سیاستطنزو مزاح

جاگے، موہن پیارے جاگے

ڈاکٹر سلیم خان

ارے بھائی  للن یہ  ہمارےموہن پیارے کو کیا ہوگیا ؟

کس موہن پیارے کی بات  کررہے ہو کلن ؟ تمہارا موہن ببوا تو ٹھیک ٹھاک ہے نا؟؟ بہت چنچل ہے۔

ارے بھائی وہ تو نام کا اثر ہے اب کرشن موہن چنچل نہ ہو تو بیچاری گوپیاں بور ہوجائیں گی ۔ ہم تو اس کا وہ نام رکھ کر پچھتارہے ہیں۔

جی ہاں کل  میں نے اسے دیوار سے پھلانگتے دیکھاتو سمجھایا  تھا کہ ایسی کود پھاند نہ کر لیکن وہ نہیں مانا۔ کہیں  اسے  چوٹ تو نہیں آگئی؟

نہیں بھائی۔ میں موہن ببوا نہیں بلکہ  سر سنگھ چالک کی بات کررہا تھا۔ وہ  حال میں  وگیان بھون سے چھلانگ لگاکر شاہ جی پر جاگرے اور زخمی کردیا۔

کیا بات کرتے ہو کلن! اس عمر میں   تمہارے موہن  پیارے یہ سب بھی کرتے ہیں ؟

ارے بھائی میں حقیقی اچھل کود کی بات نہیں کررہا ہوں۔ مجھے تو ان کی بہکی بہکی باتوں سے تشویش ہورہی  ہے۔

اچھا ایسا کیا کہہ دیا تمہارے موہن بھاگوت نے؟ للن نے سوال کیا۔

وہ بولے ہم مکت نہیں یکت بھارت کے قائل ہیں یعنی ہم کانگریس مکت بھارت کے نعرے کو درست نہیں سمجھتے۔

اچھا تو ان کی سمجھ میں آگیا  کہ جو ناممکن ہے اس کے لیے ہاتھ پیر مارنے سے کیا فائدہ ؟ لیکن یہ  بات تمہارے شاہ جی کی سمجھ میں کب آئے گی؟

مجھے تو لگتا ہے جب اقتدار کی ہوا دماغ سے نکلے گی تو دال آٹے کا بھاو معلوم ہوجائے گا۔ اس سے پہلے بھاگوت جو چاہے کرلیں شاہ جی کو سمجھانا مشکل ہے۔

یار مجھے تو لگتا ہے کہ بھاگوت جی جان گئے ہیں کہ اب کمل کے دن تھوڑے ہیں۔ اس لیے اب اس سے پلہّ جھاڑنے  کی کوشش   کررہے ہیں۔

یہ  خبر تو سنگھ میں رہنے پر بھی مجھے نہیں ملی توتمہیں  کس نے بتادیا؟

کسی فرد نے نہیں ان کی حرکتوں سے اس کا اندازہ ہورہا ہے۔  کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ کبھی تو کٹر کانگریسی پرنب کو بلایا جاتا ہے تو کبھی رتن ٹاٹا سے مارگ درشن لیا جاتا ہے۔ اور تو اور راہل اور اکھلیش جیسے لونڈوں  کو بلانے کی بات ہوتی ہے لیکن پردھان جی یا ادھیکش جی کی جانب  دیکھ کر نہیں دیتے ؟

ہاں بھائی یہ خطرناک بات ہے کہیں مودی جی ان پر ٹاڈا نہ لگا دیں یا یوگی جی ان کا انکاونٹر نہ کروادیں۔ ویسے بھی توگڑیا کا عبرتناک حشر سب کے سامنے ہے

للن نے ڈھارس بندھاتے ہوئے کہا کلن دل چھوٹا نہ کرو ایسا کچھ نہیں ہوگا۔  پردھان جی یہ کلپنا بھی نہیں کرسکتے۔

دیکھو للن تم باہر والے ہو اس لیے نہیں جانتے۔ مجھے پتہ ہے کہ مودی جی نے  ہرین پنڈیا،سنجے جوشی، مرلی منوہر جوشی اور اڈوانی جی کے ساتھ کیا  کیا؟

لیکن موہن پیارے سے مودی جی کو کوئی خطرہ نہیں ہے اس لیے وہ ایسا کوئی اقدام کیوں کریں گے؟

خطرہ کیوں نہیں ہے۔   بھاگوت جی نے صاف کہہ دیا کہ سنگھ کسی ایک پارٹی کی حمایت نہیں کرتا بلکہ قومی مفاد میں کسی بھی حمایت کرسکتا ہے۔

ارے بھائی یہ ہاتھی کے دانت ہیں۔ دکھانے اور کھانے کے اور۔ ہمارے ملک جو من میں آئے کہنے کی اور اس کئ خلاف کرنے کی پوری آزادی ہے۔

لیکن ایک ایسے وقت میں جبکہ راہل ہر روز مودی جی کو  نشانہ بنا رہے ہیں  بھاگوت جی کا اعتراف کہ  سنگھ کے بانی کانگریس میں شامل ہوئے تھے۔ جنگ آزادی میں حصہ لیا اور جیل بھی گئے۔ کانگریس نے ملک کو آزادی دلانے میں بڑا کردار اداکیا   کس بات کا اشارہ ہے؟

للن بولا لیکن بھاگوت جی نے یہ کیوں نہیں بتایا کہ سنگھ قائم کرنے کے بعد وہ آزادی کی جدوجہد سے دور کیوں ہوگئے؟ کہیں اسی لیے تو سنگھ نہیں بنایا گیا ؟

ارے بھائی آپ تو بلاوجہ کے سوال کھڑے کردیتے ہو جو ہوا سو ہوچکا۔ اب تو  بھاگوت جی  مسلمانوں کے  احترام کی بات  بھی کرنے لگے ہیں۔

دیکھو کلن یہ تمہارے سرسنگھ چالکوں کو بہت دیر سے سمجھ آتی ہے۔ سدرشن جی بھی آخری دنوں میں عید گاہ کے اندر نماز پڑھنے پر بضد ہوگئے تھے۔

مجھے ڈرلگتا ہے بھگوان نہ کرے  ایسا ہی کچھ موہن بھاگوت کے ساتھ نہ  ہو جائے؟ یہ عجیب مصیبت ہے   کہ شاید موہن پیارے بھی  جاگ رہے ہیں۔

مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close