سیاستہندوستان

تلنگانہ میں 12 فی صد مسلم ریزرویشن: حقیقت یا سراب

خالد سیف الدین

غیر تقسیم شد ہ ریاست آندھراپردیش میں مسلم ریزویشن کی تحریک  ۱۹۸۹؁ء  میں حلقۂ کاماریڈی سے کانگریس کے رکن اسمبلی محمد علی شبیرنے شروع کی تھی۔ اس وقت آندھراپردیش میں ۶؍ سالوں کے طویل انتظار کے بعد کانگریس نے اقتدار سنبھالا تھا، لیکن اقتدار کے ابتدائی ۳؍ سالوں میں ہی کانگریس نے ۲ وزرائے اعلیٰ تبدیل کردیئے۔  ۱۹۹۲ ؁ء کو کانگریس نے تیسری تبدیلی کرتے ہوئے وجے بھاسکر ریڈی کو وزیر اعلیٰ کا عہدہ سونپا اور وجے بھاسکر ریڈی  اسمبلی کی معیاد پوری ہونے تک اس عہدہ پر فائز رہے۔ وجے بھاسکر ریڈی کو بطور وزیر اعلیٰ آندھراپردیش یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے محکمہ اقلیتی بہبود کو متعارف کرواتے ہوئے ملک و ملک کی تمام ریاستوں میں سب سے پہلے  ۱۹۹۲ ؁ء میں حکومت آندھرا پردیش کے زیر اہتمام اس نئے محکمہ کی بنیاد رکھی اور محمد علی شبیر کو اس وزارتِ اقلیتی بہبود کی ذمہ داری سونپی گئی۔ محمد علی شبیرنے بحیثیت کابینی وزیر اس محکمہ کا جائزہ لیتے ہی ریاست آندھرا پردیش میں مسلمانوں کو ریزرویشن دلوانے کی اپنی سرگرمیاں تیز کرتے ہوئے بنیادی طور پر ریاست میں جاری موجودہ ریزرویشن پالیسی کے تحت طئے شدہ پسماندہ طبقات کے زمرے والی فہرست میں  ۲۵؍ اگست  ۱۹۹۴ ؁ء کو مسلمانوں کو بھی درجہ فہرست کروانے میں مرکزی کردار نبھایا۔ دسمبر  ۱۹۹۴ ؁ء تا  مئی  ۲۰۰۴ ؁ء تک ان ۱۰؍ سالوں میں آندھرا پردیش میں تیلگو دیشم پارٹی کا اقتدار رہا۔

۱۴؍ مئی  ۲۰۰۴ ؁ء کو وائے ایس آر ریڈی کے زیر قیادت کانگریس نے پھر اقتدار حاصل کرلیا۔ اس مضبوط و مستحکم ریاستی حکومت میں محمد علی شبیر کو محکمہ توانائی کے علاوہ دیگر محکمہ جات کا بھی کابینی وزیر بنایا گیا۔ انھوں نے محض اندرون ۵۶؍ دن آندھرا پردیش اسمبلی اجلاس میں بڑی فراصت و حکمتِ عملی کے ساتھ 5% مسلم ریزویشن بل پیش کردیا۔ محمد علی شبیر کی جہد مسلسل، کانگریس کے انتخابی منشور میں مسلمانوں سے کیا ہوا وعدہ ا ور وزیر اعلی وائی ایس آر ریڈی کی سنجیدہ مزاجی کے پیش نظر آندھراپردیش اسمبلی میں ۱۲؍ جولائی  ۲۰۰۴ ؁ء کو حصول تعلیم و روزگار کے لئے  5%  مسلم ریزرویشن بل پاس ہوگیا اور فوری طور پر اس بل سے حاصل ہونے والی تمام سہولیات کے اطلاق کا اعلان بھی کردیا گیا۔ حکومت کے اس مسلم ریزرویشن کے فیصلہ کے خلاف فوراََ آندھراپردیش ہائی کورٹ میں مفاد عامہ (PIL)  کے تحت مقدمہ دائر ہوگیا۔

۱۲؍ ستمبر  ۲۰۱۴ ؁ء کو اس مقدمہ کی سماعت جسٹس سُدرشن ریڈی کی قیادت والی پانچ رکنی عدالتی اجلاس کے روبرو ہوئی۔  اس عدالتی اجلاس نے حکومت آندھراپردیش کو 5%   مسلم ریزرویشن دینے کے فیصلے پر کاری ضرب لگائی اور اسے یہ کہتے ہوئے نظر انداز کردیاکہ پیش ِ نظرمسلم ریزرویشن بل آندھراپردیش اقلیتی کمیشن کی سفارشات پر مبنی ہے جبکہ کسی بھی ریزرویشن کے لئے قانوناََ BC   کمیشن کی سفارشات لازمی ہوتی ہیں۔  آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے بی سی کمیشن کو اس ضمن میں اندرون تین ماہ اپنی رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی صادر فرمایا۔ اس کے بعد حکومت آندھراپردیش نے بی سی کمیشن سے رجوع کرتے ہوئے  ۲۱؍ جون  ۲۰۰۵ ؁ء کو آندھراپردیش میں بسنے والی تمام مسلم برادریوں کو  5%  ریزرویشن دینے کا ضابطہ طئے کرتے ہوئے اُسے روبہ عمل لانے کا اعلان کردیا۔ حکومت کے اس فیصلے کے خلاف عدالت میں پھر مقدمہ دائر ہوا۔ ۱۷؍  ڈسمبر  ۲۰۰۵؁ ء کو جسٹس بلال ناز کی  کی قیادت میں پانچ رکنی عدالتی اجلاس کے روبرو اس مقدمہ کی سماعت کے دوران عدالت نے سوال اُٹھایا کہ اس 5% مسلم ریزرویشن کی وجہ سے ریاست آندھراپردیش کی ریزرویشن پالیسی اپنے محدود دائرے (50%) سے تجاوز کررہی ہے جو اندراسوبانی کیس میں عدالت کے دیئے ہوئے فیصلے پر رخنہ اندازی کے مماثل ہے یہ کہتے ہوئے ہائی کورٹ نے مسلم ریزرویشن سے متعلق حکومت کا فیصلہ منسوخ کردیاگیا۔

 ۶؍ جولائی  ۲۰۰۷ ؁ء  کو حکومت آندھراپردیش نے اپنے اعلان شدہ مسلم ریزرویشن کو قانونی و عدالتی دائرے میں لانے کے لئے  آندھراپردیش کمیشن برائے پسماندہ طبقات (APCBC)   سے گزارش کی کہ وہ APCBC Act. 1993.   کے تحت مسلمانوں کے سماجی و تعلیمی طور پر پسماندہ طبقات کی نشاندہی کرے اس کے علاوہ حکومت نے اس پیش نظر معاملہ کو مزید تحقیق وہ مطالعہ  کے لئے موظف سندی افسر  پی ایس کرشنن کے حوالے بھی کردیا۔ کمیشن برائے پسماندہ طبقات کا آزادانہ طور پر کیا ہوا سروے،  پی ایس کرشنن کی تحقیقی رپورٹ اور حکومتِ ہند کے محکمہ انسان شناسی (Anthropological Survey of India)   کی رپورٹ و سفارشات کی بنیاد پر سماجی و تعلیمی طور پر ۱۴؍ مسلم پسماندہ طبقات کی نشاندہی کو قطعیت دیتے ہوئے  بطور Group E   زمرے میں اس کی درجہ بندی کردی گئی اور مسلم ریزرویشن کو 5%   سے گھٹا کر 4%   کرتے ہوئے فوراََ اس کے اطلاق کا اعلان کردیا گیا۔ 4%   مسلم ریزرویشن کا یہ معاملہ ۲۴؍ جولائی  ۲۰۰۷ ؁ء کو پھر PIL   کے زریعہ عدالت میں پہنچا۔ ۲۹؍ اگست  ۲۰۰۷ ؁ء  کو آندھراپردیش ہائی کورٹ نے اس مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے  4%   مسلم ریزویشن کو بطور عارضی اعانت  جاری رکھنے کا حکم صادر فرمادیا۔ یہ سلسلہ ۸؍فروری  ۲۰۱۰ ؁ء کو اس وقت اختتام کو پہنچا جب ہائی کورٹ کی ۷؍ رکنی عدالتی اجلاس نے مسلم ریزرویشن کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے 4%   مسلم ریزرویشن کو منسوخ کردیا۔ ۲۶؍ فروری  ۲۰۱۰ ؁ء کو  حکومت آندھراپردیش نے سپریم کورٹ میں ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کے خلاف SPL  داخل کردی۔ اس SPL   پر ۲۵؍ مارچ  ۲۰۱۰ ؁ء کو سپریم کورٹ نے سماعت کرتے ہوئے ۱۴؍ مسلم پسماندہ طبقات کوجن کی درجہ بندی بطور Group E  کی گئی تھی ان تمام کو اس مقدمہ کے حتمی فیصلہ تک بطور عارضی اعانت  4%  ریزرویشن کی سہولیات جاری رکھنے کا فیصلہ سنایا۔  اس طرح مسلمانان آندھرا و تلنگانہ  جولائی  ۲۰۰۷ ؁ء سے آج تک عدلیہ کی جانب سے دی گئی عارضی اعانت کے تحت 4%   مسلم ریزرویشن کی سہولیات سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے اپنی سماجی، تعلیمی، معاشی و سیاسی پسماندگی پر قابو پانے کی کوشش کررہے ہیں۔

اس مسئلہ کے مستقل حل کو تلا ش کرنے کے جذبہ سے نیز سچر کمیٹی کی سفارشات پر عمل آوری کے مقصد کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ۲۲؍ دسمبر ۲۰۱۱ ؁ ء کو اس وقت کانگریس کی قیادت والی یو پی اے کی مرکزی حکومت نے ملک کے تمام مسلمانوں کو بطورخاص جزوی تناسب حصہ (SUB QUOTA)کے تحت 4.5%ریزرویش دینے کا منصوبہ تیار کیا۔ حکومت کا مؤقف یہ تھا کہ مسلمانوں کے چند طبقات کو اوبی سی زُمرے میں بے شک سہولیات دستیاب ہیں لیکن مسلمان اس زمرے میں شامل دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے طبقات سے مناسب و امکانی مقابلہ نہیں کرپاتے اس لیئے مسلمان علیحدہ طور پر ریزرویشن کے مستحق پائے جاتے ہیں ۲۴؍ دسمبر ۲۰۱۱ ؁ء کو ملک کی پانچ ریاستوں میں منعقد ہونے والے الیکشن کے پیش نظر و ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ کی رو سے الیکشن کمیشن نے اس اہم تجویز پر بھی روک لگادی۔

پچھلے آٹھ برسوں سے مسلم ریزرویشن کا مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ کے چندر شیکھر راؤ کے زیرقیاد ت والی ٹی آر ایس حکومت نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے اس مقدمہ کی پیروی میں مسلسل سستی و کاہلی سے کام لیا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ فروری ۲۰۱۸ ؁ء کو سپریم کورٹ کے آئینی اجلاس پر اس مقدمہ کی سماعت طئے تھی اس دن حکومت تلنگانہ کا ایک بھی نمائندہ عدالت میں حاضر نہیں تھا اُسی وقت تلنگانہ قانون ساز کونسل کے قائد حزبِ مخالف و مسلم ریزرویشن کے محرک محمد علی شبیر نے کانگریس کے سینئرلیڈر و ماہر ِ قانون سلمان خورشید کے ذریعہ سے سپریم کورٹ میں فریقین کے علاوہ خود کو بھی شامل کرنے کی درخواست پیش کی کہ وہ اس مقدمہ کی تمام مدت میں خود پیروی کرسکیں۔ سپریم کورٹ کے آئینی اجلاس نے اس درخواست کو اگلی سماعت تک موقوف کررکھا ہے۔ مسلمانوں کو مختصر مقدار میں دیا گیا 4% ریزرویشن بل گذشتہ ۱۸؍ سالوں سے عدالتی پیچیدگیوں میں پھنسا پڑا ہے تعجب اس بات پر ہے کہ وزیر اعلی چند شیکھر راؤ نے اپنے دور اقتدار میں پرخلوص طریقہ سے اس اہم مقدمہ کی عدالت عالیہ میں پیروی نہ کرتے ہوئے اس معاملہ کو اس وقت مزید پیجیدہ بنادیا جب ۱۶؍ اپریل ۲۰۱۷ ؁ء کو انھوں نے گذشہ 4%ریزرویشن میں مزید 8%ریزرویشن کا اضافہ کرتے ہوئے ترمیم شدہ 12%مسلم ریزرویشن کا اعلان کردیا ان کے اس عمل کوٹائمز آف انڈیا نے ’’ایک پہیلی‘‘ سے تعبیر کیاہے۔ یہ ایک ایسا معمہ ہے جو نہ کوئی سمجھ پارہا ہے اور نہ کسی کو سمجھایا جاسکتا ہے چاہے وہ عدالت عالیہ ہی کیوں نہ ہو۔ ہمارا سوال وزیر اعلی کے چند ر شیکھر راؤ سے یہ ہے کہ جناب آپ کے حلقۂ احباب میں ملک کے مشہور و معروف قانون داں موجود ہیں کیا آپ نے ان سے مشورہ کیا؟

اگر آپ کاجواب ہاں ہے تو کیا ہم یہ سمجھ لیں کہ تلنگانہ کے مسلمانوں کو بے وقوف بنانے کی سازش میں وہ بھی آپ کے ساتھ ہیں ؟ تو یاد رکھیے تلنگانہ کی عوام آپ سے اس دھوکہ کا بدلہ ـضرور لے گی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

خالد سیف الدین

خالد سیف الدین کا تعلق شہر اورنگ آباد، مہاراشٹرسے ہے۔ پیشے سے سول انجینئر ہیں۔ راشٹروادی کانگریس پارٹی مہاراشٹر کے ریاستی سیکریٹری کے عہدے پر 2014 سے متمکن ہیں۔ خالد سیف الدین ریاست مہاراشٹر کی بےشمار تعلیمی، ادبی، ثقافتی اور دیگر انجمنوں سے وابستہ ہیں۔ وہ ایک فعال شخصیت کے مالک ہیں،کسی بھی سرگرمی اور پروگرام کی منصوبہ بندی اور اسکے حسن انتظام کیلئے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close