سیاستہندوستان

تری ذہنیت کا غم ہے، غم بال و پر نہیں ہے

حفیظ نعمانی

جس خبر میں ایسا کوئی اشارہ ہو کہ مسلمانوں کو نقصان ہوگا یا وہ پریشان ہوں گے اسے گلے میں ڈھول ڈال کر ملک بھر میں بجانے کا ایک پارٹی نے اپنا دھرم بنا لیا ہے۔ شرم کی بات یہ ہے کہ سب سے زیادہ اسے اچھالنے والے وہ ہیں جن کو دنیا کی سب سے بڑی پارٹی کا صدر کہلانے کا شوق ہے۔

آسام میں برسوں سے یہ مسئلہ چھڑا ہوا ہے کہ آسام میں ایسے بھی لوگ ہیں جو آسامی نہیں ہیں یہ الجھن اس لئے پیدا ہوئی کہ ملک کی تقسیم کے وقت انصاف اور انسانیت نوازی کے بجائے نفرت کی چھری چل رہی تھی جب مسٹر جناح نے ملک کی تقسیم کے اپنے فیصلہ سے ہٹنے سے انکار کردیا تو انہیں منانے کے لئے اس وقت کے وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے بتایا کہ پھر ملک ہی تقسیم نہیں ہوگا صوبوں میں بھی جہاں ہندو زیادہ ہیں وہ ہندوستان میں رہے گا جہاں مسلمان زیادہ ہیں وہ پاکستان میں جائے گا اور ان کی ہی ضد کا نتیجہ ہے کہ بنگال تقسیم ہوا آسام اور پنجاب بھی تقسیم ہوگئے۔ آسام اور بنگال اتنے قریب تھے کہ پورے آسام میں بنگلہ اور آسامی دونوں زبانیں بولی جاتی تھیں جیسے آسام کا ضلع سلہٹ جہاں برسوں شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی نے ہمیشہ رمضان گذارے وہ پاکستان میں چلا گیا وہاں بھی دونوں زبانیں بولی جاتی تھیں۔ اس لئے یہ کہنا کہ جو ہندوستان میں بنگلہ زبان بولتا ہے وہ بنگلہ دیشی ہے اس لئے غلط ہے کہ پورا بنگال بنگلہ بولتا ہے اس زبان میں اخبار نکلتے ہیں فلم بنتی ہے تو کیا وہ سب بنگلہ دیشی ہوگئے؟

آسام میں ایک بہت بڑا طبقہ ان لوگوں کا ہے جن کو انگریز اپنے چائے کے باغات اور دوسرے کاموں کے لئے دوسرے ملکوں سے لائے تھے یہ انگریزوں کا طریقہ تھا کہ وہ اپنے غلام ملکوں کے غریبوں کو دوسرے ملکوں میں کام کے لئے لے جاتے تھے شاید اس کی وجہ یہ ہوگی کہ نئے اور اجنبی ملک میں جن کو کام پر لگایا جائے گا وہ وہاں صرف کام کریں گے اور انگریزوں کے خلاف کوئی سازش نہیں کریں گے۔ وہ دنیا بھر سے مزدور ہندوستان لائے اور ہزاروں مزدوروں کو ہندوستان سے دوسرے ملکوں میں لے گئے یہی وجہ ہے کہ جو چھوٹے چھوٹے ملک ایسے ہیں جہاں اب ہندوستانی حکومت کررہے ہیں یہ ان مزدوروں کی ہی نسل ہے۔ ہندوستان کے غریب دیہاتوں میں جو مکان ہیں کیا انہیں مکان کہنا ٹھیک ہے؟ چار بَلّی اس پر ٹین یا چھپر کو مکان کہنا غریبوں کا مذاق اُڑانا ہے۔ کوئی ایک جگہ ایسی نہیں ہوتی جو ہوا اور پانی سے محفوظ ہو۔ اگر وہ نوٹ بھی حفاظت سے رکھنا چاہیں تو نہیں رکھ سکتے ان سے یہ کہنا اپنے شہری ہونے کے ثبوت کے کاغذ لاؤ ان کے زخموں پر نمک چھڑکنا ہے۔

ہندوستان میں مردم شماری، ووٹر لسٹ، شناختی کارڈ، آدھار کارڈ، پولیو کی خوراک یہ سب کام وہ ہیں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ عملہ کے کرنے کے کام ہیں ملک میں یہ کام کرنے والے چوتھے درجہ کے جاہل ملازم ہوتے ہیں۔ جن کے ذہن میں یہ بھر دیا جاتا ہے کہ مسلمان اپنی آبادی بڑھانے کیلئے جھوٹے نام لکھوا دیتے ہیں۔ سب کو دیکھ لینا تب لکھنا۔ ہم ٹانگ کی معذوری کی وجہ سے 15 برس سے گھر میں ہی رہتے ہیں جو بچے باہر ہیں ان کے علاوہ جو ساتھ رہتے ہیں وہ بھی 9:00 بجے کام پر نکل جاتے ہیں پڑھنے والے اسکول میں ہوتے ہیں یا کہیں اور۔ ہم نے جب لکھوایا تو کہا کہ ہم دیکھ لیتے آپ بتایئے ہم اس وقت آجائیں جب سب موجود ہوں۔ اور یہ وقت رات کو 10:00 بجے سے صبح 8:00 بجے تک ہوتا ہے۔ یہ جو صدر جمہوریہ فخرالدین علی احمد کے خاندان والوں کے یا فوج کے اعلیٰ افسر یا بڑے بڑے دانشوروں کے گھروں میں دو نام ہیں اور چار نہیں ہیں یا شوہر کا ہے بیوی کا نہیں ہے بہن کا ہے اس کے شوہر کا نہیں ہے یہ صرف وہی ذہنیت ہے۔ چالیس سال پہلے امین آباد کے ممتاز انٹر کالج میں ووٹر شناختی کارڈ بن رہے تھے ہمارا مکان قریب تھا بچے چھوٹے تھے ہم بیوی کے ساتھ گئے اور تفصیل لکھواکر فوٹو کھنچواکر آگئے۔ ایک مہینہ کے بعد ہمارا کارڈ آگیا بیوی کا نہیں آیا۔ نہ جانے کتنے چکر لگے تب معلوم ہوا کہ جن کو ٹھیکہ دیا تھا وہ چھوڑکر چلے گئے۔ آپ نئے ٹھیکہ دار سے بنوا لیجئے گا۔ کئی سال کے بعد وہ بن سکا۔

ووٹر لسٹ بنانے کیلئے آئے تو ہم نے گھر کے ہر بالغ کا نام اپنے سامنے نوٹ کرایا بیوی کا نام فاطمہ غیور تھا انہوں نے ہمارے سامنے لکھا لیکن جب لسٹ آئی تو اس میں فاطمہ غفور تھا اور انتقال تک وہ غفور ہی رہیں۔ جو لوگ ذمہ دار ہوتے ہیں وہ کہیں سائے میں کرسی ڈالے بیٹھے رہتے ہیں اور جاہل لڑکوں کو رجسٹر لے کر گھروں میں بھیج دیتے ہیں جو افسر ہوتے ہیں انہیں ایسے کام کرتے توہین محسوس ہوتی ہے۔ ہم نے جو بتایا وہ امین آباد، عیش باغ کالونی یا قیصر باغ کے شاندار مکانوں کی بات ہے گاؤں میں یہ کیا کرتے ہوں گے اس کا اندازہ کرنے کے لئے بس یہ کافی ہے کہ ہمارے مکان میں بڑا پھاٹک ہے اور 20 فٹ کی ڈیوڑھی ہے جب پولیو کی دوا پلانا ہوتی ہے تو دو نرسیں گھر سے کرسیاں منگواکر ان پر بیٹھ جاتی ہیں اور آیا دایا جو ساتھ آتی ہیں انہیں حکم دیتی ہیں کہ محلہ کے سب گھروں میں جاکر پولیو کی دوا والوں کو بلا لاؤ اور گھنٹوں یہ میلہ چلتا ہے یہی آدھار کارڈ میں ہوتا ہے۔ لیکن یہ اپنی جگہ ہے کہ میری دو پوتیوں نے اسمبلی کیلئے ووٹ دیا اور جب کارپوریشن کے الیکشن میں ووٹ دینے گئیں تو کہہ دیا تمہارا نام نہیں ہے۔ جس ملک میں افسر اپنے کو نوکر نہ سمجھے وہ اپنا کام چپراسیوں سے کرائے اور جہاں ووٹر شناختی کارڈ چھٹے ٹھیکیدار سے بنوائے جارہے ہیں ہمارا کارڈ اتنا گھٹیا ہے کہ شرم آتی ہے اور ہمارے نوکر کا کارڈ رنگین اور خوبصورت ہے وہاں کسی سرکاری رجسٹر پر بھروسہ کرکے 40 لاکھ گھس پیٹھئے کا نعرہ لگاکر مسلمانوں کی طرف دیکھنا اپنے ملک کے نظام پر تھوکنا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close