سیاستطنزو مزاح

ترشول  کی نوک پر عدالت عظمیٰ

ڈاکٹر سلیم خان

للن   یادو نے کلن شرما سے پوچھا یار میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر یہ وی ایچ پی والے کیا چاہتے ہیں؟

کلن بولا رام کا مندر بنانا چاہتے ہیں اور کیا؟

ارے یہ تو بہت پونیہ کا کام ہیں۔ یہ لوگ مندر کہاں بنانا چاہتے ہیں؟

ایودھیا میں اور کہاں ؟ رام کی جنم بھومی پر۔

اچھا تو ان کو اس کام سے کون روک رہا ہے؟

سپریم کورٹ نے اس پر روک لگا رکھی ہے۔

سپریم کورٹ کو ن ہوتا ہے انہیں روکنے والا؟

یہ لوگ جس مقام پر رام کی  جنم بھومی ہونے کا دعویٰ کررہے ہیں وہ بابری مسجد کی جگہ ہے۔

تو اس میں سپریم کورٹ کیا کرے گا؟

وہ ان کے دعویٰ کی حقیقت معلوم کرے گا۔ اس کو اگر ایسے شواہد مل گئے کہ وہاں پر رام کا مندر تھا اور اسے توڑ کر مسجد بنا ئی  گئی  تو وہ مندر بنانے کی اجازت دے گا ورنہ خطۂ اراضی  مسلمانوں کے حوالے کردے گا تاکہ مسجد  کی تعمیر ہوسکے ۔

للن بولا یہ تو نہایت معقول تجویز ہے۔ اس سے کون اختلاف کرسکتا ہے۔

وشوا ہندو پریشد کو اس پر اعتراض  ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ شردھا(عقیدہ ) کا معاملہ ہے اس لیے ثبوت وغیرہ نہ مانگے جائیں۔

اچھا تو اگر عدالت عظمیٰ  کافیصلہ ان کی مرضی کے خلاف آئے تو کیا یہ اسے ٹھکرا دیں گے ؟

یہ تو بعد کی بات ہے مگر فی الحال یہ  عدالت  پر دباو ڈال رہے ہیں  کہ وہ ایسا فیصلہ ہی نہ کرسکے۔

اس کے لیے یہ کیا کررہے ہیں؟

یہ لوگ ۲۵ نومبر کو بیک وقت  ایودھیا، ناگپور اور بنگلورو میں ’دھرم سبھا‘ منعقد کر رہے ہیں اور اسمیں شرکت کے ادھو ٹھاکرے ۵۰ ہزار شیوسنکوں کے ساتھ جارہے ہیں۔

۵۰ ہزار شیوسینکوں کے ساتھ ایودھیا ؟ ارے وہ ۵۰ ہزار شیوسینک ممبئی میں بھی جمع نہیں کرسکتےَ

ارے بھائی  للن وہاں بھیڑ بھاڑ میں کسے پتہ چلے گا کہ کس کے ساتھ کتنے لوگ کہاں سے آئے؟ اس لیے جو من میں آئے بولو۔

لیکن اگر وہاں ۵۰ ہزار لوگ جمع ہی نہیں ہوسکے تو کیا ہوگا؟

پھر وہی بات۔ وہاں کون گنتی کے لیے بیٹھا ہے۔ آپ دس ہزار کو ایک لاکھ کہہ دو روکنے والا کون ہے؟

اس کے بعد کیا ہوگا ؟ کیا وہ لوگ رام مندر کی تعمیر شروع کردیں گے؟

جی نہیں۔ اس کے بعد  ۹  دسمبر کو دہلی میں ’دھرم سنسد‘ منعقد کی جائے گی۔

پھر سے دھرم سنسد۔ آخر ان لوگوں کے پاس کوئی کام دھندہ نہیں ہے کیا؟  اس دھرم سنسد میں لوگ کہاں سے آئیں گے؟

اس دوران عوام میں بیداری پیدا کرنے کے لیے ملک کے طول وعرض میں   ۵۰۰۰ جلسوں  کا انعقاد کیا جائے گا۔

للن بولا یار اتنا کام تو بی جے پی والے انتخاب جیتنے کے لیے بھی نہیں کرتے۔

جی ہاں۔ ان لوگوں نے اپنے کام  کا ٹھیکہ سادھو سنتوں کو دے دیا ہے۔

ارے بھائی کلن شرما میں نے تو وہ دس ہزار ترشول والی خبر پڑھ کر  سوال کیا تو  آپ  بات کو کہیں اور لے گئے۔ بھائی للن مجھے کیسے پتہ کے تمہارے دل میں ترشول ہے۔ تم نے عمومی سوال کیا میں نے ویسا ہی جواب دے دیا۔

اچھا خیر اب بتا دیجیے کہ آخرترشول سے مندر کی تعمیر کیسے  ہوگی ؟ ان دونوں کا آپس میں  کیا تعلق؟

للن تم بھی بہت بھولے ہو۔  یہ ترشول مندر بنانے کے لیے نہیں بلکہ اپنے دشمن کو ڈرانے کی خاطر بانٹے جارہے ہیں۔

اچھا تو کیا یہ لوگ سپریم کورٹ کے ججوں کودھمکا رہے ہیں کہ اگر فیصلہ ہمارے خلاف کیا تو ترشول گھونپ دیں گے؟

ارے بھائی سپریم کورٹ کے جج کہاں ان کے ہتھے چڑھیں گے۔ یہ سنگھ پریوار کی مخالفت کرنے والوں  کو ڈرانا دھمکانا چاہتے  ہیں۔

تو کیا  سپریم کورٹ کے علاوہ بھی کوئی  ان کی راہ کا روڑہ ہے؟

بھئی مخالفین کی کیا کمی؟ غیروں کے علاوہ اب تو پرین توگڑیا اور ادھو ٹھاکرے جیسے لوگ بھی مخالفت پر اتارو ہیں۔

اچھا ! کیا  یہ اپنے ہی بھائیوں کو بھی تو ترشول سے ہلاک کریں گے یا ان  کا خون بہائیں گے ؟

اس میں نیا تو کیا ہے؟ مہابھارت  کے دونوں حریف ایک دوسرے بھائی نہیں تو کون تھے؟

لیکن اگر بی جے پی والوں نے انہیں  ایودھیا پہنچنے سے روک دیا  تو کیا ہوگا ؟

بعید نہیں کہ  یہ کمل کا سینہ ترشول سے چھلنی کردیں۔

بھائی کلن میری سمجھ میں نہیں آتا کہ  اس خون خرابے کے مندر کیسے بنے گا ؟

کلن شرما نے کہا یہ تو میری سمجھ میں بھی نہیں آتا۔

اچھا اگر مندر نہیں بنا تو وہ لوگ اس ترشول سے کیا کریں گے؟

خودکشی ۰۰۰۰۰۰۰اور کیا ۰۰۰۰۰۰۰۰خودکشی۔

بھائی کلن یہ خودکشی والی بات سمجھ میں نہیں آتی۔ اہل اقتدار  اس طرح کی حماقت کیسے کرسکتے ہیں ؟

کیوں نہیں کرسکتے؟ کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا  ہمسایہ ملک  نیپال ایک زمانے تک  ہندوراشٹر تھا۔ وہاں  کے ولیعہد دیپندر بکرم سنگھ نے یکم جون ۲۰۰۱؁ کو اپنے خاندان کا صفایہ کرنے کے بعد اپنے آپ کو گولی مارلی  تھی؟ اب انسان اپنے آپ کو گولی مارے یا ترشول سے ہلاک کرے ایک ہی  بات ہے۔

یار کلن یہ تو بڑی دلچسپ کہانی ہے۔ آخر اُس قتل و غارتگری کی وجہ کیا  تھی ؟

یقین سے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ کوئی کہتا ہے شہزادہ دیپندر جس لڑکی سے بیاہ رچانا چاہتا تھا۔ شاہی خاندان اس کے لیے راضی نہیں تھا۔

اس کی وجہ؟

وہی   ذات  پات کی تفریق اور پھر وہ لڑکی ہندوستانی  بھی تھی۔ اب ہندوراشٹر میں ان چیزوں کا خیال نہ  رکھا جائے تو کہاں رکھا جائے؟

اس زمانے میں ذات پات کا چکر۔ مجھے  تو شک ہے! لگتا ہے اصلی سبب  سیاسی رہا ہوگا۔

 جی ہاں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ  وہ ایون پارلیمان کو اقتدار کی جزوی منتقلی سے دیپندر  ناراض تھا۔

لیکن وہ تو اقتدار کو قائم رکھنے کے لیے لازی مجبوری تھی۔

اس کے علاوہ کچھ لوگوں نے  اس کے چچا گیانندر پر بھی شک کیا ہے کہ اس نے اقتدار کے حصول  کی خاطر اپنے بھائی کے خاندان کا صفایہ کردیا۔

اچھا تو  پھرگیا نیندر کا کیا بنا؟

وہ دنیا میں ہندو راشٹر کا آخری راجہ ثابت ہوا۔   ماو وادیوں نے بغاوت کرکے اس کا تختہ پلٹ دیا اور اس کو اقتدار سے محروم کردیا۔

للن بولا ہاں یار  اب سمجھ میں آگیا یہ ہندوتواوادی  اشتراکی دانشوروں کو  ماو نواز قوم کا غدار ثابت کرنے پر کیوں تلے ہوئے ہیں؟

ارے تم  ترشول لے کر نیپال سے نکلے اور سیدھے ماو کے جنگلوں میں پہنچ گئے۔ ان کا آپس میں کیا تعلق؟

مجھے تو لگتا یہ لوگ بھی  راجہ گیانیندر کی طرح  اقتدار کے ہاتھوں سے نکل جانے  کے خوف سے ترشول بانٹ رہے ہیں۔

ہاں یار آج شہری ماو وادیوں کے خلاف  شور شرابے کا مقصد میری سمجھ میں بھی آگیا۔

جی  ہاں  ممکن ہے ان میں سے  کسی نے خواب میں آخری ہندوراشٹر کا انجام دیکھ لیا ہو؟

   لیکن بندوق دھاری ماووادیوں  کا ترشول سے مقابلہ کیسے ہوسکے گا؟

کلن نے تائید کی  بولا ارے بھائی اکاغذ کے شیروں   کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے مشین گن کی ضرورت نہیں بلکہ  ای وی ایم مشین  ہی کافی ہے۔

للن بولا ٹھیک ہے تو ۵ ماہ اور انتظار کرلیتے ہیں۔

مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close