سیاست

تو جواں مردوں سے بازی لے گیا

حفیظ نعمانی

اگر یہ خبر 10 جنوری کے انقلاب جیسے بڑے اخبار میں نہ ہوتی تو اس قابل بھی نہیں تھی کہ اسے پڑھا جائے نہ کہ ایسی کہ اس پر کچھ لکھا جائے۔ آل انڈیا مسلم مجلس کا دفتر اپنی ابتدا سے قیصر باغ کے قریب تکیہ پیر جلیل نام کے محلہ کے ایک مکان میں ہے۔ اور برسوں سے جو خبر چھپتی ہے وہ آفس سکریٹری سید توفیق جعفری کی طرف سے بھیجی گئی ہوتی ہے۔ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ مسلم مجلس کی سب سے اہم خبر گونڈہ سے بھیجی گئی ہے اور منطقائی لیڈر جنید احمد اس کے ذمہ دار ہیں۔

اللہ نظر بد سے بچائے خبر ایسی ہے کہ نہ یہ کہا گیا ہے کہ مسلم مجلس نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ پارلیمانی الیکشن میں بھرپور طریقہ سے حصہ لے گی۔نہ یہ کہا گیا ہے کہ وہ علاقائی پارٹیوں سے مل کر محاذ بنائے گی نہ یہ کہا گیا ہے کہ وہ اترپردیش میں صرف کانگریس سے اس لئے معاہدہ کرے گی کہ سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی نے کانگریس کو اتحاد میں شامل کرنے سے انکار کردیا ہے۔ مجلس کے منطقائی لیڈر جنید صاحب نے چار اُمیدواروں کے ناموں کا اعلان کرکے ان تمام پارٹیوں کو حیران کردیا جن کے موجودہ لوک سبھا میں قابل ذکر ممبر ہیں۔ اور ان حلقوں میں لکھنؤ کا حلقہ بھی ہے جہاں مسلم مجلس پیدا ہوئی اور جہاں آفس سکریٹری اور پارلیمنٹری بورڈ کے چیئرمین توفیق جعفری صاحب رہتے ہیں۔

ہم 1952 ء سے دیکھتے آرہے ہیں کہ جو پارٹی ٹکٹ دیتی ہے اس کا پارلیمنٹری بورڈ ہوا کرتا ہے اور وہی درخواستوں کے بارے میں فیصلہ کرتا ہے اس کے بعد وہ تمام سفارشات مرکزی پارلیمنٹری بورڈ کو بھیج دی جاتی ہیں اور وہاں عام طور پر ان کو منظور کرلیا جاتا ہے یا دو چار نام تبدیل کردیئے جاتے ہیں۔ مسلم مجلس نے نیا طریقہ اپنایا ہے کہ اس کے منطقائی لیڈر جنید صاحب نے پارلیمنٹری بورڈ کی منظوری کے بغیر چار ناموں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بڑے سیاسی پنڈتوں کی مانیں تو آئندہ پارلیمانی انتخابات سے مسلم نمائندگی کو بالکل ختم کرنے کے مقصد سے سبھی سیاسی پارٹیاں کسی سازش سے گھیرے میں ہیں۔

جن چار اُمیدواروں کو ٹکٹ دیا گیا ہے ان میں لکھنؤ سے قاری ناصر قیصر گنج سے پروفیسر نعیمہ فتح پور سے غیاث احمد میروانی اور بریلی سے ایڈوکیٹ وصی احمد ہیں۔ ہم کئی برس سے لکھنؤ تک محدود ہوگئے ہیں لیکن سیاسی علمی دینی اور سماجی ممتاز شخصیتوں میں جو نمایاں نام ہیں ان سے واقف ہیں یا ان کا ذکر سنتے پڑھتے رہتے ہیں۔ لکھنؤ میں قاری ناصر کا مکمل نام سننے کے بعد ہماری طرح اور بھی حیران ہوں گے کہ ان کا تعلق فرنگی محل کے مدرسوں میں سے کسی سے ہے یا فرقانیہ یا عرفانیہ یا ندوۃ العلماء یا وارثیہ کسی ادارے سے ہے؟ کسی تعارف کے بغیر جو نام لکھے جاتے ہیں وہ ایسے ہوتے ہیں کہ نام کا ایک حصہ بھی بتا دیتا ہے کہ کون صاحب ہیں۔

ایک طریقہ وہ بھی ہے جو اعظم گڑھ کے کھلاڑی مولوی عامر رشادی کا ہے کہ 2017 ء میں مشرقی اضلاع کی 80 سیٹوں کے ناموں کا اعلان کردیا کہ وہ ہماری پارٹی کے ٹکٹ سے لڑیں گے پھر جب ہلچل شروع ہوئی تو بی ایس پی کی مایاوتی سے سودا کرلیا کہ ہم اپنے اپنے امیدواروں کے نام واپس لے لیں گے لیکن ان کے نام کے پوسٹروں اور دوسرے کاموں میں جو خرچ ہوا ہے وہ ہمیں ادا کردیا جائے اور نتیجہ یہ ہوا کہ بغیر ہلدی پھٹکری کے الیکشن جیت لیا۔ مسز اندراگاندھی نے جب فیروز گاندھی کے انتقال کے بعد رائے بریلی سے نامزدگی کرانے کا اعلان کیا تو نامزدگی کے دن جب دہلی سے قافلہ آیا تو دیکھا کہ رائے بریلی کی عدالت کے چاروں طرف بڑے سائز کے پوسٹر لگے ہیں کہ جناب۔۔۔ صدیقی ایڈیٹر ہفت روزہ۔۔۔ بھی آج نامزدگی کریں گے۔ جو لوگ دہلی سے اندراجی کے ساتھ آئے تھے ان میں سنسنی پھیل گئی کہ یہ کون ہے؟ وہ جب سامنے آئے تو ان سے اندراجی کے پی اے نے کہا کہ آپ اخبار والے ہیں آپ کیوں لڑرہے ہیں؟ ایڈیٹر نے جواب دیا کہ مسلمانوں اور اردو کے ساتھ انصاف کرانے کیلئے میں الیکشن لڑوں گا۔ پی اے نے ان سے ان کا پتہ لے لیا اور صرف ایک ہفتہ کے بعد اخبار کے دفتر میں ٹیلیفون لگ گیا نیا فرنیچر آگیا ایڈیٹر صاحب بھی نئی شیروانی اور نئی پتلون میں نظر آنے لگے۔

اب یہ تو جعفری صاحب بتائیں گے کہ گونڈہ کے منطقائی لیڈر جنید احمد کون ہیں؟ انہوں نے جو چار نام دیئے ہیں کیا وہ اس حال میں ہیں کہ کئی کئی لاکھ روپئے خرچ کرکے لوک سبھا کا الیکشن لڑسکیں۔ وہ اگر آزاد اُمیدوار ہوتے تو کوئی بات نہیں تھی ایسا شوق اکثر لوگ کیا کرتے ہیں لیکن مسلم مجلس کا نام استعمال کرنا ڈاکٹر فریدی مرحوم کی برسی منانے کا اعلان کرنا اور سات جولائی کو مولانا برکت اللہ بھوپالی کو ہندوستان کا پہلا وزیراعظم بتاکر ان کی سالگرہ منانے کے اعلان سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ منطقائی لیڈر معمولی آدمی نہیں بلکہ بہت کچھ ہیں۔

ہر الیکشن کے وقت ایک بات اور آتی ہے کہ وہ کون ہے جو مسلمانوں کے ووٹ سیکولر پارٹیوں کے کھاتے میں جانے سے روک سکے ہر الیکشن میں ایسے مسلم فروش بی جے پی کو مل بھی جاتے ہیں اور اگر وہ شیشے میں اتار لیتے ہیں تو دس پانچ سال کا خرچ کمالیتے ہیں 2014 ء کے الیکشن میں ایک ڈاکٹر صاحب نے کروڑوں کمائے اور ایک صاحب جن کو قائد ملت بننے کا بھوت سوار ہے وہ تو پورے ہندوستان میں اسمبلی اور کارپوریشن تک کے الیکشن کے تھنوں سے دودھ نکالنے کی فکر میں رہتے ہیں ہوسکتا ہے کہ اس بار صوبائی گھیرا بندی کے بجائے ضلع کا ٹھیکہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہو اور مسلم مجلس جیسی برسوں سے خاموش پارٹی کے غبارہ میں ہوا بھرنے کا پروگرام بنایا ہو۔ جو کچھ بھی ہے شرمناک ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close