سیاست

تین صوبوں نے ملک کی سوچ بدل دی

حفیظ نعمانی

پانچ ریاستوں کے وہ الیکشن جن کو اکثر لوگوں نے پارلیمانی الیکشن کا سیمی فائنل کہا اور لکھا اس میں بی جے پی کے صفر پر آؤٹ ہونے سے وزیراعظم مودی اور بی جے پی کے صدر امت شاہ کی اس شہرت کو ختم کردیا ہے کہ وہ الیکشن جتانے کی مشین ہیں۔ اور پانچ میں سے تین اہم ریاستوں میں کانگریس کی جیت نے راہل گاندھی کی ٹانگوں میں قد اونچا کرنے کیلئے بانس باندھ دیئے ہیں۔ 11 دسمبر سے پہلے ملک میں جو کچھ ہوا تھا اس کو اگر پیش نظر رکھا جائے تو مودی اور راہل کا مقابلہ شیر اور بکری کا سمجھا جارہا تھا۔ ان تین ریاستوں میں کامیابی نے راہل کو بکری سے چیتا بنا دیا ہے۔ اور اب تک بی جے پی کے خلاف مخالف پارٹیوں کے بننے والے محاذ کی قیادت کے بارے میں جو قیادت کی کشمکش تھی اس میں راہل کا وزن بہت بڑھ گیا ہے۔

ان تینوں ریاستوں میں مس مایاوتی کانگریس کے ساتھ اپنی شرطوں پر محاذ بنانا چاہتی تھیں۔ کافی دنوں تک کانگریس کی طرف سے آمادگی کا مظاہرہ ہوتا رہا اور جب وقت قریب آگیا تو خبریں آنے لگیں کہ مایاوتی مدھیہ پردیش کی 230 سیٹوں پر الیکشن لڑنے والی ہیں ان کا خیال تھا کہ کانگریس ڈر جائے گی اور دب کر صلح کرلے گی لیکن ہر ضمنی انتخاب میں کانگریس کو فتح دلانے والے سندھیا نے جو پانچ سال محنت کی تھی اور رات دن کسانوں کے ساتھ رہ کر جو کچھ انہوں نے سمجھا تھا اس کے بل پر انہوں نے مایاوتی کو 50 سیٹیں دینے سے صاف انکار کردیا اور ملک اور صوبہ کو یہ تاثر دیا کہ کانگریس کو جیتنے کے لئے سہاروں کی ضرورت نہیں ہے۔ اور 114 سیٹیں جیت کر یہ ثابت کردیا کہ انہوں نے غلط فیصلہ نہیں کیا۔ عام طور پر یہ کہا جارہا ہے کہ اگر کانگریس اور بی ایس پی مل کر لڑتیں تو سیٹوں کی تعداد 140 ہوسکتی تھی۔ غیب کا حال تو پروردگار جانے لیکن اس میں پھر مایاوتی کی غلامی کرنا پڑتی اور اب جو مایاوتی کو صرف دو سیٹیں ملی ہیں اس نے ثابت کردیا کہ سندھیا اور کمل ناتھ نے جو فیصلہ کیا وہی ٹھیک رہا۔

چھتیس گڑھ میں بھی مایاوتی ہاتھی مانگ رہی تھیں اور کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ کانگریس کتنے پانی میں ہے۔ کانگریس نے جب انکار کردیا تو انہوں نے اجیت جوگی کے ساتھ ففٹی ففٹی پر سودا کرلیا اور یہ فیصلہ بھی کرلیا کہ اجیت جوگی وزیراعلیٰ ہوں گے۔ ان دنوں میں جن لوگوں نے خبریں سنی ہوں گی ان کو معلوم ہوگا کہ جب جب میڈیا کے نمائندوں نے مس مایاوتی سے چھتیس گڑھ میں معلوم کیا کہ آپ بی جے پی کی مدد سے بنائیں گی یا حکومت بنانے میں بی جے پی کو مدد دیں گی تو انہوں نے ناگواری کے ساتھ کہا کہ ہم کیوں کسی کو مدد دیں یا لیں ہم اپنی حکومت بنائیں گے اور اجیت جوگی وزیراعلیٰ ہوں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ جب آگئیں تو جوگی نے کہا کہ ضرورت پڑی تو ہم بی جے پی کو مدد دیں گے اور یہ بات مشہور تھی کہ ان کو بی جے پی نے ہی کھڑا کیا ہے۔

عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مایاوتی کے دماغ میں صرف ایک بات تھی کہ وہ اترپردیش کے علاوہ ان تین صوبوں میں بھی پارلیمنٹ کی سیٹ مانگیں گی اور تینوں ریاستوں میں جو حال ہوا اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بغیر مانگے انہوں نے کانگریس کو مدد دے دی اور لکھنؤ آکر کہا کہ حالیہ الیکشن میں ووٹوں کا فیصد تو ہمارا کم ہوا لیکن سیٹیں بڑھ گئیں اس لئے ان تینوں ریاستوں میں بھی متحدہ محاذ میری پارٹی کو سیٹیں دے۔

ہم نہیں جانتے کہ آجکل ان کا مشیر کون ہے۔ اگر کوئی نہ ہو تو جو بھی سمجھدار ان کی پارٹی میں ہو وہ اتنی بات سمجھا دے کہ ایک لوک سبھا سیٹ میں پانچ اسمبلی سیٹیں ہوتی ہیں انہوں نے ان تین صوبوں میں سے کسی صوبہ میں پانچ سیٹیں جیتی ہیں جو ایک لوک سبھا کی سیٹ انہیں دی جائے؟ چھتیس گڑھ میں سات سیٹیں جیتی ہیں جس میں اجیت جوگی اور مایاوتی دو حصے دار ہیں اگر آدھا آدھا کریں تو ساڑھے تین سیٹیں ملیں گی۔ مس مایاوتی اگر اپنے کو بالکل ختم کرنا چاہتی ہیں تو جو اُن کا دل چاہے وہ کریں اور اگر زندہ رہنا چاہتی ہیں تو یہ دیکھیں کہ 2014 ء میں ان کو ایک سیٹ بھی نہیں ملی تھی۔ اور اسمبلی الیکشن میں 19 ممبر کامیاب ہوئے تھے۔ پھول پور اور گورکھ پور کے الیکشن میں ایک بار بھی انہوں نے کھل کر نہیں کہا کہ سماج وادی پارٹی کے اُمیدوار کو ووٹ دو بلکہ یہ کہا کہ جو بی جے پی کو ہرا رہا ہو اُسے ووٹ دو۔ کیرانہ اور نور پور میں بھی نام سے اپیل نہیں کی۔ یہ اکھلیش یادو کی محبت ہے کہ انہوں نے چاروں سیٹوں کی کامیابی ان کے نام لکھ دی۔

مایاوتی کو یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ 2013 ء میں مدھیہ پردیش میں ان کی چار سیٹیں تھیں۔ اس بار جبکہ عوام بی جے پی کے خلاف ہے ان کو زیادہ کے بجائے کم ملیں۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ روز بروز نیچے کی طرف آرہی ہیں ایسے میں ہاتھ پھیلانے کے بجائے جو مل جائے اسے غنیمت سمجھنا چاہئے۔ یہ بات وہ بھی جانتی ہیں کہ سیاست میں جو ورکر ہوتے ہیں وہ کسی کے بندھے ہوئے نہیں ہوتے جس کا جھنڈا اونچا ہوتا دیکھتے ہیں وہ وہاں قبضہ جما لیتے ہیں۔ جس کانگریس کے دفتر میں کل تک گنے چنے لوگ نظر آتے تھے ان تین صوبوں کی فتح کے بعد اب دیکھئے گا کہ دفتر میں کرسیاں کم پڑجائیں گی اور ٹکٹ مانگنے والے وہ ہوں گے جن کے جیتنے کے امکان ہوں گے۔ اب اگر راہل گاندھی 20 سیٹیں مانگیں تو مایاوتی اور اکھلیش کو سودا تو کرنا چاہئے انکار نہیں کیونکہ ووٹ دینے والا جب دیکھے گا کہ راہل گاندھی وزیراعظم بن سکتے ہیں تو اسے ووٹ دیتے وقت یہ احساس ہوگا کہ میں نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کا بدلہ لے رہا ہوں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close