سیاست

تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں

حفیظ نعمانی

2019ء کا الیکشن جسے پوری دنیا تاریخی قرار دے رہی ہے ختم ہوکر ابھی پہلا اجلاس بھی نہیں ہوا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کو ایک ملک ایک الیکشن کی سوجھ گئی۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ نہ صرف کامیاب ہوئے ہیں بلکہ اپنی توقعات اور آرزئوں سے زیادہ کامیاب ہوئے ہیں ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مارے خوشی کے انہیں نہ نیند آرہی ہے اور نہ بھوک لگ رہی ہے۔ شاید مودی جی نے شکست کے اثرات نہیں چکھے۔ جبکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ کل جو چوکیدار چور ہے کے نعرے لگاکر ظاہر کررہا تھا کہ میں نے فتح کرلیا وہ ہارنے کے 27  دن کے بعد اپنی سالگرہ کے دن مسکرایا ہے۔ اور اب بھی یہ نہیں کہا ہے کہ میں اپنا استعفیٰ واپس لے رہا ہوں ۔ اور وہ اکھلیش یادو جو اُترپردیش کی دس سیٹیں بھی امت شاہ کو دینے پر آمادہ نہیں تھے وہ اپنی مٹھی کھول کر دیکھ رہے ہیں تو اس میں صرف پانچ سیٹیں ہیں ۔

ہمیں راہل گاندھی، اکھلیش یادو، ممتا بنرجی، چندرا بابو نائیڈو اور مایاوتی کے چہرے دیکھ کر 1963 ء کے تاریخی ضمنی الیکشن میں پنڈت نہرو کے اُمیدوار حافظ محمد ابراہیم اور درجنوں کانگریس کے لیڈروں کے چہرے یاد آگئے جو آزاد اُمیدوار آچاریہ کرپلانی کا مقابلہ کررہے تھے۔ اور آچاریہ جی کی حمایت میں لکھنؤ سے بابو ترلوکی سنگھ ڈاکٹر فریدی سرت بہادر شاہ ڈاکٹر حلیم اور بابو ترلوکی سنگھ کی پارٹی پرجا سوشلسٹ پارٹی کے ورکر گئے ہوئے تھے۔ الیکشن جب ختم ہوگیا تو بابو جی نے سب کو بلاکر کہا کہ جسے گھر جانا ہے وہ پیسے لے لے اور لکھنؤ بارہ بنکی اور جہاں کا ہے وہاں چلا جائے۔ ہم نتیجے کے بعد آئیں گے۔ لڑکوں نے بھی ڈیرہ ڈال دیا۔ وجہ یہ تھی کہ الیکشن بہت کانٹے کا ہوا تھا بعض ماہروں کو جیت کا یقین تھا اور بعض حضرات الیکشن کے ہندو مسلم ہوجانے کی وجہ سے ڈر رہے تھے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لڑکوں نے بھی جانے سے انکار کردیا۔ ہمارا رہنا اس لئے ضروری تھا کہ ہم سنبھل کے رہنے والے تھے اور لکھنؤ میں رہتے تھے۔ تیسرے دن ووٹوں کی گنتی کے لئے جب مراد آباد آئے تو سب لڑکے اپنا سامان اور پیسے لے کر آئے کہ نتیجہ کے بعد جو ٹرین ملے گی اس سے لکھنؤ چلے جائیں گے۔ ایک بجے تک تو اوپر نیچے ہوتا رہا اس کے بعد آچاریہ جی بڑھتے چلے گئے اور شام ہوتے ہوتے اعلان ہوگیا کہ …ووٹوں سے جیت گئے۔

اس خبر کے بعد کوئی بھی لکھنؤ آنے کے لئے تیار نہیں ہوا سب واپس سنبھل آگئے۔ الیکشن کی دوڑ بھاگ کے زمانہ میں دس بجے رات کو آچاریہ جی کو ہر حال میں سونا ہوتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب 9 بجے کھانا پھر دوائیں اور ٹھیک دس بجے کمرہ کے اندر خاموشی طاری ہوجاتی تھی۔ لیکن جب مراد آباد سے جلوس چلا تو سیکڑوں تھے اور سنبھل آتے آتے ہزاروں ہوگئے تھے اس دن نہ آچاریہ جی کو ڈاکٹر کی ہدایت یاد آئی اور نہ ڈاکٹر فریدی کو کھانا، دوائیں اور اندھیرا یاد آیا بلکہ رات ڈوبتی گئی اور مجمع بڑھتا گیا اور نہ جانے کس کس کی دکان کھلواکر مٹھائی لے کر لوگ آتے رہے۔ دوسرے دن سنبھل والوں کی محبت کا شکریہ ادا کرنے کا جلسہ طے ہوا اور سب مقامی کارکنوں کا رات کا کھانا۔

رات کو 9 بجے جلسہ ختم ہوا اور اعلان ہوا کہ میونسپل بورڈ کے مغربی میدان میں کھانے کے لئے آجایئے۔ ڈاکٹر فریدی صاحب کی قیادت میں تمام مسلمان اور بابوترلوکی سنگھ کی قیادت میں ہندو مہمان الگ الگ میزوں کی طرف چلے۔ آچاریہ جی ہندو دسترخوان کی طرف گئے وہاں پوری کچوری دیکھ کر معلوم کیا کہ دوسری طرف کیوں کردیا سب نے کہا کہ وہ نان ویج ہے۔ آچاریہ جی نے پوچھا مرغا؟ جواب ملا جی ہاں ۔ اور آچاریہ جی ڈاکٹر صاحب کو آواز دیتے ہوئے ان کے پاس چلے گئے اور مرغ کی ایک ٹانگ دانتوں سے دباتے ہوئے کہا کہ پوری کچوری کھلا کھلاکر میرا پیٹ خراب کردیا۔ اور سارے ہندو منھ دیکھتے رہ گئے۔

یہی حالت مودی جی کی ہورہی ہے وہ جیتے ہیں تو اس کا بھی انتظار نہیں کررہے کہ انہیں الیکشن جیتنے کے لئے کتنا جھوٹ بولنا پڑا ہندوستان اور پاکستان کی فرضی جنگ سنانا پڑی بالاکوٹ میں اپنے شہید فوجیوں کا بدلہ لینے کیلئے اندر گھسنا پڑا اور دوڑا دوڑا کر مارنا پڑا اور اعلان کرنا پڑا کہ ہم چھیڑیں گے نہیں اور کوئی چھیڑے گا تو اسے چھوڑیں گے نہیں ۔ غرض کہ الیکشن کے آخری دنوں میں حقیقت تو یہ ہے کہ نہ پاکستان نے اینٹ ماری نہ ہندوستان نے پتھر مارا مگر فضا میں جنگ ایسی ہوتی رہی کہ جتنے سیدھے بھولے ہندو تھے انہوں نے ووٹ مودی کو دے دیا اور کوئی مخالف لیڈر اس لئے نہیں بولا کہ جو بھی کہتا تھا کہ عالمی میڈیا کہہ رہا ہے کہ ہندوستان نے کسی کو نہیں مارا تو مودی ہی چیخ پڑتے تھے کہ دیکھو یہ پاکستان کی بولی بول رہا ہے۔ دیکھو یہ ثبوت مانگ رہا ہے اور دوسرا دم بخود ہوجاتا تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ الیکشن نہیں تھا یہ اس طرح کا جادو تھا کہ ٹوپی میں انڈا رکھ کر پانچ منٹ میں کبوتر نکالا جاتا ہے اور اُڑا دیا جاتا ہے جسے نظربندی بھی کہتے ہیں اور زبان کا جادو بھی۔ جبکہ ہونا یہ چاہئے تھا کہ بی جے پی کے لیڈر سرجوڑکر بیٹھتے اور مشورہ کرتے کہ 45  فیصدی بے روزگاری اور نوٹ بندی کے ماروں کی کمر اب بھی ٹیڑھی ہے اور جی ایس ٹی کو ایسا کیسے بنایا جائے کہ کاروباری دوبارہ کھڑا ہوجائے؟ اس کے علاوہ ٹرین کا جو نظام بے قابو ہوچکا ہے اسے کیسے ٹھیک کیا جائے بہار میں تیسری مرتبہ دماغی بخار سے جو سواسو بچے مرگئے اس کی تیاری کیوں نہیں کی؟ ایسے نہ جانے کتنے معاملے ہیں جن پر غور ہونا تھا سب کو چھوڑکر ایک ملک ایک الیکشن جیسے تفریحی موضوع پر سب کو الجھادو اور کوئی یہ نہ کہے کہ سنیل اروڑہ کتنے دن اور غلامی کریں گے۔ اور مشین سے الیکشن کب ختم کیا جائے گا؟

الیکشن کا نتیجہ آنے کے بعد مودی جی کو ہری ہری سوجھ رہی ہے۔ لیکن آدھا ہندوستان وہ ہے جو ہارنے کے باوجود یہ تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہے کہ الیکشن صاف ستھرا ہوا ہے۔ مخالف پارٹیوں میں کسی نے ابھی زبان ہی نہیں کھولی کوئی پوری طرح سکتہ میں ہے۔ کوئی پورے صوبہ کے دورہ کا پروگرام بنا رہا ہے کوئی کسی سے رشتہ توڑ رہا ہے، کوئی جوڑ رہا ہے اور شاید ایک سال لگے گا جو پارٹیاں اپنا اپنا راستہ طے کریں گی۔ اس سے پہلے جو ایسی باتیں کرتا ہے وہ ایسی ہی حرکت ہے جیسے جیت کے بعد مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہوکر آچاریہ جی نے مرغ کی ٹانگ دانتوں میں دباکر ہندوئوں کو حیران کردیا تھا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close