں چاہے جتنا سر پٹک لیں ان کا وجود اسی انصاف کی فراہمی میں ہی مضمر ہے اس کے برعکس ان کا کوئی بھی عمل انہیں کامیابی سے ہم کنا ر کرنے والانہیں ۔

یہ اصول کل بھی ضروری تھا اور آج بھی اتنا ہی ضروری ہےکہ حکومت اس کثیر المذہب ملک میں لوگوں کی مذہبی رسومات اور قوانین کے معاملات مداخلت نہ کرے اور وہ کام کرے جس سے سبھی کو فائدہ ہو ۔انسانی فلاح و بہبود کے ہزاروں کام اب بھی منتظر ہیں جن پرمحنت کرکے ملک کو سرسبز و شاداب ہی نہیں امن وامان کی فضا بھی قائم کی جاسکتی ہے ۔انہیں چھوڑ کر حکومت نہ جانے کیوں ان بے فائدہ کاموں میں لگی ہوئی ہے جو خود اس کے لئے بھی مہلک ہے اور ملک کے لئے تو انتہائی مہلک ہے ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

وصیل خان

ممبئی اردو نیوز

متعلقہ

Back to top button
Close