سیاست

تم ہی بتاؤ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے

حفیظ نعمانی

اگر بات منھ سے نکل گئی تو وہ واپس نہیں آتی۔ بی جے پی کے 38 سال مکمل ہونے پر باندرہ ممبئی میں بی جے پی کے صدر شری امت شاہ نے جو کہہ دیا وہ پورے ملک میں گونج رہا ہے۔ ہر چند کہ امت شاہ صفائی دے کر اسے اور گندہ کررہے ہیں کیونکہ اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ انہوں نے مخالف لیڈروں کو کتا بلی یا اُن کے دلارے نے چھچھوندر مثال کے لئے نہیں کہا تھا بلکہ دونوں کے کلیجوں میں آگ لگی ہوئی ہے۔ ہمارے سامنے اس وقت امت شاہ کی کنڈلی نہیں ہے جس سے یہ بتاسکیں کہ وہ 41  سال پہلے کتنے بڑے تھے۔ انہیں شعور تھا یا وہ بے شعور تھے؟ اگر شعور ہوگا تو انہوں نے دیکھا ہوگا کہ 1977 ء میں ایک نوجوان لیڈر سنجے گاندھی تھے۔ انہوں نے بھی جے پرکاش نارائن کے پرچم کے نیچے جمع ہونے والے تمام مخالف لیڈروں کے بارے میں یہی کہا تھا کہ جیسے سیلاب کے خوف سے ایک دوسرے کے دشمن جانور پناہ لینے کے لئے ایک پیڑ پر جمع ہوجاتے ہیں ایسے ہی جنتا پارٹی بن رہی ہے۔ اور اس پارٹی میں شری اٹل جی، شری اڈوانی جی، شری جوشی جی اور سبرامنیم سوامی سب تھے لیکن سنجے گاندھی نے جس زمانہ میں یہ کہا تھا اس زمانہ میں لیڈر بدتمیز نہیں ہوتے تھے اور مخالف لیڈروں کو کتے بلی نہیں کہتے تھے۔

اگر امت شاہ کو یاد نہ ہو یا اس وقت وہ بے شعور ہوں تو ہم یاد دلائے دیتے ہیں کہ کانگریسی بھی اسے اندرا گاندھی کا سیلاب ہی کہہ رہے تھے لیکن اس سیلاب کا یہ نتیجہ نکلا تھا کہ اترپردیش میں اندراجی اور سنجے گاندھی بھی رائے بریلی اور امیٹھی سے نہیں جیت سکے تھے۔ امت شاہ جیسے مودی جی کے کم عقل ساتھیوں نے آج اپنی ناعاقبت اندیشی کی بدولت مودی جی کو وہیں کھڑا کردیا ہے جہاں 1977 ء میں اندراجی کو ان کے امت شاہوں نے کھڑا کردیا تھا۔

امت شاہ ہوں یا نتیش کمار حیرت ہے کہ انہیں یہ کیوں یاد نہیں رہا کہ جب 2014 ء میں وزیراعظم بننے کے بعد مودی جی نے ملک کا دورہ کیا تھا تو وہ جہاں بھی گئے وہاں کی ریاست کے وزیر اعلیٰ نے روایت کے مطابق استقبالیہ تقریر کی لیکن نوجوانوں کے جوش کا یہ عالم تھا کہ وہ دس منٹ کی رسمی تقریر بھی کسی دوسرے کی سننا نہیں چاہتے تھے۔ وہ دوسرے جملہ کے بعد ہی مودی مودی مودی کے نعرے لگانے لگتے تھے۔ اور کبھی کبھی وزیراعظم ہاتھ کے اشارہ سے انہیں خاموش کردیتے تھے ورنہ وزیر اعلیٰ خود ہٹ جاتے تھے۔ آج وہی وزیراعظم ہیں اور وہی نوجوان ہیں جو مودی مودی کے بجائے کالے جھنڈے دکھانے لاتے ہیں اور وزیراعظم اتنے نازک مزاج ہوگئے ہیں کہ کالے جھنڈے دکھانے والوں پر اقدام قتل کا مقدمہ چلایا جارہا ہے اور کوئی یہ کہنے والا نہیں ہے کہ جسے زندہ باد کہنے کا حق ہے اسے کالے جھنڈے دکھانے کا بھی حق ہے۔

ہم نہیں کہہ سکتے کہ سونیا گاندھی اور ممتا بنرجی یا اکھلیش یادو اور مایاوتی کی کوششوں کا کیا انجام ہوگا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پورے ملک کی جنتا پارٹی بنانے کے بجائے چار گروپ بن جائیں اور پھر وہ آپس میں کوئی معاہدہ کرلیں۔ اس لئے کہ شرد پوار اندر اندر کچھ اور سوچتے نظر آرہے ہیں اور جنوبی ہند میں جیہ جے للتا کی موت اور کروناندھی کے علاوہ دو بہت مقبول اداکار اپنی اپنی پارٹی بنا چکے ہیں اور کیرالہ میں اس کمیونسٹ پارٹی کا جس کے کبھی لوک سبھا میں 60  ممبر ہوا کرتے تھے آخری قلعہ رہ گیا ہے۔ لیکن بی جے پی مخالف پارٹیوں کے لئے اطمینان کی بات یہ ہے کہ منصوبہ بندی کے لئے پورا ایک سال پڑا ہے اور وہ جنتا پارٹی کی طرح جے پرکاش نارائن اور آچاریہ کرپلانی جیسے دو بزرگ لیڈروں کے پابند بھی نہیں ہیں۔

بی جے پی کی سب سے بڑی کمزور یہ ہے کہ اس کے پاس لیڈر نہیں ہیں نریندر مودی جنہیں وزیراعظم بنا دیا وہ الیکشن جتانے کی مشین تو ہیں لیڈر نہیں ہیں۔ اگر وہ لیڈر ہوتے تو اتنے بڑے ملک کے اتنے بڑے وزیراعظم ہوتے ہوئے الیکشن جیتنے کے لئے اتنی نچلی سیڑھی پر نہ اُترتے کہ چاروں طرف سے جھوٹ جھوٹ کی آوازیں آنے لگتیں۔ مودی جی نے جب اُترپردیش میں ہر تقریر میں کہا کہ جب قبرستان کے لئے زمین دیتے ہو تو شمشان کے لئے بھی دو اور جب رمضان میں بجلی دیتے ہو تو دیوالی میں دو کیا کوئی یہ مان سکتا ہے کہ وزیراعظم کو یہ معلوم نہیں تھا کہ قبرستان کو زمین دی ہے یا نہیں اور شمشان کے لئے مانگنے کے باوجود نہیں دی؟ جس آدمی نے 12 سال گجرات جیسے صوبہ پر حکومت کی ہو کیا کوئی مان سکتا ہے کہ اسے رمضان اور بجلی کا کوئی تعلق معلوم نہیں۔ اور رمضان یا عید کسی موقع پر مسلمان بجلی نہیں مانگتے۔ اور وہ کیوں مانگیں؟ کیونکہ رمضان جشن کا نہیں اپنے کو پاک کرنے کا مہینہ ہے۔

انہوں نے جان بوجھ کر جھوٹ بولا ان کا مقصد صرف یہ تھا کہ وہ ہندو ووٹروں کویہ بتائیں کہ ہم صرف ہندو ہیں اور اکھلیش یا مایاوتی مسلمانوں کو بھی دو مٹھی گیہوں دے دیتی ہیں۔ اس کی سب سے گندی مثال ہے گجرات کے الیکشن کا آخری معرکہ۔ جب مودی جی نے محسوس کیا کہ گجرات ہاتھ سے جارہا ہے تو انہوں نے اپنے کو سب سے کٹر ہندو ثابت کرنے کے لئے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر بی جے پی ہاری تو احمد پٹیل گجرات کا وزیر اعلیٰ بن جائے گا جسے بنانے کے لئے پاکستان کی پوری حکومت کانگریس کے ساتھ بات چیت کررہی ہے۔ کیا جس ملک میں دستور کی وجہ سے چار مسلمان صدر اور پانچ نائب صدر بن چکے ہیں جہاں مہاراشٹر ، بہار، راجستھان اور آسام میں مسلمان وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں اس میں اگر ایک احمد پٹیل بن جائے گا تو کیا وہ ہر مندر کو مسجد بنوا دے گا؟ اور آج جو امت شاہ کی سانس پھول رہی ہے وہ صرف اس لئے کہ وہ اکیلے پڑگئے ہیں۔ مودی جی کی تو نیرو مودی اور دوسرے گھوٹالوں نے زبان بند کردی اور یوگی آدتیہ ناتھ کی بولتی گورکھ پور والوں نے بند کردی تیسرا کوئی ہے نہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close