سیاست

ترے جذبہ کو سلام

ضیاءؔ الرحمٰن

کانگریس کے موجودہ صدر مسٹر راہل گاندھی نے عالمی برادری کے درمیان جاکر جس طرح بھاجپا کے روئے سیاہ کو سب کے سامنے لانے کا بیڑا اٹھایا ہے اس سے نہ صرف کانگریس بلکہ تمام سیکولر جماعتوں کے درمیان مسرت و خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے یقیناً یہ اقدام قابل تعریف و لائق تحسین ہے اس وقت تمام سیکولر ذہن رکھنے والی جماعتوں و طاقتوں پرنہ صرف ان کے اس حسنِ اقدام کو سراہنا ضروری ہے بلکہ اس ملک مخالف جماعت کی حقیقت کو سب کے سامنے لانے کے لئے ملک گیر تحریک کا حصہ بننا بھی ضروری ہے۔

کیونکہ گذشتہ چار پانچ سالوں میں ملک بھر میں جتنی معاشی و اقتصادی تنزلی آئی ہے اور ملک میں فسادات و بے روزگاری اور بد عنوانی کے جتنے بھی معاملات ہوئے ہیں اس نے ملک کی حالت خستہ اور اقتصادیات و معاشیات کو پستہ کر ڈالاہے حتیّٰ کہ ملک میں رہنے اور بسنے والی قوموں کے اعصاب پر عجیب سا خوف طاری ہوگیا ہے جو ان کو ہراساں اور ہلکان کئے دے رہا ہے۔

صدرِ کانگریس نے اپنے خطاب کے دوران جو باتیں کہی ہیں وہ یہاں کے مناظر کی صد فیصد عکاسی کرتی ہیں ان کی تقریر سے تڑپتے دلوں کی فریاد، تشدد زدہ بستیوں کے حالات، ویران گودوں کے جذبات اور نوجوانوں کی تباہ ہوتی جوانی کے خوں رستے ہوئے واقعات ٹپکتے نظر آتے ہیں کیوں کہ وہ خود اس ملک کے باشندہ ہیں انہوں نے یہاں کے کسانوں کو مرتے، گھرانوں کو اجڑتے، شہروں کو جلتے، بچوں کو سسکتےاور نوجوانوں کی زندگیوں کو تج اور تلف ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔

امن و سلامتی کا قیام کسی بھی ملک کا اولین فریضہ و مقصد ہوتا ہے اس کی بحالی کے لئے نہ صرف دیش کی تمام تر توانائیاں صرف کی جاتی ہے بلکہ افواج اور شرطیوں بلکہ خفیہ تنظیموں کا ایک مضبوط جال بچھایا جاتا ہے جس کا قیامِ امن کے سلسلے میں بڑا اہم کردار تصور کیا جاتا ہے ہمارے ملک کا بڑا قیمتی سرمایہ ان کے نظم و ضبط پر صرف کیا جارہا ہے الگ سے ان کو وزارت فراہم کی گئی ہے بہتیرے جتن اس کے انتظام و انصرام میں کئے جا رہے ہیں سینکڑوں تنظیمیں حقوقِ انساں کا لیبل لگاکر اپنی خدمات جتلا رہی ہیں مگر پھر بھی ملک بھر میں ایسے واقعات مرورِ ایام کے ساتھ ساتھ ہر دن جنم لیتے نظر آتے ہیں کہیں بیف کے نام پر ما ب لنچنگ، کہیں مذہب و ملت یا نسل و برادری کے نام پر فسادات ہر دن نظر آرہے ہیں اور موجودہ سفید پوش حکومت ان پر چپی سادھے نظر آرہی ہے۔

گاندھی جی جن پر یہ الزام بیجا لگا ہوا ہے کہ انہوں نے ملک کو تقسیم کر ڈالاان کے قاتلوں نے آج نہ صرف ملک کو بلکہ ذہنوں، دلوں، بستیوں، شہروں اور رشتوں تک کو بانٹ ڈالاخود ملک کے اندر خانہ جنگی جیسا ماحول بن چکا ہے ہر چند کہ اتحاد و اتفاق ملک کے آئین کا اولین گوشہ اور بلا تفریق سب کی سلامتی یہاں کے قانون کا جزء لاینفک ہے کسی کو بھی اس سے محروم نہیں کیا جاسکتامگر پھر بھی قیامِ امن اس ملک کا دیرینہ سپنا و خواب بن کر رہ گیا کیونکہ باہمی تشدد و اختلافات اب حکومت کے حصول کا زینہ و ذریعہ بن کر رہ گیا ہے جس کا سفر ہر ایک ضروری سمجھتا ہے۔

تاریخ و اہل علم کے تجربات اس بات کے شاہد ہیں کہ ملکوں کی تقسیم کے جو اسباب ہوتے ہیں وہ رنگ و نسل کے نام پر خوں ریزی، مذہب و ملت اور ذات و برادری کی تفریق پر مبنی نسل کشی زبان و لسان کے عنوان پر فسادات رہے ہیں ان ہی کے سبب ملکوں کے درمیان سرحدیں، شہروں کے درمیان فصیلیں اور دلوں کے درمیان خلیجیں حائل ہوجاتی ہیں۔

تقسیم ہند کا الزام اکیلے گاندھی پریوار پر تھوپا جانا غیر منصفی ہے حقیقت تو یہ ہے کہ اس وقت بھی اسی جماعت کی شوریدہ سری و سراسیمگی نے ملک کے اندر وہ واقعات پیدا کردئے تھے جن کے سبب ملک ٹوٹ پڑا تھا اور نہ صرف ملک بلکہ ملک کا وقارو تشخص، تہذیب و ثقافت اور باہمی خلوص محبت سب کچھ تقسیم ہوکر رہ گیاتھا۔

آج بھی ملک اسی دوراہے پر کھڑا ہے جس کے اسباب و عوامل سابقہ طرز پر موجود ہے مخالفین و مخاصمین باہم دست و گریباں ہیں ہر ایک اپنے زورِ بازوں پر نازاں ہیں جھکنا کسی کا مزاج نہیں ایسی صورت حال میں جونتائج بر آمد ہوتے ہیں یقیناً وہ بڑے خطرناک اور صعوبت کن ہوتے ہیں ان کی وجہ سے شہر سنسان، بستیاں شمشان، گاؤں قبرستان اور گھرانے ویران ہوجاتے ہیں انتشار و سراسیمگی اور شوریدہ سری کے ایسے ایسے واقعات بر آمد ہوتے ہیں کہ اشک شوئی کرنے والوں سے بھی لوگ محروم ہو کر رہ جاتے ہیں۔

تشکیل بھارت کے بعد اس مخصوص جماعت نے ایسے حالات بار بار پیدا کئے اس نے چراغِ آشتی کو گل کرنے کی بارہا کوششیں کیں بارہا ملک کو فسادات کی خونیں دلدل میں دھنسانے کی سعی پیہم ہوئی اور ملک و اہل ملک کو تشدد کی آگ میں جھونکنے میں ہر طرح کا سوء اقدام کیا تاہم کسی قدر وہ اس میں کامیاب بھی ہوئے، کئی مرتبہ ملک کا سینہ ان زخموں سے چھلنی بھی ہوا اور آئین و قانون سے انحراف و امن و سلامتی کی شِکستنی کے سبب پورے عالم میں ملامت و فضیحت کا نشانہ بھی بنا جن میں بابری مسجد کا انہدام، دہلی کا قتل عام اور گجرات کی نسل کشی جیسے دلسوز سانحات قابل ذکر ہے جو یہاں کے مذہبی جہلاء کے کم علم و اندیش عوام کو زہریلی رہنمائی فراہم کئے جانے کے سبب سر انجام پائے جن کے سبب صرف شہر ہی ویران نہیں ہوئے بلکہ عصمتیں پامال، گودیں اجاڑ اور گھرانے خرابات میں بدل گئے۔

کانگریس صدر مسٹر راہل گاندھی نے جو اقدام کیا ہے وہ نہ صرف ملک کی ضرورت ہے بلکہ ملک مخالف زہریلی تعمیر کو منہدم کرنے، کج فہم لوگوں کی بداعمالیوں کو لگام دینےاور ملک کی سالمیت کو مضبوط بنانے میں بھی معاون ہے حالانکہ یہ کام ہونا تو بہت پہلے چاہئے تھا مگر دیر آئے درست آئے اب بھی اس پر حکمت عملی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے ورنہ تو یہ مسموم مزاج اور آلودہ ذہنیت ملک کی ترقی، قوم کی سلامتی، اتحاد و اتفاق کے قیام اور امن و آشتی کی بحالی کے لئے ضرر رساں و سم قاتل ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ضیاءالرحمٰن

ضیاء الرحمٰن خادم مظاہر علوم وقف سہارنپور بی کام ایل ایل بی

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close